مطالعے اور کتابوں کی دُنیا …!
06 جون 2020 (13:43) 2020-06-06

تذکرہ اُن کتب و رسائل جن سے مختلف ادوار میں تعارف ہوا اور اُن کو پڑھنے کا موقع ملا۔ اس کے ساتھ کچھ علمی و ادبی شخصیات کا ضمناً ذکر بھی چل رہا ہے جو ان کُتب و رسائل سے متعلق رہیں اور اُنہوں نے قابلِ قدر علمی و ادبی کاوشیں کیں اور اس میدان میں کامیابیاں ہی نہیں سمیٹیں بلکہ نیک نامی بھی کمائی ۔ پچھلے کالم میں ماہنامہ ’’اُردوڈائجسٹ‘‘ لاہور کا ذکر تفصیل سے اور اس کے ساتھ ماہنامہ ’’سیارہ ڈائجسٹ اور ماہنامہ ’’حکایت ‘‘ کا ذکر ضمنی طور پر ہوا۔ میں اس میں تھوڑا سا اضافہ کرنا چاہوں گا۔ پچھلی صدی کی ساٹھ کی دہائی کے نصفِ آخر، ستر کی دہائی اور بعد کے برسوں (1980 تا 1964 )میں ’’اُردوڈائجسٹ‘‘ مقبولیت ، اشاعت اور پسندیدگی کی بلندیوں پر تھا ۔ شاید بعد کے برسوں میں اسکی حیثیت میں کچھ کمی آ گئی ۔ ’’اُردوڈائجسٹ‘‘میں ہر ماہ اس کے مدیر مسئول محترم الطاف حسن قریشی کے قلم سے لکھے جانے والے اداریے، تجزیاتی مضمون اور کسی معروف شخصیت سے لیے جانے والے انٹر ویو کا میں نے پچھلے کالم میں مختصراً ذکر کیا۔ بلا شبہ یہ تحریریں اپنی جگہ اہمیت کی حامل ہوتی تھیں۔ لیکن ان کے ساتھ ’’اُردوڈائجسٹ‘‘کے ادارہِ تحریر میں شامل مرحوم مقبول جہانگیر، آباد شاہ پوری مرحوم، ضیا ء شاہد اور اسد اللہ غالب وغیرہ کی شکاریات اور اسی طرح کی دوسری مہمات اور اسکے ساتھ جنگِ عظیم کے واقعات کے بارے میں لکھی جانے والی تحریریں جو زیادہ تر مغربی رسائل و جرائد یا کُتب سے ترجمہ کی ہوتی تھیں پسندیدگی اور دلچسپی کا بہت بڑا ذریعہ تھیں۔ مرحوم آباد شاہ پوری کی دینی موضوعات پر تحریریں اُنکی کی ثقہ علمی و ادبی حیثیت کا ثبوت ہوتی تھیں۔ میرے ذہن کے نہاں خانے میں اُس دور میں ’’اُردوڈائجسٹ‘‘میں چھپنے والے بعض موضوعات کے آدھے ادھورے حصے گردش کر رہے ہیں لیکن اُن سے قطع نظر میں محترم ضیاء شاہد اور محترم اسد اللہ غالب کا ذکر کرنا چاہوں گا کہ اُنہوں نے شعبہ صحافت میں بڑا نام کمایا اور مقام پایا۔ یہ محترم صحافی عمر کے لحاظ سے یقینا اَسی کے پیٹے میں ہونگے ۔ اللہ کریم انہیں تادیر سلامت رکھے۔

’’اُردوڈائجسٹ‘‘اور اُس کے ساتھ اِس کے برادرِ نسبتی کی حیثیت رکھنے والے جریدے ہفت روزہ ’’زندگی ‘‘ کے بارے میں بہت کچھ لکھا جا سکتا ہے۔ ساٹھ کی دہائی کے آخری برسوں میں جب مشرقی پاکستان میں علیٰحدگی کی تحریک پروان چڑھ رہی تھی ۔ شیخ مجیب الرحمن اور اُن کی جماعت عوامی لیگ متحدہ پاکستان کی جڑوں کو کاٹنے کے درپے تھے اور اُنہیں اس ضمن میں جہاں امریکہ جیسی عالمی طاقتوں کا تعاون حاصل تھا وہاں پاکستان کے روزِ اول سے ازلی اور ابدی دُشمن کی حیثیت رکھنے والے ہمسایہ ملک بھارت کی بھی مکمل اشیر باد

