تیشۂ نثر
06 جون 2018

درویش کی تحریر پر بعض احباب کو مشکل پسندی اور تفہیم میں دِقّت کا اعتراض ہے ۔ اس سلسلہ میں دو معروضات پیش خدمت ہیں ۔ پہلی یہ کہ خدا لگتی کہیے تو عرض ہے کہ ایک بار لکھنے کے بعد خود درویش کو بھی اپنی تحریر پڑھنے کے لیے کم و بیش اسی دقت کا سامنا رہتا ہے جس کا اظہار قارئینِ محترم کرتے رہتے ہیں ۔ اور کئی دفعہ انتہائی کوشش کے باوجود خود یہ طالبِ علم بھی اپنی تحریر کا مطالعہ اردو لغت کی مددکے بغیر نہیں کر سکا ۔ ایسے میں کسی دوسرے کا گلہ چہ معنی دارد۔۔ نثر کے ابلاغ میں دقّت کے اس بلا امتیاز اور مساویانہ انداز پر یہ ناچیز اگر داد کا مستحق نہیں ٹھہرتا تو کم از کم قارئین کی شکایت کا جواز تو ختم ہونا چاہیے ۔ اور دوسری بات عرض ہے کہ تحریر کا مقصد متعین کرنے کا پہلا حق تو بہر طور اس کے مصنف کو جاتا ہے ۔ چنانچہ یہی اُصول اگر درویش کی تحریر پر لگایا جائے تو ہم عرض کریں گے کہ ہماری تحریر کا مقصد کچھ بھی ہو سکتا ہے سوائے اس کے کہ یہ کسی کو سمجھ بھی آئے ۔ اس سلسلہ میں ہماری سوچ کئی اور مشاغل کی طرح مرشدی غالبؔ سے ملتی ہے ۔ استاد نے بہت پہلے گویا ہماری ہی کیفیت بیان کی تھی:
بک رہا ہوں جنوں میں کیا کیا کچھ
کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی!
محترم قارئین کی مزید ’’ تشفّی ‘‘ کے لیے ایک گزارش اور ارزاں کیے دیتے ہیں اور وہ یہ کہ یہ درویشِ کہنہ سال انتہائی زمینی آدمی ہے ۔ شہرت اور خودنُمائی کو اپنی راہ میں رکاوٹ سمجھتا ہے چنانچہ کسی ستائش کی تمنّا یا صلے کی پرواہ کیے بغیر اعلان کرتا ہے کہ : ’ ’ گر نہیں میرے ’’ افکار ‘‘ میں معنی نہ سہی ! ‘‘ ۔
درویش بے نشاں پر ایک اور اعتراض احباب کی محفلوں سے عدم دلچسپی یا اُن میں زرا دیر سے پہنچنے کا ہے ۔ ہمارے خیال میں اس شکایت کا اصل مخاطب دلیر خان کو ہونا چاہیے ۔ جنابِ دلیرخان ہمارے ڈرائیور ہیں لیکن طمطراق اور ٹھاٹھ باٹھ ایسا رکھتے ہیں کہ اکٹھے جارہے ہوں تو ہم اُن کے ڈرائیور لگتے ہیں ۔ آخری مُغل تاجدار بہادر شاہ ظفر اوردلیر خان کے درمیان ایک قدرِ مشترک ہمیں نظر آتی ہے اور وہ یہ کہ جہاں پناہ سے ہندوستان کی حکومت نہیں چلتی تھی اور بھائی دلیر خان سے گاڑی نہیں چلتی ۔ لیکن دونوں کی ضد رہی کہ ہر صورت چلانی ہے۔ تاریخ کا اپنا ایک جبر ہوتا ہے ۔ خان صاحب کو سلطنت نہ ملی گاڑی مل گئی لیکن اسے ہمیشہ سلطنت سمجھ کر ہی چلاتے پھرا کیے ۔ اب خان صاحب کا تو علم نہیں لیکن تاریخ کے اس جبر و استبداد کا اصل نشانہ تو اس فقیر کی جانِ نازک ہی بنی رہی ۔ دلیر خان اور اس درویش کے بیچ ہمیشہ معاملہ فہمی کا چلن رہا لیکن بہت دفعہ پانی سر سے گزر جاتا ہے۔ یقین جانیئے کئی دفعہ دلیر خان کے ساتھ روانہ ہوئے اور راستے میں ’ اُ بر ‘ یا ’ کریم ‘ لے کر منزل مقصود پر پہنچے ۔ چنانچہ اب اکثر اوقات کوئی دوست ہمیں بے شک شاہدرے سے دعوت دے ہم بجائے گھر میں موجود دلیر خان کو تکلیف دینے کے اسی دوست کوPick & Drop کی زحمت دینے کو ترجیح دیتے ہیں ۔ ایسے میں ہم نہ صرف بخیروعافیت منزل پر پہنچ جاتے ہیں بلکہ دلیر خان کی عدم موجودگی سے دعوت کا مزا بھی دوبالا ہو جاتا ہے ۔ لیکن نجانے کیوں ایسے احباب ہمیں دوبارہ کسی دعوت وغیرہ پر نہیں بلاتے ۔ شاید فقیر کی ’’Repeat Value ‘‘ قدرے انحطاط کا شکار ہے ۔
