Budjet 2021-22
06 جون 2021 (15:43) 2021-06-06

وزیراعظم عمران خان کی حکومت نے نئے مالی سال برائے2021-22کیلئے وفاقی بجٹ کے اعلان کی تیاریاں شروع کردی ہیں اورقوی امکان ہے کہ وفاقی بجٹ11جون کو پیش کیا جائے گا۔یہ بجٹ تحریک انصاف حکومت کا مجموعی طور پرتیسرابجٹ ہوگا۔بجٹ سے قبل وزیراعظم عمران خان،مشیر خزانہ شوکت ترین اورعمران خان کابینہ کے دیگر وزراء ملکی معیشت کے استحکام کے دعوے کرتے دکھائی دے رہے ہیں اورشوکت ترین نے تو یہ بھی دعویٰ کردیا ہے کہ جولائی سے مہنگائی میں کمی ہونا شروع ہوجائے گی۔ وزیراعظم کے سابق مشیر برائے خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ ملکی معیشت کوبہت سے دھچکے پہنچانے کے بعد شوکت ترین کو خزانے کی چابی تھما کر بیرون ملک نکل لئے ہیں اور اب دیکھنا یہ ہے کہ وفاقی بجٹ کا اعلان کون کرے گا کیونکہ شوکت ترین منتخب رکن اسمبلی یا سینیٹر نہیں ہیں۔اگرچہ حکومت کی بجٹ ٹیم نہ چاہتے ہوئے بھی آخری لمحات تک آئی ایم ایف کی ٹیم سے رابطے میں رہ کر آئی ایم ایف کی پسند کا بجٹ بنانے کی ہرممکن کوشش کرے گی کیونکہ آئی ایم ایف کی بات نہ مانی تو حکومت کو بہت سے فنڈز سے ہاتھ دھونے پڑ سکتے ہیں۔عمران خان اقتدار میں آنے سے پہلے یہ کہتے رہے ہیں کہ وہ آئی ایم ایف کے پاس نہیں جائیں گے مگر اس کے باوجود وہ آئی ایم ایف کا سہارا لینے پر مجبور ہوگئے۔کرونا نے دنیا بھر میں جو تباہی مچائی ہے اس تناظر میں تمام ہی ممالک کی معیشت سمندر میں ڈول گئی ہے۔امریکا،چین،برطانیہ،اٹلی،جرمنی،اسپین،بھارت سمیت نہ جانے کتنے ملک ابھی تک اپنی بقاء کی جنگ لڑنے لڑ رہے ہیں۔ لیکن پاکستان پر اللہ کا بہت فضل ہے کہ پاکستان کی برآمدات کو خطے کے دیگر ممالک کی نسبت زیادہ فائدہ پہنچا ہے۔شوکت ترین نے یہ اعلان کردیا ہے کہ وہ نیا ٹیکس نہیں لگائیں گے۔سرکاری ملازمین وزیراعظم عمران خان سے بڑی امیدیں لگائے بیٹھے ہیں کہ انکے وعدوں کے مطابق اب انکی تنخواہوں میں 20فیصد تک اضافہ ہوگا ،اگر عمران خان کی ٹیم آئی ایم ایف کے مزید بہکاوے میں نہ آئی تو سرکاری ملازمین کو یقیناً خوشخبری مل سکتی ہے۔ ممتاز معاشی تجزیہ نگارڈاکٹر اشفاق حسن خان نے تو یہ بھی کہہ دیا ہے کہ پاکستان کو آئی ایم ایف کے موجودہ پروگرام کے ختم ہونے سے پہلے ہی اگلے پروگرام کیلئے ٹریپ کیا جارہا ہے اور ایسے حالات پیدا کئے جا رہے ہیں کہ پاکستان کو نئے پروگرام کی ضرورت ہو لہٰذا وزیر خزانہ شوکت ترین اعلان کریں کہ وہ پاکستان کو آئی ایم ایف کے23 ویں پروگرام میں نہیں لے کر جائیں گے۔نئے بجٹ کی تیاری سے قبل تمام ہی شعبوں سے وابستہ تجارتی،صنعتی،درآمدی وبرآمدی،کلیئرنگ اور فاروڈنگ ایسوسی ایشنز ،ایف پی سی سی آئی ،پاکستان اسٹاک ایکس چینج،کراچی،لاہور،سیالکوٹ،راولپنڈی،اسلام آباد،فیصل آباد اور دیگرچیمبرز آف کامرس اور ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز(آباد)نے اپنی اپنی حکومت کو فراہم کردی تھیں۔

