” موت ہی سستی رہ جائے گی“
06 مارچ 2019 2019-03-06

بھولا چیخا، ’ ہم انڈیا سے لڑنے میں مصروف تھے کہ بجلی کی قیمتوں میں ایک روپے پچاسی پیسے فی یونٹ کا اضافہ ہو گیااوراب اطلاع ہے کہ گرمیوں میں ہر یونٹ چودہ سے سولہ روپے تک مہنگا کر دیا جائے گا، گیس کے بل جو دو سے تین سو روپے آیا کرتے تھے وہ اس مہینے بیس سے تیس ہزار روپے آئے ہیں، پٹرول دنیا بھر میں سستا ہو رہا ہے اور ہمارے ہاں ڈیزل ساڑھے چار روپے اورپٹرول اڑھائی روپے فی لیٹر مہنگا کر دیا گیا ہے، پانی کا بل جو ہر دو مہینے بعد آتاتھا کم و بیش وہی ہر مہینے آنے لگ پڑا ہے یعنی سو فیصد اضافہ اور پانی کی لوڈ شیڈنگ علیحدہ۔ادویات مہنگی ہوئی تھیں اور اب سرکاری ہسپتالوں میں ہر قسم کا علاج دو سے دس گنا تک مہنگا کر دیا گیا ہے، یہ ہے نیا پاکستان‘۔ بھولا پی ٹی آئی کا پکا حامی ہے مگر وہ مجھے فرحان ورک کی ناراضی بھری ٹوئیٹس دکھا رہا تھا جو پی ٹی آئی سوشل میڈیا کااتنا بڑا ایکٹی ویسٹ ہے کہ جب بھی کسی مشہور شخصیت کی جعلی پروفائل بنا کے جناب عمران خان کی تعریف کی جاتی ہے تو ہر کوئی اس کا کریڈٹ فرحان ورک کوہی دیتا ہے ۔

بھولے نے عمران خان کو مارجن دینے کے لئے ایک آپشن رکھا ہوا ہے اس نے وہی جھٹ سے استعمال کیا، بھولا بولا، یہ کسی بیوروکریٹ کی مذموم حرکت ہے جو عمران خان کے نئے پاکستان کے ایجنڈے کو ناکام بنانا چاہتا ہے، پنجاب کی بیوروکریسی نئی انقلابی حکومت کو ناکام بنانے کے لئے کام کر رہی ہے، یہ بیوروکریسی شہباز شریف کی ایجنٹ ہے، اسے دریائے راوی کے گندے پانی میں غرق کردینا چاہئے۔ بھولے کو بتایا گیا کہ پنجاب کی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے بھی سرکاری ہسپتالوں میں سہولیات کے نئے نرخوں کی فہرست سے لاعلمی ظاہر کر دی ہے اور اس کی گواہی پی ایم اے پنجاب کے صدر ڈاکٹر اظہار چودھری نے دی ہے۔ ڈاکٹر اظہار چودھری نے نیا حکم نامہ دیکھاجو اٹھارہ فروری سے نافذ العمل ہے تو تڑپ اٹھے، فوراً منسٹرصاحبہ کا نمبر ملایا کہ منسٹر صاحبہ پی ایم اے کی رہ نما رہی ہیں۔ اب سچ اورجھوٹ کی ذمہ داری ڈاکٹر صاحب پر ہے کہ میڈم نے نہ صرف نئے نرخ نامے سے لاعلمی کا اظہار کیا بلکہ برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اس پر نظر ثانی کا عندیہ بھی دیا اور اب یہ الگ امر ہے کہ نظرثانی کا عند یہ دیا، واپس لینے کا نہیں۔ بھولے کا خیال ہے کہ یہ محکمہ صحت کے اس ڈپٹی سیکرٹری ٹیکنیکل کی سازش ہے جس نے اسے تیار کیا حالانکہ میڈیکل ٹیچنگ انسٹی ٹیوشنز کو بورڈ آف گورنرز کے حوالے کرنے والے پہلے اور پرانے حکم نامے میں کہہ دیا گیا تھا کہ خیبرپختونخوا کے ماڈل پر عمل کیا جائے گا لہٰذا میڈم کے بااعتماد وائس چانسلروں کی کیا مجال کہ اس سے ہٹیں ۔سرکاری ویب سائیٹ سے ڈاو¿ن لوڈ کئے جانے والے نوٹیفیکیشن کے پہلے ہی صفحے پر لکھا ہوا ہے کہ یہ ریٹ پنجاب کابینہ کی منظوری سے جاری کئے جا رہے ہیں ۔ بھولا حیران ہے کہ کیا پنجاب کابینہ بھی جناب عمران خان کے وژن کی ایسی تیسی کرنے میں لگی ہوئی ہے؟

