ایوان صدر میں حلف برداری
06 جون 2018 2018-06-06

ایک ہفتہ میں دوسری مرتبہ ایوان صدر جانا ہوا۔ پہلی مرتبہ تو نئے نگران وزیراعظم کی تقریب حلف برداری تھی۔تھوڑی تاخیر ہوئی۔بس اتنی کہ پارکنگ کیلئے مختص ایریا مکمل طور پر پیک ہو چکا تھا۔ اب ہم مسکین قلم و کیمرہ مزدوروں کا مسئلہ اپنی کم مائیگی کے سوا اور کیا ہے۔ گاڑی تو بڑی غنیمت ہے۔ میسر ہو تو بڑی بات ہے۔ڈرائیور کا تصور ہی کیا جا سکتا ہے۔ البتہ دفتر کی گاڑی ڈراپ اور پک کرے تو کچھ سہولت رہتی ہے۔ اس روز ایسی کوئی سہولت نہ تھی۔سرکاری اہلکارلکیر کے فقیر ہوا کرتے ہیں۔ اوپر سے سخت گرمی اور روزے کی کیفیت تھی۔ ٹریفک اہلکار ہاتھوں کے اشارے سے دھکیلتے دھکیلتے خارجی دروازے کی طرف لے گئے۔حکم تھا کہ جب سفیروں کی گاڑیاں جڑواں بلڈنگ پارلیمنٹ ہاؤس میں پارک ہو رہی ہیں تو آپ کی نہیں۔ صحافی ہو تو کوئی آسمان سے نہیں اترے۔عرض کیا بھیا ان کے پاس ڈرائیور ہیں۔ میں تو ڈیوٹی پر ہوں گاڑی پارک کر بھی لی تو واپس ایوان صدر کیسے آؤں گا۔ خارجی دروازے پر تو کوئی لسٹ موجود نہیں۔ضدی ٹریفک اہلکار نے تربوز جتنا سر انکار میں ہلایا۔ بولا صاحب یہ میرا مسئلہ نہیں۔ برادرم فاروق عادل سے رابطہ کیا انہوں نے مسئلہ سمجھ کر حل کرنے کی کوشش کی۔پروٹوکول والوں نے بھی رابطہ کیا۔لیکن وقت کم تھا۔ تھوڑی دیر اور گیٹ پر رہتا تو کوئی سکیورٹی اہلکار ڈنڈا ڈولی کر کے باہر پھینک دیتا۔کیونکہ اسی گیٹ سے جناب چیئر مین سینیٹ کی آمد ہونی تھی۔ لہٰذا راستہ کلیئر ہونا چاہیے تھا۔معاملہ کی نزاکت کو سمجھا۔چپ چاپ کان لپیٹے اور واپسی کا راستہ پکڑا۔ہمارے ہاں سرکاری اہلکار صورتحال کے متعلق بریف نہیں ہوتے۔نہ ہی وہ فیصلہ کرنے میں آزاد۔ویسے بھی سرکاری اہلکار مخلوق خدا کو آزارپہنچانے میں لطف محسوس کرتے ہیں۔ ابھی تین روز ہی گزرے تھے کہ ایک مرتبہ پھر بلاوے کی صورت سامنے آئی۔ اب کہ نگران کا بینہ کے پہلے مرحلہ میں وزراء نے حلف اٹھانا تھا۔ سوچا کہ ٹی وی پر تقریب دیکھیں گے۔ نگران کابینہ کے نام تو پہلے ہی معلوم تھے۔ اپنے چینل پر بریک بھی کیے۔لہٰذا منگل کی صبح تساہل کے ساتھ دفتر کی تیاری کی۔ ایوان صدر سے دعوت نامہ آنا ہوتا تو رات گئے وصول ہو چکا ہوتا۔ سونے سے پہلے آخر ی فون متعلقہ ڈیپارٹمنٹ کو کیا۔ کوئی حتمی تصدیق ہوئی نہ تردید۔ ابھی ہائی وے پر راستے میں تھا۔رخ ظاہر ہے دفتر کی جانب۔