فاٹا
06 جون 2018 2018-06-06


یہاں میں اس بات کا ذکر ضروری سمجھتا ہوں کہ اس بل کو پاس کروانے اور قبائلیوں کے حق میں آواز اٹھانے میں جہاں سیاسی اور عسکری قیادت کی کاوشیں ہیں وہاں میڈیا کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا نے فاٹا کے پی کے انضمام کے حق میں بھرپور مہم چلائی ہے۔ یہ مہم صدق دل سے چلائی گئی اور اس مہم کے اخراجات میڈیا مالکان نے خود برداشت کیے ہیں۔ اس کے علاوہ کچھ اینکر حضرات نے فاٹا کے پی کے انضمام کے حق میں فاٹا کے لوگوں کے ساتھ تسلسل سے پروگرامز کیے ہیں جن میں قابل ذکر نام سلیم صافی صاحب کا ہے۔ صافی صاحب نے اس ایشو پر سب سے زیادہ پروگرام کیے ہیں، اس موضوع پر کئی کالمز بھی لکھے ہیں اور مختلف چینلز پر مہمان کی حیثیت سے حاضر ہو کر اس ایشو کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔ سلیم صافی صاحب
بہت سے معاملات میں حکومت اور فاٹا یوتھ جرگہ کے مابین رابطوں کا ذریعہ بھی رہے۔ وہ فاٹا انضمام پر مولانا فضل الرحمان کو منانے کی کوششیں بھی کرتے رہے۔ لہٰذا جب بھی فاٹا کے لوگوں کے حقوق کے حق میں آواز اٹھانے اور فاٹا کے پی کے انضمام کا ذکر ہو گا تو سلیم صافی کا ذکر لازم و ملزوم ہو گا اور ہمیں بھی چاہیے کہ ہم ان کی کاوشوں کو صدق دل سے تسلیم کریں اور انھیں بھی خراج عقیدت پیش کریں۔
ان تمام سچائیوں میں ایک سچ یہ بھی ہے کہ جو کام پاکستان کی ستر سالہ تاریخ میں نہیں ہو سکا۔ جس کام کو کرنے کے لیے ایوب خان ، ذالفقار علی بھٹو، ضیاالحق، بے نظیر بھٹو اور جنرل پرویز مشرف بھی ہچکچاتے رہے وہ کام پاکستان مسلم لیگ ن نے کر دکھایا ہے۔ آپ کچھ بھی کہیں لیکن مؤرخ لکھے گا کہ فاٹا کو قومی دھارے میں لانے، فاٹا کے عوام کی محرومیوں کو ختم کرنے، فاٹا کے عوام کی گردنوں سے ایف سی آر کے کالے قانون کی تلوار کو ہٹانے، انھیں عدالتی انصاف دلانے اور سب سے بڑھ کر قبائیلی سرداروں کے چنگل سے نکلوانے کا سہرا اگر کس ایک سیاسی جماعت کے سر جاتا ہے تو اس کا نام پاکستان مسلم لیگ ن ہے۔ پی ایم ایل ن حکومت کا یہ اقدام ن لیگ کی بہت بڑی سیاسی کامیابی ہے جو ان سے کوئی بھی نہیں چھین سکتا۔ یہاں ہمیں ن لیگ کی کاوشوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کے ساتھ ساتھ عسکری قیادت کی کاوشوں کا اعتراف بھی کرنا ہو گا۔کیونکہ یہ بھی سچ ہے کہ سرتاج عزیز کی فاٹا اصلاحات پیش کرنے کے بعد انضمام کا معاملہ نا معلوم سیاسی وجوہات کی بنا پر سست روی کا شکار رہا۔آرمی چیف ، ڈی جی آئی ایس آئی، کور کمانڈر پشاور اور میجر عامر کی کوششوں سے حکومت کے آخری پندرہ دنوں میں اس معاملے میں تیزی آئی اور یہ خواب شرمندۂ تعبیر ہو سکا۔ اس کے علا وہ فاٹا انضمام سے متعلق اصلاحات، اگلے دس سال کے ممکنہ منصوبوں کی تیاری، این ایف سی کے تحت بجٹ میں فاٹا کے لئے دس کھرب روپوں کی اضافی رقم اور اس کے ممکنہ استعمال کے حوالے سے سرتاج عزیز صاحب کی کاوشیں بھی قابل ذکر ہیں۔انھوں نے دن رات اس پروجیکٹ پر کام کیا ہے اور مجھے یقین ہے کہ ان کا اکنامک ویژن فاٹا کے عوام کو انفراسٹرکچر، نوکریاں اور صحت کی سہولیات بین الاقوامی معیار کے مطابق فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
