Shafiq Awan, Urdu, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan
06 جون 2021 (11:27) 2021-06-06

میرا تعلق حامد میر سے اس وقت سے ہے جب وہ جنگ لاہور کا ایک رپورٹر تھا۔ اس کے ساتھ لاہور کی سڑکوں پر رپورٹنگ کے دوران جوتیاں گھسائیں اس کے بعد وہ اسلام آباد چلا گیا۔ اس دوران ایک بار اسلام آباد کے اوصاف اخبار میں اسے ادارت کی مبارکباد دینے گیا۔اس کے بعد پارلیمنٹ کی راہداریوں میں گاہے بگاے ملاقات علیک سلیک رہی۔ جیو نیوز کی کراچی میں ٹریننگ کے ساتھ کچھ وقت گزرا۔ اس سے آخری ملاقات کراچی میں قاتلانہ حملے کے بعد ایک فائیو سٹار ہوٹل میں ہوئی جہاں وہ زیر علاج تھا۔ حامد سے تعلق بھی واجبی سا رہا اور کبھی یارانے یا بے تکلف دوست کا نہ رہا۔ البتہ اس کے بھائی عامر میر سے اچھا تعلق رہا وہ بھی اب ماضی کی داستان ہے۔ آج جب اس کے خلاف غداری کے فتوے اور سپانسرڈ مظاہرے ہو رہے ہیں اور اس کے ادارے نے اس پر اپنے دروازے بند کر دیے ہیں تو سوچا اس پر کچھ لکھا جائے۔

آجکل ٹرینڈز کادور ہے اور تازہ ترین ٹرینڈ ’’ میں حامد میر ہوں‘‘ چل رہا ہے۔ لیکن میںاس ٹرینڈ کا حامی نہیں ہوں۔ اس کی وجہ کالم کے آخر میں بیان کروں گا۔ 

پروفیسر وارث میر کے بیٹے حامد میر سے کسی کے لاکھ اختلافات ہو سکتے ہیں لیکن وہ ایک محب وطن پاکستانی اور پروفیشنل صحافی ہے اور صحافی کی جو تعریف ہے اس پر سو فیصد پورا اترتا ہے۔ گٹر میڈیا اور صحافیوں کی آڑ میں کچھ زرخرید بھونکے یا نام نہاد کنٹرولڈ اور سستی شہرت کی کچھ تنظیمیں اس پر جتنا گند اچھالیں گی اس کی حب الوطنی پر میرا یقین اتنا ہی پختہ ہوتا چلا جاے گا۔ یقیناً وہ فرشتہ بھی نہیں انسان ہے اور انسان خطا کا پتلا ہوتا ہے۔

اس پر غداری کا پہلا باقاعدہ الزام تب لگا جب 2019 میں اسے کراچی میں گولیوں سے چھلنی کر دیا اور اس کے بھائی عامر میر نے اس حملے کا الزام آئی ایس آئی پر لگا دیا۔ اور یہ ایسے وقت لگایا گیا جب حامد زندگی اور موت کی کشمکش سے گزر رہا تھا اور اسے باہر کی دنیا کی کوئی خبر نہ تھی۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ بعد میں حامد میر نے بھی اسی بیانیے کو اپنایا اور یہاں ان میں کھلی جنگ کا آغاز ہو گیا۔ تازہ ترین واقع میں ایک یو ٹیوبر اسد طور پر اس کے گھر گھس کرنامعلوم افراد نے حملہ کر کے زخمی کر دیا۔ میں کسی پر بھی کسی بھی قسم کے تشدد کے خلاف ہوں اور اسد طور کے ساتھ جو ہوا بہت برا ہوا اور اس کے ذمہ داران کوکٹہرے میں لانا چاہیے۔ اس تشدد کے خلاف مظاہرے میں حامد میر فرط جزبات میں ایک بار پھر گرے لائن کراس کر گیا اور کچھ ایسے فقرے ادا کر دیے جو متنازعہ گردانے گئے۔ یقیناً اس جملہ متنازعہ پر مجھ سمیت کسی کو بھی اعتراض ہو سکتا ہے۔ اس جرم کی پاداش میں جو اس کے ادارے کے ڈسپلن میں بھی نہیں آتا اس کے ادارے نے اس کے پروگرام کی میزبانی بھی واپس لے لی۔ یہاں بھی الزام لگا کہ پروگرام بھی ’’مقتدرہ‘‘ نے بند کروایا۔ لیکن برا یہ ہوا کہ اس پر غداری کے فتوے لگا دیے گئے اور انداج مقدمہ کے علاوہ طعن و تشنیع کا طوفان برپا کر دیا گیا۔ بلکہ نام نہاد ٹائوٹ صحافیوں نے کراے کے مظاہرین کے ساتھ حامد میر کے خلاف اسلام آباد میں مظاہرہ بھی کر دیا جس کی حقیقت مطیع اللہ جان نے خوب 