حاصل تھی ۔ یہی وہ دور تھا جب مغربی پاکستان میں جناب ذوالفقار علی بھٹو اور اُن کی جماعت پیپلز پارٹی روٹی، کپڑا اور مکان کے نعرے اور اسلامی سوشلزم کا سلوگن اُٹھا کر سیاسی میدان میں اپنے حریفوں جن میں مفکر ِ اسلام سید ابوالاعلیٰ مودودی ؒ کی امارت میں جماعتِ اسلامی پیش پیش تھی کو پسپائی کی راہ اختیا ر کرنے پر مجبور کیے ہوئے تھی۔ ہفت روزہ ’’زندگی ‘‘میں اُس کے مدیر جناب مجیب الرحمن شامی کے قلم اور دستخطوں کے ساتھ چھپنے والے اداریے اور ادارہِ تحریر میں شامل دیگر حضرات کے سیاسی تجزیے اور جائزے (جو دسمبر 1970ء کے انتخابی نتائج کے حوالے سے مکمل طور پر غیر حقیقی اور غلط ثابت ہوئے) وغیرہ خوب شہرت کے حامل رہے۔ اسی دور میں محترم الطاف حسن قریشی مشرقی پاکستان کے حالات و واقعات کا چشم دید جائزہ لینے کے لیے وہاں کئی دنوں تک بذاتِ خود قیام پذیر رہے اور بعد میں اُنہوں نے ’’اُردوڈائجسٹ‘‘میں ’’محبت کا زم زم بہہ رہا ہے‘‘ کے عنوان سے مضامین کا سلسلہ لکھا۔ مضامین کے سلسلے کو بھی بہت شہرت ملی لیکن حالات و واقعات نے ثابت کیا کہ ان مضامین میں بیان کردہ خیالات اور جذبات میں بہت تھوڑی حقیقت تھی اور اُس دور میں مشرقی پاکستان میں محبت کا زم زم بہنے کی بجائے مغربی پاکستان سے نفرت اور علیٰحدگی کے جذبات انتہائی بلندیوں پر پہنچے ہوئے تھے۔

میں یہاں تھوڑا سا تذکرہ ماہنامہ ’’سیارہ ڈائجسٹ‘‘ اور اس کے مدیر سید قاسم محمو د مرحوم کا کرنا چاہوں گا۔ اس کے ساتھ ماہنامہ ’’حکایت‘‘ جو اُس دور میں خاصا پڑھا جاتا تھا اُس کا بھی ہلکا سا تذکرہ بیچ میں آ جائے گا۔ ماہنامہ ’’ سیارہ ڈائجسٹ ‘‘ کا تعلق معروف علمی اور ادبی جریدے ماہنامہ ’’سیارہ‘‘ کے خانوادے سے تھا ۔ جو معروف عالمِ دین ، نامور قلمکار ، شاعر ، نثر نگار، سیرت نگار اور جماعتِ اسلامی کے اہم رہنما اور سید ابو الاعلیٰ مودودی ؒ کے رفیق ِکارمولانا نعیم صدیقی کی ادارت میں چھپتا تھا۔ ماہنامہ ’’سیارہ‘‘ جیسے ثقہ علمی اور ادبی جریدے کے لیے ماہنامہ ’’اُردوڈائجسٹ‘‘کا انداز اپنانا شاید اس کی ثقہ علمی و ادبی اور دینی حیثیت کے منافی تھا۔ لہٰذا ماہنامہ ’’سیارہ‘‘ کے ساتھ ’’سیارہ ڈائجسٹ ‘‘ کا اجراء عمل میں آیا۔ سید قاسم محمود مرحوم جن کا میں نے پہلے بھی تذکرہ کیا ہے وہ ’’سیارہ ڈائجسٹ ‘‘ کے کافی عرصہ تک مدیر رہے ۔ سید قاسم محمود مشہور افسانہ نگار اور قلمکار ہی نہیں تھے بلکہ اُردو زبان و ادب کی ترویج اور اس کے دامن کو وسیع کرنے کا انہیں جنون بھی تھا۔ اُنہوں نے’’ شاہکارسیریز‘‘کے تحت جریدے کے سائز کے برابر میں معروف کتابوں کی اشاعت کا سلسلہ بھی شروع کیا جو بڑا مقبول ہوا۔ اس سلسلے کے تحت اُنہوں نے مغربی مصنفین کی تصانیف کے ترجمے بھی شائع کیے۔ سید قاسم محمود کا واقعہ کربلا کے تناظر میںلکھا ہوا ایک خوبصورت اور متاثر کن افسانہ ’’قاسم کی مہندی‘‘ جو ’’سیارہ ڈائجسٹ‘‘ میں چھپا تھا اب بھی کچھ کچھ میرے ذہن کے نہاں خانے میں موجود ہے ۔ سید قاسم محمود کا ایک اور بڑا کارنامہ ’’اسلامی انسائیکلو پیڈیا ‘‘ کی تصنیف ، ترتیب اور اشاعت تھی۔ ماہنامہ ’’حکایت ‘‘ کے حوالے سے میں اتنا اضافہ کرنا چاہوں گا کہ اس میں اس کے مدیرِ محترم عنایت اللہ مرحوم جن کا تعلق گوجر خان کی سرزمین سے تھا کی نگارشات کے ساتھ’’ شکاریات ‘‘کے مستقل سلسلے کے تحت کوہستان نمک(سوہاوہ اور ترکی) کی پہاڑیوں ، ڈھلانوں، اُترائیوں، کسیوں اور ڈھبوں کے دامن میں بھیڑیوں اور دوسرے جنگلی جانورں کے شکار کے بارے میں کہانیاں بہت مقبول رہیں۔ ستمبر 1965ء میں پاک بھارت جنگ اور 6 ستمبر 1966ء کو پہلا یومِ دفاع منایا گیا تو ان تینوں ماہناموں اُردو ڈائجسٹ، سیارہ ڈائجسٹ اور حکایت کے خصوصی نمبر شائع ہونے شروع ہوئے اور یہ سلسلہ اگلے کئی برسوں تک چلتا رہا اور ان ماہناموں میں ایک طرح مسابقت اور مقابلہ آرائی کی کیفیت قائم رہی۔

