پھولوں کا شیدائی بیل
06 جون 2020 (13:44) 2020-06-06

بچوں کی کہانیاں لکھنے والا ایک مشہور امریکی رائٹر ’’منرو لیف‘‘ تھا۔ اُس نے اپنی سب سے مشہور کہانی ’’دی سٹوری آف فرڈیننڈ‘‘ ایک گھنٹے سے بھی کم وقت میں پیلے کاغذوں والے رَف پیڈ پر1936ء میں لکھی۔ کہانی کا اردو میں خلاصہ کچھ یوں کرتے ہیں کہ ’’سپین کی ایک چراگاہ میں ایک ننھا بیل رہتا تھا۔ اس کا نام فرڈیننڈ تھا۔ اس کے دوسرے ننھے ساتھی بیل دوڑتے کودتے اور آپس میں ماتھے سے ماتھا ٹکراتے۔ فرڈیننڈ ایسا نہیں کرتا۔ اُسے چپ چاپ بیٹھ کر پھولوں کی خوشبو سونگھنا ہی اچھا لگتا۔ چراگاہ میں اُس کی پسندیدہ جگہ درخت کے نیچے تھی جہاں وہ سارا سارا دن بیٹھا رہتا اور اردگرد اُگے پھولوں کی خوشبو سونگھتا رہتا۔ ننھے بیل کی یہ عادت دیکھ کر اُس کی ماں جوکہ ایک گائے تھی بہت فکرمند ہوتی۔ اُسے ڈر تھا کہ تنہائی کی وجہ سے اُس کا بیٹا فرڈیننڈ ذہنی طور پر بیمار نہ ہو جائے۔ وہ پوچھتی ـتم دوسرے ننھے بیلوں کے ساتھ دوڑتے اور کھیلتے کیوں نہیں ہو؟ تم اوروں کے ساتھ سینگ کیوں نہیں لڑاتے؟ جواب میں ننھا بیل صرف اپنا سرہلا دیتا اور کہتا کہ مجھے یہاں بیٹھنا اور پھولوں کی خوشبو سونگھنا لڑائی سے زیادہ اچھا لگتا ہے۔ رفتہ رفتہ سال گزرتے گئے۔ ننھا فرڈیننڈ ایک دم خوبصورت طاقتور جوان بیل بن گیا۔ چراگاہ کے اس کے دوسرے ساتھی بیل بھی ایک دوسرے سے ماتھا ٹکراتے اور زور آزمائی کرتے کرتے جوان ہوگئے۔ باقی تمام بیلوں کی خواہش تھی کہ وہ سپین کی مشہور سالانہ بُل فائٹنگ کے لیے چُن لیے جائیں لیکن فرڈیننڈ کے دل میں ایسی کوئی تمنا نہ تھی۔ وہ بس یہی چاہتا تھا کہ اسی درخت کے نیچے بیٹھا رہے اور پھولوں کی خوشبو سونگھتا رہے۔ ایک دن مخصوص لباس پہنے چند لوگ چراگاہ میں آئے۔ وہ سب سے بڑے، تیز اور طاقتور بیل کی تلاش میں تھے جسے وہ سپین کے سالانہ بُل فائٹنگ میلے میں لے جاسکیں۔ فرڈیننڈ کے علاوہ سب بیلوں نے ان اجنبیوں کو دیکھتے ہی چراگاہ میں دوڑنا شروع کردیا اور ایک دوسرے سے سینگ لڑانے لگے تاکہ ان کے کمالات سے متاثر ہوکر اجنبیوں کی یہ سلیکشن کمیٹی انہیں منتخب کرلے۔ فرڈیننڈ کو ایسی کوئی خواہش نہ تھی اس لیے اُس نے سلیکشن کمیٹی کی پرواہ نہ کی۔ وہ ان سب کو وہیں چھوڑ کر اپنے پسندیدہ درخت کے نیچے جاکر بیٹھ گیا تاکہ پھولوں کی خوشبو سونگھ سکے۔ اُس نے بیٹھتے ہوئے زمین پر نظر نہیں ڈالی۔ جہاں وہ بیٹھا وہاں ایک موٹی بھِڑ موجود تھی۔ یہاں کہانی کو روک کر فرض کریں کہ اگر کوئی ایک موٹی بھِڑ ہو اور کوئی اُس پر بیٹھ جائے تو موٹی بھِڑ کیا کرے گی؟ یقینا وہی سب کچھ اُس موٹی بھِڑ نے بیل فرڈیننڈ کے ساتھ کیا۔ جونہی موٹی بھِڑ نے اُس کی پیٹھ پر زور کا ڈنک مارا، فرڈیننڈ درد سے اچھل پڑا اور پاگلوں کی طرح چراگاہ میں دوڑنے لگا۔ سلیکشن کمیٹی نے ایک بہت طاقتور اور بڑے بیل کو اندھا دھند غصے میں اِدھر اُدھر بھاگتے دیکھا تو وہ خوشی سے چلا اٹھے کہ ہمیں یہی بیل چاہئے۔ وہ فرڈیننڈ کو سپین کی سالانہ بُل فائٹ کے لیے لے گئے۔ بُل فائٹنگ کا میلہ سجا۔ ہر طرف لوگ ہی لوگ تھے۔ بینڈ باجے کا شور تھا۔ بہت سی لڑکیاں اور بچے پھولوں کے ہار پہنے اور گلدستے اٹھائے ایک جگہ اکٹھے بیٹھے تھے۔ بُل فائٹنگ سے پہلے رنگ برنگے کپڑے پہنے افراد نے ایک پریڈ کی۔ پریڈ کے آخر

