پرندے اور کپتان
06 جون 2018 2018-06-06

ان دنوں خوش الحان ، خوش ادا اور خوش خوراک ’’ سیاسی پرندے ‘‘ ایک ٹہنی سے دوسری پے بیٹھتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ اس خیال سے کہ وہ جیت کر اختیارات کی آسائشیں حاصل کریں گے۔ بالخصوص پاکستان تحریک انصاف میں ان ’’ سیاسی پرندوں ‘‘ کی پروازیں رات دن جا ری ہیں۔ اور جناب چیئر مین عمران خان ان کے گلوں میں اپنا ’’ پارٹی پٹکا ‘‘ لٹکائے جا رہے ہیں۔ جب اس پر عوامی درعمل آتا ہے تو جھٹ سے ’ ’ پریس کانفرنس ‘‘ کرنے لگ پڑتے ہیں۔ ان کی خوبیاں گنواتے ہیں اور یہ یقین دلانے کی کوشش کرتے ہیں کہ وہ ان کے خیالات و منشور سے مکمل اتفاق کرتے ہیں!

ایسا نہیں ہے۔ ان لوگوں کے ذہنوں میں ابھی عوامیت و عوام دوستی داخل نہیں ہوئی اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ روایتی سیاست کے محافظ ہیں جس میں غریب عوام کو نظر انداز کر کے آگے بڑھا جاتا ہے۔انہیں نعروں اور دعووں کی آکاس بیل میں لپیٹ دیا جاتا ہے۔ انہیں اقتدار سے کوسوں دور رکھا جاتا ہے ان کے بجائے چند طاقتور افراد کو اہمیت دی جاتی ہے جو اپنا اثرورسوخ قائم کر کے عام لوگوں کو اپنا ہمنوا بناتے ہیں۔ اس ان سیاسی پرندوں کو کامیاب کراتے ہیں۔ یہ سلسلہ اکہتر برس سے چلا آ رہا ہے۔ ختم کب ہو گا کچھ معلوم نہیں۔ اب جبکہ لوگوں کو تبدیلی کی بانہوں میں قدرے سکون و اطمینان میسر آیا تھا۔ تو وہ بھی کانٹوں کی مانند محسوس ہونے لگی ہیں۔ کیونکہ ان میں باگڑ بلے آتے جا رہے ہیں۔ جنہیں فقط خود کو نمایاں کرنا ہے ۔ اس کے لیے وہ ’’ عمرانی تصور ‘‘ کو تبدیل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ بلکہ اس کا آغاز ہو چکا ہے۔ عمران خان پر ان کے ساتھی جو پہلے سے موجود ہیں۔ اب قطرہ قطرہ اپنی دانائی ٹپکانے میں مصروف ہیں۔

جی ہاں ! جہانگیر ترین ایسے وڈیرے عمران خان کی سیاست کا رخ بدل رہے ہیں۔ اور ان سے ایسے اقدامات کروا رہے ہیں جو ان کے مزاج کے بر عکس تھے اور ہیں مگر چونکہ خان صاحب کو اپنے سامنے وزارت عظمیٰ نظر آرہی ہے لہذا وہ اپنے ماضی اور حال سے بے پروا اس کی جانب بڑھ رہے ہیں جبکہ وہ ان سے کافی فاصلے پر ہے۔ انہیں عوام نے یہاں تک پہنچایا وہی وہاں تک لے جا سکتے ہیں۔ ’’ یہ گھیرا گروپ ‘‘ انہیں کسی طور بھی اقتدار کے سنگھاسن پر بیٹھنے نہیں دے گا۔ کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ چیئر مین کا دماغ کسی بھی وقت ماضی کی یادوں میں کھو سکتا ہے۔ جو ان کے لیے احتساب کا شکنجہ ثابت ہو گا ۔ لہٰذا ایسے عوامی لیڈر کو خیال و خواب کی دنیا میں محبوس رکھا جائے اور حقائق کی ہوا تک نہ لگنے دی جائے۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو ان کی زندگیاں گل و گلزار سے محروم ہو سکتی ہیں۔ لہذا وہ باقاعدہ ایک منصوبے اور پراگرام کے تحت پی ٹی آئی کی قیادت کو الجھا رہے ہیں۔ جس سے ان کی سُبکی اور غیر سنجیدگی کا تاثر تیزی سے پھیل رہا ہے۔ مگر عمران خان کو کیا ان چیزوں کا ادراک نہیں ان کے پاس کوئی بیدار زہن نہیں۔ دبیز پردوں میں چھپی کسی شرارت کو دیکھنے والی آنکھ نہیں۔ یقیناًہوں گے مگر ان سے کوئی استفادہ کرنا چاہیے تو تب ہی نتائج حاصل ہوں گے۔۔

