Ata Sb, Urdu, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan
06 جون 2021 (11:33) 2021-06-06

کیا موجودہ حکمرانوں نے تنازع کشمیر پر پاکستان کے اصولی اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کے آئینہ دار مؤقف کو مذاق سمجھ لیا ہے جس کی خاطر بہادر اور مظلوم کشمیری عوام کے علاوہ پاکستانی قوم نے بے شمار قربانیاں دی ہیں… تین چار جنگیں لڑی ہیں… پاکستانی سیاست کو کئی مرتبہ اس مؤقف کی خاطر یرغمال بنایا گیا… جب سے ماشاء اللہ برسراقتدار آئے ہیں ایک کے بعد دوسرا متضاد بیان دیتے چلے آ رہے ہیں… اوّل تو قوم کو علم نہیں ہماری کشمیر پالیسی اگر کوئی ہے تو اس کی باگیں کس کے ہاتھوں میں ہیں… آخری اور قطعی فیصلہ حاضر سروس جرنیلوں نے کرنا ہے یا اپنے آپ کو منتخب وزیراعظم کہلانے والے عمران خان نے… جس کے پاس بھی اس حوالے سے اصل اور فیصلہ کن طاقت ہے اسے کم از کم قوم کو اپنی پالیسی لائن سے پوری طرح اور قطعی الفاظ میں آگاہ رکھنا چاہیے… آئے روز بیان بدل دیا جاتا ہے… پالیسی کا نیا چہرہ سامنے آتا ہے… ایک مؤقف پر قائم نہیں رہتے… اس ضمن میں وزیراعظم عمران خان کے فرانسیسی نیوز ایجنسی کو کو دیئے گئے تازہ انٹرویو کے مندرجات پر نگاہ ڈالیے… فرمایا ہے اگر بھارت مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے 5 اگست 2019 کو کئے گئے اقدامات واپس لینے کے روڈمیپ سے ہی ہمیں آگاہ کر دے تو اس کے ساتھ مذاکرات کا آغاز کیا جا سکتا ہے… یعنی بھارت بیتاب بیٹھا ہے لیکن مذاکرات کرنے یا نہ کرنے کی کنجی پاکستان کے ہاتھ میں ہے… چنانچہ ہماری جانب سے سفارتی اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پیشکش کی گئی ہے اگر بھارت ہماری تازہ ترین شرط مان لے اور کچھ نہیں اپنے 5 اگست 2019 والے جارحانہ اور غیرقانونی اقدام کو واپس لینے کا راستہ (Road Map) تجویز کر دے یا اس سے آگاہ کر دے تو مذاکرات کا دروازہ کھل جائے گا… رائٹر ایجنسی کے نمائندے نے ہمارے وزیراعظم بہادر کے یہ نادر خیالات حاصل کرنے کے بعد بھارتی وزارت خارجہ کے ذمہ داران سے ان کا مؤقف جاننے کے لیے رابطہ قائم کیا تو وہاں سے جواب خاموشی کی صورت میں ملا… گویا انہوں نے پروا ہی نہیں کی کہ پاکستان نئی پیشکش کر رہا ہے… اس نے اپنے دو تین روز پہلے کے مقابلتاً سخت مؤقف میں لچک دکھائی ہے اسے کچھ تو جواب دینا چاہیے… لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے انہوں نے پاکستان کے وزیراعظم بہادر کی تازہ اور لچک والی پیشکش کو درخور اعتنا نہیں سمجھا… اس پر کسی قسم کا تبصرہ کیا نہ ہاں یا ناں کی صورت میں کسی جواب کے قابل سمجھا…

ابھی صرف تین روز پہلے ہمارے وزیراعظم نے بڑے طنطنے کے ساتھ کہا تھا پہلے بھارت کو 5 اگست 2019 کا جارحانہ اقدام واپس لینا پڑے گا اس کے بعد ہی اس کے ساتھ تعلقات کی بحالی کا عمل شروع ہو سکے گا… یہ کڑی شرط تھی… شاید ہمارے سول حکمران کا خیال تھا اس کے سامنے آتے ہی مذاکرات کے خواہشمند بھارتی حکمران اپنے مؤقف میں لچک پیدا کر دیں گے… پاکستان کے ساتھ باقاعدہ بات چیت کا ڈول ڈالنے کی خاطر کھلے الفاظ یا دبے لفظوںمیں پیشکش کر ڈالیں گے ہم اپنا اتنا بڑا اقدام واپس لینے کے لیے تیار ہیں آپ 

مذاکرات کے لیے ایک قدم آگے تو بڑھائیں… لیکن نئی دہلی والے ٹس سے مس نہیں ہوئے… انہوں نے حسب دستور پاکستان کے موجودہ وزیراعظم کے کسی بیان کا تب بھی جواب دینا پسند نہیں کیا… زبان عمل سے صاف انکار کر دیا… جارحانہ طرزعمل کے ساتھ ڈٹے رہے اس کے بعد جناب عمران خان نے نہایت درجہ عالی ظرفی اور اپنے تئیں سفارتکارانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے رائٹرز جیسی بین الاقوامی ایجنسی کو انٹرویو دے ڈالا ہے اور فرمایا ہے چلیے اگر مودی حکومت فوری طور پر 5 اگست کا جارحیت پر مبنی اقدام واپس لینے کے لیے تیار نہیں تو ہم اس کی مدد کرتے ہوئے اپنے مؤقف میں لچک دکھا دیتے ہیں… آپ کے لیے اگر علانیہ طور پر 5 اگست 2019 کے روز کشمیر کو بزور طاقت ہضم کر لینے کا فیصلہ واپس مشکل ثابت ہو رہا ہے تو ہم قریب ترین ہمسائے کی مدد کیے دیتے ہیں… یک دم فیصلہ واپس نہ لیجیے… بس اس کا روڈ میپ ہمارے سامنے رکھ دیجیے… اس پر بات شروع کرتے ہیں… اس کے ساتھ باقاعدہ مذاکرات کے عمل کا آغاز بھی ہو جائے گا لیکن بھارت نے حسب سابق عمران خان کی اس تجویز کو بھی جواب دینے یا کسی قسم کا ردعمل ظاہر کرنے کے قابل نہیں سمجھا… ظاہر ہے سارا قصور اس میں مودی کی بددماغی کا ہے عمران بیچارہ کیا کرے وہ تو ہر دم بھارت کے ساتھ مذاکرات کا قفل توڑنے کو تیار بیٹھا ہے…

