اگر انتخابات کا سال عدلیہ پر ریفرنڈم کا سال بن جائے گا تو یہ تباہی ہوگی، سینیٹر فرحت اللہ
06 مارچ 2018 (22:39) 2018-03-06

اسلام آباد:پاکستان پیپلز پارٹی نے کہا ہے کہ عدلیہ ایسے راستہ پر نہ چلیں جو عام انتخابات 2018کو عدلیہ کے خلاف ریفرنڈم بنا دےے اگر انتخابات کا سال عدلیہ پر ریفرنڈم کا سال بن جائے گا تو یہ تباہی ہوگی، رحمتہ بابا آئین کو بالاتر مانتا ہے لکھے ہوئے آئین کے بجائے اس کو مانتے ہیں جووہ کہتاہے ،پاکستان میں ادارے آپس میں ٹکراﺅ کی طرف بڑھ رہے ہیں،پارلیمنٹ نے ڈی فیکٹو ریاست ختم نہ کی تو ٹکرا ہوگا افسوسناک امر ہے بلاتفریق احتساب بشمول ججز اور جرنیلوں کے احتساب کی قانون سازی نہ کرسکے۔ ان خیالات کا اظہارگزشتہ روز رواںپارلیمانی کے آخری اجلاس میں پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر فرحت اللہ نے الوداعی خطاب میں کیا۔

انھوں نے سیاست کو عدلیہ زدہ کرنے اور عدلیہ کو سیاست زدہ کرنے، ریاست کے اندر ریاست بنانے اور پارلیمنٹ کی بے بسی پر متنبع کیا۔ یہ سچائی اور دانائی کے آخری الفاظ نہیں بلکہ یہ الفاظ ان کے دل کی گہرائیوں سے نکل رہے ہیں۔ انہیں اس وقت سخت افسوس ہوا جب چیف جسٹس نے قسم کھائی کہ ان کا کوئی پولیٹیکل ایجنڈا نہیں اور جب جج حضرات آئین اور قانون کا حوالہ دینے کی بجائے شاعری کا حوالہ دینے لگیں۔ جب ان کے گاﺅں کے بزرگ بابا رحمتے یہ کہتے ہیں کہ آئین سپریم ہے تو اسے تسلیم کرتے ہیں لیکن جب وہ یہ کہتے ہیں کہ آئین وہ ہے کہ جو وہ کہتے ہیں نہ کہ وہ جو لکھا ہوا تو انہیں سخت افسوس ہوتا ہے۔ جب عدلیہ کا وقار دلائل کی بجائے توہین عدالت سے قائم کی جائے تو یہ سوچنے کا مقام ہے ۔ اگر انتخابات کا سال عدلیہ پر ریفرنڈم کا سال بن جائے گا تو یہ تباہی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ انہیں اس بات پر بھی سخت تکلیف ہوتی ہے جب وہ دو ریاستیں دیکھتے ہیں۔ ایک ڈی فیکٹو ریاست اور دوسری اصلی ریاست جو اکثر مختلف مقاصد کے لئے کام کرتی نظر آتی ہیں۔ ڈی فیکٹو ریاست حکم چلاتی ہے لیکن خود کو احتساب کے لئے پیش نہیں کرتی۔ انہوں نے پارلیمنٹ کی جانب سے ایسا قانون لانے کی ناکامی پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ جس میں سب کا احتساب بشمول جج اور جنرل ہو سکے۔

