مکافاتِ عمل
06 جون 2020 (22:23) 2020-06-06

امریکہ مکافاتِ عمل کے دورمیںداخل ہو کر عذابوں کے تھپیڑے کھا رہا ہے۔ موت برساتے کورونا نے ایک ہی ہلّے میں امریکہ کو دشتِ لیلیٰ (افغانستان) بنا دیا۔ کورونا نے اپنے شکنجے میں جکڑ کر وہی اجتماعی قبریں ان کا مقدر کردیں جو ڈونلڈ رمز فیلڈ اور جارج بش نے دوہزار طالبان کیلئے کھودی تھیں۔ کنٹینروں میں ٹھونس کر دم گھٹ کر مر جانے والوں کے لئے اجتماعی قبروں کے منہ کھول دیئے تھے۔ آج کورونا بھی دم ہی گھونٹتا ہے۔ وینٹی لیٹر بھی ساتھ چھوڑ جاتا ہے۔ مرگِ انبوہ کی صورت بن گئی۔ لاشیں بھی تدفین کے انتظار میں فریز والے کنٹینروں میں ذخیرہ کیں اور پھر اجتماعی قبروں میں انڈیل دیں۔ ابھی یہ سلسلہ تھما نہ تھا کہ ان کے قدموں تلے سے ایک اور مقامی وبا کا عذاب ایسے پھوٹ پڑا جس نے دیکھتے ہی دیکھتے پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ ’ان پر عذاب ایسے رخ سے آیا جدھر ان کاخیال بھی نہ جا سکتا تھا‘۔ (الزمر۔25)’کہو، وہ اس پر قادر ہے کہ تم پر کوئی عذاب اوپر سے نازل کر دے، یا تمہارے قدموں کے نیچے سے برپا کر دے، یا تمہیں گروہوں میں تقسیم کر کے ایک گروہ کو دوسرے گروہ کی طاقت کا مزہ چکھوا دے‘۔ (الانعام۔65)۔ 8 منٹ اور 46 سیکنڈ میں امریکہ پر ایک نئی قیامت ٹوٹ پڑی۔ پورا امریکہ، شہر شہر مظاہروں سے ہلا مارا گیا۔ میناپولس شہر میں 44 سالہ سیاہ فام امریکی جارج فلوئیڈ دوکان پر سگریٹ خریدنے گیا۔ وہاں موجود ملازم لڑکے نے بیس ڈالر کا نوٹ جعلی قرار دے کر پولیس کو اطلاع دی۔ (فلوئیڈ کورونا کی پھیلائی بے روزگاری کا شکار تھا) پولیس افسر نے آتے ہی پستول سونتی، فلوئیڈ کو گاڑی سے نکالا اور ہتھکڑی لگا دی۔ اسے زبردستی پولیس کی گاڑی میں دھکیلنے پر فلوئیڈ نے مزاحمت کی، زمین پر جا گرا۔ اس کا منہ زمین سے لگا ہوا تھا اور ہتھکڑی میں تھا۔ پولیس افسر نے اپنا مضبوط گھٹنا اس کی گردن پر پورے وزن کے ساتھ دبائے رکھا۔ فلوئیڈ منت سماجت کرتا رہا، ’میرا دم گھٹ رہا ہے۔ میں سانس نہیں لے سکتا۔ پلیز، پلیز، پلیز‘… (لوگوں نے یہ لمحات اور مناظر وڈیو ریکارڈ کر لئے)۔ سفید فام پولیس افسر نے 20 ڈالر کی سزا میں (جرم ثابت ہوئے بغیر) 8 منٹ 46 سیکنڈ تک اسے پوری قوت سے گردن پر گھٹنا دیئے دبوچے رکھا۔ 6 منٹ کے اندر فلوئیڈ بے جان ہو چکا تھا۔ ایمبولینس آئی۔ ہسپتال میں اسے مردہ قرار دیا گیا۔ اس کی موت نے سوشل میڈیا پر جگہ پاتے ہی پورے امریکہ کو اٹھا کھڑا کیا۔ افریقی امریکیوں کے صبر کے تابوت میں یہ آخری کیل تھا جو جڑ دیاگیا۔ 25 مئی کو پولیس کے ہاتھوں ہونے والے اس قتل نے (ایک نے جان لی، باقی 3 گورے پولیس افسر پہرہ دیتے رہے اس کی موت یقینی بنانے کو، بلامداخلت!) چار سو سالہ غلامی کے سارے زخم (افریقی امریکیوں کے) ہرے کر دیئے۔ نسل در نسل ظلم، جبر، تحقیر، نفرتیں انگیز کرنے والے پھٹ پڑے۔ گورے کا نقاب نوچ پھینکا۔ ان کا ساتھ دینے کو (آتش فشاں بننے سے بچانے کو بھی) ہر رنگ نسل کے امریکی دیوانہ وار اٹھ کھڑے ہوئے۔ آج پورا امریکہ شعلہ بہ داماں ہے۔ یہ آگ امریکہ تک محدود نہیں۔ پوری مغربی دنیا، یورپ آسٹریلیا، نیوزی لینڈ تک بڑے شہر مظاہروں کی لپیٹ میں ہیں۔ گرم ہو جاتا ہے جب محکوم قوموں کا لہو تھرتھراتا ہے جہانِ چارسوئے رنگ و بو!

