’’عیدی‘‘
06 جون 2018

’’بابو جا ۔۔۔ نئی لینی اب مجھے عیدی ۔۔۔‘‘
وہ روٹھ گئی۔۔۔؟ میں نے بھاگ کر پاس جا کرمنانے کی کوشش کی ۔۔۔ وہ نہ مانی ۔۔۔
’’ایسے روٹھتے ہیں بھلا ۔۔۔؟‘‘ میں نے منت سماجت کی مگر وہ چھوٹی گلی میں داخل ہو گئی اور دومنٹوں میں نظروں سے اوجھل بھی ہو گئی۔۔۔
میں جلدی میں تھا اس لیے میں نے گاڑی سٹارٹ رکھی ۔۔۔ لائبہ بیٹی اور بیگم جلدی جلدی قدم اٹھائے سامنے کتابوں کی دوکان میں چلی گئیں ۔۔۔
مجھے اِک نہایت اہم میٹنگ میں جانا تھا جو شہر کے نظم و نسق کے لیے بلائی گئی تھی ۔۔۔ صبح بھی میٹنگ ہوئی تھی اور میں اُس میں بھی دیر سے پہنچا تھا ۔۔۔ جس پر سینئر افسر نے مجھے غصے سے گھورابھی تھا جو اس بات کا اشارہ تھا کہ ملک میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات حد سے بڑھ رہے ہیں اور عید پر اگر افسر اور عملہ اسی طرح سستی دکھاتا رہا تو حکومت کی اچھی ساکھ کو نقصان بھی پہنچنے کا اندیشہ ہے ۔۔۔ صبح والی میٹنگ میں دیر سے پہنچنے کا مجھے کوئی خاص افسوس نہ تھا کیونکہ نئے ٹچ فون کی وجہ سے میں دل ہی دل میں خوش تھا ۔۔۔ اچانک وہ میرے سامنے نمودار ہوئی ۔۔۔ ’’وئے باؤ! عیدی دے دے ۔۔۔ اللہ تینوں حج کرائے سوہنی شکل والیا ۔۔۔‘‘
میرا دل چاہ رہا تھا کہ میں اُسے عیدی دے دوں مگر ایسے ضدی فقیروں کو میں بھی ضدی بن کر پیش آتا ہوں ۔۔۔ وہ سترہ اٹھارہ سال کی نہایت خوبصورت فقیرنی تھی ۔۔۔ میں نے آنکھیں اُس کے چہرے سے ہٹا لیں ۔۔۔ ’’چور کہیں کی ۔۔۔‘‘
وہ غصے میں آ گئی ۔۔۔ ’’کیا چرایا ہے تیرا میں نے۔۔۔؟‘‘
پھر مسکرائی ۔۔۔ ’’دل تو چاہتا ہے تیرا دل چُرا لوں۔۔۔‘‘
’’چل بھاگ ۔۔۔‘‘ میں نے ہنستے ہوئے کہا ۔۔۔
’’نہیں جاؤں گی ۔۔۔‘‘ شاید فارغ تھی یا مذاق کے موڈ میں تھی ۔۔۔
رات گئے دن بھر کی مشقت کے بعد بھی ترو تازہ تھی ۔۔۔ حیرت کی بات تھی ۔۔۔
’’وے دے دے باؤ ۔۔۔ کمینہ نہ بن!‘‘
مجھے غصہ آ گیا ۔۔۔ ’’چل دفعہ ہو ۔۔۔ کوئی اچھا سا لڑکا دیکھ کر شادی کیوں نہیں کر لیتی ۔۔۔؟‘‘
’’وے باؤ ۔۔۔ تو ہی کر لے مجھ سے شادی ۔۔۔‘‘
’’بھاگ یہاں سے‘‘
میں نے اپنے اصولوں کے خلاف اُسے سخت تر الفاظ میں کہا ۔۔۔
ایسے میں میری نظر گھڑی پر پڑی تو میں گاڑی سے اترا اور بیگم اور بیٹی کے پیچھے اُس دوکان میں جا گھسا جہاں وہ سٹیشنری خرید رہی تھیں ۔۔۔
وہاں بہت رش تھا ۔۔۔ لڑکیاں گفٹ پیپر تھامے عید کارڈ اور دوسرے تحفے خرید رہی تھیں ۔۔۔ مجھے خلیل جبران کا کرسمس منانا یاد آ گیا ۔۔۔ لبنان میں خلیل جبران کرسمس بڑے شوق سے مناتا تھا ۔۔۔ ایک وقت تھا جب عرب دنیا اور یورپ امریکہ میں خلیل جبران کی کتاب ’’ٹوٹے ہوئے پر‘‘ کرسمس پر دیے جانے والا سب سے بڑا تحفہ سمجھا جاتا تھا ۔۔۔ ہمارے ہاں عید بہت میٹھی مٹھائیاں ضرورت اور خواہش سے زیادہ کھا کھا کر ’’میٹھی زہر‘‘ کر دی جاتی ہے حالانکہ آجکل ہماری خواتین خاص طور پر ینگ جنریشن خاصی Contious ہے اس معاملہ میں ۔۔۔ لڑکیاں تو چائے تک پینا چھوڑ گئیں ہیں اگر مجبوری میں دو سپ لینے بھی پڑیں تو ناک منہ چڑا کے بغیر چینی کے ہی پتی ہیں پھر بھی 70% خواتین کو جم جوائن کرنے کی حاجت محسوس ہوتی ہے ۔۔۔ ویسے کچھ نوجوان بھی عورتوں جیسے ’’پرہیز‘‘ کر کر کے ہلکان ہوتے رہتے ہیں (نہ جانے کیوں ۔۔۔؟) میں نے بیٹی کو ہلکا سا ڈانٹا تو وہ ناراض ہو گئی ۔۔۔ ’’پاپا! یہ عید کے موقع پر بھی آپ کی میٹنگز جاری رہتی ہیں، ہمارے لیے تو آپ کے پاس وقت ہی نہیں ہے۔۔۔‘‘