انہوں نے کہا کہ انہیں اس بات کی بھی تکلیف ہے کہ سیاسی پارٹیاں بشمول ان کی اپنی پارٹی نے سب کے لئے احتساب کا مطالبہ تو کیا لیکن اچانک اس سے پیچھے ہٹ گئیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان کو متاثر ہونے سے بچانا تو ہمیں ریاست کے اندر ریاست کا تضاد ہر صورت میں حل کرنا پڑے گا ۔ سینیٹر فرحت اللہ بابر نے اٹھارہویں ترمیم اور صوبائی خودمختاری کو رول بیک کرنے پر متنبہ کیا۔ ہو سکتا ہے کہ چھوٹے صوبے قومی اسمبلی میں برابری کا مطالبہ اسی طرح کر دیں جس طرح ہم نے مشرقی پاکستان سے برابری کا مطالبہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ جلد ہی وہ اس ایوان کے لئے اجنبی ہو جائیں گے اور وہ یہاں نہیں بول سکیں گے لیکن یہ آواز دبے گی نہیں اور نہ ہی مقصد کے لئے جنگ سے دستبرداری ہوگی۔طاقت کے ثالثہ میں عدم توازن ہے پارلیمان کے اختیارات پر دوسرے ادارے شب خون مار رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مجھے تشویش ہے کہ 2018عام انتخابات کا سال محترم عدلیہ پر ریفرنڈم کا سال نہ بن جائے اس دن کے شرسے بچو جب انتخابات عدلیہ کے خلاف ریفرنڈم بن جائیں خدارا ایسے راستے پر نہ چلو جو انتخابات کو ریفرنڈم بنا دے انہوں نے کہا کہ فیض آباد دھرنے میں حکومت نے ہتھیار ڈال دیے تو معاہدہ ڈیفیکٹیو سٹیٹ نے لکھا ہم اداروں کے درمیان ٹکراﺅ کی طرف بڑھ رہے ہیں ہمارے ملک میں ڈیفیکٹیو سٹیٹ اپنے آپ کو احتساب سے بالاتر سمجھتا ہے جب ان کی احتساب کی بات کی تو عین موقع پر تمام سیاسی جماعتیں پیچھے ہٹ گئیں جس میں بدقسمتی سے میری جماعت بھی شامل ہے اور ہم ان کو احتساب کے کٹہرے میں لانے میں ناکام ہو گئے انہوں نے کہا کہ 18ویں ترمیم پر قدغن لگائی جا رہی ہے اور اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی روکی جا رہی ہے اگر اس کو روکا جائے تو چھوٹے صوبے قومی اسمبلی میں برابری کا حصہ مانگیں گے اور اس کو پھر کوئی سنبھال نہیں سکے گا پاکستان کی حفاظت پارلیمان کی ذمہ داری ہے۔

آزاد سینیٹر محسن لغاری نے الودعی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں پہلا سینیٹر ہوں جو 2012میں آزاد منتخب ہوا بدقسمتی سے پنجاب کو ہر مسئلہ کا ذمہ دار ٹھہرانا اور اس کو بُرابھلا کہنا فیشن بن گیا ہے ڈیم خالی ہیں اگر پنجاب کو برا بھلا کہا جائے گا تو پانی نہیں آئے گا سینیٹ میں عوام کے اصل مسائل پر بات کرنی چاہیے مگر یہاں بھی پوائنٹ سکورنگ کی جاتی ہے ہم اپنا کام کرنے کے بجائے دوسروں پر الزام لگاتے ہیں فوج کو برا بھلا کہنے سے مسئلہ حل نہیں ہو گا ایک سروے کے مطابق 93فیصد عوام فوج کے بارے میں مثبت تاثرات رکھتے ہیں جبکہ عوام کی رائے سیاستدانوں کے بارے میں اچھی نہیں ہے سیاستدان ایک دوسرے پر الزام لگاتا ہے ان پر ذاتی حملے کرتا ہے اور اسی وجہ سے ہمارے بچے سیاست میں نہیں آنا چاہتے ہیں اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی سے مسئلہ حل ہو گا صرف کراچی، پشاور ، لاہور، کوئٹہ میں اختیارات رکھنے سے مسئلہ حل نہیں ہو گا پارلیمان کی عزت کام کرنے سے ہو گی اور ادارے اسی طرح اپنی عزت بناتے ہیں بدقسمتی سے سیاسی جماعتیں شخصیات کے گرد گھوم رہی ہیں نسرین جلیل نے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی کو زبردست خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ ان کی وجہ سے ایوان کی عزت میں اضافہ ہوا ہے سینیٹر ظفر اللہ ڈھانڈلہ نے کہا کہ آپ کی وجہ سے ایوان کی عزت میں اضافہ ہوا ہے سینیٹر عثمان سیف اللہ نے کہا کہ سیاستدانوں کو ایک دوسرے پر الزام نہیں لگانے چاہیں اور سیاست کے بھی اصول بنانے ہوں گے جب مقاصد کے لیے اصولوں پر سمجھوتہ کیا جاتا ہے تو مسائل پیدا ہوتے ہیں عوام کے فیصلے کرنے کا حق صرف ان کے نمائندوں کو ہے۔


ای پیپر