کیا تحریک انصاف پنجاب میں اکثریت لے پائے گی؟
06 جون 2018

تگڑے امیدوار روزانہ کی بنیاد پر تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کر رہے ہیں ۔ تحریک انصاف کو اس وقت اسی قسم کی صورت حال کا سامنا ہے جس قسم کی صورت حال کا سامنا کبھی پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کو ہوتا تھا۔ انتخابی موسم شروع ہوتے ہی دونوں جماعتوں کو امیدواروں کے چناؤ کے امتحان کا سامنا ہوتا تھا۔ ایک ایک حلقے سے کئی موزوں امیدوار میدان میں ہوتے تھے۔ اس وقت تحریک انصاف بھی اس قسم کی صورت حال سے دوچار ہے۔
تحریک انصاف کے رہنما اور حامی پر امید ہیں کہ وہ معرکہ پنجاب میں فتح یاب ہوں گے اور جولائی کے عام انتخابات میں پنجاب میں اکثریت حاصل کر کے نہ صرف صوبائی حکومت تشکیل دیں گے بلکہ اسلام آباد میں بھی تحریک انصاف اپنی حکومت بنائے گی۔ اس حوالے سے تحریک انصاف کے حامی کالم نگار ، تجزیہ نگار اور ماہرین یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ جیسے تحریک انصاف میں شامل ہونے والے تمام تگڑے امیدوار جیت جائیں گے اور یوں تحریک انصاف اکثریت حاصل کر لے گی۔ یہ تمام تگڑے امیدوار بلاشبہ جیتنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور ان میں چند ایسے سابقہ ارکان اسمبلی بھی شامل ہیں جو کہ جیتنے کے لئے کسی سیاسی جماعت کے مرہون منت بھی نہیں ہیں مگر ان تگڑے امیدواروں کی اکثریت اپنے بل بوتے پر کامیاب نہیں ہو سکتی۔ان کو جیتنے کے لئے کسی بھی سیاسی جماعت کے ہزاروں ووٹ درکار ہوتے ہیں۔ اور اس کے ساتھ مقتدر قوتوں کی آشیر باد اور عملی مدد بھی درکار ہوتی ہے۔
تحریک انصاف میں دیگر جماعتوں کے رہنماؤں اور سابقہ ارکان اسمبلی کی شمولیت سے یہ تو واضح ہو گیا ہے کہ تحریک انصاف نے آخرکار یہ تسلیم کر لیا ہے کہ بڑے جلسے ، دھرنے ، سڑکوں پر احتجاج اور بدعنوانی کے خلاف بیانیہ انتخاب جیتنے کے لئے کافی نہیں ہے بلکہ اسے ان تمام جاگیرداروں ، قبائلی سرداروں اور نو دولتیوں کی ضرورت ہے جو کہ اپنے اثرورسوخ ، مالی و سماجی حیثیت اور سرمائے کے ذریعے انتخابات جیتنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ تحریک انصاف کو اس سے خاص فرق نہیں پڑتا کہ ان امیدواروں کا ماضی داغدار ہے یا ان پر ناجائز ذرائع سے دولت اکٹھی کرنے اور دیگر نوعیت کے الزامات ہیں۔
تحریک انصاف کا المیہ یہ ہے کہ یہ جس مافیا کو شکست دینے کی دعویدار تھی اب اسی مافیا کے ساتھ مل کر اقتدار کے حصول کے لئے کوشاں ہے۔ یہ کہنا تو ابھی قبل از وقت ہو گا کہ تحریک انصاف پنجاب سے کتنی نشستیں حاصل کر پائے گی اور آخر کار پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کو ہرانے میں کامیاب ہو گی یا نہیں مگر ایک بات تو بہت واضح ہے کہ اس مرتبہ پنجاب میں بہت قریبی اور زبردست مقابلہ دیکھنے کو ملے گا۔ 2013ء کی نسبت تحریک انصاف نہ صرف زیادہ نشستیں جیتنے کی پوزیشن میں ہے بلکہ جن حلقوں میں اس کے امیدوار بہت بری طرح ہارے تھے اور ان کی ضمانتیں ضبط ہو گئی تھیں اب ان حلقوں میں بھی تحریک انصاف کے پاس مضبوط امیدوار موجود ہیں وہ شاید اب بھی جیتنے کی پوزیشن میں نہ ہوں مگر وہ پہلے سے کہیں زیادہ ووٹ حاصل کریں گے۔ 2013ء کے عام انتخابات میں پنجاب کے قومی اسمبلی کے تقریباً 70 حلقوں میں تحریک انصاف کے امیدوار پندرہ فیصد (15 فیصد ) سے بھی کم ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے تھے جبکہ اتنے ہی حلقوں سے مسلم لیگ (ن) کے امیدوار 50 ہزار لے سے کر 80 ہزار ووٹوں کے فرق سے کامیاب ہوئے تھے۔ مگر اب حالات 2013ء کی نسبت مختلف ہیں۔