میں نے اُس کے سر پر شفقت سے ہاتھ پھیرا اور جلدی آنے کی تاکید کر کے گاڑی کی طرف لپکا ۔۔۔
وہ پھر سامنے آ گئی ۔۔۔
میں نے دھمکایا ’’دفع ہو جا ورنہ پولیس کے حوالے کر دونگا ۔۔۔‘‘
اُس نے نیچے گاڑی سے باہر کی طرف اشارہ کیا۔۔۔
’’بہت تیز ہے ۔۔۔ مجھے الجھا رہی ہے‘‘ میں نے دل ہی دل میں سوچا۔۔۔
وہ ہاتھ جوڑ کر کھڑی ہو گئی ۔۔۔ پھر نیچے اشارہ کر رہی تھی ۔۔۔
مجھے اُس پر شدید غصہ آ رہا تھا ۔۔۔
اِک عینک والی ادھیڑ عمر خاتون نے میرے پاس سے گزرتے ہوئے زمین پر اشارہ کرتے ہوئے کہا ۔۔۔ ’’جی! یہ آپ کا فون گرا ہوا ہے ۔۔۔ اٹھا لیں ۔۔۔‘‘
چالیس ہزار کا نیا فون جو میں نے اپنی عید رنگین کرنے کے لیے خریدا تھا ۔۔۔ جلدی میں نیچے گر گیا تھا جب میں غصے میں بیٹی اور بیوی کے پیچھے سٹیشنری کی دوکان میں جانے نکلا تھا ۔۔۔
میں سوچ میں پڑ گیا ۔۔۔ وہ چاہتی تو اس دوران اٹھا کر غائب بھی ہو سکتی تھی ۔۔۔ مگر وہ شاید میری عدم موجودگی میں اُس کی رکھوالی کرتی رہی اور اُسے اُس نے چھوا تک بھی نہیں ۔۔۔
میں نے جلدی سے فون اٹھایا ۔۔۔ اُسے صاف کیا اور اشارے سے اُسے بلایا ۔۔۔ وہ آ گئی ۔۔۔
’’تم نے اٹھایا کیوں نہیں ۔۔۔؟‘‘
’’بابو! غریب ہوں پر بے ایمان نہیں ہوں ۔۔۔ آج بھوکی بھی تھی ۔۔۔ مانگ لیتی ہوں پر چوری نہیں کرتی ۔۔۔ یہ ماں کا حکم ہے اور اللہ میاں بھی ناراض ہوتا ہے ۔۔۔‘‘
میں نے ایک ہزار کا نوٹ نکالا اور اُسے دینا چاہا۔۔۔
’’نہیں بابو! اب نہیں لوں گی ۔۔۔ ‘‘
’’ عیدی لے لو ۔۔۔ معافی دے دو!‘‘ میں نے درخواست کی ۔۔۔
ایسے میں بیگم صاحبہ بھی آ گئیں ۔۔۔
’’مظفر ! کس سے معافی مانگ رہے ہو ۔۔۔؟‘‘
’’ابھی آ کر بتاتا ہوں ۔۔۔ لمبی کہانی ہے ۔۔۔‘‘
بیگم مجھے روکتی رہیں مگر میں اُس کے پیچھے چل پڑا ۔۔۔
’’سوری! میں نے تمہیں عام فقیرنی سمجھا ۔۔۔ تم تو بڑے کریکٹر والی لڑکی ہو ۔۔۔ رُک جاؤ ۔۔۔ پلیز لے لو ۔۔۔ تمہاری وجہ سے میرا نیا مہنگا خوبصورت موبائل فون واپس مل گیا اور میری عید پھیکی ہونے سے بچ گئی ۔۔۔‘‘
’’تو بھی کوئی بندہ ہے ۔۔۔ تجھے انسانوں کی پہچان ہی نہیں ہے ۔۔۔‘‘ وہ سنجیدگی سے بولی ۔۔۔
وہ غصے میں پھر بولی ’’بابو! نئی لینی اب مجھے عیدی ۔۔۔‘‘ اور تیز تیز چلنے لگی ۔۔۔ وہ روٹھ گئی تھی ۔۔۔ میں نے بھاگ کر پاس جا کر اُسے منانے کی کوشش کی ۔۔۔ وہ نہ مانی۔۔۔
’’ایسے روٹھتے ہیں بھلا ۔۔۔؟‘‘
میں نے پھر منت سماجت کی مگر وہ ایک چھوٹی سی گلی میں داخل ہو گئی اور دو منٹوں میں نظروں سے اوجھل بھی ہو گئی ۔۔۔
میں بے بسی سے ہاتھ ملتے ہوئے گاڑی میں آ کر بیٹھ گیا ۔۔۔ اپنی ہار پر پچھتاتا ہوا ۔۔۔


ای پیپر