ووٹ کی طاقت
06 جون 2018

میں نے اظہار تعجب کرتے ہوئے من چلے سے کہا چیف جسٹس نے بار بار یقین دہانی کرائی ہے انتخابات لازماً 25 جولائی کو منعقد ہوں گے۔۔۔ اس سلسلے میں لاہور ہائی کورٹ کا نامزدگی فارمز کے حوالے سے فیصلہ جس پر عمل درآمد تاخیر کا باعث ہو سکتا تھا معطل کر دیا۔۔۔ افواج پاکستان کے ترجمان کی جانب سے بھی قطعی بیان کی صورت میں غلط فہمی اگر کوئی تھی تو اس کا ازالہ کر دیا گیا ہے۔۔۔ تمام بڑی اور چھوٹی، قومی اور علاقائی سیاسی جماعتیں بھی اس عزم پر قائم ہیں کہ انتخابات الیکشن کمیشن کی جانب سے اعلان کردہ شیڈول کے عین مطابق ہونے چاہئیں۔۔۔ ایک بلوچستان اسمبلی کی قرار داد ہے جو بے اثر ہو کر رہ گئی ہے۔۔۔ اس کے باوجود لوگوں کو سو فیصد یقین کیوں نہیں آ رہا۔۔۔ کچھ باخبر اور با اثر حلقے ایسے بھی ہیں جو مسلسل شبہات کا اظہار کر رہے ہیں کہ انتخابات ملتوی ہو سکتے ہیں۔۔۔ غیر یقینی صورت حال ختم ہونے کا نام نہیں لیتی۔۔۔ ابہام موجود ہے۔۔۔ ایسا کیوں ہے۔۔۔ من چلے نے وجہ اس کی یہ بتائی کہ وہ تمام حلقے خواہ مقتدر قوتوں سے تعلق رکھنے ہوں یا اپنا شمار اہل خبر و نظر میں کرتے ہیں جنہیں خدشہ لاحق ہے کہ ہزار کوشش کے باوجود ایک خاص جماعت اور اس کے لیڈر کی انتخابی کامیابی کے امکانات کو ختم نہیں کیا جا سکا۔۔۔ اس نے اپنا لوہا اگر ایک مرتبہ پھر منوالیا تو خداوند ان پاکستان کے لیے حالات کو اپنی گرفت میں رکھنا مشکل تر ہو جائے گا۔۔۔ لہٰذا اس امکان کو پوری طرح مسترد نہیں کیا جا سکتا کہ کسی نہ کسی بہانے بروقت انتخابات کا مسئلہ کھنڈٹ میں ڈال دیا جائے۔۔۔ انتخابی حلقہ بندیوں کے مسئلے کو ہی لے لو۔۔۔ یہ امر مانع بن سکتا ہے۔۔۔ میں نے کہا ایسا ہوا تو ابہام کیا بہت گہرا نہیں ہو جائے گا۔۔۔ غیر یقینی کی کیفیت کئی گنا ہو جائے گی۔۔۔ جمہوریت کے مستقبل پر نئے سوالات اُٹھ کھڑے ہوں گے۔۔۔ من چلے نے جواب دیا اگر انتخابات بروقت ہو بھی جاتے ہیں تو نتیجے کے طور پر زیادہ بڑا خلفشار دیکھ رہا ہوں وہ معلوم نہیں قوم کو کس راستے پر لے جائے گا۔۔۔ میں نے پوچھاکیا نتائج سامنے آنے کے بعد انتقال اقتدار نہیں ہو گا۔۔۔ جمہوریت کی گاڑی آگے کی جانب رواں نہیں ہو گی۔۔۔ اس نے کہا یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ بیلٹ بکس کا فیصلہ پوری طرح کسی ایک جماعت کے حق میں ہو اور وہ تمام تر یکسوئی و اعتماد اور عوامی مینڈیٹ کی بھرپور طاقت کے ساتھ اقتدار کی طنابیں اپنے ہاتھ میں لینے کی پوزیشن میں ہو۔۔۔ اقتدار تو ویسے بھی ہمارے ملک میں سوفیصد کسی کو منتقل نہیں کیا جاتا لیکن اگر کوئی جماعت یا لیڈر حکومت بنانے کے لیے دوسری جماعتوں کی تائید و حمایت یا ان کے ساتھ مخلوط حکومت بنانے پر مجبور ہوا تو ظاہر ہے گرفت اس کی کمزور ہو گی اسی کی کوکھ سے انتشار جنم لے گا۔۔۔ قومی سیاسی افق پر نت نیا کھیل تماشا دیکھنے کو ملا کرے گا۔۔۔ اصل حکمرانوں کی بن آئے گی۔۔۔ سیاستدانوں کی آپس میں جوتم بیزار ہو گی۔۔۔ جمہوریت بدنام ہو گی۔۔۔ اس کی منزل کھوٹی کی کھوٹی رہے گی۔۔۔ یہی اوپر والوں کی تمنا ہے۔۔۔ جسے برلانے کے لیے وہ کوشاں ہیں۔
میں نے کہا اس امکان کو سوفیصد مسترد نہیں کیا جا سکتا کہ اس مرتبہ بھی معلق (HUNG) پارلیمنٹ کا خواب ادھورے کا ادھورا رہ جائے۔۔۔ 1970ء سے اب تک جبکہ ہم گیارہویں انتخاب کے دہانے پر کھڑے ہیں۔۔۔ ہر موقع پر معلق پارلیمنٹ وجود میں لانے کے لیے تمام ظاہری و خفیہ تدابیر ناکام ہوئی ہیں۔۔۔ پاکستان کے عوام نے پورے شعور اور غیر معمولی جذبے کا اظہار کرتے ہوئے واضح اور قطعی رائے دی ہے۔۔۔ اپنا حکم صاد رکیا ہے کہ اقتدار کس کے سپرد کرنا چاہتے ہیں کس کے نہیں۔۔۔ اس بار بھی اپنی تاریخ کیا وہ نہیں دھرائیں گے۔۔۔ جواب ملا۔۔۔ اس مرتبہ عام انتخابات سے ذرا پہلے بلوچستان کی لیبارٹری میں نیا تخلیقی تجربہ کیا گیا ہے۔۔۔ وہاں آن واحد میں پہلے
سے موجود اچھی خاصی اکثریت کو بے دست و پا کرکے رکھ دیا گیا۔۔۔ اس کے وزیراعلیٰ کو تحریک عدم اعتماد کے ذریعے نکال باہر پھینکا گیا۔۔۔ شب بھر میں نئی پارٹی وجود میں آگئی۔۔۔ اس کے وزیراعلیٰ نے منصب سنبھال لیا۔۔۔ از سر نو وزارت سازی ہوئی۔۔۔ اسی تجربے کو مزید کامیابی معاً بعد سینیٹ کے وسط مدتی انتخابات میں ملی۔۔۔ یہاں بھی والیان ریاست کی نگاہوں میں مطعون جماعت کی اکثریت قائم ہوا چاہتی تھی۔۔۔ پھر ان کی آشیر باد کے ساتھ جناب زرداری نے کرتب دکھائے۔۔۔ اس کے بعد جس فنکاری کو کام میں لاتے ہوئے بلوچستان کے ایک غیر معروف رکن ایوان بالا کو اس کا چیئرمین ’’منتخب‘‘ کر لیا گیا وہ کم درجے کی کامیابی نہیں۔۔۔ ان نت نئے فارمولوں کو بروئے کار لاتے ہوئے اگلی قومی اسمبلی میں ناپسندیدہ جماعت کو جیسا کہ رائے عامہ کے کئی جائزے بتاتے ہیں اکثریت مل بھی گئی تو اس کی روح کھینچ لینا کون سا مشکل کام ہو گا۔۔۔ آخر اس کے لیڈر سے تین مرتبہ منتخب ہونے کے باوجود وزارت عظمیٰ چھین لی گئی اسے پارٹی صدارت کا اہل بھی نہیں رہنے دیا گیا۔۔۔ اب جو وہ جماعت کا Supremo بنا پھرتا تو بکرے کی ماں کب تک خیر منائے گی۔۔۔ جلد جیل بھیج دیا جائے گا۔۔۔ پیچھے وزیراعلیٰ میاں شہباز شریف اور مسلم لیگ (ن) رہ جائیں گے۔۔۔ شہباز سے اگرچہ بہت سی توقعات تھیں بھائی سے بغاوت کر ڈالے گا۔۔۔ اس کا وزیراعظم بننے کا شوق بھی کچھ عرصے کے لیے لولی پاپ دے کر پورا کر دیا جائے گا۔۔۔ وہ اگرچہ راہ راست پر آنا چاہتا ہے۔۔۔ یعنی ٹکراؤ کی بجائے مفاہمت کا زیادہ قائل ہے لیکن بھائی کی قیمت پر نہیں۔۔۔ جماعت بھی پانچ سات لوٹوں کے چلے جانے کے باوجود اپنی جگہ قائم و دائم ہے۔۔۔ بکھرنے کا نام نہیں لیتی۔۔۔ نواز کی سرپرستی میں پوری سیاسی قوت کے ساتھ انتخابی اکھاڑے میں اترنے کے لیے تیار کھڑی ہے۔۔۔ اس باب میں شہباز جو حکام بالا کی توقعات پر پورا نہیں اترا تو اس کی مرمت کی جا رہی ہے۔۔۔ نیب اپنے حضور حاضر ہونے کے لیے نت نئے نوٹس جاری کرتی ہے اور سب سے بڑی عدالت میں طلب کرکے اس کے ساتھ جو کچھ ہوا پوری قوم نے دیکھا۔۔۔ مگر اپنی ڈگر پر قائم ہے۔۔۔ منگل کے روز زبردست پریس کانفرنس کر ڈالی۔۔۔ کہا یہ ہے میری کارکردگی۔۔۔ مقابلے میں کوئی ہو تو سامنے آئے۔۔۔ یعنی لڑائی بھی نہیں کرنا چاہتا ااور پوری طرح جھک جانے کے لیے بھی آمادہ نہیں۔۔۔ سمجھتا ہے بھائی کے بغیر کچھ بھی نہیں۔۔۔ جبکہ یار لوگوں کو ایسا تابع مہمل درکار ہے جس کے اندر سے نواز کا عنصر پاوری طرح خارج کر دیا گیا ہو۔
خیر اس کا بھی علاج کیا جا سکتا ہے۔۔۔ مسلم لیگ (ن) سب سے بڑی جماعت کے طور پر بھی ابھری تو متبادل بھی ڈھونڈا جا سکتا ہے اور دوسرا راستہ بھی نکالا جا سکتا ہے۔۔۔ اگر اس جماعت کے اندر اسے کوئی صادق سنجرانی برآمد نہ ہو سکا یا پارٹی نے اس پر اعتماد کرنے سے انکار کر دیا تو تحریک انصاف جمع پیپلزپارٹی کے ساتھ چند چھوٹی جماعتوں اور آزاد ارکان کو ملا کر عوام کی ’’نمائندہ‘‘ حکومت بنانا کونسا مشکل کام ہو گا۔۔۔ عمران خان وزیراعظم کا عہدہ سنبھالنے کے لیے بیتاب ہوا جا رہا ہے۔۔۔ زرداری ’’راہ راست‘‘ پر آ چکے ہیں۔۔۔ سینیٹ کے لیے اوپر والوں کی مرضی کا چیئرمین دونوں کے مابین درون خانہ مفاہمت کی وجہ سے بنا تھا۔۔۔ یہ مفاہمت آئندہ انتخابات کے بعد بھی اپنا رنگ جما سکتی ہے۔۔۔ البتہ مشکل یہ پیش آئے گی ۔۔۔ عمران خان کا وزیراعظم بننا شاید ستاروں کو منظور نہیں۔۔۔ پنجاب اور صوبہ خیبرپختونخوا میں نگران وزرائے اعلیٰ کے چناؤ کے مراحل سے گزرتے ہوئے اس نے اپنے اور اپنی جماعت کے اندر فیصلہ سازی کی صلاحیت کے فقدان کا مظاہرہ کیا ہے۔۔۔ رجعت قہقری کا نمونہ بنا ہے۔۔۔ پھر اس کی دوسری طلاق یافتہ اہلیہ سابق شوہر نامدار کی جو درگت بنانے جا رہی ہے۔۔۔ اس کے بعد عمران خاں کا شیروانی زیب تن اور سر پر جناح کیپ اوڑھ کر حلف اٹھانا قوم کے اجتماعی ضمیر کے لیے اتنا قابل قبول نہ ہو گا جس قدر وہ خواہشمند ہے۔۔۔ تیسرا آدمی ڈھونڈا جائے گا۔۔۔ وہ لامحالہ کمزور ہو گا۔۔۔ دو ارھائی کیا پورا ایک سال بھی مشکل سے نکال پائے گا۔۔۔ پھر چوتھا آئے گا اور شاید پانچواں بھی میوزیکل چیئرز کا کھیل شروع ہو جائے گا۔۔۔ خلفشار بڑھے گا اور غیر یقینی کی بھی وہ کیفیت جنم لے گی کہ پچاس کی دھائی لوٹ آئے یا نوے کے ماہ و سال بطریق نو جنم لیں گے۔۔۔ ’یہی مطلوب و مقصود مومن ہے‘ کہ سیاست اس ملک کی اور اس کے ساتھ جمہوریت بھی بازیچۂ اطفال بنی رہے۔۔۔ ’ان‘ کا حکم چلتا رہے۔۔۔ خارجہ اور دفاع کے امور پہلے ہی ان کی دسترس میں ہیں۔۔۔ نوازنے ڈان لیکس کے حوالے سے اس باب میں چھیڑ خانی کی ۔۔۔ منہ کی کھائی۔۔۔ آئندہ انتخابات کے بعد مرضی کا وزیراعظم بن گیا یا ان کی لائن لگ گئی تو داخلی معاملات بھی پوری طرح کمانڈ اینڈ کنٹرول میں آجائیں گے۔۔۔ جمہوریت کا تھوڑا بہت نام باقی رہے گا۔۔۔ اس کی ضرورت بھی ہے کیونکہ براہ راست حکمراں جسے عرف عام میں مارشل لاء یا فوجی حکومت کہتے ہیں آج کی بیرونی دنیا میں اسے کوئی قبول نہیں کرتا۔۔۔ اس مقام پر پاکستانی قوم کے اعلیٰ شعور اور سیاسی بالغ نظری کا امتحان ہے۔۔۔ اگر وہ بیلٹ بکس پر پہنچ کر کسی ایک جماعت کے حق میں فیصلہ کن ووٹ ڈال دیتے ہیں اور اسے اتنی بڑی اکثریت سے نواز دیتے ہیں کہ حکومت سازی کے لیے چھوٹی جماعتوں اور آزاد ارکان کی محتاج نہ رہے تو اندھیری سرنگ کے آخر میں روشنی کی چمک نظر آ سکتی ہے جمہوریت اور پاکستان دونوں کا مستقبل چمک سکتا ہے آخر یہ ملک بھی تو 1945-46ء میں ڈالے جانے والے ایسے ہی ووٹ کی طاقت نے بنایا تھا۔


ای پیپر