بنی گالہ کی تعمیر غیر قانونی،عمران خان کے ساتھ وہی سلوک ہو گا جو سب کیساتھ ہو گا :چیف جسٹس
06 مارچ 2018 (20:44) 2018-03-06

اسلام آباد : چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے بنی گال میں غیرقانون ا تعمیرات کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے کہ عمران خان کے گھر کا نقشہ منظور شدہ نہیں اس لیے تعمیرات غیرقانونی ہے جو سلوک سب کے ساتھ ہوگا وہی عمران خان کے ساتھ ہوگا،عدالت نے سی ڈی اے کوراول ڈیم کے کنارے لیز پردی گئی زمین کے غلط استعمال کیخلاف ایکشن لے کر پیش رفت رپورٹ طلب کرلی ہے۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثارکی سربراہی میں عدالت عظمی کے تین رکنی بینچ نے سپریم کورٹ میں بنی گالا غیر قانونی تعمیرات سے متعلق کیس کی سماعت کا آغاز کیا تو چیف جسٹس نے کہاکہ سرکاری لیز دینے پر بندر بانٹ تو نہیں ہوتی سرکاری اراضی کو تیس سال کی لیز پر دیدیا گیا ہے، سی ڈی اے کے کس چیرمین نے یہ لیز دی، اس دوران سابق چیئرمین سی ڈی اے کامران لاشاری عدالت میں پیش ہوئے اور بتایاکہ راول ڈیم کے قریب سی ڈی اے نے تفریحی پارک بنانے کا فیصلہ کیا تھا، پارک کے ساتھ اسپورٹس سے متعلقہ کورٹس بھی مختص کیے گئے، چیف جسٹس نے کامران لاشاری سے استفسارکیاکہ سرکاری زمین لیز پر دینے کا اختیار کس قانون نے دیا،؟ جس لیز زمین پر اسپورٹس سرگرمیاں نہیں ہو رہیں وہ منسوخ کرینگے، صحت مندانہ کھیلوں کی سرگرمیاں ہونی چاہیں،ان کا کہنا تھا کہ جو لوگ لیز کی شرائط پوری نہیں کر رہے انکی لیز منسوخ کرینگے جہاں اچھے کام ہوتے ہیں اسکی ستائش کرتے ہیں،موجودہ اور سابقہ چیئرمین موقعے پر جا کر لیز اراضی کا جائزہ لیں، چیف جسٹس نے کہاکہ اس وقت شفافیت کے ایشو پر نہیں جاتے، چیئرمین سی ڈی اے نے کہاکہ ایک سرکاری زمین کی لیز منسوخ کر کے قبضہ واپس حاصل کر لیا ہے،کچھ لوگوں نے سرکاری زمین کو آگے لیز آوٹ کیا ہوا ہے، چیف جسٹس نے کہاکہ کسی کے ساتھ بے انصافی نہیں کرنی، قانون کے مطابق جائزہ لیکر ایکشن لیں، عدالت نے آئیندہ سماعت پر سی ڈی اے سے پیش رفت رپورٹ طلب کر لی، چیف جسٹس نے بنی گالا میں غیرقانونی تعمیرات کامعاملہ اٹھاتے ہوئے کہاکہ تعمیرات کوریگولرائز کریں وفاقی وزیر کیڈ طارق فضل چوہدری نے کہاکہ1مرتبہ کااستثنی دے کرزون 3میں بنی تعمیرات کوریگولرکریں گے تو چیف جسٹس نے کہاکہ ایک مرتبہ کااستثناکیوں ،غیرقانونی تعمیرات پر جرمانہ یافیس وصول کریں اور آپ انھیں ریگولرائزکریں اور اس ضمن میں اشتہارات آپ کی کارکردگی کے نام سے چلیں گے 4منٹ کااشتہار55لاکھ میں چلاہے چیف جسٹس نے کہاکہ لوگوں کوصحت اور تعلیم کی سہولیات دیں ، فاضل وزیر نے کہاکہ وقت دیں آپ کوپمزاور پولی کلینک کادورہ کرواتاہوں۔