امریکہ میں سیاہ فام ہونے کا مطلب کیا ہے، کینیا کا ایک مشہور صحافی نیویارک کے حوالے سے اپنا تجربہ بیان کرتا ہے کہ کس طرح صرف اپنی سیاہ رنگت کی بنا پر (ایک دعوت میں شرکت کیلئے جانے پر) گورے بٹلر کے ہاتھوں اس نے ذلت اٹھائی۔ ’اس تجربے سے میں جان گیا کہ یہ نظام کس طرح سیاہ فاموں کو تحقیر دیتا اور اجنبی بنا رکھتا ہے( قطع نظر اس کی تعلیم، مقام یا مرتبے کے)‘۔ برطانوی شاہی خاندان سے بغاوت اختیار کر کے امریکہ (لاس اینجلس) ، شوہر پرنس ہیری کے ساتھ جا بسنے والی شہزادی میگھن مرکل بھی سیاہ فام ماں کی بیٹی ہے (باپ سفید فام تھا)۔ اس نے 2012ء میں نسل پرستی کی اذیت پر جو اظہارِ خیال کیا تھا اپنے ذاتی تجربات کی روشنی میں، وہ بھی اب گونج رہا ہے۔ امریکہ بالخصوص، مغرب بالعموم کے چہرے سے نقاب اتر گیا ہے۔ جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی چیف نے کہا کہ ’وائرس نے امریکی عدم مساوات کی وبا کا بھانڈا پھوڑ دیا ہے۔ (کورونا کے ذریعے) صحت، تعلیم اور روزگار کے اعتبار سے نسلی امتیاز کی مقامی وبا کا حال کھل کر سامنے آ گیا ہے۔ وائرس میں مرنے والے امریکی سیاہ فام تعداد میں دوسری نسلوں کے مقابلے میں دوگنی تعداد میں مرے ہیں (کوئی پرسانِ حال نہیں!) برطانیہ میں بھی گوروں سے دوگنی

تعداد میں افریقی، پاکستانی اور بنگلہ دیشی مرے ہیں۔ فرانس کے اقلیتی علاقوں میں بھی وائرس سے موت کے گھنے سائے پھیلے ہوئے ہیں۔ امریکہ اور دنیا بھر میں مظاہرے فلوئیڈ کی موت کے لمحے لمحے کو دوہرا رہے ہیں۔ شہروں میں ہزارہا مظاہرین سڑک پر الٹے لیٹے ہاتھ پیچھے بندھے فلوئیڈ کی موت کا منظر دکھا رہے ہیں۔ ہر جگہ بینرز پر لکھا ہے۔ ’میں سانس نہیں لے سکتا‘۔، ’میرا دم گھٹ رہا ہے‘۔ فنکاروں نے 8 منٹ 46 سیکنڈ کیلئے بلیک آئوٹ کیا۔

