آئیے مل کر اپنی سوا ء السبیل ڈھونڈیں!
06 جون 2020 (13:42) 2020-06-06

قرآن کریم کی سورہ اعراف کی آیت نمبر۱۳۳ کا ترجمہ ہے کہ

ـتو ہم نے ان پر طوفان اور ٹڈیاں اور جوئیں اور مینڈک اور خون کتنی کھلی ہوئی نشانیاں بھیجیں، جو سب علیحدہ علیحدہ نشانیاں تھیں مگر وہ تکبر ہی کرتے رہے اور وہ لوگ تھے ہی گنہگار!

تو میں اس آیت کے ترجمے کو دیکھ کر بہت خوفزدہ ہوئی کہ ہمارے دور میں بھی ان پے در پے عذابوں کا دور شروع ہوچکا ہے مگر اس سے بھی زیادہ دکھ اس بات کا ہے بہت سے لوگ ابھی بھی اللہ کے عذاب سے خوفزدہ ہونے کے بجائے دو نمبری میں الجھے ہوئے ہیں اور رفتہ رفتہ سوا السبیل سے بہت دور ہوتے جا رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ جب کسی سے ناراض ہوتا ہے تو پھر سامنے ہوتے ہوئے بھی صراط مستقیم دکھائی نہیں دیتی۔ ہمارے ساتھ بھی ایسا ہی کچھ ہو رہا ہے، توبہ کا در بھی کھلا ہے اللہ کی ناراضی بھی صاف ظاہر ہو رہی ہے لیکن ایک طرف تو یوں لگتا کہ اب زمین والے تو مان رہے ہیں مگر اللہ نہیں مان رہا! ۔جون کا مہینہ شروع ہوچکا ہے کرونا وائرس نامی عذاب کسی طرح ختم ہونے میں نہیں آرہا بلکہ اس میں مزید شدت دیکھنے میں آرہی ہے پہلے تو کبھی دور دراز کا کوئی نام سننے میں آتا تھا لیکن اب تو آس پڑوس سے بھی خبریں ملنے لگی ہیں، عوام کو لاکھ جاہل کہیں لیکن حکومت بھی کوئی خاص سنجیدہ نظر نہیں آئی عین اس موقع پر جب وائرس اپنے عروج پر پہنچ رہا تھا تو لوگوں کے لیے سارے بازار عید سے پہلے کھول دئیے گئے اور کھلا موقع دیا گیا پھر اس کے بعد ایک دم سے صرف لاہور میں تعداد کا تخمینہ چھ لاکھ بتایا جا رہا ہے۔

ابھی سیاحت کا شعبہ بھی کھولنے کا کہہ دیاگیا ہے پتہ نہیں یہ سیلاب اب کس کس کو بہا کر لے جائے گا۔

یہ عذاب اپنے ساتھ کئی عذاب لے کرآیا ہے جس میں بے روزگاری، غربت، سمیت کئی مسائل سامنے ہیں جو آنے والے وقت میں بہت بڑے بحران میں مبتلا کرسکتے ہیں ایک اندازے کے مطابق اگلے ایک دو ماہ میں پاکستان میں اندازاً دو کروڑ

لوگ بے روزگار ہوسکتے ہیں۔

ابھی یہ عذاب ٹلنے کا نام نہیں لے رہا جس کے لیے اتنی مارکیٹنگ بھی کی گئی اور اتنے انتظامات بھی کیے گئے تو دوسری طرف ٹڈی دل کے حملوں نے پاکستان کی زراعت کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ٹڈی کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: یہ اللہ کے لشکروں میں سے سب سے بڑا ہے۔ کرونا کے بعد ٹڈی دل جسے لوکسٹ کہا جاتا ہے اس کے حملوں نے اندازاً چالیس فیصد فصلیں تباہ کردی ہیں اوریہ روزانہ پینتس ہزار لوگوں کی غذائی قلت کا باعث بن رہی ہیں۔ یہ بھی اندازہ لگایا گیا ہے کہ ان کا حملہ ہردس میں سے ایک کو تباہی سے دوچار کر رہا ہے۔

ٹڈی دل آندھی کی طرح آتا ہے اور منٹوں میں سینکڑوں ایکڑ پر پھیلی فصلیں کھا جاتا ہے۔ اپنی محنت کو اپنی آنکھوں کے سامنے اجڑتا دیکھنا ایک ڈراؤنا خواب نظر آتا ہے۔لیکن میں حیران ہوں اپنے رب کی قدرت پر کہ جو عذاب میں بھی کسی کے لیے اچھے اسباب پیدا کردیتا ہے۔ اس تمام لاک ڈائون میں لوگوں نے بڑے سٹورز کے بجائے کریانہ سٹورسے خریداری کو ترجیح دی بلکہ عید سے پہلے چھوٹے چھوٹے بازاروں میں غریب دکانداروں نے خوب رزق کمایا جہاں مالز میں جانے والے دیکھنا بھی پسند نہیں کرتے تھے۔ میں تو حیران تھی کہ لوگوں نے اپنی گاڑیوں کی ڈگیوں میں سڑک کنارے بازار لگا لیے تھے یا گھر کے گیراج میں کپڑے جوتے اور دیگر سامان بیچ رہے تھے اور ان لوگوں نے بہت منافع کمایا۔

