گھِن مزے تبدیلی دے
06 جون 2020 (13:44) 2020-06-06

جب ہمارا پیار ومحبت شروع ہوا اس وقت شیخ ظہورالحق صاحب حکومت پنجاب کے فنانس ڈیپارٹمنٹ میں بطور ڈپٹی سیکریٹری کام کر رہے تھے۔بعد میں وہ حکومت پنجاب کے بڑے بڑے عہدوں پر فائز رہے۔ وہ چیئرمین پلاننگ اینڈ ڈیویلپمنٹ، حکومت پنجاب بھی رہے ۔شیخ صاحب ایک منفرد شخصیت تھے۔ زندگی میں جس کا بھی واسطہ شیخ صاحب سے پڑا وہ شیخ صاحب کو بھلا نہیں پایا۔شیخ صاحب کی شخصیت پر تو بہت کچھ لکھا جا سکتا ہے لیکن آج تو ان کا ذکر اس کالم کے عنوان کی وجہ سے ذہن میں آگیا۔ شیخ صاحب کبھی کبھار اپنی اورنج کلر کی ڈاٹسن میں مجھے لینے آجاتے اور پھر لتا جی کے گانے سنتے سنتے ہم شیخوپورہ یا گوجرانوالہ روڈ کے کسی ٹرک ہوٹل پر چائے پینے پہنچ جاتے۔ شیخ صاحب کو ٹرک ہوٹل پر چائے پینے کا بڑا چسکا تھا۔اس دوران اگر ان کی نظر ٹرک کی بیک سائیڈ (Backside) پرلکھے کسی خوبصورت فقرے پرپڑ جاتی تو وہ اسے خوب انجائے کرتے۔ اس کا خوب تجزیہ کرتے اور ٹرک ڈرائیورز کی سٹریٹ وزڈم (srteet wisdom ) کی خوب تعریفیں کرتے۔ آج کے کالم کا عنوان بھی ایک ٹرک کے پیچھے لکھا ہوا ایک خوبصورت اور جامع فقرہ ہے۔ کبھی کبھار ایک فقرہ بھی پوری پوری کتاب سے زیادہ بات سمجھا جاتا ہے۔ کیا ’’گھن مزے تبدیلی دے‘‘ کا مطلب کسی کو سمجھانے کی ضرورت ہے۔’گھن ‘ سرائیکی زبان کا لفظ ہے ، جس کا مطلب ہے ’’لیں‘‘۔ کتنا ابلاغ ہے اس فقرے میں ۔اسے پڑھ کر فوراً ذہن عمران خان کی لائی گئی تبدیلی کی طرف چلا جاتا ہے۔کسی کی وضاحت کی قطعاً ضرورت نہیں پڑتی۔ عوام کی موجودہ حالت دیکھ کر احمد ندیم قاسمی کا یہ خوبصورت مصرعہ بے ساختہ ذہن میں آجاتا ہے ع تیرے حالات نے کیا تیری صورت کر دی ۔ اس بات پر کیا کوئی دوسری رائے ہو سکتی ہے کہ کسی بھی فرد یا کسی بھی قوم کی خوشحالی کا انحصار اس کے معاشی حالات پر ہوتا ہے۔ خانصاحب کی حکومت کے آنے کے بعد ملک کی اور اس میں بسنے والے بد نصیب عوام کی معاشی صورت حال کیا کسی سے ڈھکی چھپی ہے۔ عوام غربت اور بھوک سے سڑکوں اور چوراہوں پر بھیک مانگتی نظر آتی ہے۔ سفید پوش لوگ کبھی کسی سے امداد مانگتے اور کبھی کسی سے ادھار مانگتے نظر آتے ہیں۔سرکار ہر طرف خزانے خالی کی نوید سناتی نظر آتی ہے۔حالات کی بہتری کے آثار کہیں دور دور تک نظر نہیں آتے،لیکن کپتان ہیں کہ انہیں سکون ہی ہر طرف انتشار پھیلا کر ملتا ہے ۔ زندگی کے ہر شعبے میں عدم استحکام ہی عدم استحکام ہے۔