بہر حال چیئر مین کو اتنا تو معلوم ہو گا ہی کہ ایک فارم میں جب پہلے کسی امیدوار کی چند معلومات حاصل کرنے سے متعلق کچھ سوالات درج تھے۔ جنہیں ’’ اتفاق رائے‘‘ سے تبدیل کر دیا گیا۔ اس کا مطلب تو واضح ہے کہ ان کے ساتھ لوگ پر خلوص نہیں چالاک ہیں۔ ہوشیار ہیں اور ان کو ان کی راہ سے پھسلا رہے ہیں۔ جو عوام کے لیے ایک نئے جہان کا پتا دیتی ہے۔ مگر ایسا کیوں ہو ۔ وڈیرے سردار سرمایہ دار اور جاگیر دار ۔۔ کہاں کھڑے ہوں گے۔ لہٰذا پی ٹی آئی اب خواص کی پارٹی بن چکی ہے۔ اس میں کارکنوں اور کمزور لوگوں کے لیے کوئی جگہ نہیں اور اگر اس سوچ پر جو آج غلبہ پا رہی ہے کو مزید تقویت ملتی ہے۔ تو پھر چراغوں میں روشنی نہیں رہے گی۔ لہذا ضروری ہے کہ عمران خان اپنی سیاست کاری پر خصوصی توجہ دیں ۔ کیونکہ انہوں نے لوگوں کو خواب بڑے ہی دل فریب دکھائے ہیں۔ اصولوں پر کار بند رہنے کی تلقین کی ہے جینے کا نیا انداز متعارف کر ایا ہے۔ لہٰذا اب وہ اگر ان سے روگردانی کرتے ہیں تو وہ اپنے لٹے تاریک راستے کا انتخاب کریں گے ہی ان ذلت کے ماروں کی آس امیدوں کو بھی راکھ کر کے رکھ دیں گے۔۔ اگرچہ وہ عوام مایوس ہو کر گوشہ نشین نہیں ہوں گے۔ مگر ایک لمحے کو تو ان کے ذہنوں میں بھونچال آئیں گے۔ اور جب ایسا وقت آتا ہے تو پھر توقع کے بر عکس بھی ہو جاتا ہے۔ آفتاب جاوید عہد حاضر کے خلیل جبران نے کیا خوبصورت بات کی ہے کہ