پوسٹ مارٹم کیا کہ یہ کون لوگ تھے اور ’’کس‘‘ کے اشارے پر لاے گئے۔ بتایا جا رہا ہے حامد میر کی اس تازہ جذباتیت کے پیچھے بھی ایک داستان ہے کہ اسے اپنے پروگرام کی لگامیں کھینچنے کو کہا جا رہا تھا۔ حامد میر کس دبائو سے گزر رہا تھا اس پر پھر کبھی بات کروں گا۔ میر شکیل الرحمان اور میر ابراہیم الرحمان بھی یقیناً دبائو میں ہیں لیکن مجھے یقین ہے ماضی کی طرح اس کا حل بھی وہ نکال لیں گے۔ 

یقینا میری بات اکثر دوستوں کو ناگوار گزرے گی لیکن میں ہر اس شخص کو صحافی نہیں سمجھتا جسے مائیک، کیمرے کا استعمال اور بولنے کا ہنر آتا ہو اور ہر یو ٹیوبر صحافی نہیں ہوتا۔ چند ایک کو نکال کر 90 فیصد یو ٹیوبرز میں جھوٹ کی میراتھن ریس لگی ہوئی ہے اور اکثر یو ٹیوبر صحافی اپنی خواہش کو نہیں سوچ کو خبر بنا دیتے ہیں اور اس پرکوئی چیک بھی نہیں۔ اس پر بھی آئندہ کبھی لکھوں گا۔ 

حامد میر کا نام ہمیشہ کامیاب اورمتنازعہ صحافیوں کی فہرست میں رہا۔ پروفیشنل صحافی کا خبر کے معاملے میں کوئی دوست نہیں ہوتا یہی وجہ ہے ایسے صحافیوں کی اسٹیبلشمنٹ، حکومت، اپوزیشن یا کسی بھی شعبہ زندگی یا تنظیم سے نہیں بنتی اور وہ آئے دن گھڑے گھڑاے تنازعات کا شکار رہتے ہیں۔ ایسے صحافیوں کو انٹی اسٹیبلشمنٹ کی اصطلاح سے نوازا جاتا ہے لیکن میرے نزدیک ایسے صحافی ہی سچے صحافی ہوتے ہیں جو اپنی خبروں، قلم، پروگراموں، تجزیوں اور تنقید سے طاقت کے نشے میں ڈوبے اقتدار کے ایوانوں اور اپوزیشن میں موجود سیاست کے فرعونوں، مذہبی و دیگرگروہوں و تنظیموں ، اور’’اسٹیبلشنٹ‘‘ کی غلط کاریوں کو ہر دور میں بلا خوف للکارتے ہیں۔ ایسے صحافیوں میں غلط کاریوں کے خلاف مزاحمت ان کی گھٹی میں شامل ہوتی ہے اور اکثر مشکلات کا شکار ہوتے ہیں۔ لیکن کچھ صحافی ایسے بھی ہیں جو اس دوڑ میں اپوزیشن یا حکومت کی ٹرین پر چڑھ جاتے ہیں۔ کچھ تو حکومتی عہدے قبول کر لیتے لیکن پھر بھی خود کو صحافی کہلواتے ہیں اور اس کے لیے صحافی تنظیموں میں موجود ان کے کاسہ لیس ان کے مددگار ثابت ہوتے ہیں اور چند ایک ایسے بھی ہیں جن کی تنقید سے اپوزیشن کی بو آتی ہے اور صاف لگ رہا ہوتا ہے کہ وہ صحافت کی آڑ میں اپنے آقائوں کا غصہ نکال رہے ہیں۔ آجکل بڑی تعداد میں ایسے بھی صحافی ہیں جن کا کام حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے ہر کام کی تعریف حکومتی مشینری سے بڑھ کر کرنا ہوتا ہے بلکہ حکومتی توصیف کے جو نکات وہ نکال کر لاتے ہیں وہ حکومتی مشینری اور وزراء کی فوج کو بھی شرمندہ کر دیتی ہے۔ بلکہ بطور صحافی ہم بھی شرمندہ ہوتے ہیں۔ 

