ملالہ سے ملال تک ۔۔
06 جون 2021 2021-06-06

سب سے پہلے یہ کہنا ضروری ہے کہ میں ملالہ یوسف زئی کا مخالف نہیں ہوں۔ میں ہمیشہ سے طالبان کی طرف سے بچیوں کے سکول جلائے جانے کے خلاف اس کی ہمت، جرا¿ت اور بہادری کا مداح رہا ہوں، اس کے باوجود کہ بہت سارے لوگ اسے ایک ڈرامہ سمجھتے ہیں اور قاتلانہ حملے تک کو ایک جھوٹ، میں نے ملالہ کی حمایت پر بہت سارے نیکوکاروں سے بہت ساری گالیاں بھی کھائی ہیں مگر مسئلہ ملالہ کی شخصیت نہیں ہے، مسئلہ یہ ہے کہ میں ،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کے مطابق، لڑکیوں کی تعلیم کی مخالفت کا سوچ بھی نہیں سکتا اور مسئلہ یہ بھی ہے کہ ایک طرف بموں اور بندوقوں والے ہوں اور دوسری طرف آپ تنہا تو آپ کی بہادری کا اعتراف نہ کرنا کم ظرفی ہے۔

اب ایک دوسرا مسئلہ ہے کہ کیا ملالہ کی سوچ کے مطابق شادی کے مقابلے میں پارٹنر شپ کے تصور کی حمایت کی جا سکتی ہے۔ ایک منٹ ٹھہرئیے، یہ مت کہئے گا کہ ملالہ کے الفاظ سیاق و سباق سے ہٹ کریا توڑ مروڑ کر پیش کئے جا رہے ہیں۔ اس تحریر کی روانی کو دیکھئے جہاں وہ اپنے والدین کی’ ارینجڈ لو میرج‘ پر بات کرتی ہے، ایک فنکار سے ملاقات پر شرم سے منہ چھپا لیتی ہے تو وہاں آگے چلتے ہوئے کہتی ہے، ”میں ابھی تک نہیں سمجھ پائی کہ لوگ شادی کیوں کرتے ہیں،ا گر آپ ایک شخص کو اپنی زندگی میںچاہتے ہیں تو آپ کو شادی کے کاغذات پر دستخط کرنے کی کیا ضرورت ہے، یہ محض ایک پارٹنر شپ کیوں نہیں ہوسکتی“۔ یہ بھی مت کہیے کہ یہ ایک بچی کی معصوم سی خواہش ہے کہ وہ شادی نہیں کرنا چاہتی بلکہ ہمیشہ اپنے والدین کے ساتھ رہنا چاہتی ہے، ہاں، ملالہ ایسا کہتی ہے مگر پارٹنر شپ کے نظرئیے کو ترجیح دینے کے بعد۔ اس کی عمر بارہ جولائی کو چوبیس برس ہوجائے گی ،اس کی فکر اور کوشش کی معراج یہ ہے کہ وہ نوبل پرائز جیت چکی ہے ۔ میں نے اس کا ویریفائیڈ ٹوئیٹر اکاو¿نٹ دیکھا ہے، وہاں نہ کوئی وضاحت ہے اورنہ تردید۔ ’ آئی ایم ناٹ ملالہ‘ کے رائیٹر، آل پاکستان پرائیویٹ سکولز فیڈریشن کے صدر، کاشف مرزا دعویٰ کرتے ہیں کہ اس کی تردید نہیں ہوگی کیونکہ سب کچھ ’پیڈ‘ ہے اور ’پلانڈ‘ ہے جیسے ’ می ٹو‘ کی مہم تھی۔