اس وقت یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ آخر وہ کونسی وجوہات ہیں جن کی وجہ سے سابق ارکان اسمبلی مسلم لیگ (ن) کو چھوڑ کر تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کر رہے ہیں۔ اس وقت تین طرح کے لوگ مسلم لیگ(ن) کو چھوڑ تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کر رہے ہیں۔ ان میں ایک تو وہ سابق ارکان اسمبلی ہیں جن کے حلقے نئی حلقہ بندیوں کے نتیجے میں ختم ہو گئے ہیں۔ مرکزی پنجاب کے 10 اضلاع کے قومی اسمبلی کے حلقوں میں کمی واقع ہوئی ہے۔ یہ تمام 10 نشستیں 2013ء میں مسلم لیگ (ن) نے جیتی تھیں۔ جب حلقے کم ہوئے تو ان دس ارکان اسمبلی کو ٹکٹ ملنے کی امید نہیں تھی اس لئے ننکانہ سے بلال ورک ، گوجرانوالہ سے میاں طارق ، نارووال سے میاں رشید اور چند دیگر ارکان قومی اور صوبائی اسمبلی ن لیگ کو چھوڑ کر تحریک انصاف میں شامل ہو گئے تا کہ اس کے ٹکٹ پر انتخابی میدان میں اتر سکیں۔
دوسرے وہ ارکان اسمبلی ہیں جن کو حلقوں میں تبدیلیوں اور دیگر وجوہات کی بناء پر ٹکٹ ملنے کی امید نہیں تھی اس لئے وہ تحریک انصاف میں شامل ہو گئے۔ ان میں فیصل آباد سے ڈاکٹر نثار جٹ ، بھکر سے افضل ڈھانڈلہ اور دیگر ارکان اسمبلی شامل ہیں۔ تیسرے وہ ارکان اسمبلی ہیں جو کہ 2013ء کے عام انتخابات سے پہلے مسلم لیگ (ن) میں شامل ہوئے جب انہیں یقین ہو گیا کہ وہی اگلی حکومت بنائے گی۔ ان ارکان اسمبلی کا خیال ہے کہ نواز کی سیاست اور مقتدر قوتوں کے مخالف بیانیے کے نتیجے میں مسلم لیگ (ن) انتخابات جیتنے کی پوزیشن میں نہیں اس لئے وہ تحریک انصاف کے پلیٹ فارم سے انتخابات میں حصہ لینے کے خواہشمند ہیں کیونکہ ان کے خیال میں تحریک انصاف اس وقت مقتدر قوتوں کی حامی جماعت ہے اور عام انتخابات میں تحریک انصاف کے امیدواروں کو مقتدر قوتوں کی مدد اور آشیر آباد حاصل ہوگی۔ اب اس قسم کے محض نصف درجن ارکان اسمبلی نے جماعت چھوڑی ہے۔
کچھ ارکان اسمبلی وہ ہیں جو عام انتخابات میں آزاد حیثیت سے کامیاب ہوئے تھے مگر بعد میں مسلم لیگ (ن) میں شامل ہو گئے۔ اب تک مسلم لیگ (ن) چھوڑنے والے ارکان اسمبلی کی اکثریت اس چوتھے گروپ سے تعلق رکھتی ہے جو کہ اب تحریک انصاف کا حصہ ہیں۔ ان کی اکثریت جنوبی پنجاب سے تعلق رکھتی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ جنوبی پنجاب میں تحریک انصاف کو برتری حاصل ہے اور یہ اس خطے کی 50 میں سے 30 نشستیں حاصل کر سکتی ہے۔ اس خطے میں مسلم لیگ (ن) کی مزید ٹوٹ پھوٹ ان نشستوں میں مزید اضافہ کر سکتی ہے۔