حامد میر پانچوں خانوں سے سچے صحافیوں کی معدود ہوتی نسل سے ہے.یہ وہ نسل ہے جو عملی صحافت میں ایک تربیت کے زریعے اوپر آئی جس نے صحافت کے ہر شعبہ میں جید اساتذہ کے زیر نگرانی صحافت شروع کی اور اسے جلابخشی۔ نیوز روم سے رپورٹنگ پھر اخبار کے ایڈیٹر اور آخر میں کامیاب ترین صحافی اینکر تک اس نے کامیابی کے جھنڈے گاڑے۔ اس نے پرنٹ میڈیا میں بھی اپنا مقام بنایااور الیکٹرانک میڈیا میں بھی کوئی اس کے قریب نہیں پھٹکتا۔ وہ اس ملک کی بنتی بگڑتی تاریخ کا چشم دیدگواہ ہے اور اس نے اس دشت کی سیاحی تپتی ریت پر اپنے پائوں پر کی اور ہر واقع کا چشم دید گواہ بھی رہا۔ کم بخت کے پاس خبر بھی ہوتی ہے جس کی وجہ سے وہ اپنے ہی ساتھیوں کے حسد یا نا پسندیدگی کا شکار رہتا ہے۔ حامد حادثاتی صحافی تھا اور نہ ہی مسلط کیا گیا اینکر، صحافت اس کا اوڑنا بچھونا اور لباس تھی اور ہے۔ اس نے اسی لاہور کی سڑکوں پر بطور رپورٹرہمارے ساتھ جوتیاں گھسائیں، آنسو گیس اور پولیس کی لاٹھیوں کے ساتھ ساتھ مظاہرین کا تشدد بھی برداشت کیا لیکن اپنے فرائض سے کبھی غفلت نہ کی۔ الیکٹرانک میڈیا میں بھی اس نے اپنا لوہا منوایا اور وہ کھمبیوں کی طرح اگنے والے ان 80 فیصد Prompter Anchors کی طرح نہیں جو اپنا سکرپٹ پڑھنے کے لیے بھی مشینوں کا سہارا لیتے ہیں یا ’’مخصوص‘‘ حلقوں سے آیا ہوا نامہ پڑھتے ہیں۔ کم از کم مجھے فخر ہے کہ وہ چند جماندرو صحافی اینکروں میں سے ایک ہے۔اسے صحافت کی اونچ نیچ کا پتہ ہے اس لیے وہ مشکل مرحلوں سے بھی اپنی ذہانت اور علم سے بخوبی نکل جاتا ہے۔ وہ نسیم حجازی کی طرح داستان گو نہیں اور عراق ہو ، کویت ، افغانستان یا ملک کا کوئی جنگی محاذ اس نے اگلے مورچوں سے رپورٹنگ کی۔ 

اس میں کوئی شک نہیں حامد میر شرارتی، چلبلا، مہم جو اور بے حد جذباتی انسان ہے اور پسند و ناپسندیدگی کے بھی اس کے اپنے معیار ہیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ وہ اپنے آپ کو بدلنے کو تیار نہیں اور ان ہی صفات کی وجہ سے وہ کبھی کبھی گرے لائن عبور کر جاتا ہے جس کی قیمت اسے ، اس کے خاندان اور ساتھیوں کو بھگتنی پڑتی ہے۔ یہ بات بھی طے ہے کہ وہ ہمیشہ اپنی تحریروں، سخت موقف اورخیالات کی وجہ حکومت اور ’’مقتدرہ‘‘ کی منفی فہرست میں رہا۔ مارشل لا ء یا کسی بھی غیر جمہوری نظام سے اسے نفرت کی حد تک چڑ تھی۔ انہی صلاحیتوں کی وجہ سے وہ اکثر عتاب کا شکار رہا کئی بار اس کا پروگرام بند رہا اور وہ جبری رخصت پر بھی رہا۔

 میری اس سے آخری ملاقات 2019 کو کراچی کے ایک فائیو سٹار ہوٹل کے کمرے میں ہوئی جہاں وہ نامعلوم افراد کی گولیوں سے شدید زخمی ہونے کے بعد زیر علاج تھا۔ بھابی ناہید سے بات ہوئی وہ عظیم اور حوصلے کا پیکر ہونے کے ساتھ ساتھ پریشان بھی تھیں۔آپ بھی کہیں گے کہ حامد کو تو ہسپتال میں ہونا چاہیے تھا فائیو سٹار میں کیسے۔ تو بات یہ ہے کہ اس وقت ’’مقتدرہ‘‘ کے دبائو پر کراچی کا کوئی ہسپتال اسے لینے کو تیار نہیں تھا۔ خیر اس سے ملاقات ہوئی اس کے حوصلے بلند تھے۔ کہتے ہیں مارنے والے سے بچانے والا زیاہ طاقتور ہے اور اللہ تعالی نے اسے زندگی دی اور وہ پھر زندگی کی دوڑ میں اسی شدو مد سے شامل ہو گیا۔

اور آخر کچھ گفتگو ایک ٹرینڈ ’’میں حامد میر ہوں‘‘ پر۔ گو کہ یہ ٹرینڈ علامتی ہے لیکن حامد میر ٹرینڈز سے نہیں بنا جاتا۔ سوشل میڈیا کے ٹرینڈ بھی پانی کے بلبلے کی طرح ہیں کل اس ٹرینڈ کی جگہ کوئی دوسرا لے لگا۔ لیکن آپ اتفاق کریں یا نہ حامد میر ایک مزاحمتی سوچ کا نام ہے جو ہمیشہ رہے گی۔ حامد میر بننے کے لیے جہد مسلسل اور اپنی سوچ سے کمٹمنٹ کا نام ہے۔ ٹرینڈز چلانے کی بجائے اس کے نکتہ نظر کو اپنائیں۔ ٹرینڈز ایک سراب ہے اور حقیقت تک پہنچنے تک بڑی محنت لگتی ہے۔

قارئین اپنی رائے کے اظہار کے لیے اس نمبر 03004741474 پر وٹس ایپ، سگنل ، بی آئی پی یا ٹیلیگرام کر سکتے ہیں۔


ای پیپر