کرونا کاپھیلائو اور حکومتی طرزعمل
06 جون 2020 (13:45) 2020-06-06

انسانی جان سے زیادہ معیشت اہم نہیں مگر ہمارے یہاں معیشت کو انسانی جان سے مقدم سمجھ لیا گیا ہے جس کے نتیجے میں کرونا وائرس بڑے پیمانے پر نہ صرف انسانی جانیں نگلنے لگا بلکہ متاثرہ لوگوں کی تعداد میں بھی خوفناک اضافہ ہوتا جارہا ہے آج یہ حالت ہو گئی ہے کہ پاکستان میں کرونا کے مریض چین سے زیادہ ہوگئے ہیں مگر لگتا ہے حکمرانوں کورتی بھر احساس نہیںعین ممکن ہے اُن کا خیال ہو کہ اپنے ہی کیے فیصلے تبدیل کرنے سے عوا م میںغلط تاثر جائے گا جس سے ساکھ متاثر ہو سکتی ہے مگر کیاساکھ انسانی جان سے زیادہ قیمتی ہے ؟ پہلے بھی تو ایک سے زائد بار فیصلے کرنے کے بعد بھی یو ٹرن لیا گیا مزید ایک قدم پیچھے ہٹنے سے کیا فرق پڑے گا اور ساکھ رہ بھی کتنی گئی ہے جو مزید مجروح ہوگی کرونا کو محدود کرنے کی تما م ترحکومتی اقدامات کے نتیجے میں بہتری نہیں آئی اب تو ہر طرف کرونا کا راج دکھائی دیتا ہے اور اموات کی شرح جنوبی ایشیا کے تمام ممالک سے زیادہ ہو گئی ہے یہ خطرے کی ایسی گھنٹی ہے جسے بروقت نہ سُنا گیا تو ناقابلِ تلافی نقصان ہو سکتا ہے ماہرین کا اندازہ ہے کہ وبا کا عروج پندرہ جولائی تک رہے گا مگر حکمران باتوں سے آگے بڑھنے کو تیار نہیں نہ تو خطرے کا ادراک کیا جارہا ہے اور نہ ہی ماہرین کی باتوں کو اہمیت دی جارہی ہے ملک میں بھی ایسے عناصر کی کمی نہیں جو اب بھی وبا کو جھٹلانے میں مصروف ہیں اگر ہم نے رویہ نہ بدلا تویادرکھیں یہ غیر سنجیدگی ہمیں لے ڈوبے گی ۔

چین سے لیکر یورپ تک نے لاک ڈائون کے ذریعے وبا پرقابو پایا ہے نیوزی لینڈ کا آخری مریض بھی صحت یاب ہو کر گھر جا چکا ہے مگر ہم ہیں کہ پہلے تو بیماری کی سنگینی کا احسا س نہ کیااور سنجیدہ اقدامات نہ کیے اسی کا شاخسانہ ہے کہ پاکستان میں کرونا کا جن بے قابو ہونے لگا ہے جو ں جوں تشخیص میں بہتری آرہی ہے نئے مریضوں میں خوفناک اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے اب تو بیرونِ ملک سے آنے والے مریضوں کی تعداد بہت کم ہے بلکہ اکثریت کو یہ مرض مقامی طور پر لگا ہے اب بھی حکومت اور عوام نادانی چھوڑنے پر تیار نہیں حکومت نے تو اپنے حصے کا کام بھی عوام پر چھوڑ ردیا ہے یہ پالیسی کرونا کے پھیلائو میں بے پناہ اضافے کا باعث بن رہی ہے سنگین حالات کے باوجود کوئی اپنے فیصلوں پر نظرثانی پر آمادہ نہیںحکومت نے کاروبار کے لیے ڈھیلے ڈھالے

کچھ قواعد وضوابط بنائے اُن پر بھی کہیں عملدرآمد نہیں ہورہا اگر حکومت بے حسی کا مظاہرہ کر رہی ہے تو عوام بھی غیر سنجیدگی ترک کرنے پر تیار نہیںاسی سبب کرونا کا عفریت ہر شہر ہر گائوں اور علاقے میں پنجے گاڑ رنے لگا ہے۔