درویش پر اعتراضات کا یہ چلن کوئی نیا نہیں ہے ان کی نیو کا سراغ بچپن تک جاتا ہے ۔ لڑکپن کا اک واقعہ یاد آتا ہے ۔ ان دنوں اس درویش کی ابھی مَسیں بھیگ رہی تھیں ۔ (ہائے ! اب وہ واقعہ یاد آتا ہے تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں۔ ) چھوٹی عید کا دوسرا روز تھا اور خوب بھیڑ بھڑکا لگا ہوا تھا ۔۔ ہم لڑکوں میں سینما دیکھنے کا غلغلہ پڑا ۔ شومئی قسمت ! ہم بھی ساتھ ہو لیے ۔ فلم کا نام غالباً ’’ انوکھا خواب ‘‘ تھا لیکن ہمارے لیے تو وہ ایک ڈراؤنا خواب بن گیا۔ واپس آئے تو دھر لیے گئے ۔ ہمارے ایک رشتے کے خالو جان ہوا کرتے تھے ۔ خدا غریقِ رحمت کرے ( اگرچہ بوجوہ اس کا امکان کم ہے ) ان دنوں خاندان اور اہلِ محلّہ کے بچوں کے اخلاق سنوارنے کی ذمے داری انہی خالو کو سونپی گئی تھی ۔ اُن کے حضور پیشی ہوئی۔قربانی کے بچھڑے کی طرح ہمیں ’’ ڈھانگا ‘‘ باندھ کر گرایا گیا ۔ اس کے بعد کے واقعات کی روایات میں قدرے اختلاف ہے کیونکہ ہم خود تو ہوش میں نہیں تھے ۔۔ہو ش آیا تو جسم میں درد کی شدید ٹیسیں اُٹھ رہی تھیں ۔ رات گئے اسی فلم کا دوسرا شو دیکھا تب جا کر درد کم ہوا طبیعت میں بغاوت کا یہ لپکا بچپن سے ہے اور اب یہ اتنا بڑھ چکا ہے کہ ہمارا اپنا وجود اس کے سامنے کھیت رہا ہے ۔
یار لوگوں کے اعتراضات کی بوچھاڑ سے فقیر کے نظریات بھی محفوظ نہیں ۔ ۔ درویش کو علمِ سیاست میں دستگاہ نہیں لیکن اساتذہ سے صاحب سلامت کا شرف حاصل رہا ہے ۔ اس ضمن میں ایک کلیدی نکتہ عرض کیے دیتے ہیں اور وہ یہ کہ نظریاتی ریاست کا بیانیہ ہمارے بعض مسائل کی ایک وجہ ہے ۔ خدا تعالیٰ قائدِ اعظم ؒ کی قبر کو منور رکھے ۔ درویش کا خیال ہے کہ تخلیقِ پاکستان کے بعد جنابِ قائد کا دوسرا بڑا کارنامہ اُن کی 11 اگست کی تقریر ہے ۔اب اس تقریر کی Misinterpretation کا ہمارے اوپر جو بھی الزام لگے اور ہماری کی گئی وضاحت کی نفی میں اگرچہ قائد کی سو اور تقاریر پیش کی جائیں ہم مان کے تھوڑی دیں گے ۔ ہم تو سوچتے ہیں کہ اگر یہ تقریر نہ ہوئی ہوتی تو ہم کہاں جاتے ۔ بات نظریاتی ریاست کے بیانیے کی ہورہی تھی دیکھئے صاحب ! یہ بیانیہ ہمارے لیے کیسی کیسی مشکلات کھڑی کر رہا ہے !! اگلے دن ایک دیرینہ دوست فقیر خانے پر تشریف لائے ۔ دوپہر کا عمل تھا اور چلچلاتی جھلساتی انتہائی تیز دھوپ ! راستے میں اُن صاحب کی گاڑی دو دفعہ گرم ہوئی اور وہ خود فون کرتے ہوئے درویش پر چار دفعہ گرم ہوئے ۔ غریب خانے پر پہنچے اور آتے ہی پھٹ پڑے کہنے لگے ، ’’ مولانا ! آپ کچھ بھی لکھتے رہیے لیکن پاکستان کے اصل مسائل صرف دو ہی ہیں ۔۔۔واہیات دھوپ اور بد لحاظ مچھر ۔۔ دھوپ کچھ سوچنے نہیں دیتی اور مچھر کہیں سونے نہیں دیتا ‘‘۔ ہم نے انہیں ٹھنڈا مشروب پیش کیا اور اس میں برف کی دو ڈلیاں اور لڑھکاتے اپنا حتمی تجزیہ پیش کرتے ہوئے عرض کیا ، ’’ سرکار والاتبار !! نظریاتی ریاستوں میں اس طرح کے مسائل تو ہوتے ہیں ‘‘۔


ای پیپر