میاں ناصر حیات مگوں(صدر ایف پی سی سی آئی)

 میاں ناصر حیات مگوں نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ وہ احتجاجاً بجٹ تجاویز حکومت کو فراہم نہیں کریں گے کیونکہ حکومت ایف پی سی سی آئی کی تجاویز کو خاطر میں نہیں لاتی اس کے باوجود انہوں نے حکومت کو بجٹ تجاویز پیش کردی ہیں۔فیڈریشن کی تجاویز میں خوردہ فروشوں کے لئے فکسڈ ٹیکس اسکیم ، مزید سیلز ٹیکس کے خاتمے ، ٹیکس کی بنیاد میں توسیع ، اور غیر رجسٹرڈ تجارتی اور صنعتی اکائیوں کے بجلی،گیس کے کنکشن کو بند کرنے تک سی این آئی سی کو معطل کرنے کی بات کی ہے۔ صدر ایف پی سی سی ناصر حیات مگوں نے ایف بی آر کے چیئرمین عاصم احمد کوآئندہ بجٹ کیلئے اپنی تجاویز پیش کیں۔ جس میں مختلف سرکاری اداروں کے مابین کرایہ کے تنازعہ کی وجہ سے چمن بارڈر پر گاڑیوں کی بندش اور عدم منظوری کا معاملہ اٹھایاگیا،درآمدات پر تین فیصد ویلیو ایڈڈ سیلز ٹیکس صنعتی خام مال کی درآمد پر بھی واپس لینے کی درخواست کی ،ایف پی سی سی آئی نے مزید ٹیکس واپس لینے اور مختلف شعبوں کے انکم ٹیکس آرڈیننس کی دفعہ 113 کے تحت کم سے کم ٹیکس کم کرنے کی بھی درخواست کی جبکہ چائے کی درآمد پر بھی زیادہ ٹیکس کا معاملہ بھی اٹھایاگیا ہے۔ناصرحیات نے چیئرمین ایف بی آر سے کہا کہ ایف بی آر غیر رجسٹرڈ افراد کو تین فیصد مزید سیلز ٹیکس کی بنیاد پر شناخت کرنے میں ناکام رہا،سیلز ٹیکس نیٹ کو بڑھانے کا حل یہ ہے کہ مزید سیلز ٹیکس کو تین سے بڑھا کر ایک فیصد کردیا جائے،دکانوں ، خوردہ دکانوں کے سائز کی بنیاد پر ، آنے والے بجٹ میں ایک مقررہ اسکیم متعارف کروائی جائے، ٹیکس کی بنیاد کو وسیع کرنے کی ضرورت ہے،ایف بی آر کی تمام فیلڈ فارمیشنوں کو نئے ٹیکس دہندگان کو جال میں لانے کی سمت کام کرنا چاہئے،بجلی کے صنعتی اور تجارتی کنکشن استعمال کرنے والے تمام اداروں کو لازمی طور پر رجسٹرڈ ہونا چاہئے۔

فرخ ایچ خان( سی ای او، پاکستان اسٹاک ایکسچینج)

