22 بھارتی ریاستوں میں اشیائے خورونوش کی شدید قلت
06 جون 2018

خود کو خطے کا چوہدری سمجھنے والا بھارت اپنے ہی کسانوں کی حالت زار سے بے خبر ہے۔ جنگی جنون،مخالف کو پچھاڑنے کا خبط اور دوسرے ممالک کے معاملات میں ٹانگ اڑانے کی پرانی عادت ،بھارت ان جنونی سرگرمیوں میں اتنا مصروف ہے کہ اسے اپنے ہی ملک کے مظلوم عوام اور ان کے مسائل نظر نہیں آتے۔
بھارتی کسانوں کی 10روزہ ہڑتال کے تیسرے روز ریاست مہاراشٹر، اترپردیش، بھارتی پنجاب،مدھیہ پردیش سمیت 22ریاستوں میں پھل،سبزی ،دودھ اور دہی کی فراہمی معطل ہوکر رہ گئی ہے جس سے ان کی شدید قلت ہوگئی ہے۔ متعدد شہروں میں سبزیاں 10 سے 12 روپے مہنگی ہو گئیں۔ متعدد شہروں میں سبزیاں نایاب اور مہنگی ہو گئیں۔ ریاست پنجاب کے مختلف حصوں میں کسانوں اور تاجر برادری میں تصادم بھی ہوا۔
اس حوالے سے آل انڈیا کسان مہاسنگھ کی جانب سے مؤقف اپنایا گیا کہ تاجر برادری کسانوں سے سستی سبزیاں خرید کر بازار میں مہنگی بیچتے ہیں انہیں بھی اچھے پیسے دیے جائیں۔ بھارتی حزب اختلاف جماعت کانگریس نے ملک میں کسانوں کی بدحالی کیلئے نریندرمودی کی حکومت کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی غلط پالیسیوں کے سبب کسانوں سڑکوں پر آنے پر مجبور ہوئے ہیں۔
بھارت میں ذخیرہ کئے گئے آلو خراب ہونے سے آلو کی قیمت فی کلوگرام20 پیسے سے بھی کم ہو گئی ہے ،جس کی وجہ سے آلو کی تیار فصل بھی متاثرہوئی ہے۔ کسانوں نے آلو کی تیار فصل کو منڈی میں فروخت کرنے کے بجائے کھیتوں میں مویشیوں کے چارے کے لئے چھوڑ دیا ہے۔ اسٹوریج مالکان نے بھی آلووں کو باہر پھینکنا شروع کردیا ہے جنہیں غریب اٹھا کر لے جا رہے ہیں۔
بھارتی ریاست اتر پردیش کی ایک ڈویژن آگرہ کا یہ حال ہے کہ جہاں 50 کلوگرام کی بوری کی قیمت 400 روپے تھی اب وہی بوری10 روپے سے کم لینے کو بھی کوئی تیار نہیں۔وہاں اسٹوریج میں رکھے اڑھائی لاکھ ٹن آلو کو لینے کوئی نہیں آرہا اور اسٹوریج مالکان نے اب ان کو باہر پھینکنا شروع کردیا ہے۔صرف آگرہ ضلع میں 240کولڈ اسٹوریج ہیں جہاں کسانوں نے آلو کی50 کلوگرام کی50 لاکھ بوریاں مخصوص وقت کیلئے اسٹور کرائی تھیں جن کی فی بوری اسٹوریج لاگت 110روپے تھی تاہم اب منڈی میں آلو کی فی بوری کی قیمت 10 روپے سے بھی کم ہے۔
کسانوں کو ایک طرف منڈی تک لانے کے لئے بھاری کرایہ ادا کرنا پڑتا ہے تو دوسری طرف اسٹوریج میں رکھے آلو کی ادائیگی بھی کرناپڑتی ہے جس سے کسان کو بھاری نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔کسانوں نے مایوسی کے عالم میں آلو کی تیار فصل کو کھیتوں میں لاوارث چھوڑ دیا ہے جس سے وہ خراب ہونے لگے ہیں۔ اب وہ جانوروں کا چارہ بننے لگے ہیں یا غربا ان کو اٹھا کر لے جاتے ہیں۔