’’ جو دوسروں کی عزت نہیں کرتا وہ اپنے دونوں ہاتھ اپنی دستار پر رکھے‘‘ کب تک ایسا ہوتا رہے گا۔ کہ طویل عرصہ خواہشوں کی تکمیل کے لیے مارے مارے پھرنے والے بے بس جدوجہد کے راستے پر نہ آئیں۔ تنگ آمد بجنگ آمد کے مصداق روایتی طرز سیاست اور سیاستدان عوامی جذبات کے آگے جتنا چاہیں۔ منصوبوں کے بند باندھیں۔ آخر کار انہیں مایوسی ہو گی۔ کیونکہ یہ بات میں اکثر اپنی تحریروں میں کہتا ہوں کہ کوئی بھی سماں کوئی بھی کیفیت ٹھہرتا نہیں بدلتا رہتا ہے لہٰذا یہ جو مل کر اہلی زر و حکمران طبقہ کی طرف سے منصوبہ بندیاں کی جا رہی ہیں وہ ان کی ناکامی میں بدل جائیں گی اس کے بعد انہیں سوائے اندھیرے اور سیرانیوں کے کچھ نظر نہیں آئے گا ۔ مگر عوام کھل کھلا کر ہنس رہے ہون گے انہیں نیا سویرا خوش آمدید کہہ رہا ہو گا۔ بہر کیف موجودہ سیاسی صورت حال دیکھ کر دل میں ایک ہول اٹھتا ہے۔ کہ عوام کی غالب اکثریت جو دیکھ رہی تھی وہ اچانک نظروں سے اوجھل ہو گیا۔ کیسا قوس قزح ایسا دلکش منظر تھا۔ جو چند ماہ پہلے سیاسی افق پر موجود تھا۔مگر افسوس ہوس و حرص کی لومڑیوں نے اسے دھندلا دیا اور ایک بار پھر عوام کے دلوں میں بدگمانیاں در آئیں۔ اب کیا ہو گا ۔ ان کے مفاد میں کچھ ہو گا بھی یا نہیں ایسے سوالات نے جنم لے لیا۔

انور موقع پرست نے کئی بار مجھ سے کہا کہ یہان سب دکھاوا ہے۔ عوام کے احساسات کو کوئی سمجھنے کی سعی نہیں کر رہا۔ ہو کوئی اپنے لیے جیتا ہے۔ اور اپنے لیے ہی حرکت میں آتا ہے۔لہٰذا یہ طے ہے کہ ایسی کسی تبدیلی کا کوئی امکان نہیں جس میں یہ نظام حیات یکسر تبدیل ہو جائے۔ تمام بڑی قوتیں اپنے اپنے عشرت کدوں میں بیٹھی اس نکتے پر متفق ہیں کہ ان کا جاہ و جلال بہر صورت قائم رہنا چاہیے لہٰذا سب یک جان و دوقالب کی طرح ہیں۔ عوام کو محض ایک نئے اپنے جیسے سیاسی رہنما کے انتخاب سے روکنے کے لیے کوئی اس جیسا رہنما کھڑا کر دیا جاتا ہے جو بات عوامی لہجے میں کرتا ہے مگر دم بلوریں پیالوں میں آب انڈیل کر پینے والوں کا بھرتا ہے۔ لہٰذا ہر کسی کو انتخابات کی پڑی ہوئی ہے۔ مقصد یہ ہے کہ جلد از جلد چہرے بدل جائیں۔ سچی بات یہی ہے کہ کوئی کروڑوں خرچ کر کے عوامی خدمت کیوں کرے گا۔ یہ کاروبار ہے کاروبار۔ لہٰذا دائیں بائیں آگے پیچھے ہر کوئی تجارت کے چکر میں ہے۔ اس میں اسے فائدہ بہت ہے۔ وہ عوام کی خدمت وہ لوگوں کے دکھوں کا احساس کسی کو نہیں اگر ہو تو یہ طرز عمل یہ طریقہ انتخاب ہی کیوں۔ یہ دھوکا ہے۔ سراسر اس میں بس گونگوؤں سے مٹی ضرورجھاڑی جاتی ہے۔ تاکہ عوامی ابال کو کنٹرول کیا جائے مگر انہیں فطرت کے قوانین کو سامنے رکھنا چاہیے کہ وہ لاکھ ان سے بچنے کی تدبیر کریں کامیاب نہیں ہوں گے۔ ان کے یہ منصوبے حکمت عملیاں اور پالیسیاں بے کار ثابت ہوں گے۔ کیونکہ جب دھرتی جاگتی ہے جس نے بالآخر جاگنا ہے تو پھر کون ہے زرپرست جو اس کا مقابلہ کر سکے ۔ لہٰذا بیدار ہوتے سماج کو سلانے کا یہ عمل زیادہ دیر جاری نہیں رہ سکتا ۔ چمگادڑیں کتنی ہی زور آور ہوں روشنی۔۔۔۔۔ کی ایک کرن انہیں کسی کونے میں دبک جانے پر مجبور کر دیتی ہے۔۔!


ای پیپر