نصف راستے میں ہر دل عزیز پروٹوکول آفیسر مقبول کا فون موصول ہوا۔ ایوان صدر پہنچ گئے۔ جواب دیا نہیں۔میرے پاس تو کوئی اطلاع نہیں۔مقبول بولا سر جی آپ کا نام لسٹ میں ہے فوری طور پر پہنچیں۔اب مقبول سے کون بحث کرے۔چند منٹ باقی تھے تقریب میں ۔گزشتہ ہفتے کا تلخ تجربہ بھی ابھی بھولا نہ تھا۔ لیکن ہم قلم و کیمرہ مزدوروں کے پاس چوائس کہاں ہوتی ہے۔بھاگم بھاگ ایوان صدر پہنچا۔جانچ پڑتال،تلاشی کے مراحل سے گزرا پارکنگ میں جگہ مل گئی۔
قلمکار وہ آخری فرد تھا جو نگران وزیر اعظم جسٹس (ر) ناصر الملک اور صدر مملکت جناب ممنون حسین سے قبل تقریباتی ہال میں پہنچا۔تمام مہمان نشستوں پر براجمان تھے۔برادرم فاروق عادل کے حسن انتظام کی وجہ سے چنیدہ صحافی حضرات بھی اس تاریخ ساز تقریب میں موجود تھے۔ سرکاری ٹی وی اور نیوز ایجنسیوں کے مستعد کولیگ کے علاوہ۔ منگل کے روز چھ وزراء نے حلف اٹھایا۔ابھی ایک مختصر سا وزرا کا مزید بیج حلف اٹھائے گا۔شاید چھ یا سات۔ دو ماہ کے نگرانوں کو اتنے ہی وزرا درکار ہوں گے۔ یہ دو ماہ اگر ساٹھ دن سے آگے نہ گئے تو پلک جھپکتے گزر جائیں گے۔ معاملہ طول پکڑ گیاتو کچھ کہا نہیں جا سکتا۔ پھر شائد چہرے بدل جائیں۔ رمضان المبارک کے دوران حلف برداری تقریبات مختصر ہی رہتی ہیں۔ قومی ترانہ بصد احترام سنا گیا۔ حلف اور دستخطوں کی تقریب بہ سرعت انجام کو پہنچی۔نگران وزیر اعظم نے اپنی کابینہ اور صدر مملکت کے ہمراہ مختصر ہی غیر رسمی میٹنگ کی اور رخصتی کا عمل شروع ہوگیا۔ البتہ گھاگ،بیوروکریٹ ایسے موقعے پر متحرک رہتے ہیں۔ موقع سے فائدہ اٹھانا کوئی ان تربیت یافتہ افراد سے سیکھے۔ ابھی ٹرانسفر پوسٹنگ ہونی ہے۔ ابھی بیوروکریٹک ایڈجسٹمنٹ ہونی ہے۔ جن کی ریٹائر منٹ قریب ہے ان کو ایکسٹینشن کا خواب دیکھنے سے کون روک سکتا ہے۔ جن کی مدت ابھی باقی ہے وہ اپنی پسند کے محکمے کے خواب دیکھتے ہیں۔ لہٰذا نگران وزرا سے بھی کام لیا جا سکتا ہے۔ جیسے ہی نگرانوں کے محکموں کا پتہ چلا اچانک ہلچل مچی۔متعلقہ محکمہ کے وزرا کا گھیراؤ کر لیا گیا۔ اپنا اپنا تعارف،اپنی اپنی خدمات،بیک گراؤنڈ موقع پر ہی بتا دی گئی۔ بزنس کارڈ کا تبادلہ ہوا۔شام، صبح اور اگلے روز کی میٹنگ طے ہو گئی۔ موضوعات دو ہی ہوتے ہیں ایسی تقریبات میں ۔ سیاست،الیکشن،خارجہ امور۔ موضوع تھا کل یعنی سوموار کا جلسہ۔