یہاں ایک بات کی وضاحت ضروری ہے کہ راقم اپنے مطالعے کے شوق اور مختلف ادوار میں پڑھی جانے والی کتب رسائل و جرائد کا تذکرہ کر رہا ہے۔ اس ضمن میں قابلِ قدر مصنفین ، مئولفین اور مدیرانِ گرامی کے نام اُن کے علمی و ادبی کارناموں اور اُنکی منصبی حیثیت کی بنا پر آ رہے ہیں۔ اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ یہ سب مصنفین، مئولفین اور مدیرانِ گرامی راقم کے پسندیدہ قلمکار رہے ہیں یا ان کے افکار و نظریات اور خیالات سے راقم کو مکمل اتفاق رہا ہے۔ یہ درست ہے کہ پچھلی صدی کی ساٹھ، ستر اور اَسی کی دہائیوں میں راقم ان میں سے بعد کے خیالات، نظریات ، افکار اور قلمی نگارشات سے بڑی حد تک متاثر رہا اور دل میں ان کا احترام بھی پالتا رہا۔ حلقہ ِاحباب میں شامل بعض مہربان اور محترم دوست بھی اِسی کیفیت کا شکار رہے لیکن سچی بات ہے کہ بعد میں ان ’’پسندیدہ اور پاکباز ‘‘ مدیران، قلمکاروں اور مصنفین وغیرہ کے اصلی روپ سامنے آئے ، ان کی مفاد پرستی اور ان کی حرص و طمع کے قصے سُننے کو ملے تو شدید دھچکا پہنچا اور دلی صدمہ ہوا۔ خیر یہ ایک الگ موضوع ہے اس پر کبھی موقع ملا تو ضرور خامہ فرسائی ہو گی۔

میں آج کے کالم میں جن کُتب کا ذکر کرنا چاہتا تھا وہ بیچ میں ہی رہ گئیں ۔ ان کُتب کو بلا شبہ میں نے سبقاً سبقاً پڑھا اور ان سے میں نے بہت کچھ حاصل کیا اور پایا۔ ان میں جناب قدرت اللہ شہاب مرحوم کی آب بیتی نماتصنیف ’’شہاب نامہ‘‘ محترم الطاف گوہر کی قابلِ قدر مستند تصنیف ’’ ایوب خان فوجی راج کے دس سال‘‘جہاں بڑے ذوق و شوق سے پڑھیںوہاں شاعرِ انقلاب کی حیثیت سے شہرت پانے والے مشہور شاعر اور لیجنڈ شخصیت جناب جوش ملیح آبادی مرحوم کی آب بیتی ’’یادوں کی بارات ‘‘ بھی زیرِ مطالعہ رہی ۔ ان کے بارے میں انشاء اللہ اگلے کالم میں اظہارِ خیال ہو گا۔


ای پیپر