حکومت کی ناقص حکمتِ عملی کا نتیجہ ہے کہ پاکستان میں کرونا کے مریض چین سے زائدہوگئے ہیں مریضوں میں ہونے والے اضافے میں کب کمی آنا شروع ہوگی کوئی بھی یقین سے کچھ کہنے کی پوزیشن میں نہیں کیونکہ ہمارے یہاں وبا کو محدود کرنے کی پالیسی بنانے میں کافی دیر کردی گئی حکمران شیخ چلی کی طرح سوچتے اور پھر تصور کر لیتے ہیں کہ حکومت جو کہے گی لوگ من وعن عمل کریں گے حالانکہ وبا کنٹرول کرنے کے لیے حکومتی فیصلوں کے نتائج کے بارے ماہرین خود تذبذب کا شکار ہیں اور فکرمند ی کا اظہار کرتے ہیں تو پھر عام لوگ کیونکر کان دھریں گے اصل میں حکومت جو سوچتی ہے وہ فیصلوں کی صورت میں لکھ کر اعلان کرنے سے آگے نہیں بڑھتی ایسی غیر سنجیدگی پر کوئی سنجیدہ نہیں ہوسکتاحکو مت نے کاروبار کھولتے ہوئے کچھ ایس او پیز بنائے لیکن اُن پر عملدرآمد کی کوشش ہی نہیں کی ٹرانسپورٹ کی اجازت دیتے ہوئے حکومت نے جو کہا کہیں بھی عمل نہیں ہورہا آج جب بگاڑ قابو سے باہر ہوگیا ہے تو حکومت کو بڑی مارکیٹوں کو بند کرنے اور طے شدہ ایس او پیز پر عمل کرانے کا خیال آیا ہے زمینی حقائق یہ ہیں کہ حکومتی رَٹ بہت کمزور ہے اسلام آباد میں بھی ہدایات پر بہت کم عمل ہورہا ہے ستم ظریفی تو یہ ہے کہ ایک طرٖف حکومتی رٹ نہیں مستزاد یہ کہ وزراکی سوچ بھی منقسم ہے جو کام کی بجائے اپوزیشن سے لڑنا اور کوسنے دینا ہی فرض سمجھ بیٹھے ہیںجس سے قومی یکجہتی بھی متاثر ہورہی ہے جانے کون سے کوڑھ مغز مشیر ہیں جو لڑنے کے مشورے دیتے ہیں اور سوچے سمجھے بنا عمل بھی کرلیا جاتا ہے تسلیم کہ حکومت کے پاس اِتنے وسائل نہیں کہ پورے ملک کوفوری طور پر صحت کی سہولتیں فراہم کر سکے آج بھی ملک میں سینکڑوں ایسے ہسپتال ہیں جہاں وینٹی لیٹر نہیںمگر احتیاطی تدابیرپرعملدرآمد کرانے پر تو کچھ خرچ نہیں ہوتا بس انتظامیہ کو متحرک کرنا ہے اگر انتظامیہ سے کام لینے کا سلیقہ بھی نہیں تو برسرِ اقتدار گروہ کی کِس شعبے میں مہارت ہے؟ لوگ جاننا چاہتے ہیں۔

کرونا کے پھیلائو نے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے ہزاروں شہریوں کے ساتھ سندھ ،پنجاب اور کے پی کے سے ممبران ِ اسمبلی جاں بحق ہو چکے ہیں اِس لیے لڑنے کی بجائے وبا سے بچنے کی طرف دھیان دیا جائے مگر حکومت کی ترجیحات دیکھ کر خوش فہمی کی گنجائش نہیں حکمران اُٹھتے بیٹھتے عوامی مشکلات کا تذکرہ کرتے ہیں لیکن یہ مشکلات ختم یا کم کیسے کرنی ہیں کوئی مناسب لائحہ عمل نظر نہیں آتا حکومتی طرزِ عمل میں حکمت و تدبر عنقا ہے یہ ایسے ہی ہے کہ شوگر کے مریض کو ہر وقت میٹھا کھلا کر خوش رکھنے کی کوشش کی جائے یا کسی زخمی کو ادویات کھانے اور مرہم پٹی سے روک کر اُ چھل کود کے مشورے دیے جائیںیا پھر سڑک کِنارے پڑے زخمی کو ہسپتال پہنچانے میں مدددینے کی بجائے وہیں آرام و سکون سے لیٹے رہنے کا مشورہ دیا جائے ایسا اخلاص کسی کوڑھ مغز کا ہی ہو سکتا ہے کاروباراورٹرانسپورٹ کی اجازت دینے کے پسِ پردہ کچھ ایسی ہی سوچ کارفرما لگتی ہے اب پانی سر سے اُنچا ہوا ہے تو حکومت کو بھی سختی کا خیال آگیا ہے لیکن ایک سوال تو بنتا ہے کہ پہلے جان بوجھ کر غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا گیا یا پھر واقعی فہم و فراست کی کمی ہے۔


ای پیپر