پارٹی کنونشن جس میں نواز شریف اور مریم نواز نے خطاب کیا۔جلسہ کے اہتمام سابق ایم این اے انجم عقیل خان نے کیا پراپرٹی کے میگا سکینڈل میں ملوث رہنے کے باوجود گولڑہ کے انجم عقیل ٹکٹ کے حصول کیلئے پر امید ہیں۔ ان کی راہ میں شاہ اللہ دتہ کے با اثر سادات گھرانے کے ذیشان نقوی ہیں جو اسلام آباد کی پہلی میونسپل کا رپوریشن کے ڈپٹی مئیر ہیں۔ گھرانہ با اثر بھی ہے اور دولت مند بھی۔ اوپر سے مسلم لیگ (ن) کے چہیتے بیوروکریٹ توقیر شاہ کے قریبی رشتے دار ہیں۔سوموار کے روز کے مسلم لیگی جلسے میں ضلعی تنظیم کے کسی عہدیدار نے شرکت کی نہ تین ڈپٹی مئیر میں سے کوئی اپنے ساتھ جلوس لیکر آیا۔ سب نے حاضر ی لگائی اور نکل گئے۔ تقریب میں مو جود اسلام آباد کے سینئر سٹیزن کا کہنا تھا کہ اسلام آباد کی تینوں نشستوں پر مسلم لیگ (ن) کے کارکن عہدیدار آپس میں دست گریبان ہیں۔ایک کو ٹکٹ ملا تو دوسرے اعلانیہ مخالف کرینگے۔ یہی حالت پی ٹی آئی کی ہے۔عمران خان اپنے مذ ہبی دوست عامر کیانی کو راولپنڈی کینٹ سے لا کروفاقی دارالحکومت سے الیکشن لڑانا چاہتے ہیں۔ گزشتہ عام انتخابات میں پی ٹی آئی کے ٹکٹ ہولڈر الیا س مہر بان اپنا الیکشن ریکارڈ اٹھا کر گھوم رہے ہیں۔ جنہوں نے ہار کر بھی 60 ہزار سے زائد ووٹ حاصل کیے۔پی ٹی آئی کے حلقوں میں اٹھنے،بیٹھنے والے ایک مہمان نے بتایا کہ مری،کہوٹہ کے حلقے میں معاملہ اور بھی پیچیدہ ہے۔گزشتہ الیکشن میں ماہر تعلیم صداقت عباسی نے گھاگ سیاستدان شاہد خاقان عباسی کو ٹف ٹائم دیا۔ہارنے کے بعد بھی ووٹروں سے رابطہ رکھا۔ اپوزیشن میں رہے لیکن پارٹی قیادت پرانے جیالے مرتضیٰ ستی کو ٹکٹ دینا چاہتی ہے۔ پی ٹی آئی کے اعلیٰ لیڈر کے قریبی بیوروکریٹ کا دعویٰ تھا کہ الیکشن جیتنے کی صورت میں شاہ محمود قریشی کو پنجاب میں بڑا عہدہ یا جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کو لاہور کی صوبائی نشست سے بھی الیکشن لڑایا جائے گا۔ اس پیش رفت کی وجہ سے جہانگیر ترین،چوہدری سرور،علیم خان گروپ پریشان ہیں۔اگلے چند روز ہنگامہ خیز ہیں۔ پی ٹی آئی،مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی سب کی صفوں میں انتشار ہے۔ٹکٹوں کی تقسیم سوہان روح بن چکی ہے۔ ایوان صدر میں اگلے چند روز میں ایک اور تقریب متوقع ہے۔تب تک ٹکٹوں کے حصول اور ریحام خان کی کتاب پر جاری مہا بھارت کو انجوائے کیجئے۔


ای پیپر