ایسے میں امریکی صدر نے تکبر اور سفیدفام بالادستی کا نمائندہ ہونے کی حد کر دی۔ مظاہرین کے زخموں پر نمک چھڑکنے کیلئے ٹویٹر پر مسلسل تکلیف دہ جملے لکھے۔ جبکہ 40 شہروں میں رات کا کرفیو لگا ہے (جو روزانہ توڑا جا رہا ہے) 100 شہروں میں لوگ اپنی جانوں،کورونا کے خوف سے بے پروا ہو کر بغاوت کی کیفیت میں ہیں۔ ٹرمپ نے ایسے میں فوج بلانے، ٹینک چڑھانے کی دھمکی دے ڈالی جسے بمشکل تمام وزیردفاع نے سنبھالا دیا۔ ٹرمپ نے مشتعل مظاہرین کی جلتی پر تیل ڈالنے کو وائٹ ہائوس سے نکل کر چرچ پیدل جا کر وہاں بائیبل لہرا کر فوٹو کھنچانے کی خاطر ہجوم پر ربڑ کی گولیاں اور آنسو گیس برسوا دی۔ اس واقعے پر غم و غصے کی نئی لہر دوڑ گئی۔ ٹرمپ نے ٹویٹر پر جملہ اچھالا: ’لوگوں نے میری یہ واک پسند کی‘! وزارتِ دفاع کے اہم مشیر جیمز ملر نے اس واقعے پر استعفیٰ دے دیا، وزیر دفاع اور جوائنٹ چیف آف سٹاف پر تنقید کرتے ہوئے کہ وہ دونوں ٹرمپ کے اس (بے حکمت، غیرسنجیدہ) تصویر کشی تماشے میں ہمراہ رہے! ٹرمپ کو روکا کیوں نہیں۔ اس کا حلف آئین سے وفاداری اور اس کے تحفظ کا تقاضا کرتا ہے۔ واشنگٹن ڈی سی میں کرفیوکے باوجود رات گئے تک مظاہرین نعرہ زن رہے۔ نیشنل گارڈ کی بھاری نفری وائٹ ہائوس کے گرد موجود تھی۔ ہیلی کاپٹر بھی سر پر تھے۔ آدھی رات کے بعد آنسو گیس بھی برسائی گئی۔ مصر میں عرب بہار کے بعد کے مناظر آج امریکہ میں نظر آ رہے ہیں۔ 2013ء میں رابعہ عدویہ سکوائر میں 85 ہزار مظاہرین جو مرسی کی مقبول حکومت کا تختہ الٹنے کی فوجی کارروائی کے خلاف احتجاج کیلئے اکٹھے ہوئے۔ ان پر بلڈوزر، گن شپ ہیلی کاپٹر، بکتر بند گاڑیاں، سینکڑوں فوجی اتر آئے۔ حالیہ انسانی تاریخ میں (نہایت پُرامن منظم، قانون کے دائرے میں) مظاہرین کا سب سے بڑا قتلِ عام ایک دن میں کیا گیا۔ (فرق مصر اور امریکہ کا یہ ہے کہ مسلمانوں پر سیسی جیسے جلادوں کو قتلِ عام انہوں نے سکھایا ہے۔ خود وہ ربڑ گولیوں پر رک جاتے ہیں)مہا منافق سیسی مسلمان ہونے کے پردے میں وہ کرتا ہے جو کافر کیلئے ممکن نہیں۔ مصر میں ایک ہزار شہید کئے، چار ہزار زخمی ہوئے، دودرجن خواتین بھی قتل ہوئیں۔ ہزاروں گرفتار ہوئے۔ قطار اندر قطار نوجوانوں کی لاشوں کے ڈھیر لگے۔

امریکہ میں 1968ء کے مارٹن لوتھر کنگ (سیاہ فام لیڈر) کے قتل کے بعد بھڑکنے والی آگ ہی کی طرح اس وقت بھی حالات نہایت مخدوش ہیں۔ امریکہ کی سرکردگی میں یورپ و دیگر مغربی اقوام کا بالا و برتر نسل ہونے کا گھمنڈ چار صدیوں کی تاریخ پر محیط ہے۔ اس کا تاریک ترین باب 1619ء میں 20 قیدیوں (افریقی غلاموں) کو لے کر ورجینیا میں لنگر انداز ہونے والے بحری جہاز سے شروع ہوتا ہے، جہاں سے افریقی امریکیوں کی کہانی شروع ہوئی۔ سوا کروڑ افریقی مرد عورتیں بچے غلامی کی اس تجارت میں جھونکے گئے۔ یہ نرا مالِ تجارت تھے۔ یورپ کے ممالک نے بھی اس جبری نقل مکانی کی بہتی گنگا میں خوب ہاتھ دھوئے۔ وہاں سے شروع ہونے والی یہ کہانی آسیب کی مانند مختلف ادوار سے گزرتی خطوں اور اقوام کو غلامی کی زنجیروں میں جکڑتی آج 2020ء میں آن کھڑی ہے۔ ظلم و جبر کے حربے بدلتے رہے۔ استحصالی سامراجی قوتوں نے براہ راست کالونیاں بنانے کی بجائے دوسری جنگِ عظیم کے بعد ریموٹ کنٹرول غلامی کا طریقہ رائج کیا۔ ٹوڈیوں کاسہ لیسوں کو حکومتیں تھمائیں۔ 2001ء کے بعد مسلم دنیا پر کیا بیتی؟ امریکی پولیس مین کا گھٹنا جس طرح فلوئیڈ کی گردن دبوچے رہا اور باقی تین پہرہ دیتے رہے۔ یہی داستان ہر ملک میں ان کی فوجوں، ریمنڈ ڈیوسوں کی مقامی السیسی، بشارالاسد نما گماشتوں کی رہی ہے۔ امریکی عوام ووٹ دے دیکر انہی بدمعاشوں کو دنیا تباہ کرنے کو بار بار گلوبل ویلج پر مسلط کرتے رہے سو اب سبھی بھگتان دے رہے ہیں!


ای پیپر