آئیے اب ایک نظر اس پہلو پر بھی ڈالتے ہیں کہ فاٹا کے انضمام سے پاکستان کو کیا فائدہ حاصل ہو سکتا ہے؟ فاٹا کا انضمام جہاں فاٹا کے عوام کے لیے بہتر زندگی کی نوید لے کر آئے گا وہاں یہ ملک پاکستان کی اکانومی کو بہتر بنانے میں اہم کردار بھی ادا کرے گا۔ فاٹا ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے مطابق باجوڑایجنسی میں سنگ مرمر، مینگانیز، کرومائیٹ ، مہمند ایجنسی میں سنگ مرمر، سلکاریت، موتی بلور،سنگ مردہ، مینگانیز، کلمی معدن ، زمرد، خیبر ایجنسی میں بیریشم سلفیٹ، سنگ مرمر، گریفائٹ، سنگ صابون، چونا پتھر، تیل ، گیس، اوکرزئی ایجنسی میں کوئلہ، گیس، تیل، کرم ایجنسی میں سنگ صابون، میگنیسائیٹ، سنگ مرمر، سیسہ، کوئلہ، سنگ صابون ، شمالی وزیرستان میں کاپر ، سونا، سفید دھات، مینگانیز، تیل ، گیس اور جنوبی وزیرستان میں بھی کرومائیٹ، گرینائٹ، کاپر، سنگ مرمر تیل اور گیس کے ذخائر موجود ہیں۔ اس کے علاوہ دنیا کا نایاب اور خوبصورت پتھر بیسٹانائیٹ خیبر ایجنسی میں کثیر تعداد میں موجود ہے۔ صرف خیبر ایجنسی میں چونا پتھر کے 453,932ٹن ذخائر موجود ہیں۔صرف اوکرزئی اور کرم ایجنسی میں کوئلے کے 178,370 ٹن ذخائر موجود ہیں۔ فاٹا میں سفید سنگ مرمر کے 570,519ٹن ذخائر موجود ہیں۔ خیبر پختونخوا کے ساتھ انضمام کے بعد اگر صرف ان ذخائر کو استعمال کرنے پر توجہ دی گئی تو یہ خطہ نہ صرف مقامی لوگوں کے لیے روز گار کے مواقع فراہم کرے گا بلکہ پوری دنیا کے پتھروں کے تاجروں کی توجہ کا مرکز بھی بن جائے گا۔اس سے ملک پاکستان کی معیشت مضبوط ہو گی اور لاہور،کراچی اور اسلام آباد سے نوجوان نوکری کی تلاش میں فاٹا کارخ کریں گے۔اس کے علاوہ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر فاٹا کا انضمام آج سے پچیس سال قبل ہو جاتا توپاکستانی عوام کو دہشت گردی کے گھناؤنے بیس سال کا سامنا نہ کرنا پڑتا اور پاکستان ایک ایٹمی ملک سے دہشت گرد ملک کے نام سے نہ جانا جاتا ۔ جو وسائل دہشت گردی کو ختم کرنے میں ضائع ہوئے ہیں وہ وسائل صنعتیں لگانے، ایکسپورٹ بڑھانے، صحت کی سہولیات فراہم کرنے اور تعلیم کو عام کرنے پر خرچ ہوتے اور آج ہم ایک خوشحال پاکستان کے ساتھ ساتھ خوشحال فاٹا کو بھی دیکھ سکتے تھے۔لیکن یہ بھی ہماری خوش قسمتی ہے کہ ہماری سیاسی، عسکری قیادت اور میڈیا نے مل کر بیماری کی تشخیص کی اور اسے جڑ سے ختم کرنے کے لیے درست سمت کا تعین کیا ہے۔ میری دعا ہے کہ اللہ ملک پاکستان کو دشمنوں کے شر سے محفوظ رکھے اور جس طرح فاٹا کے خیبرپختونخوا میں انضمام نے تمام سیاسی پارٹیوں، عسکری قیادت اور میڈیا کو ایک لائن میں لا کر کھڑا کر دیا ہے اسی طرح ملک پاکستان کے دیگر مسائل کے حل کے لیے بھی ہم سب ایک موقف پر متفق ہو جائیں۔ آمین


ای پیپر