بھارتی شکست کی وجہ’’ چوکیدار چور ہے‘‘
06 مارچ 2019 2019-03-06

اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل میں مستقل سیٹ اور ویٹو پاور کے خواہشمند انڈیا کی سپر پاور ہونے کی خوش فہمی کو پاکستان نے گزشتہ ہفتے پاش پا ش کر دیا جب انڈین ایڈونچر کے جواب میں پاکستان نے پہلے تو انڈیا کی فضائی حدود میں گھس کر فرضی ٹارگٹ کو نشانہ بنایا اور جب انڈین طیارے پاکستان کے شاہینوں کے تعاقب میں نکلے تو دونوں کو مار گرایا گیا جن میں ایک بھارت میں گرا جبکہ دوسرا پاکستان میں ۔ پائلٹ نے کود کر جان بچائی اور اسے پاکستان نے پکڑ لیا۔ اس واقعہ نے پوری دنیا میں تہلکہ مچا دیا ہے ۔ امریکی ماہرین حیران اور پریشان ہیں کہ جس انڈیا کو وہ گزشتہ ایک دہائی سے خطے میں امریکہ کے ایک Mercenery ( کرائے کا ٹٹو) کے طور پر چائنہ کو نیچا دکھانے کے لیے دودھ پلا رہے تھے وہ تو اپنے سے 10 گنا چھوٹے ملک پاکستان کے سامنے ڈھیر ہو گیا ہے وہ چائنا کا کیا مقابلہ کرے گا۔ اس واقعہ سے امریکہ کے نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر جان بولٹن جیسے بہت سے امریکیوں کی نیندیں اڑ گئی ہیں جو پلوامہ واقعہ کے بعد کہتے تھے کہ انڈیا کو اپنے دفاع کے حق کے طور پر پاکستان پر حملہ کرنے کا حق حاصل ہے ۔ انڈیا کے بھاری بھر کم ریاست کے غبارے سے ہوا نکل چکی ہے اور نریند مودی عوامی جلسوں میں اپوزیشن کے سوالات کے جواب میں اپنی دھوتی بچانے میں مشکلات کا شکار ہیں اور کہتے ہیں کہ بالا کوٹ حملے کاثبوت مانگنا انڈین فوج کی حوصلہ شکنی کے مترادف ہے کیا منطق ہے اور کیا دلیل ہے ۔

امریکہ کے اپنے اخبار نیویارک ٹائمز میں ماریہ بی حبیب کی لیڈنگ سٹوری نے انڈین فوج کو ادھیڑ کر رکھ دیا ہے اس نے انڈین فوج کے لیے vintage military یعنی زمانہء قدیم کی فوج کا لفظ استعمال کیا ہے کیونکہ انڈیا کا جو مگ 21 طیارہ پاکستان میں گرا وہ اس کے پائلٹ ابھی نندن کی پیدائش سے بھی پرانا تھا۔ ماریہ کہتے ہیں کہ امریکہ پریشان ہے کہ اس کی پر ور وہ انڈین آرمی چائنہ کا مقابلہ کیسے کرے گی۔ اس رپورٹ کا سنسنی خیز پہلو یہ ہے کہ جنگ کی صورت میں انڈیا کے پاس صرف 10 دن کا اسلحہ ہوتا ہے گویا انڈیا طویل جنگ کے قابل نہیں ہے ۔ اس کی ایک وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ انڈین فوج کی 68 فیصد صلاحیت فرسودہ ہو چکی ہے اسے جدید خطوط پر اپ گریڈ نہیں کیاگیا۔ یہاں پر اس بات کا ذکر کرنا دلچسپ ہو گا کہ انڈیا کا سالانہ ملٹری بجٹ 45 ارب ڈالر جبکہ پاکستان کا صرف 7 ارب ڈالر ہے یہ ان لوگوں کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے جو پاکستان میں رہ کر بھارتی پراپیگنڈے سے متاثر ہو کر اپنی فوج کے خلاف بات کرتے ہیں۔

انڈین فوج 21 ویں صدی کے جدید ملٹری آپریشن کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی فوج کا سارا بجٹ تنخواہوں پنشن اور کرپشن کی نذر ہو جاتا ہے ۔ نیا اسلحہ نہیں خریدا جاتا۔ جو خریدا بھی جاتا ہے اس میں بے پناہ کرپشن ہوتی ہے ۔ راہول گاندھی کہتے ہیں کہ مودی نے 28 رافیل جنگی طیارے خریدنے کے لیے فرانس سے جو 36 ارب ڈالر کا معاہدہ سائن کیا ہے اس میں 3000 کروڑ روپے کی کرپشن آن ریکارڈ ہے ۔ جس کی وجہ سے مودی کو شدید ترین سیاسی مخالفت کا سامنا ہے ۔

مذکورہ رپورٹ میں انڈین فوج کی مین پاور پر بھی سوال اٹھایا گیا ہے کہ فوج میں نوکری محض ملازمت کا ذریعہ سمجھ کر خانہ پری کر دی جاتی ہے ۔ فوجیوں کا مورال بہت گھٹیا درجے کا ہے ۔ خود کسی کا رجحان بہت زیادہ ہے ۔ انڈین اخبارات کی پرانی رپورٹیں کہتی ہیں کہ جان کے خطرے کی وجہ سے لوگ فوج میں جانا پسند نہیں کرتے۔ دوسرا آفیسر اور سپاہی میں subordination کا عنصر بہت زیادہ ہے ۔