چیف جسٹس نے کہاکہ سی ڈی اے کی جانب سے مارکیز کو ریگولیٹ کرنے کا بھی جائزہ لینگے، ڈیم کی زمین پر شادی گھر یا مارکیز نہیں بن سکتے، جس مقصد کیلیے زمین لی جائے اسی کیلیے استعمال ہو گی، اس دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے جب یہ کہاکہ بابر اعوان نے این او سی پر جواب دینا تھاتو چیف جسٹس نے کہاکہ آپ اتنے فکر مند کیوں ہو رہے ہیں،اس ایشو کو بھی ٹیک اپ کرینگے آپ چھوڑ دینگے لیکن ہم نہیں چھوڑینگے لیکن خدا کیلیے شہر کو آلودگی سے بچا لیں،آلودگی اور فضلہ شہر کیلیے بہت بڑا مسئلہ بن رہا ہے، پمزاور پولی کلینک کی حالت دیکھیں ؟طارق فضل چوہدری نے کہاکہ سی ڈی اے اپنی ریگولیشنز بنائے اس پرقانون سازی کروائیں گے لیکن کسی اور کوان کی جائیداد پرتعمیرسے کیسے روک سکتے ہیں ؟ چیف جسٹس نے کہاکہ جائیدادرکھنااور تعمیرات بنیادی حق ہے لیکن بنیادی حق کے ساتھ قانون کی شرط بھی ہوسکتی ہے۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ 5سال سے آپ بیٹھے ہیں کیازون 3کے مسائل آپ کی نظر میں نہیں تھے لوگوں کومشکلات ہیں نہیں معلوم آپ کب یہ مسائل حل کریں گے۔ طارق فضل چوہدری نے کہاکہ تمام مسائل حل کریں گے راول ڈیم میں سیوریج کاپانی نہیں جائے گاچیف جسٹس نے کہاکہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل سیوریج اور دیگر مسائل کودیکھیں اٹارنی جنرل آفس ان تمام مسائل کومتعلقہ حکام سے مل کر 2ماہ میں حل کروائیں ان کا کہنا تھا کہ کسی کی تعمیرات کوگرانانہیں چاہتے لیکن قانونی ضروریات پوری ہونے سے قبل تعمیرات کی اجازت نہیں دیں گے انہوں نے وفاقی وزیر سے کہاکہ 10لاکھ کی آبادی کوگیس کنکشن چاہیے یہ آپ کاحلقہ ہے آپ اعلان کریں الیکشن نہیں لڑیں گے گیس کنکشن مل جائیں گے۔

طارق چوہدری نے کہاکہ جوآبادی میرے حلقے میں نہیں انھیں کنکشن دینے کاکہہ دیں۔اس دوران متعلقہ ایم ڈی نے بتایا کہ گیس کی ملک میں کوئی کمی نہیں۔ چیف جسٹس نے کہاکہہم نے گیس کوروٹی پکانے پرضائع کردی ہم نے اربوں کھربوں کی گیس گھروں کے چولہوں پرجلادی۔کیا دنیامیں کہیں گیس چولہے کے لیے استعمال ہوتی ہے ،عمران خان کے وکیل بابر اعوان سے مخاطب ہوتے ہوئے چیف جسٹس نے کہاکہ شورمچا ہواہے عمران خان کی دستاویزات درست نہیں ، جس پر بابر اعوان نے کہاکہ ہمارا دستاویزات کا عدالت جائزہ لے، چیف جسٹس نے کہاکہ آپ نے تین دستاویزات عدالت کو دیں ، بابراعوان کا کہنا تھا کہ ہم نے کوئی جھوٹ نہیں بولا کوئی جعل سازی نہیں کی لیکن حکومت کی جعل سازی ثابت کرونگا۔این اوسی کی دستاویزات پر سیکرٹری یونین کونسل محمد عمر کے د ستخط ہیں نقشہ کے لیے یونین کونسل کے پاس گئے اسی لئے سیکرٹری لکھتا ہے کہ عمران خان کی درخواست پر نقشہ طلب کیا گیا یہ ثابت ہوتا ہے کہ نقشہ کے لیے یونین کونسل سے رابطہ کیا گیاکیا یونین کونسل کے چند پیسوں کے لیے جعل سازی کرینگے ان کا کہنا تھا کہ حکومت ہمارا میڈیا ٹرائل کرنا چاہتی ہے یہ پہلے بھی کہہ دیا تھا عدالت سیکرٹری یونین کونسل کے دستخطوں کاجائزہ لے ،ان کا کہنا تھا کہ یونین کونسل برتھ اور ڈیتھ سرٹیفیکیٹ جاری کرتی ہے جبکہ سیکرٹری یونین کونسل عمر معطل بھی رہ چکے ہیں جسٹس عمر عطابندیال نے کہاکہ آپ بہت زیادہ سنجیدہ ہوگئے ہیں آپ یہ بیان دیں ہم قانون بننے کے بعد تعمیرات ریگولرکروالیں گے چیف جسٹس نے کہاکہ آپ سے پہلے کہاتھاحفظ ماتقدم 20 لاکھ جمع کروادیں بنی گالہ میں سب کے لیے ایک ہی قانون بنے گا آپ کے گھر کانقشہ بھی منظور شدہ نہیں ہے ہماری نظر میں تعمیرات غیرقانونی ہے جوسلوک باقی سب کے ساتھ ہوگا وہ آپ کے ساتھ ہوگا۔حتمی طور پرتعمیرات کوریگولرہی کرناپڑے گا بعد ازاں مزید سماعت 13 مارچ تک ملتوی کردی گئی۔


ای پیپر