میں اس سالانہ میلے میں سب سے طاقتور بیل کو چیلنج کرنے کے لیے بُل فائٹر میٹاڈور آیا۔ اُسے اپنی مہارت پر خوب ناز تھا۔ اُس کے ہاتھ میں بیل کو غصہ دلانے کے لیے لمبا نوکیلا بھالا تھا۔ میٹاڈور نے میدان کے درمیان میں جاکر حاضرین کو جھک کر سلام کیا۔ ہرطرف تالیوں کا شور ابھرا۔ وہ سپین کے لوگوں کے لیے بُل فائٹنگ کا بہادر ہیرو تھا۔ اب اس سالانہ میلے کی سب سے اہم بُل فائٹنگ شروع ہونے والی تھی۔ بُل فائٹر میٹاڈور اپنے چمکیلے بھالے کے ساتھ بالکل تیار کھڑا تھا۔ عین اُسی وقت سامنے سے بیل کا پھاٹک کھول دیا گیا۔ ایک خوفناک طاقتور بیل نمودار ہوا۔ بیل کو دیکھتے ہی تالیوں کا شور رک گیا۔ پورے میدان میں سناٹا چھا گیا۔ لوگ سہم گئے۔ یہاں تک کہ سپین کی بُل فائٹنگ کا بہادر میٹاڈور بھی کانپ گیا۔ سپیکر پر اعلان ہوا کہ اس بیل کا نام خونخوار فرڈیننڈ ہے۔ خونخوار فرڈیننڈ بھاگتے ہوئے رِنگ میں داخل ہوا۔ لوگوں کی چیخیں بلند ہوئیں اور سانس رک

گئے۔ وہ یقین کرچکے تھے کہ آج بُل فائٹنگ کا بہادر ہیرو خونخوار فرڈیننڈ کے ہاتھوں شکست کھا جائے گا۔ جونہی خونخوار فرڈیننڈ رِنگ کے درمیان میں پہنچا تو اُس کی نظر اچانک پھولوں کے ہار پہنے اور گلدستے اٹھائے لڑکیوں اور بچوں پر پڑی۔ وہ پھولوں کو دیکھتے ہی ایک دم مست ہوکر وہیں بیٹھ گیا اور پھولوں کی خوشبو سے لطف اندوز ہونے لگا۔ بُل فائٹنگ کے بہادر ہیرو نے اُس کی کمر پر کئی مرتبہ نوکیلا بھالا چبھایا مگر خونخوار فرڈیننڈ بیل پر اس کا کوئی اثر نہ ہوا، وہ تو بُل فائٹنگ بھول کر خوشبوئوں میں کھو چکا تھا۔ سالانہ مقابلے کے منتظمین سمجھ چکے تھے کہ اس بیل کی طاقت محض دکھاوا ہے۔ یہ تو صرف پھولوں کا شیدائی ہے۔ اس بیل میں مخالفوں کے چیلنج کا جواب دینے اور ان کا مقابلہ کرنے کی ہمت اور جرات نہیں ہے۔ انہوں نے فرڈیننڈ بیل کو اٹھایا اور واپس اُس کی سابقہ چراگاہ میں چھوڑ آئے‘‘۔ تحریک انصاف کی حکومت کے دو برس گزرنے کے بعد عوام کی رائے ہے کہ پی ٹی آئی حکومت معیشت کو سنبھال نہیں سکی، پی ٹی آئی حکومت کشمیر ایشو کو سنبھال نہیں سکی، پی ٹی آئی حکومت کورونا کو سنبھال نہیں سکی، پی ٹی آئی حکومت نے اپنے جس مخالف کو بھی گرفتار کیا اُس کے خلاف کوئی جرم ثابت نہیں کرسکی۔ عوام کی یہ رائے پختہ ہوتی جارہی ہے کہ عمران خان اور پی ٹی آئی والے حکومت کے لیے موزوں سلیکشن نہیں تھے۔ یہ لوگ پھولوں کے شیدائی اور خوشبوئوں کے دیوانے تھے۔ میدان میں مقابلہ اِن کے بس کی بات نہیں تھی۔ امریکہ کے 40ویں صدر رونالڈ ریگن نے ایک مرتبہ کہا تھا کہ ’’حکومت کی پہلی ذمہ داری لوگوں کو تحفظ دینا ہوتا ہے نہ کہ وہ لوگوں کو روزمرہ زندگی گزارنے کے طریقے بتاتی رہے‘‘۔


ای پیپر