اسی طرح ٹڈی دل جہاں کئی ایکڑ فصلیں تباہ کرگیا وہیں ہزاروں لوگوں کے لیے رزق کمانے کا ایک بہت بڑا ذریعہ بن گیا ہے۔ حال ہی میں اوکاڑہ میں ایک تنظیم نے ٹڈی دل کو پکڑنے اور فروخت کا ایک ایسا منصوبہ بنایا کہ ٹڈی دل کو بھی جان کے لالے پڑگئے۔ بیس روپے فی کلو کے حساب سے ٹڈیاں خرید کر مرغیوں اور مچھلیوں کی خوراک بنانے والے کاخانوں کو فروخت کی ہیں جس سے کئی لوگوں نے صرف ایک رات میں ہی فی بندہ ہزار کما لیے ہیں۔ واہ رے مولا تیری شان نرالی! تیری بھیجی ایک مخلوق جہاں فصلوں کی فصلیں اجاڑ رہی ہے وہیں کسی کے لیے رزق کمانے کے نئے اسباب بھی پیدا کر رہی ہے۔اگر اسی تناسب سے یہ لوگ ٹڈیاں پکڑکر بیچتے رہے تو این بندہ ماہانہ لاکھوں کما سکتا ہے۔ رات کے وقت یہ جھنڈ کی شکل میں درختوں یا زمین پر بے حس و حرکت پڑی ہوتی ہیں اور ان کو پکڑنا آسان ہوجاتا ہے۔ مرغیوں کے لیے بھی یہ غذا بہت مفید ہے کیونکہ ان میں پروٹین کی تعداد ستر فیصد ہوتی ہے۔ اور ان کا گوشت مرغی مچھلی کے لیے صحت مند ہوگا۔ مزید بر آں اس سے زر مبادلہ کی بھی بچت کی جاسکتی ہے۔ٹڈی دل بیس سے تیس جبکہ برآمد زدہ سویا بین 90 روپے میں ملتی ہے اور اس میں پروٹین بھی کم ہوتی ہے۔ اس وقت کرونا بحران اور ٹڈی کے حملوں کی وجہ سے بیروزگار افراد کے لئے یہ آمدنی کا اچھا موقع ہے،جس سے لوگوں کو روزگار بھی میسر ہو گا اور فصلیں بھی نقصان سے بچیں گی، اس طرح کسان، بے روزگار، مرغی اور مچھلی فارم والوں کو بھی فائدہ ملے گا اورکیڑے مار کیمیکلز اسپرے کے اخراجات بچانے میں مدد ملے گی۔حکومت کو اس طرف سنجیدگی سے توجہ دینی چاہیے۔

باقی جہاں تک عذاب سے بچنے کی بات ہے تو واحد راستہ سچے دل سے توبہ کرنا ہے۔ لیکن ان حالات میں بھی اگر قصور کے معصوم حافظ قرآن کا بدفعلی نہ کرنے پر قتل کیا جانا اس بات کی دلیل ہے کہ ہم واقعی عذاب الٰہی کے مستحق ہیں۔ وہ وقت جب اللہ کے حضور توبہ کرکے گڑگڑاناچاہیے ہم مسجدیں بند کر کے بازاروں کی رونقیں چمکا رہے تھے اور ہماری عوام سوشل میڈیا پر عظمیٰ کی ویڈیوز دیکھ رہی تھی۔

یہ وہ بے حس قوم ہے جس کو پتہ نہیں کہ ان لوگوں نے پیسہ والے لوگوں نے تو بس تماشا بنانا ہوتا ہے اور اسلامی شعائر کا مذاق اڑانا ہوتا ہے جس طرح اس واقعے میں ایک بہت اہم مذہبی عبادت اعتکاف کا بار بار ذکر کیا گیا یہ مخصوص لوگ اور ان کے اپنے ایجنڈے، معاملہ رفع دفع بھی ہو چکا مگر ہماری توجہ کا مرکز اللہ کا عذاب اور آنے والا بحران نہیں بلکہ کبھی عظمیٰ تو کبھی شہروز سبزواری کی دوسری شادی ہے۔ حرف آخر یہ کہ ہم اپنی سوا السبیل کھو چکے ہیں اور اسے ڈھونڈے بغیر ہماری عاقبت تو خراب ہو ہی جائے گی بلکہ یہ زندگی بھی عذاب در عذاب بنی رہے گی۔


ای پیپر