شبیراحمد خان، شعبہ سیاسیاست کے استاد ہیں ، کہتے ہیں کہ مغرب میں میرج اور پارٹنر شپ میں فرق نہیں ہے، ہمیں ملالہ کے بیان کو مغرب کی تعریف اور تشریح کے مطابق دیکھنا ہو گا جبکہ ہم اسے اسلام کے ضوابط کے حوالے سے دیکھ رہے ہیں۔ میں ادب سے اعتراف کرتا ہوں، ہاں، ہم اسی عینک سے دیکھ رہے ہیں کیونکہ ملالہ اسلام اور پاکستان کی نمائندگی کر رہی ہے، اس نے ا بھی تک اسلام ترک کرنے کا اعلان نہیں کیا۔ دوسرے میں نے برطانیہ کی قانون بارے ویب سائٹس پر دیکھا ہے کہ وہ میرج اور پارٹنر شپ میں ایک سے زیادہ حوالوں سے فرق کرتے ہیں اور پہلا حوالہ ہی مذہب کا ہے۔ وہ پارٹنر شپ کو سول پارٹنر شپ کا نام دیتے ہیں اور اس کو مذہبی پابندیوں سے بالاتر کر دیتے ہیں۔ میں سول پارٹنر شپ کی تاریخ پڑھتا ہوں تو علم ہوتا ہے کہ وہ بنیادی طور پر سول پارٹنر شپ کو ایک ہی جنس کے دو افراد کو شادی کا حق دینے کے لئے لاتے ہیں اور بعد ازاں 2018 میں اسے مرد اور عورت کے تعلقات تک پھیلا دیا جاتا ہے کیونکہ وہاں ایک سے زیادہ مذاہب کے لوگ ہیں اور ان کے درمیان تعلقات کو قانونی شکل دینے کی ضرورت محسوس کی جا رہی تھی۔

ایک تشریح اور کی جاتی ہے کہ ملالہ نے میرج پیپرز کی مخالفت کی جو آپ کو میرے اوپر لکھے ہوئے اس کے الفاظ کے محتاط ترجمے میں بھی نظر آئے گی اورسوال پوچھا جاتا ہے کہ کیا آپ کے دادا، دادی کا نکاح نامہ آپ کے پاس موجود ہے، تب بھی یہ انڈرسٹینڈنگ ہی ہوتی تھی اور اعلان ہی ہوتا تھا۔ ایک ضمنی دلیل یہ ہے کہ میاں ، بیوی ایک دوسرے کو لائف پارٹنر ہی کہتے ہیں لہٰذا پارٹنر شپ کہنا کیسے غلط ہوگیا بلکہ یہ تو زندگی کی سب سے اہم ترین پارٹنر شپ ہو گئی۔ آئیے ان باتوں کو ترتیب وار دیکھتے ہیں۔ اول یہ کہ اگر ہمارے دادا، دادی اور نانا ، نانی میرج پیپرز سائن نہیں بھی کرتے تھے تو ان کا مطلب محض جسمانی پارٹنرز ہونا نہیں ہوتا تھا بلکہ وہ میاں بیوی ہوتے تھے اور معاشرے کے سامنے ان تمام ذمے داریوں کو قبول کرنے کا اعلان کرتے تھے جو شوہر اور بیوی پر عائد ہوتی ہیں۔ وہ پارٹنر شپ کے تحت سال، دو سال بعد ادھر ادھر نکل جانے کی آزادی نہیں رکھتے تھے۔نکاح کی رجسٹریشن قانونی تقاضوں کے بعد میں شروع ہوئی مگر وہ نکاح ہی ہوتا تھا اور اب بھی ہے۔یہ درست ہے کہ شوہر اور بیوی کو لائف پارٹنر کہتے ہیں مگردوسری طرف آپ پارٹنر شپ کی مغربی تعریف اٹھا کر دیکھ لیجئے، وہ قانون پابندی عائد کرتا ہے کہ آپ ایک دوسرے کو شوہر اور بیوی کے طور پر متعارف نہیں کروا سکتے۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ مغرب نے تمام تر آزادی بلکہ بے راہ روی کے باوجود شادی کے ادارے کی حرمت اور عزت کو برقرار رکھا ہے۔

