ڈاکٹر نذیر احمد شہیدؒ
06 جون 2018

8؍جون 1972ء وہ دن ہے جب تحریک اسلامی کا درخشندہ ستارا ڈاکٹر نذیر احمد شہادت کی وادی میں اتر کر امر ہو گیا۔ جب یہ سانحہ رونما ہوا تو میں جنوبی پنجاب کے سفر پر تھا۔ میں رحیم یار خان میں تھا جب ڈاکٹر صاحب کی شہادت کی خبر ملی!میرے منہ سے بے ساختہ نکلا ’’ ڈاکٹر صاحب!ابھی تو آپ کی بڑی ضرورت تھی!‘‘ میں8؍جون کو بعد دوپہر رحیم یار خان پہنچا تھا۔ رات کو کافی دیر تک برادرم قاری صغیر حسین اور عبدالرزاق بھائی کے ساتھ تحریک اسلامی کے مستقبل کے بارے میں گفتگو کرتا رہا۔ ہماری گفتگو میں ڈاکٹر نذیر احمد صاحب کا ذکر بار بار آتا رہا۔ ڈاکٹر صاحب چند روز قبل صادق آباد کی ایک تربیت گاہ میں تشریف لائے تھے۔ رحیم یار خان کے ساتھیوں نے بھی ان سے 18؍جون کی تاریخ لے رکھی تھی،تمام کارکن اس دن کے منتظر تھے۔ ہم میں سے کسی کو علم نہ تھا کہ جس وقت ہم اپنے اس عظیم راہ نما کے بارے میں رات کو ستاروں کی چھاؤں، کھلے صحن اور گرم موسم میں بیٹھے یہ باتیں کر رہے تھے وہ ہم سے رخصت ہو کر دور کسی وادئ امن و سکون میں گہری نیند سو رہے تھے۔
ڈاکٹر صاحب نے خود کو کئی سال قبل اس منزل کے لیے ذہناً تیار کرلیا تھا، جوان کی منتظر تھی۔ انھیں بخوبی علم تھا کہ اس راہ میں دارورسن اور شہادت کی منزلوں سے گزرنا پڑے گا۔ شاید انھیں شہادت سے ہم کنار کرنے والے پستول برسوں سے ان کے آس پاس منڈلا رہے تھے۔ میں نے ڈاکٹر صاحب کو پہلی بار جماعت اسلامی کے سالانہ اجتماع(لاہور 1963ء) میں دیکھا جس پر ایوب خاں اور نواب آف کالا باغ کے غنڈوں نے گولیاں برسائیں اور اللہ بخش کو شہادت کی سعادت نصیب ہوگئی لیکن ڈاکٹر صاحب کی پیشانی اور سینے تک پہنچنے والی گولیاں کسی اور دور کے حصے میں آئیں۔ میں ڈاکٹر صاحب کو 1963ء کے بعد بھی اکثردیکھتا رہا لیکن ان سے باقاعدہ تعارف1968ء میں ہوا جب انھوں نے میری اسلامی جمعیت طلبہ لاہور کی نظامت کے دور میں میرے اصرار پر شب بیداری کے ایک پروگرام میں شرکت فرمائی۔
ملتان میں ڈاکٹر نذیر احمدصاحب سے ایک پروگرام میں ملاقات ہوئی تو اجتماع کے بعد وہ مجھے اپنے دوستوں سے ملانے کے لیے لے گئے۔ میں اس شام ڈاکٹر صاحب کے ساتھ ملتان میں ان کے کئی دوستوں سے ملنے گیا۔ ہم جہاں بھی گئے وہاں میں نے دیکھا کہ ان کی آمد کی خبر سن کر گھر کے چھوٹے چھوٹے بچے بھی دوڑتے ہوئے آتے اور آ کر ان سے لپٹ جاتے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے اس شہید رہنما نے ہر جگہ پیار اور خلوص کے دیپ جلائے۔ اس نے ضلع ڈیرہ غازی خان کے جاگیردارانہ نظام میں جکڑے ہوئے لوگوں کے اندر عزت کی زندگی کا احساس پیدا کیا،پروانوں کو دوردراز کے ریگزاروں سے اپنے گرد جمع کیا۔ وہ شمع محفل تھا اور پروانے اس کے گرد منڈلاتے رہتے تھے۔ تحریک اسلامی کا پیغام اس بنجر زمین میں اس محنت سے پہنچایا کہ یہی سنگ لاخ ضلع، پنجاب کا سب سے زرخیز خطہ بن گیا [1970ء کے ملکی انتخابات میں پورے پنجاب سے صرف
ڈیرہ غازی خان ایک ایسا ضلع تھا جہاں سے جماعت نے ایک قومی اور ایک صوبائی اسمبلی کی نشست جیتی]۔ یہ انسان زندگی بھر روشنی کا پیغام بن کر جیا اور جب رخصت ہوا تو اس کی موت بھی قابلِ رشک بن گئی۔