یہ نئے نرخوں کا حکم نامہ کیا ہے،اس میں سب سے پہلے تو مریضوں کو دوحصوں میں تقسیم کر دیا گیا ہے، ایک جنرل پیشنٹ ہیں اور دوسرے او پی ڈی کے ۔ بہت ساری جگہوں پر آوٹ پیشنٹ ڈپیارٹمنٹ یعنی ان مریضوں کے بارے جو باقاعدہ داخل ہوئے بغیر سرکاری ہسپتالوں نے علاج کرواتے ہیں کے ساتھ پرائیویٹ بھی لکھا گیا ہے ، او پی ڈی پیشنٹ تعداد میں ستر فیصد سے بھی زائد ہیں گویا وہ تمام مریض جو داخل نہیں ہوتے وہ پرائیویٹ اور امیر ٹھہرے۔ نوٹیفیکیشن کے تیس صفحات آنکھیں کھول دینے والے ہیں کہ پرائیویٹ ہسپتالوں میں بھی بچے کی آپریشن سے پیدائش یعنی سی سیکشن کا پورا پیکج چالیس سے اسی ہزارروپوں میں مل جاتا ہے مگر سرکاری ہسپتال میں آپریشن، انسیتھیزیا، کمرے ، ادویات اور کنسلٹنٹ کے وزٹ سمیت یہ پیکج سوا لاکھ روپے میں پڑجائے گا۔اسی طرح آپ پرائیویٹ ہسپتال سے اینجیو گرافی ساڑھے سولہ ہزار میں پروٹوکول کے ساتھ کروا سکتے ہیں مگر سرکاری ہسپتال میں اس کے نرخ بے عزتی کے ساتھ پچیس ہزار روپے مقرر کئے گئے ہیں۔ وارڈ میں بستر بھی آٹھ سو روپے تک میں ملے گا ۔ ڈاکٹر عمار یاسر کہتے ہیں کہ اس ریٹ لسٹ میں ریڈیالوجی، نیفرالوجی، یورالوجی، کارڈیالوجی، نیورو اور آرٹھوپیڈک سمیت ہر قسم کی سرجری، پتھالوجی، ای این ٹی اور گائناکالوجی سمیت کوئی بھی شعبہ نہیں چھوڑا گیا۔

بھولے کو بتایا گیا کہ حکومت غریبوں کو ہیلتھ کارڈ دے رہی ہے لہٰذا امیروں کو علاج پیسے دے کر کروانا چاہئے۔ اب حکومت کی نظر میں غریب وہ ہیں جن کی روزانہ آمدن تین سو روپے ہے اور اس طرح وہ تمام درجہ چہارم کے چوکیدار، سویپرز، گارڈز ، مالی اور ڈرائیور بھی امیر ٹھہرے جو پندرہ ، سولہ ہزار روپے ماہانہ تنخواہ لے رہے ہیں۔ بھولے کو یہ علم ہی نہیں کہ ہیلتھ کارڈ وہ موضوع ہے جس پر مسلم لیگ نون اور پی ٹی آئی دونوں پارٹیاں متفق ہیں اور اگر کسی نے اس کی وجہ جاننی ہے تو وہ گزشتہ دو برسوں کے دوران ہیلتھ انشورنس کی کمپنیوں کی مشروم گروتھ دیکھے، ان کے پیچھے وہ لوگ ہیں جو اب ایک صوبے کے گورنر بھی ہیں اور ماضی کے حکمرانوں کے ارب پتی بینی فیشری بھی۔ بھولوں کے ساتھی اگر یہ نرخ نامہ دیکھ لیں تو انہیں اندازہ ہو جائے گا کہ ان نرخوں پر علاج وہ بندہ بھی افورڈ نہیں کر سکے گا جوماہانہ ایک لاکھ روپے کما رہا ہو اور اسے باقی تمام اخراجات بھی پورے کرنے ہوں ۔ حالات یہ ہو چکے کہ سرکاری ہسپتالوں میں اگر آپ کو آپریشن کروانا ہے تو آپ کو ایک روز پہلے سامان کی لسٹ دے دی جائے گی اور اس لسٹ میں ادویات ہی نہیں بلکہ سرنجیں، ٹانکوں کے دھاگے ، پیشاب کے لئے تھیلیاں اور پٹیاں تک شامل ہوں گی جو پہلے کسی بھی ہسپتال میں سرکاری طور پر مہیا کی جاتی تھیں۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ ہسپتال کے ایم ایس کو اختیار ہے کہ وہ نرخوں میں رعائیت کر دے مگر پہلے تین ہزار کا جو ٹیسٹ پچاس فیصد رعائیت کے ساتھ ڈیڑھ ہزار میں ہوجاتا تھا اب اسی کا ریٹ سات ہزار ہے اور وہ رعائیت کے بعد بھی ساڑھے تین ہزارمیں ہو گا، یہ رعائیت بھی اسی غریب کو ملے گی جس کے پاس سفارش یا ڈنڈا ہو گا ورنہ ایم ایس آفس میں گھسنا اور رعائیت حاصل کرنا کون سا ’خالہ جی کا واڑہ‘ ہے۔