فرد ہو یا حکومت، کوئی بھی مثبت کام پرسکون ماحول ہی میں کیا جا سکتا ہے، لیکن خانصاحب نے تو جیسے ٹھان رکھی ہے کہ ہر طرف ہر سو جنگ کا ماحول ہونا چاہیے۔ انھوں نے درجنوں ترجمان ، پرسنل اسسٹنٹ ، اسپیشل اسسٹنٹ اور مشیر غریب عوام کے پیسوں سے بھرتی کیے ہوئے ہیںاور ان کی ڈیوٹی صرف ایک ہے کہ وہ ہر وقت اپوزیشن کو برا بھلا کہیں اور اسکی لیڈرشپ کی کردار کشی کریں۔خان صاحب خدا سے ڈریں ، کیا بالغ ذہن لیڈر ان کا یہ وطیرہ ہوتا ہے۔پوری دنیا میں حکومت کرنے والی لیڈرشپ کی

کوشش ہوتی ہے کہ ملک میں سیاسی طور پر استحکام ہو اور اپوزیشن کو ساتھ لے کر چلیں، تبھی قومیں آگے کی طرف بڑھتی ہیں۔یاد رکھیں جس گھر میں ، جس خاندان میں ، جس شہر میں اور جس ملک میں عدم استحکام اور انتشار ہوگا ،اس کا منطقی نتیجہ معاشی بدحالی کی صورت میں نظر آئیگا ۔ تباہی و بربادی ان کا مقدر ہو گا۔ خانصاحب کے اس aggressive رویہ کے باوجود میں نے دیکھا ہے کہ اپنے ملک کی اپوزیشن موقع بر موقع صلح جوئی کے لیے ہاتھ بڑھا تی رہتی ہے، لیکن خانصاحب ایسے ہاتھوں کو جھٹک دینے میں تشفی محسوس کرتے ہیں۔ ’کرونا‘ کی وباء کے پھیلنے کی ساتھ ہی میاں شہباز شریف ملک واپس پہنچے ۔میاں شہباز اس ملک کی بڑی سیاسی پارٹی کے صدر ہیں اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر ہیں۔ انھوں نے اس بحران میںحکومت کے ساتھ مل کر اس مشکل اور غیر متوقع حالات میں بہتری لانے کی باتیں کیں ،لیکن ان کے متعلق یہ مہم چلائی گئی کہ وہ حکومت کے خلاف سازش کا جال پھیلانے آئے ہیں۔اسی طرح اس ملک کی دوسری بڑی پارٹی ، پیپلز پارٹی جس کی ملک کے دوسرے بڑے صوبہ میں حکومت ہے ، نے بھی وفاقی حکومت کے ساتھ مل کر اس تاریخی وباء سے نبٹنے کی باتیں کیں ،لیکن وفاق کے وزراء نے تو جیسے سندھ کی حکومت پر حملہ ہی کر دیا اور یوں صوبہ سندھ اور وفاق کے درمیاں ایک جنگ کا سماں پیدا ہو گیا۔ اب آپ دیکھیں اس مہلک وباء سے نبٹنے کی خاطر ملک میں کوئی یک جہتی اور ہم آہنگی نہیں ہے۔ مہلک کرونا وباء اس صدی کا سب سے ڈراونا خواب ہے۔ یہ تاریخ میں اپنے نشاں چھوڑ جائیگا۔ ایسے ماحول میں تو قومیں سب کچھ بھول کر ایک ہو جاتی ہیں اور یکمشت ہو کر ایسے دشمن سے نبرد آزماء ہوجاتی ہیں۔ لیکن اپنے ملک میں تو ابھی تک چھوٹے چھوٹے سیاسی مفادات کو مقدم رکھا جا رہا ہے۔ کیا قومیں ایسے آگے بڑھتی ہیں ۔ اللہ اس ارض پاک پر اپنا کرم کرے۔