شہباز اور صاحبان اقتدار
06 جون 2020 (22:24) 2020-06-06

شہباز شریف اس لحاظ سے اپنے آپ کو بڑے بھائی، قائد اور تین مرتبہ منتخب ہونے والے وزیراعظم نوازشریف سیاسی سمجھ بوجھ کے مالک، زمینی حقائق کا ادراک رکھنے والے اور عملیت پسند سیاست دان سمجھتے ہیں کہ ملک کی مقتدر قوتیں جن کے ہاتھوں میں اقتدار کی کنجیاں ہیں انہیں بھائی کی نسبت پسند کرتی ہیں اور وزارت عظمیٰ کے لائق گردانتی ہیں… غلام اسحق سے لے کر پرویز مشرف اور مابعد تک ترغیبات بھی دی گئیں… 2018ء کے انتخابات سے قبل سمجھوتہ ہوتے ہوتے رہ گیا… ہمیشہ بڑے بھائی کا احترام اور اس کی نامفاہمت پسندانہ سیاست آڑے آئی… شہباز کو ان کے بقول عین ان مواقع پر وزارت عظمیٰ کے منصب سے ہاتھ دھونا پڑے جب ہنڈیا پک چکی تھی… دم لگنا باقی تھا… اب جبکہ اسٹیبلشمنٹ بڑی کوشش کے بعد نواز کو بغرض علاج لندن میں قیام پر مجبور کر چکی ہے اور شہباز نے اس کا ہاتھ بٹایا ہے تو موصوف کو قوی امید ہے جوخلا پیدا ہوا ہے اسے صرف وہ پورا کر سکتے ہیں… لاہور آ براجمان ہوئے ہیں… عمران کے لیے خاصی تشویش کا باعث اور کسی حد تک خطرہ بنے ہوئے ہیں… نیب نے گرفتار کرنے کی کوشش کی انہوں نے عارضی ضمانت حاصل کر لی آنکھ مچولی کا کھیل جاری ہے… دونوں طرف سے مخالفانہ بیانات کی یلغار ہے… مقتدر قوتوں کے اپنے ’خان‘ کی کارکردگی سے پوری طرح مایوس ہونے کی دیر ہے قرعہ فال شہباز کے نام نکل آئے گا… ہما کاندھے پر بیٹھ جائے گا… عمر بھر کی تمنا اور آرزو پوری ہو جائے گی وہ جو اس منصب کی کنجیاں ہاتھ میں لیے بیٹھے ہیں ان کے لیے بھی یہ امر یک گونہ اطمینان کا باعث ہوگا کہ نواز سے جان چھٹ گئی… اسی کے بھائی نے مسلم لیگ (ن) کا اثاثہ ان کے قدموں پر لا کر رکھ دیا ہے… بدلے میں کچھ عرصے کے لیے ملک کا سب سے بڑا سیاسی عہدہ سنبھال لیں گے تو مہنگا سودا نہیں… لیکن معاملہ اتنا آسان نہیں… شہباز شریف بلاشبہ کہیں زیادہ قابل اعتماد ہے… اطاعت گزاری اور وفاشعاری میں پیچھے رہنے والا نہیں… سویلین بالادستی کا وظیفہ نہیں دہراتا… آئین مملکت کو اسی حد تک قابل اعتنا سمجھتا ہے جب تک یہ دستاویز ایک سیاست دان اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان ٹکرائو نہیں پیدا کرتی… بہترین منتظم ثابت ہوا ہے… وزیراعظم بنائے جانے کے لائق ہے… لیکن بھائی تو نوازشریف کا ہے… اس کا جو بھی سیاسی اور عوامی اثاثہ ہے وہ حقیقت میں نواز کی ملکیت ہے… ووٹ بینک اسی کا ہے… عوام کے دلوں پر ابھی تک اس کا راج باقی ہے… شہباز اس اثاثے کو لے کر وزیراعظم ہائوس میں داخل ہو گا تو کس حد تک قابل اعتبار ثابت ہو گا؟ ہمارے ساتھ وفاداری کے عہد پر یقینا قائم رہے گا… ثابت قدمی کا مظاہرہ بھی کرے گا… لیکن بھائی کے ساتھ مکمل علیحدگی نہیں کر پائے گا… اس کی مضبوط خاندانی روایات اس کا تقاضا کرتی ہیں اور ووٹ بینک بھی اسی صورت قائم رہ سکے گا اگر سیاسی لحاظ سے بھائی کے ساتھ جڑے رہنے کا تاثر برقرار رکھے گا… بصورت دیگر نوازشریف جیسا کہ لندن سے آنے والی اس کی تازہ ترین تصاویر بتاتی ہیں توقعات کے برعکس زیادہ لاغر نہیں ہوا چاق و چوبند ہے… اس نے اپنی سیاسی وارث کے طور پر بیٹی مریم کو تیار کر کے بٹھا رکھا ہے… وہ میدان عمل میں اتر آئی تو شہباز کے قدم اکھڑ کر رہ جائیں گے…

