دو ملین ڈالرز کے بچوں کیلئے کرونا ’’لالی پاپ ‘‘
06 جون 2020 (17:28) 2020-06-06

مڈ غاسکر: مال مفت دل بے رحم کی مثال میڈغاسکر کے وزیر تعلیم پہ صادق آتی ہے جنہوں نے اسکول کے بچوں کے لیے دو ملین ڈالرز( 1.6ملین برطانوی پائونڈز) کے لالی پاپ منگوانے کا منصوبہ بنایا۔

ایک غریب افریقی ملک کے صدر نے اس بے رحمانہ فیصلے پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے ملکی خزانے پہ بوجھ قرار دیا۔ صدارتی اعتراض کے بعد وزیرتعلیم سے وزارت کا قلمدان لے لیا گیا ہے۔برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق افریقہ کے جنوب مشرقی ساحل پہ واقع ملک میڈا گاسکر کے وزیر تعلیم نے لالی پاپ کا آرڈر دینے کا منصوبہ اس لیے بنایا تھا کہ اسکول کے بچوں کو ایک ایسی دوا پلائی جانی تھی جس کے متعلق مقامی سطح پہ دعوی کیا گیا ہے کہ وہ عالمی وبا قرار دیے جانے والے کورونا وائرس سے بچا ئوکا ذریعہ ہے۔

دوا جڑی بوٹیوں کی مدد سے مقامی سطح پر تیار کی گئی ہے اوراندرون ملک بے انتہا مقبول بھی ہے۔ میڈا گاسکر کے صدر بھی اس دوا کا عالمی سطح پر فروغ چاہتے ہیں۔رپورٹ کے مطابق چونکہ تیار کردہ دوا کافی کڑوی ہے اس لیے فیصلہ کیا گیا کہ اسکول کے ہر بچے کو دوا پینے کے بعد چوسنے کے لیے تین لالی پاپ دیے جائیں تاکہ وہ منہ میٹھا کرکے دوا کی کڑواہٹ برداشت کرنے کے قابل ہو سکے۔

میڈا گاسکر کے وزیر تعلیم ریجوآندریامانا نے فوری طور پربچوں کے لیے دو ملین ڈالرز کے لالی پاپ منگوانے کا فیصلہ کر لیا۔رپورٹ کے مطابق میڈاگاسکر کے صدر اینڈی راجویلینا نے وزیر تعلیم کے تیار کردہ منصوبے کو ملکی خزانے پہ بوجھ قرار دیتے ہوئے اسکول کے بچوں پر دوا آزمانے کی تجویز ہی رد کردی۔


ای پیپر