اقتصادی ترقی کو بڑھاوا دینے اور پاکستان کی معیشت میں بنیادی اسٹرکچرل عدم توازن کو دور کرنے کے سلسلے میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) نے وفاقی حکومت کو 2021-22 کے لیے اہم بجٹ تجاویز پیش کردی ہیں۔ پاکستان اسٹاک ایکس چینج کے سی ای اوفرخ ایچ خان نے حکومت کوکچھ عرصے کے لیے کپیٹل گین ٹیکس ختم کرنے کی تجویز دے دی۔انکا کہنا ہے کہ اسٹاک مارکیٹ معیشت کے سب سے زیادہ دستاویزی سیکٹرز میں سے ایک ہے،کیپٹیل مارکیٹ میںموجود تمام شرکا مکمل دستاویزات کے حامل ہیں۔ لہٰذاکیپٹیل مارکیٹ کا پھیلائو، پاکستان میں ٹیکس کا دائرہ کاربڑھانے کے لیے ایف بی آر کی کوششوں کے ساتھ پوری طرح منسلک ہے، ایک موثر، مساوی اور وسیع البنیاد ٹیکس سسٹم اور کارپوریٹائزیشن کلچر باہم ایک دوسرے پر انحصار کرتے ہیں۔ مزید یہ کہ ایک وسیع البنیادکیپٹل مارکیٹ ،ٹیکس ادا کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ، بچت اور سرمایہ کاری کی شرح میں بہتری، اور دولت کی عدم مساوات کو کم کرنے جیسے اہم معاشی اور معاشرتی مقاصد کے حصول میں بھی مدد فراہم کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ مالیاتی نظم و ضبط اور ٹیکس اقدامات سے کیپٹل مارکیٹس کے اسٹرکچر اور کام پر براہ راست اور گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ ایک بڑی اور بہتر طور پر کام کرنے والی کیپٹل مارکیٹ جدید معیشت کے لیے لاز می شرط ہے۔ لہٰذا پاکستان کی معیشت کی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ سازگار ماحول پیدا کیا جائے جس سے زیادہ کمپنیوں اور سرمایہ کاروں کوکیپٹل مارکیٹس کی طرف راغب کرنے میں مدد ملے گی۔

فرخ ایچ خان نے کہا کہ پی ایس ایکس کی جانب سے پیش کردہ 14 بجٹ تجاویز اس بنیادی اصول کے تحت ہیں کہ حکومت کی آمدنی پر اثرانداز ہوئے بغیر، نئی لسٹنگ کی حوصلہ افزائی اور سرمایہ کاری میں اضافہ کرکے کیپٹل مارکیٹ کے حجم اوروسعت میں اضافہ کیا جائے، ان تمام تجاویز میں بنیادی طور پر، ترقی میں مزاحم اور حائل رکاوٹوںپر توجہ دی جارہی ہے جوکیپٹل مارکیٹ کی ترقی کے ساتھ ساتھ دستاویزی کارپوریٹ سیکٹر پر بھی منفی اثر ڈال رہی ہے،یہ سفارشات بنیادی طور پر تضادات اور دوگنا اور متعدد بار ٹیکس لگانے جیسے واقعات ، جو کہ سرمائے کی تشکیل میں رکاوٹ بنتے ہیں ، انہیں دور کرنے کے لیے ہے، یہ ہمارے کارپوریٹ سیکٹر کے لیے ضروری بھی ہے تا کہ وہ باقی دنیا سے موثر طور پر مقابلہ کرنے کے قابل ہو سکیں۔زیادہ تر تجاویز ، ریونیو نیوٹرل ہیں جبکہ بہت سے معاملات میں، حکومت کے محصول میں اضافے کا امکان ہے۔پی ایس ایکس نے جوبجٹ تجاویزپیش کی ہیں ان میں شامل اہم نکات میںسی جی ٹی کی اصلاح، لسٹڈ کمپنیز اور ایس ایم ایز کے ٹیکس شرح کی ریشنالائزیشن (عقلی پیمانے پر تاویل)، سیونگز اورانویسٹمنٹ اکائونٹ کا تعارف، رئیل اسٹیٹ سیکٹر کو دستاویز ی کرنا اور REITS کو فروغ دینا، طویل مدتی اور مستقل ٹیکس پالیسیوں کا تعارف،رئیل اسٹیٹ اور تعمیرات کے لیے کیپٹل گینز ٹیکس (سی جی ٹی) کے اسٹرکچرمیں حالیہ تبدیلیوں نے لسٹڈ اور دیگر ایسٹ کلاسز کے مابین ٹیکس کے تناظر میں بگاڑ پیدا کیا ہے، جہاں لسٹڈ سرمایہ کاری کے لیے سی جی ٹی کی شرح بہت زیادہ ہے۔