حالیہ واقعات میں وزیرا عظم مودی نے بالواسطہ طور پر خود اعتراف کیا ہے کہ ہمارے پاس رافیل طیارے ہوتے تو جنگ کا نتیجہ کچھ اور ہوتا گویا اندر سے انہیں احساس ہے کہ ہم پاکستان کا مقابلہ نہیں کر سکتے جبکہ اپوزیشن کہتی ہے کہ آپ نے دفاعی سودے میں کیوں چوری کی ہے ۔ کانگریس راہنما راہول گاندھی نے الیکشن مہم میں سب سے بڑا نعرہ ہی یہ بنا رکھا ہے کہ ’’ چوکیدار چور ہے ‘‘ اس میں چوکیدار وزیراعظم کو کہا گیا ہے ۔ مودی نے کہا کہ چوکیدار کو چور کہنے سے فوج کا حوصلہ پست ہو گا تو راہول نے وضاحت کی کہ ہم فوج کو نہیں بلکہ سب سے بڑے چوکیدار یعنی وزیر اعظم کو چور کہہ رہے ہیں۔ جس نے دفاعی سودے میں تین ہزار کروڑ چوری کیے ہیں۔

نیو یارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق بھارت کی تینوں مسلح افواج ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنے کی بجائے ہر ایک اپنی اہمیت جتانے اور بجٹ کا زیادہ حصہ حاصل کرنے کے لیے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں لگے رہتے ہیں۔ جس سے پیشہ ورانہ یکجہتی متاثر ہوتی ہے ۔ انڈیا کا جو مگ 21 طیارہ پاکستان میں گرا اس کا ڈھانچہ پاکستان ایئر فورس کے لیے ایک ٹرافی کی حیثیت رکھتا ہے جس سے پاکستان کو انڈین دفاعی سٹریٹجی کو سمجھنے کا موقع ملے گا اب انڈیا کے پاس اس کے کوئی چارہ نہیں کہ وہ مگ 21 طیاروں کی پوری کھیپ کو جنگی استعمال کے لیے ان فٹ قرار دے کر فرسودہ کر دے گویا یہ اربوں ڈالر کا نقصان ہے ۔

حالیہ فضائی جھڑپ کو ملٹری کی زبان میں Dog fight کہا جاتا ہے ۔ اس فائٹ میں پاکستان فاتح رہا ہے یاد رہے کہ دنیا میں 1965 ء میں ایم ایم عالم کے ہاتھوں ایک ہی جھڑپ میں انڈیا کے 9 طیارے مار گرائے جانے کے واقعہ کے بعد گزشتہ نصف صدی میں یہ پہلا موقع تھا کہ فضاء میں طیارے ایک دوسرے پر حملہ آور تھے جس میں پاکستان کے تھنڈر JF-17 کو کامیابی حاصل ہوئی یہ طیارہ پاکستان میں مقامی طور پر چائنہ کے تعاون سے بنایا گیا ہے ۔ جس کی قیمت 25 ملین ڈالر ہے پاکستان یہ طیارے فروخت کے لیے بھی پیش کرتا ہے یاد رہے کہ ایک ایف 16 طیارے کی قیمت میں 3 JF-17 تھنڈر خریدے جا سکتے ہیں۔ حالیہ واقعہ کے بعد دوست عرب ممالک اور افریقہ کے کئی ممالک پاکستان سے یہ طیارہ خریدنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ یہ طیارہ دن کی روشنی میں آپریشن کرنے میں F-16 کے برابر ہے ۔ پاکستان اس کی فروخت سے کثیر زر مبادلہ حاصل کر سکتا ہے ۔

حالیہ واقعہ کا ایک خطر ناک پہلو یہ ہے کہ انڈیا نے پاکستان پر طیاروں کے ذریعے حملہ کرنے کا منصوبہ ختم کر دیا ہے ۔ کیونکہ انہیں پتہ چل گیا ہے کہ جو بھی طیارہ پاکستان جائے گا وہ مار دیا جائے گا ۔ اس کا خطر ناک نتیجہ یہ ہے کہ اب انڈیا پاکستان پر میزائیل حملے کا منصوبہ رکھتا ہے اور اگر حالیہ Escalation جاری رہی تو میزائیل حملے کے امکانات زیادہ ہیں مگر اس کا فائدہ مند پہلو یہ ہے کہ بھارت کی میزائیل ٹیکنالوجی پاکستا ن کے مقابلے میں بہت گھٹیا درجے کی ہے ایک تو پاکستان پر میزائیل حملے کی صورت میں انڈیا کی Precision and accuracy بہت غیر تسلی بخش ہو گی دوسرا یہ کہ پاکستان کے پاس اینٹی میزائیل سسٹم موجود ہے ۔ جو حملے کو ناکارہ بنا سکتا ہے ۔ لیکن اگر بھارت یہ غلطی کرے گا تو اس سے دونوں ممالک میں میزائیل جنگ اور اس سے ہونے والی تباہی کے امکانات بڑھ جائیں گے۔ ان حالات میں اب یہ انڈین ووٹر کے ہاتھ میں ہے کہ وہ ایک ایسے جنونی شخص کو دوبارہ اپنے ملک کا وزیر اعظم نہ بنائیں جو اپنے اقتدار کی خاطر پورے خطے کو جنگ کے شعلوں میں دھکیلنے کے در پے ہے جس نے پلوامہ میں سازش کے تحت اپنے ہی 44 فوجی ہلاک کر کے الزام پاکستان پر لگا دیا ہے ۔ فیصلہ انڈین عوام کے ہاتھ میں ہے ۔


ای پیپر