پی ٹی آئی کہتی تھی کہ شہباز شریف کی حکومت تمام بجٹ سڑکوں، انڈر پاسوں اور فلائی اووروں پر خرچ کر رہی ہے جبکہ اس کی ترجیحات صحت اور تعلیم ہوں گی مگر حیرت کی بات ہے کہ اس دور میں اربوں روپوں کے میگا پراجیکٹس کے باوجود دور دراز کے ہستپالوں میں بھی ادویات دستیاب تھیں اور لوگ سرکاری علاج کروا لیتے تھے ۔ اب ایک مثال سے اندازہ لگائےے کہ کیا ہونے والا ہے کہ اگر سی سیکشن کا سرکاری نرخوں پر پیکج سوالاکھ سے اوپر کا بنتا ہے تو کوئی پرائیویٹ ہسپتال جو اب اسی ہزار تک میں کر رہا ہے وہ اپنا ریٹ دو لاکھ میں لے جائے گا۔ اس کے پاس دلیل ہو گی کہ میو ہسپتال کو سرکاری خزانے سے ہر سال ایک ارب بیس کروڑ ملتے ہیں، پرائیویٹ کو تو نہیں ملتے اور یوں سرکاری ریٹ ایک نیا بنچ مارک بن جائے گا۔ بھولا چاہتا ہے کہ خیبرپختونخوا کا یہ فارمولا پنجاب میں نہ چلے کہ اس وقت بھی لاہور کے چلڈرن سمیت مختلف ہسپتالوں میں خیبرپختونخوا کے مریضوں کا رش ہے کہ وہاں علاج بہت مہنگا ہو چکا مگر بھولے کو یہ علم نہیں کہ امریکا کی طرز پر یہ نظام جناب عمران خان کے کزن نوشیرواں برکی اور ان کے ساتھی جناب فیصل سلطان نے تیار کیا ہے اور اس کی واپسی کم از کم پی ٹی آئی کی حکومت میں ناممکن ہے۔ میں اس نظام میں ڈاکٹروں ، نرسوں اور دیگر ہیلتھ پروفیشنلز کے ساتھ جو ہونے جا رہا ہے اس کی ابھی بات نہیں کرتا مگر یہ بات طے ہے کہ اس نظام کے لاگو ہونے کے بعد بھولوں کے پاس کسی بھی سنگین مرض میں مبتلا ہونے کے بعد علاج کی بجائے صرف گھر بیٹھے موت کے انتظار کا آپشن ہی رہ جائے گا،علاج سے خود کشی بہرحال سستی ہو گی کہ اگر وہ اس کے لئے مہنگی میڈیسن کے بجائے گلے میں رسی باندھ کے چھت سے لٹک جائیں یا ایسا ہی کوئی دوسرا طریقہ استعمال کریں۔


ای پیپر