اس کی سیاسی بنیادیں متزلزل ہو جائیں گی زیادہ کام کانہیں رہے گا… گجرات کے چودھری آج بھی اس سے کہیں زیادہ قابل اعتماد ہیں… ان کی وفاداری کسی بھی لحاظ سے مشکوک نہیں… جہاں اور جس حکومت یا ہمارے قائم کردہ نظام کے اندر بٹھا دیا جاتا ہے وہیں بہترین اثاثہ بن کر کارکردگی کا مظاہرہ شروع کر دیتے ہیں… رسوخ جما لیتے ہیں… ہر حالت میں ’ہمارے‘ رہتے ہیں… شہباز ان کی جگہ نہیں لے سکتا… لہٰذا اگر اس کو مسند اقتدار پر لا بٹھانا ہے تو کئی بار جانچ پرکھ کرنا پڑے گی… سارے پہلوئوں اور تمام امکانات پر غور کرنا پڑے گا… ورنہ عمران کیا برا ہے کارکردگی اگرچہ مایوس کن ہے لیکن وفاداری اور اطاعت گزاری میں بے مثال ہے… وقتی طور پر اس پر گزارہ کیا جا سکتا ہے… شہباز شریف لاہور میں بیٹھا یا جیل میں بند اس کے لیے چیلنج بنا رہے گا… یہ امر عمران کو مزید راہ راست پر رکھنے میں ممدومعاون ثابت ہوگا…

دوسری جانب شہباز بھی اسی طرح کے مخمصے کا شکار ہے… اقتدار مل بھی گیا… وزیراعظم بنا بھی دیا گیا تو بڑے بھائی کی مانند دوتہائی اکثریت کے بل بوتے پر نہیں… مسلم لیگ (ن) کے کئی اراکین اسمبلی ساتھ دینے سے گریز کریں گے… اسٹیبلشمنٹ اپنے روایتی وفاداروں کو ساتھ لاکھڑا کرے گی… لیکن ان کی طنابیں کسی اور کے ہاتھ میں ہوں گی کسی وقت بھی ساتھ چھوڑ دیں گے…سیاسی دھمکیاں دیتے رہیں گے… بلیک میل بھی کریں گے… اسٹیبلشمنٹ حسب روایت ان سے خوب خوب فائدہ اٹھائے گی… مسلم لیگ (ن) کی اصل کمان شہباز کے ہاتھوں میں آئے گی تو وہ ایک بڑی قاف لیگ بن کر رہ جائے گی… ساکھ متاثر ہو گی اور وہ جو اصل قاف لیگ ہے اگرچہ پارلیمنٹ میں اراکین کے لحاظ سے تعداد میں چھوٹی ہے لیکن شاہ کے ساتھ وفاداری میں شہباز سے میلوں آگے رہے گی… اسے ساتھ ملائے بغیر چھوٹے میاں صاحب کی حکومت بن نہ پائے گی نہ بڑی سرکار کی جناب میں قابل قبول ہو گی… چھوٹے صوبوں سے بھی جو جماعتیں آ ملیں گی وہ اوپر کے اشارے کی رہین منت ہوں گی… جبکہ اصلی اور پرانی قاف لیگ بڑے حصے یعنی Lion's Share کی طالب ہو گی… وزیراعظم شہباز کے ہاتھ بندھ سے جائیں گے وہ بہترین منتظم ہونے کے باوجود وہ جوہر دکھا نہ پائیں گے جو موصوف نے بھائی کے ماتحت پنجاب کی حکومت کے سربراہ کے طور اپنے دس سالوں میں دکھائے…