میں 1970ء کے آخر میں ساہیوال جیل سے ایک سال کی قید کاٹ کر رہا ہوا تھا۔مجھے مارچ1970ء میں کیمپ جیل لاہور سے سنٹرل جیل ساہیوال منتقل کیا گیا۔ یہ ایک بڑی جیل ہے۔ یہاں بلوچ قیدیوں کی بہت بڑی تعداد مقیدتھی۔ یہ تمام قیدی نماز روزے کے پابند اور متشرع تھے۔ ان کا قائد ایک ستر سالہ بوڑھا بلوچ منگن خان تھا، جس کی قید 48 برس تھی۔ منگن خان کو اس بڑھاپے میں بھی خطرناک قیدی سمجھ کر’’چھ چکی‘‘ میں بند کیا گیا تھا۔ ایک روز اخبار میں، میں ڈاکٹر نذیر احمدصاحب کا بیان پڑھ کر قیدیوں کو سنا رہا تھا کہ منگن خان وہاں آیا۔ وہ ڈاکٹر صاحب کا نام سن کر خوشی سے اچھل پڑا اور کہنے لگا’’میں نے زندگی میں اس سے زیادہ دلیر اور جرأت مند شخص کوئی نہیں دیکھا۔ ماں نے شیر جنا ہے۔ ‘‘منگن خان نے بتایا ’’میں نے ڈاکٹر کی جیل کی زندگی دیکھی ہے۔ کئی مرتبہ مختلف جیلوں میں وہ ہمارے ساتھ مقید رہا۔ وہ راتوں کو تہجد اور نوافل اور قرآن خوانی میں جیل کی کال کوٹھڑیوں کو آباد کیا کرتا تھا اور دن کے وقت وہ قیدیوں کے حقوق کے لیے افسرانِ بالا کے سامنے سینہ تان کر کھڑا ہو جاتا تھا۔ کتنے ہی لوگوں کو اس نے یہاں نماز پڑھنی سکھائی۔ قرآن پڑھایا۔ قیدیوں کے جھگڑے،جن پر خون خرابہ ہوسکتا تھا اور بڑے بڑے افسر بے بس ہو جاتے تھے، ڈاکٹر کے آتے ہی منٹوں میں حل ہو جاتے تھے۔ ‘‘
رحیم یار خان سے رات ڈیرہ غازی خان کا سفر ممکن نہ تھا۔ صبح سویرے میں،عبدالرزاق بھائی، برادرم صغیرحسین اور دیگر ساتھی عازمِ ڈیرہ ہوئے۔ کبھی باہمی گفت گو،کبھی خاموشی اور غم،سوچوں کا سفر اور ماضی کے جھروکے!عجیب سفر تھا۔ اب ہم بس میں بیٹھے رحیم یار خان سے ظاہر پیر اور چاچڑاں کے راستے ڈیرہ غازی خان جا رہے تھے۔ ہم وہاں وقت پر نہیں پہنچ سکے، اگرچہ ڈرائیور نے یہ معلوم ہوتے ہی بس چلا دی تھی کہ ہم ڈیرہ غازی خان، ڈاکٹر نذیر احمدصاحب کے جنازے میں شرکت کے لیے جا رہے ہیں۔ اسے بس چلاتے ہوئے دیکھ کر کنڈکٹر لپک کر اس کے پاس آیا اور کہنے لگا ’’بس کیوں چلا دی،ابھی بس خالی ہے۔ ‘‘ ڈرائیور کا جواب تھا’’پیسے تو روز کماتے ہیں۔ آج پیسے کمانے کا دن نہیں۔ ان لوگوں کو ڈاکٹر صاحب کے جنازے میں شریک ہونا ہے‘‘۔ لیکن ہم پیچھے رہ گئے اور ڈاکٹر صاحب آگے نکل گئے۔ ظاہر پیر سے مظفر گڑھ پہنچے۔ وہاں سے ڈیرہ غازی خان کی بس میں سوار ہوئے۔ رحیم یار خان سے ڈیرہ غازی خان تک ہمارے پورے سفر کے دوران ہر بس اور راستے کے ہر سٹاپ پر شہید کے تذکرے تھے۔ لوگ اسی موضوع پر گفتگو کررہے تھے۔ اداس چہروں پر ایک ہی کہانی لکھی ہوئی تھی۔
ہم ساڑھے آٹھ بجے شب ڈیرہ غازی خان پہنچے۔ عجیب منظر دیکھا، پورا شہر غم میں ڈوبا ہواتھا۔ تانگہ بان نے یہ کہہ کر کرایہ وصول کرنے سے انکار کردیا کہ ’’تم لوگ میرے روحانی باپ کی تعزیت کے لیے آئے ہو، میں کرایہ کیسے لے سکتاہوں۔ ‘‘ہمارے شدید اصرار کے باوجود اس نوجوان نے کرایہ وصول کرنے سے بالکل انکار کردیا۔ شہید کے گھر حاضری کے بعد میں نے ساتھیوں سے کہا کہ ہمیں قبرستان لے چلیں۔ اب ہم کھڑے اس قبر پر دعا مانگ رہے تھے جہاں لوگوں کا ہجوم تھا۔ شمع پردے میں تھی، پھر بھی پروانے اس کے گرد منڈ لارہے تھے۔ قبرستان میں رات کے وقت بھی غم زدہ عوام کا ہجوم تھا، دعائیں اور ہچکیاں، آنسواور مناجات !عجیب کیفیت اور ناقابل بیان منظر!۔ یہ عام لوگ تھے۔ ڈاکٹر صاحب سے ان کا کوئی خونی رشتہ نہ تھا مگر اس عظیم انسان کی جدائی نے ان سب کو سوگوار بنا دیا تھا۔ وہ سب غم سے نڈھال تھے!