اسٹوریج مالکان کا کہنا ہے کہ مقررہ وقت گزرنے کے باوجود کسان اپنے اسٹور کے گئے آلو لینے نہیں آرہے جس کی وجہ سے بجلی کی لاگت زیادہ آرہی ہے اس پر انہوں نے اسٹوریج مشینیں بند کردیں جس پر آلو خراب ہونا شروع ہوگئے اور انہوں نے باہر سڑک کنارے ان آلووں کو پھینکنا شروع کردیا۔ حکام کا کہنا ہے اسٹوریج میں50 کلوگرام کی پچاس لاکھ بوریا ں ہیں جو تقریباً ڈھائی لاکھ ٹن ہے۔کسان اب اسٹوریج کو نہ تو ادائیگیاں کر رہے ہیں اور نہ انہیں مارکیٹ لے کر جارہے ہیں۔آگرہ ڈویژن آگرہ، فیروز آباد،ماتھورا اور مین پوری اضلاع پر مشتمل ہے۔آلو اس ڈویژن کی بڑی فصلوں میں سے ایک ہے جہاں72 ہزار ہیکٹر پر صرف آلو کاشت کیے جاتے ہیں۔ بھارتی ریاست مہاراشٹرا میں کسانوں کی خودکشیوں کے ایک ہزار اٹھاسی کیسز رپورٹ ہوئے۔ حال ہی میں سامنے آنے والی ایک رپورٹ کے مطابق صرف بھارتی ریاست مہاراشٹرا میں پہلے پانچ ماہ میں خودکشی کے کیسز سامنے آئے اور یہ تعداد گزشتہ دو ماہ کے مقابلے میں چھہترفیصد زیادہ ہے۔ جنوری سے مارچ میں خودکشی کے چھ سو ایک کیسز رپورٹ ہوئے تھے۔ خودکشی کے ان کیسز میں گزشتہ سال کے قحط اور اس کے بعد ہونے والی خشک سالی اور فصلوں کی تباہی کے بعد اضافہ ہوا۔
گزشتہ دنوں بھارت میں ایک کسان نے زندہ چوہا دانتوں میں پکڑ کر انوکھا احتجاج ریکارڈ کروایا۔65 سالہ چناگوڈانگی پالانیسامی جنوبی ریاست تامل ناڈو کے کسانوں کی حالتِ زار کی طرف حکام کی توجہ مبذول کروانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انھوں نے بتایا: ' میں اور میرے کسان ساتھی یہ پیغام دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اگر حالات میں تبدیلی نہ ہوئی تو ہم چوہے کھانے پر مجبور ہو جائیں گے۔پالانیسامی اور ان کے سو کے قریب ساتھی اس عارضی پناہ گاہ میں گذشتہ 40 روز سے احتجاج کر رہے ہیں۔ ان کا تعلق تامل ناڈو کے ان علاقوں سے ہے جو حالیہ برسوں میں شدید خشک سالی کی لپیٹ میں ہیں۔بظاہر ایسا لگتا ہے جیسے بھارتی حکومت نے اس خشک سالی کو بھلا دیا ہے۔ اس لیے پالانیسامی اور ان کے ساتھی نے حکومت پر دباؤ ڈالنے کا یہ انوکھا طریقہ سوچا ہے۔وہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ انھیں حکومت کی جانب سے قحط زدہ علاقوں کے لیے مختص رقوم دی جائیں جب کہ معمر کسانوں کو پنشنیں دی جائیں۔ اس کے علاوہ وہ قرضوں کی معافی، فصلوں کی بہتر قیمت اور اپنی زمینوں کی آبپاشی کے لیے مزید نہریں اور پانی بھی مانگ رہے ہیں۔
بھارت میں ناکام احتجاجی مظاہرے کوئی نئی بات نہیں۔ تاہم ان مظاہروں میں حصہ لینے والے منفرد طریقے سے اپنے مسائل اجاگر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔بھارت میں زراعت کی شرحِ نمو سکڑ کر 1.2 فیصد رہ گئی ہے، جہاں لاکھوں کسان قرض کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔پالانیسامی کہتے ہیں کہ کچھ عرصہ قبل تک ان کے پاس ساڑھے چار ایکڑ زمین تھی جہاں چاول، گنا، دالیں اور کپاس بکثرت اگتی تھیں۔ لیکن برسوں کی خشک سالی نے ان کی زمین کو بنجر بنا دیا ہے۔ ان کے دو بیٹے چھوٹی موٹی نوکریاں کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں، ان پر چھ لاکھ روپے قرض چڑھ گیا اور ان کے گھر پر موجود سونا گروی پڑا ہے۔


ای پیپر