میرج او رپارٹنر شپ میں فرق عملی طور پر دیکھئے کہ برطانیہ کے وزیراعظم بورس جانسن اپنی گرل فرینڈ کے سایہ بھی رہتے ہیں اور گذشتہ برس ان ایک بچہ بھی پیدا ہوا ہے مگر وہ اس کے ساتھ اپنی تیسری شادی کرنے جا رہے ہیں۔ مغرب میں جب لوگ پارٹنر شپ سے میرج میں داخل ہوتے ہیں تو انہیں مبارکباد د ی جاتی ہے۔ درست ہے کہ مغرب نے شادی کو مشکل بنا دیا ہے لہٰذا لوگ پارٹنر شپ کی طرف جا رہے ہیں۔ آپ بل گیٹس کی شادی کے خاتمے پر غور کر سکتے ہیں جس میں بل گیٹس کو اپنی آدھی دولت سے محروم ہونا پڑا اور اس کی مطلقہ ملینڈا دنیا کی امیر ترین عورتوں کی صف میں شامل ہو گئی۔ یہ مت کہئے کہ ویسٹ میرج اور پارٹنر شپ میں فرق نہیں کرتا، وہ بہت زیادہ اور بہت نمایاں فرق کرتا ہے اور اس فرق کو بڑھاتا جا رہا ہے۔ہمیں یہی کچھ اپنے ہمسائے انڈیا میں دیکھنے کو مل رہا ہے جہاں ایک سے زیادہ مذاہب ہیں اور ان کے درمیان انٹریکشن ہے اور وہ شادی کے بجائے سول پارٹنر شپ کی طرف بڑھ رہے ہیں۔

  ملالہ یوسف زئی جس معاشرے میں گذشتہ کئی برس سے ہے وہاں شادی مشکل اور پارٹنر شپ آسان ہوتی جا رہی ہے۔ یہ عین ممکن ہے کہ وہ اپنے ہم مذہب کے ساتھ ہی ’پارٹنر شپ‘ کرے مگر وہ اپنے الفاظ کے مطابق شادی سے بچنا چاہتی ہے اور ہماری نوجوان نسل بھی کم سے کم ذمے داریاں چاہتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمیں ملالہ کی حمایت کرنے والی اور والے بہت سارے نوجوان ملے ہیں جو شادی کا بار نہیں اٹھانا چاہتے، بچے نہیں پیدا کرنا چاہتے، ان کی پرورش اور تعلیم پر اپنی رقم ضائع نہیں کرنا چاہتے مگر انجوائے کرنا چاہتے ہیں۔ ڈاکٹر راغب نعیمی کہتے ہیں کہ نکاح کا مقصد محض لطف اندوزی نہیں بلکہ نسل انسانی کی پاکیزہ اور ذمہ دارانہ افزائش ہے۔ مغرب کے بعض ممالک میں ایسے بچوں کی تعداد پچاس فیصد سے بھی زیادہ ہوتی جا رہی ہے جن کے باپوں کے نام کی جگہ ان ناون لکھا ہوا ہے۔ ملالہ لڑکیوں کی تعلیم کی ضرور حامی ہے مگر اس کی بنیاد اسلامی تعلیمات اور احکامات کم او راس کے والد پر حاوی مغربی سوچ زیادہ ہے ۔ مجھے یہ کہنے میں عار نہیں کہ جب آپ خود یا اپنی اولاد کو بیرون ملک شہریت دلواتے ہیں تو نوے فیصد سے زیادہ کے لئے امکانات یہی ہیں کہ ان کی اگلی نسل محض نام کی مسلمان ہو گی اور اس سے اگلی نام کی بھی نہیں ہوگی۔ ملالہ نے جو کچھ کہا وہ مغربی سوچ اور نظریات کے عین مطابق کہا اور ہم اسے اسلام کی عینک سے دیکھ رہے ہیں۔


ای پیپر