مگر تحریک انصاف کے لئے بڑا چلینج مرکزی اور شمالی پنجاب کی 90 نشستیں ہیں۔ اگر پی ٹی آئی مرکز میں حکومت بنانا چاہتی ہے تو اسے 90 میں سے کم از کم 50 نشستیں جیتنا ہوں گی۔ تحریک انصاف کے لئے اصل مسئلہ یہ ہے کہ ابھی تک مرکزی اور شمالی پنجاب میں مسلم لیگ (ن) میں اس بڑے پیمانے پر ٹوٹ پھوٹ نہیں ہوئی جو کہ جنوبی پنجاب میں ہوئی ہے۔ مسلم لیگ (ن) ابھی تک مضبوط امیدواروں سے محروم نہیں ہوئی۔ اس لئے ان حلقوں میں کانٹے کے مقابلے متوقع ہیں مگران حلقوں میں ابھی تک مسلم لیگ (ن) کو برتری حاصل ہے۔ پی ٹی آئی کی جیت کے لئے مسلم لیگ (ن) میں بڑی تقسیم ضروری ہے یا پھر تگڑے امیدوار پارٹی چھوڑ جائیں۔ پی ٹی آئی کے پاس اب بھی اتنے حلقوں میں مضبوط امیدوار نہیں ہیں کہ وہ پنجاب میں واضح اکثریت حاصل کر سکے۔
مسلم لیگ (ن) کو ہرانے کے لئے تحریک انصاف کو مقتدر قوتوں کی عملی مدد درکار ہے۔ مسلم لیگ (ن) ابھی تک تاش کے پتوں کی طرح بکھری نہیں ہے جیسا کہ 2002ء میں ہوا تھا۔ اس لئے تحریک انصاف کو مضبوط امیدواروں اور اصل طاقتوں کی طرف سے مکمل اشیر آباد کی ضرورت ہے۔ نیوز سٹوڈیوز میں بیٹھے پی ٹی آئی کے حامی اینکرز اور تجزیہ نگار دراصل حقائق سے زیادہ اپنی ذاتی خواہشات اور ادارہ جاتی پالیسی کے تحت ایک خاص تاثر قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ جیسے 25 جولائی 2018ء کو محض رسمی کارروائی ہونی ہے۔ تحریک انصاف دراصل انتخابات جیت چکی ہے جس کا رسمی اعلان 25 جولائی کو ہونا ہے۔ کئی کالم نگاروں نے تو امیدواروں کی فہرست دے کر یہ دعویٰ کر دیا ہے کہ یہ سب انتخاب جیت چکے ہیں۔ جبکہ زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔
2013ء کی قومی اسمبلی میں تحریک انصاف کے پاس محض 6 اضلاع سے امیدوار جیتے تھے 3 پنجاب کے 31 اضلاع میں پی ٹی آئی کے پاس کوئی نشست نہیں تھی۔ 2013 میں تحریک انصاف کا خیال تھا کہ عمران خان کی ذاتی مقبولیت ان کو عام انتخابات میں کامیابی دلا دے گی مگرایسا نہیں ہوا۔ اس وقت بھی تحریک انصاف نے سیاسی حکمت عملی اور لائحہ عمل سے زیادہ محض عمران خان کی
مقبولیت پر انحصار کیا تھا جس کا اسے نقصان ہوا۔ 2018ء میں تحریک انصاف کا تمام تر انحصار مضبوط امیدواروں اور مقتدر قوتوں کی حمایت اورتائید پر ہے جو کہ سیاسی لحاظ سے غلط حکمت عملی ہے۔ جس بڑی تعداد میں دوسری جماعتوں سے ارکان اسمبلی تحریک انصاف میں شامل ہوئے ہیں اور اس کے ٹکٹ پر انتخاب لڑیں گے تو اس سے یہ تاثر تو زائل ہو گیا ہے کہ تحریک انصاف مسلم لیگ (ن) سے مختلف جماعت ہے۔
تحریک انصاف کے پاس اب اعلیٰ اخلاقی جواز اور دوسروں سے مختلف ہونے کا دعویٰ اور دلیل باقی نہیں رہی۔ تحریک انصاف طاقت کی سیاست کرنے والی ایک اور روایتی پارٹی بن چکی ہے جو سدا بہار سیاسی اشرافیہ کی مدد سے اقتدار حاصل کرنے کے لئے سب کچھ داؤ پر لگانے کے لئے تیار ہے۔ تحریک انصاف نے دعویٰ تو اس نظام اور سیاست کو تبدیل کرنے کا کیا تھا مگر وہ تو خود ہی تبدیل ہو گئی ہے۔ جب سیاست نظریات،اصولوں ، پروگرام اور کسی بڑے مقصد کی بجائے محض اقتدار کے حصول کے لئے ہو تو پھر یہی ہوتا ہے۔ پنجاب کو تبدیلی کی ضرورت ہے کیونکہ ایک مخصوص سیاسی اشرافیہ چار دہائیوں سے محض نام بدل کر حکمرانی کر رہی ہے۔ پنجاب پر دائیں بازو کی قدامت پسند اشرافیہ کی حکمرانی قائم رہے گی اور زیادہ سے زیادہ حکمران جماعت کا نام بدل جائے گا۔


ای پیپر