ایس ایم منیر(سرپرست اعلیٰ یونائٹیڈ بزنس گروپ)

ایس ایم منیر پاکستان کی بزنس کمیونٹی کے مایہ ناز لیڈر اوربھائی جان کے لقب سے جانے جاتے ہیں،ٹڈاپ کے چیف ایگزیکٹو اورایف پی سی سی آئی کے صدر رہ چکے ہیں۔انکا نئے مالی سال2021-22کے بجٹ کے حوالے سے نئی بات سے گفتگو میں اپنی تجاویز میں کہنا تھا کہ ملک میں پہلے ہی ٹیکسیشن کی بہتات سے انڈسٹری کا بیڑہ غرق ہورہا ہے ایسے میں شوکت ترین کا یہ کہنا کہ وہ پہلے سے زیادہ ریونیو اکھٹا کریں گے تو کیا انکے پاس الہٰ دین کا چراغ ہے،پہلے ہی انڈسٹری بے تحاشہ ٹیکسز کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے ان حالات میں نئے ٹیکسز لگانے سے گریز کیا جائے۔حکومت کو چاہیئے کہ جو لوگ ٹیکس نہیں دیتے انہیں پکڑے اور ان کے گرد گھیرا تنگ کرے،ہم اس کام میں حکومت کے ساتھ ہیں،پاکستان میں ہر فرد کو ٹیکس دینا چاہیئے چاہے اس کا تعلق زرعی سیکٹر،انڈسٹری اور کسی بھی شعبے سے ہو،لیکن نئے ٹیکس لگانے سے گریز کیا جائے۔میں یہاں ریفنڈز کے حوالے سے وزیراعظم سے گوش وگزار کرنا چاہوں گا کہ کئی سال سے ایکسپورٹرز کے ٹیکس ریفنڈز التواء کا شکار ہیں،وزیراعظم عمران خان نے بھی یہ وعدہ کیا تھا کہ فوری طور پر ریفنڈز کے چیک جاری کئے جائیں گے مگر ایسا نہ ہوسکا،میرے بھی انکم ٹیکس کے ریفنڈز 11سال سے پینڈنگ ہیں،حکومت کیوں ریفنڈز نہیں دے رہی ، جب ایکسپورٹرز اور صنعتکار کو اسکا اپنا ہی سرمایہ نہیں ملے گا تو وہ اپنا کاروبار آگے کیسے چلا سکے گا،ایکسپورٹرز کا کیپٹل حکومت نے بلاک کررکھا ہے تو وہ ایکسپورٹ کیسے بڑھائے گا۔حکومت نئے بجٹ میں ٹیکسیشن کم سے کم کرے کیونکہ ٹیکس بڑھانے سے ٹیکس چوری بھی بڑھتی ہے،ٹیکس کم لگائیں گے تو ریونیو بھی زیادہ آئے گا۔حکومت چھوٹے تاجروں کو بھی مراعات دے اور انہیں اسپیشل قرضے دیئے جائیں تاکہ انکا کاروبار بند نہ ہو۔

شارق وہرہ(صدر کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری)

کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (کے سی سی آئی) نے حکومت کو پیش کردہ بجٹ تجاویز میں فرسودہ معاشی پالیسیوں، ظالمانہ ٹیکس ریجم، ایف بی آر کے بوسیدہ اور رکاوٹوں کے حامل انتظامی ڈھانچے میں اصلاحات لانے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایف بی آر اور اس کے ماتحت محکمے تب ہی نتیجہ خیز ثابت ہوسکتے ہیں جب تک بجٹ میں فرسودہ ریونیو ماڈل اور خامیوں کو دور کرنے کے لیے کچھ سخت اقدامات نہیں اٹھائے جاتے۔ شارق وہرہ نے کے سی سی آئی کی سال 2021-22 کے لیے بجٹ تجاویز پر اظہار خیال کرتے ہوئے اس بات کی نشاندہی کی کہ سال 2020 نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا میں معیشت اور کاروبار کے لیے مشکلات کا باعث رہا ہے۔ کورونا کے وبائی مرض کی وجہ سے بنی نوع انسان کو بھونچالی صورتحال کا سامنا ہے کہ کس طرح عالمی معیشت اور بین الاقوامی مالیاتی نظام بنیادی طور پر تبدیل ہوگا اور نئی حقیقتوں کے مطابق ڈھل جائے گا۔کورونا کے وبائی مرض نے ہر ملک اور ہر انسان کو اس طرح سے متاثر کیا ہے۔شارق وہرہ کا کہنا تھا کہ ملک اور اس کی معیشت کو بجٹ کے عموماً پرانے سانچے کی ضرورت نہیں بلکہ اسے معمول سے ہٹ کر حل کی ضرورت ہے جیسا کہ ہم سال بہ سال دیکھتے ہیں کہ ایس آر اوز کے ذریعے ترامیم، قواعد، نوٹیفکیشن اور وضاحتوں کی بھرمار ہوتی ہے۔گذشتہ برسوں میں اس طرح کے طریقوں نے ترقی میں رکاوٹ پیدا کی اور پاکستان میں کاروباری افراد کی حقیقی صلاحیتوں کو ختم کردیا۔ اس کے نتیجے میں غیر دستاویزی معیشت میں تیزی سے اضافہ ہوا جس کا حجم دستاویزی معیشت سے کہیں بڑا ہے۔کے سی سی آئی کو تجارت و صنعت کے زمینی حقائق کو بخوبی ادراک ہے اور تاجر برادری کو درپیش مائیکرو اور میکرو دونوں امور سے بخوبی واقف ہے لہٰذا آئندہ بجٹ کے لیے کے سی سی آئی کی پیش کردہ تجاویز انتہائی اہمیت کی حامل ہیں۔کے سی سی آئی نے دستاویزی معیشت کی حوصلہ افزائی اور تعمیل کو بہتر بنانے کے لیے سیلز ٹیکس کی شرح کو سنگل ڈیجٹ پر لانے کی سفارش کی ہے۔ کے سی سی آئی نے بجٹ 2021-22 کے لیے اپنی تجاویز میں کہا کہ پاکستان میں سیلز ٹیکس کی شرح اس خطے میں سب سے زیادہ ہے۔ درحقیقت سیلز ٹیکس کی اتنی زیادہ شرح دستاویزی معیشت اور تعمیل میں رکاوٹ ہے۔ ٹیکسوں کی انتہائی زیادہ شرح کے ساتھ عموماً بالواسطہ ٹیکسز اسمگلنگ، چوری، انڈرانوائسنگ اور مس ڈکلیریشن کی ترغیب دیتے ہیں۔ یہ سپلائی چین کو دستاویزی کرنے سے دور رہنے کی ترغیب بھی دیتی ہے جس کا سارا بوجھ رجسٹرڈ مینوفیکچررز، درآمد کنندگان اور تاجروں پرڈال دیا جاتا ہے۔شارق وہرہ کے مطابق کراچی چیمبر نے تجویز پیش کی کہ اِن پٹ لاگت کو کم کرنے کے لیے تمام شعبوں پر سیلز ٹیکس کی شرح کو کم کرکے سنگل ڈیجٹ پر لایا جائے اور برآمدات کی لاگت میں کمی لانے کے ساتھ ساتھ کنزیومر گڈز کی قیمتوں کو کم کرنے میں بھی مدد فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے دلیل دیتے ہوئے کہا کہ صنعت، معیشت ٹیکس کی بنیاد میں اضافے کو فروغ دے گی جس سے دستاویزی اور رجسٹرڈ معیشت کو فروغ ملے گا اور ترقی کے ساتھ آمدنی بھی پیدا ہوگی۔


ای پیپر