پس ثابت ہوا پاکستانی سیاست کا کھیل اتنا آسان نہیں جتنا بظاہر نظر آتا ہے اور وزیراعظم کا عہدہ عمر بھر کے وقار اور شہرت کو دائو پر لگانے کے مترادف بن کر رہ گیا ہے… نوازشریف نے آئین کی حکمرانی کو یقینی بنانے کی سیاست کی… آج جہاں لیجا کر پھینک دیا گیا ہے پوری قوم کے سامنے ہے… عمران خان نے سبق حاصل کرتے ہوئے اس کے برعکس راستہ اختیار کیا… کہاں کا آئین اور کدھر کی سول بالادستی!… اسٹیبلشمنٹ کو ملجا و ماوا بنایا… میدان عمل میں ناقص ترین کارکردگی کی وجہ سے اس کی جو مٹی پلید ہونے جا رہی ہے سب کو اندازہ ہے… راہ امتدال کیا ہے… شہباز شریف کے پاس اگر جادو کی کوئی چھڑی ہے تو وہ ایسے عالم میں کیا اثرات دکھائے گی جب عالی مرتبت صاحبان اقتدار حقیقی نے ہر شعبے میں اپنے جھنڈے گاڑھ لیے ہیں… بالادستی قائم کر لی ہے … پچھلے دو سال کے عرصے سے ان کے سائے گہرے سے گہرے ہوتے چلے جا رہے ہیں… دفاع اور خارجہ پالیسی کا کیا مذکورہ وہ تو یوں کہیے پاکستان کی تقریبات ابتدائے افرینش سے ان کی دسترس میں ہے… موجودہ عہد تک پہنچتے پہنچتے محترم آرمی چیف کی براہ راست دلچسپی اس حد تک بڑھ گئی ہے کہ معاشی ترقی پر نگاہ رکھے ہوئے ہیں… اکنامک ڈویلپمنٹ کے معزز رکن ہیں… کورونا کی وبا آئی تو گومگوں کی پالیسی نے معاملات پوری طرح عمران خان کے ہاتھ میں نہ رہنے دیئے… ’آئی ایس پی آر‘ نے پنجاب اور صوبہ خیبر پختونخوا میں لاک ڈائون نافذ کرایا… جناب چیف کے ایماء پر نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول کا ادارہ قائم کیا گیا… جس کی سربراہی مشترکہ طور پر وفاقی کابینہ کے سینئر رکن اسد عمر اور عسکری اداروں کے اہم نمائندے لیفٹیننٹ جنرل محفوظ الرحمن کے پاس ہے… اسی پر اکتفا نہیں وفاقی وزارت اطلاعات جو ہمیشہ سے سویلین حکومتوں کی ترجمانی کے فرائض سرانجام دیتی رہی ہے اب اس کے اختیارات کو وفاقی وزیر شبلی فراز اور جنرل عاصم باجوہ جیسے منجھے ہوئے ماہر ابلاغیات کے درمیان بانٹ دیا گیا ہے… ایک پالیسی بنائے گا دوسرا محض اعلانات کرے گا… تازہ ترین پیش رفت کے طور پر جنرل باجوہ نے ٹڈی دل کی فصلوں کو تباہ کر دینے والی یلغار کے معاملے کو بھی براہ راست اپنے نوٹس میں لیا ہے… زراعت کا شعبہ بھی ان کی توجہات اور نگرانی کا مرکز بن گیا ہے… اس کے بعد گلی محلوں کا انتظام و انصرام باقی رہ گیا ہے جسے چاہے وزیراعظم اپنی دسترس میں لے کر قوم کو خوش کرے گا یا صوبوں کے وزرائے اعلیٰ مسلسل اپنی جولانگاہ بنائے رکھیں گے… اس کے بارے میں آنے والا وقت ہی کچھ بتا سکے گا…


ای پیپر