تھوڑی دیر بعد ہم ڈاکٹر صاحب کے مطب اور مقتل کے سامنے کھڑے تھے۔ ہم اپنے جذبات کو قابو رکھنے اورآنسوؤں کو روکنے کی پوری کوشش کر رہے تھے لیکن جب ڈاکٹر صاحب کی جامع مسجد اورمدرسہ تفہیم الاسلام کے دروازے پر پہنچے تو بے بس ہوگئے۔ تمام دوست احباب پژمردہ اور نڈھال تھے۔ وہ جیسے ٹوٹے ہوئے بازوؤں کے ساتھ آکر گلے ملے تو ضبط و صبر کے تمام بندھن ٹوٹ گئے۔ نوجوانوں کی سسکیاں چیخوں میں بدل گئیں اور آنکھوں سے جوئے خوں بہنے لگی۔ پھر جب کچھ سنبھلے تو میری زبان جیسے گنگ ہوکر رہ گئی۔ میں چپ چاپ دوسروں کی طرف دیکھ رہا تھا۔ میرے اوپر ایسی کیفیت پوری ز ندگی میں ایک آدھ مرتبہ ہی طاری ہوئی ہے۔
8؍جون 1972ء کو نماز مغرب کے بعد8بج کر 21منٹ پر ڈاکٹر نذیر احمدصاحب پر ان کے مطب میں حملہ کیا گیا۔ دو گولیاں اس پیشانی پر لگیں جو سوائے خدائے بزرگ وبرتر کے کسی کے سامنے نہیں جھکی اور ایک گولی اس سینے میں پیوست ہوگئی، جس میں ہر انسان کے لیے ایک درد بھرا دل دھڑک رہا تھا۔ جب ہم ان کی قبر کے گرد کھڑے تھے، رات کا وقت تھامگرلوگوں کا ایک ہجوم امڈا چلا آرہا تھا۔ آنکھوں میں آنسو،چہروں پر عقیدت،زبانوں پر تلاوت قرآن مجید،کلمہ طیبہ اور درود شریف۔ ہزاروں دل دھڑک رہے تھے۔ لاکھوں دل دھڑک رہے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب! کون کہتا ہے کہ آپ ہمارے درمیان موجود نہیں ہیں؟
میں اگلے دن واپس لاہور پہنچا تو 5۔ اے ذیلدار پارک میں بھی عجیب سماں دیکھا۔ سید غم سے نڈھال تھے، چہرے سے شدید الم ظاہر تھا۔ مجلس کا ہر فرد سوگوار تھا۔ لاہور کا درویش مظفر بیگ ایک کونے میں بیٹھا، ڈیرہ کے درویش کا تذکرہ خاموشی سے سن رہاتھا۔ اس روز وہ مجھ سے لپٹا تو پہلی بار میں نے اسے روتے ہوئے دیکھا، اس نے روایتی محبت و ملائمت سے کہا ’’لکھونا کچھ؟‘‘ میں نے کہا ’’کیا لکھو ں ؟قلم ساتھ نہیں دے پا رہا۔‘‘ اس کا اصرار جاری رہا۔ میں نے تعمیل حکم میں مجبوراً ایک تحریر لکھ دی، ادھوری اور تشنہ، نہ شہید کے شایان شان نہ کسی طباعت کے قابل۔ یہ مظفربیگ مرحوم کی محبت تھی کہ ناقص سی تحریر’’آئین‘‘ میں چھپ گئی۔ آج خلاصہ آپ کی نذر ہے!۔


ای پیپر