ابھی دو تین دن روز پہلے میری پی ٹی آئی کے ایک جہاندیدہ اور تجربہ کار سیاستدان سے ملاقات ہوئی جن کی نمائندگی قومی اسمبلی میں بھی ہے۔کہنے لگے ہم تو بہت پریشا ن ہیں ۔ حکومتی ٹیم کی کارکردگی انتہائی مایوس کن ہے۔ ایک بحران ختم نہیں ہوتا دوسرا سر اٹھا لیتا ہے۔پہلے چینی آٹا کے بحران کو قوم نے بھگتا ۔ آپ نے دیکھا ہوگا چینی آٹے کی قیمتیں کتنی بڑھ گئی ہیں اور ابھی بھی بڑھتی جا رہی ہیں۔ابھی دو تین روز پہلے خانصاحب نے پٹرول کی قیمتیں کم کیں اور بڑے تفاخر سے کہا کہ اس وقت پورے برصغیر میں پٹرول کی قیمت فی لٹر سب سے کم پاکستان میں ہے۔لیکن ساتھ ہی دوسرے دن خبریں چلنے لگیں کہ پٹرول پمپس پر پٹرول مل ہی نہیں رہا ، اور اگر کہیں مل رہا ہے تو موٹر سائیکلوں اور کاروں کی لمبی قطاریں لگی ہوئی ہیں۔کہنے لگے سچ پوچھیں قوم ہماری پی ٹی آئی کی کارکردگی سے بہت مایوس ہے۔ مجھے تو یہ سوچ کے خوف آتا ہے کہ اگلے الیکشن میں ہم لوگوں سے ووٹ مانگنے کیسے جائیں گے۔ لوگ تو ہمیں مارنے کے لیے گھروں سے ڈنڈے نکال لیں گے۔ میں انھیں کیا حوصلہ دیتا ۔کیا عوام تبدیلی کے مزے گھن نہیں رہی۔ ساتھ ہی کہنے لگے اپوزیشن رہنمائوں کی کرپشن کے قصے لوگوں نے بہت سن لیے۔اب لوگ اس کی گردان سے اکتاء گئے ہیں۔ اپوزیشن اپنے خلاف مقدمے بھگت رہی انھیں بھگتنے دیں ۔ ایک طرف کہتے ہیں کہ نیب اور عدالتیں آزاد اور خود مختار ہیں تو پھر حکومتی نمائندے ہر وقت کسی کی گرفتاری کی خبریں اور کسی کو سزا ہونے کی نوید کیونکر سناتے ہیں۔ کہنے لگے میں نے دیکھا ہے کہ ہمارے سیاستدان جب حکمرانی کر رہے ہوتے ہیں تو ایک تو انھیں خوشامد بہت پسند ہوتی ہے دوسرے جو حکومتی نمائندہ اپوزیشن لیڈران کے خلاف دشنام طرازی کرے وہ بھی انھیں بہت اچھا لگتا ہے۔ ہنس کر کہنے لگے خانصاحب کو تو ایسے لوگ کچھ زیادہ ہی ا چھے لگتے ہیں۔ بہرکیف حکومتی کارکردگی جو بھی ہو لیکن ایک زاویہ سے خان صاحب مکمل ہوشیار ہیں۔ وہ جو کہتے ہیں کہ ’’ دیوانہ بکار خویش ہشیار ‘‘۔ ان کا ایک ہی مقصد حیا ت تھا اور وہ تھا حکومت حاصل کرنا ۔ اس ملک کا وزیراعظم بننا، سو وہ بن چکے۔ اس کے لیے ان کے نزدیک ہر کام ،ہر کوشش جائز تھی، چاہے وہ قاف لیگ کے چوہدریوں سے الحاق کرنا تھایاایم کیو ایم سے۔اب بھی وہ ا پنی حکومت کو قائم دائم رکھنے کے لیے کچھ بھی کر سکتے ہیں۔ خانصاحب اور غریبوں کا کیا تعلق ۔ اس ملک میں غریبوں اور مذہب کا نام استعمال کرنا سیاستدانوں کا پرانا وطیرہ ہے جو وہ دہائیوں سے کیے جا رہے ہیںاور کیے جائیں گے۔


ای پیپر