بھارت کے مسلسل انکار اور ہٹ دھرمی کا سلسلہ وزیراعظم عمران خان تک محدود نہیں… گزشتہ ماہ مارچ میں جناب آرمی چیف قمر جاوید باجوہ نے پچیس تیس اخبار نویسوں کے ساتھ خاص ملاقات میں انکشاف فرمایا پاکستان اور بھارت کے سکیورٹی اداروں کے نمائندوں کے درمیان دبئی میں خفیہ مذاکرات ہوئے ہیں… اس کے بعد جنگ بندی کے 2003 کے معاہدے کو دوبارہ مؤثر بنا دیا گیا ہے… اس کے ساتھ ہی فرمایا گیا ہمیں آرٹیکل 370 سے کیا لینا دینا یہ بھارت کا اندرونی معاملہ ہے البتہ 5 اگست 2019 کے اقدام کے تحت بھارتی آئین سے آرٹیکل 370 کے ساتھ ذیلی دفعہ 35-A بھی مٹا دی گئی ہے اس پر بات چیت ہونی چاہیے… ہم نہیں چاہتے کہ اس دفعہ کو بھارتی آئین سے تلف کر کے غیرکشمیریوں کو مقبوضہ ریاست میں جائیداد کی خریدوفروخت کی اجازت مل جائے گی یوں وہاں کی آبادی کا نقشہ بدل دینے کی سعی کی جا رہی ہے… لہٰذا اس ذیلی دفعہ کو برقرار رہنا چاہیے… اس حد تک بھارت سے سمجھوتہ ہو سکتا ہے اور حالات کو نارمل سطح پر لایا جا سکتا ہے… توقع کی گئی کہ مذاکرات کا عمل چونکہ چل نکلا ہے… گمان کیا گیا خفیہ سطح پر 5 اگست کے اقدام پر بھی کوئی سمجھوتہ ہوا چاہتا ہے بھارت بھی ردعمل دکھائے گا… لیکن خاموشی تھی کہ اس مرتبہ بھی بھارتی مطلع پر چھائی رہی… غالباً اسی ہفتہ کے اختتام پر یعنی گزشتہ ماہ مارچ کے اواخر میں جناب عمران خان نے اپنی کابینہ کمیٹی کی بااختیار کونسل کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے اجازت مرحمت فرما دی کہ بھارت کے ساتھ کچھ اشیاء کی تجارت کے راستے کھول دیے جائیں… خبر عام ہوئی تو پوری قوم کو سخت حیرانی ہوئی بلکہ صدمہ پہنچا کہ کشمیریوں کے خون کے ساتھ یہ کیا مذاق کھیلا جا رہا ہے… ردعمل عمران خان کی کابینہ کے بعض افراد نے بھی شدید دکھایا… اگلے روز فیصلہ واپس لینا پڑا… مگر بھارت نے اتنی بڑی رعایت پر بھی جو اسے یکطرفہ طور پر دی جا رہی تھی خاموشی اختیار کیے رکھی… کوئی مثبت یا منفی ردعمل سامنے نہ آیا… پاکستان رجعت قہقری کی تصویر بن کر رہ گیا… یہاں یہ بات تو قارئین محترم سے چھپی نہ ہو گی بھارت میں 2019 کے انتخابات  سے پہلے جناب عمران خان نے مسلسل بار اس خوش فہمی کا اظہار کیا مودی کو انتخابات کے چیلنج کا سامنا ہے اسے یہ معرکہ سر کر لینے دو کشمیر پر مذاکرات ضرور کرے گا… پھر جو مودی نے اس چنائو میں غیرمعمولی کامیابی حاصل کر کے ایسا سخت گیر اور انتہا درجے کا رویہ اختیار کیا کہ مذاکرات کا اشارہ تک دینے کی بجائے 5 اگست 2019 کا ننگی آئینی اور قانونی جارحیت والا اقدام کر دکھایا… پاکستانی اسٹیبلشمنٹ اور حکومت منہ دیکھتی رہ گئی… آج تک دونوں کنفیوژڈ ہیں اور اپنے ساتھ پاکستان کے عوام کو بھی سخت قسم کی گومگو کی کیفیت میں مبتلا کر رکھا ہے… اندر کی بات اے قارئین باتمکین مگر یہ ہے ہمارے حکمران نہ بھارت پر کسی قسم کا عالمی سفارتی دبائو ڈالنے کے قابل رہے ہیں نہ ہم جنگ لڑنے کی پوزیشن میں ہیں… تین جنگیں ہار چکے ہیں چوتھی کی سکت ہم میں باقی نہیں رہی… اس کے بعد اپنے عوام اور خود اپنے ضمیر کو مطمئن کرنے کے لیے زوردار قسم کی بیان بازی رہ جاتی ہے سو وہ ہماری طرف سے جاری ہے… مگر تابکے…!


ای پیپر