عام انتخابات کا فیصلہ
06 جون 2018


آج کل ہر طرف ایک ہی بحث جاری ہے کہ الیکشن بروقت ہوں گے یا نہیں ۔لوگ بھانت بھانت کی بولیاں بولتے جا رہے ہیں حقیقت سے سب نظر یں چرائے نظر آتے ہیں ۔ سب بحثیں ، دعوے اور تجزیے محض وقت کا ضیاع ہے کیونکہ جہاں ملک و قوم کی تقدیر کے فیصلے کرنے کا اختیار پارلیمنٹ کو حاصل نہ ہو زمینی خدا اپنی جان و مال کی توقیر کیلئے نظریۂ ضرورت کے فلسفہ پر پوری طرح عمل پیرا ہوں وہاں عومی رائے کے کیا معنی رہ جاتے ہیں ۔الیکشن کمیشن آف پاکستان اور نگران وزیر اعظم سمیت سب اپنی اپنی جگہ ایک حد تک اثر رکھتے ہیں ۔اس بات کو سمجھنے کیلئے اتنا ہی کافی ہے کہ ماشاء اللہ جہاں ایک منتخب وزیر اعظم آجکل ۔۔۔۔وہاں نگران وزیر اعظم کیا کر سکتا ہے صرف اس وجہ سے خوشی کے شادیانے بجانا کہ نگران وزیر اعظم نے یہ بیان دیا ہے کہ الیکشن بروقت ہوں گے محض خوش فہمی ہے اس سے بڑھ کر اور کچھ نام نہیں دیا جا
سکتا۔ پاکستان کا وہ طاقتور حلقہ جو خود میں تھنک ٹینک بھی ہے اور ملک و قوم کا محسن بھی، اصل میں وہی فیصلہ کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔ فی الحال وہ عام انتخابات کروانے کے موڈمیں دکھائی نہیں دے رہا ۔بھلا ایسی صورت حال میں عام انتخابات کیونکر پایۂ تکمیل تک پہنچ سکتے ہیں فیصلہ کرنے کا اختیا ر رکھنے والے حلقہ کے کہنے پر زمینی خداؤں نے 1979ء میں ایک وزیر اعظم کے خلاف سزائے موت کا فیصلہ دیاتھا اس فیصلہ کی تکمیل کے بعد اب تک کئی زمینی خدا اس فیصلہ کو عدالتی قتل قرار دے چکے ہیں بس بات اتنی سی ہے کہ نہ کوئی پارلیمنٹ ، کوئی الیکشن کمیشن ،کوئی نگران وزیر اعظم اور نہ ہی کوئی عوام اس ملک پر اثر رکھتے ہیں ہاں اگر کوئی ہے تو وہ صرف پاکستان کا تھنک ٹینک ہے جو آئینی اختیار ات حاصل نہ ہونے کے باوجود سیاست کے جنون میں اپنے قواعد و ضوابط کے تحت اپنی نظریں ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کیئے ہوئے ہے ۔الیکشن اور سلیکشن دونوں ہی اسی کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں ۔اس ساری تمہید باندھنے کا مقصد یہ تھا کہ سمجھنے میں آسانی ہو سکے کیونکہ ان باتوں کا سمجھنا اب مسئلہ فیثا غورث کو سمجھنے کے مترادف ہے ۔بظاہر تو یہ نظر آ رہا ہے کہ حالات عام انتخابات کی طرف جاتے ہوئے نظر نہیں آ رہے۔ اگر عام انتخابات کا ہونا لازم ہوتا تو پھر بلوچستان اسمبلی اپنی تحلیل سے ایک دن قبل 30مئی2018ء کو ہر گز یہ قرار داد پاس نہ کرتی کہ عام انتخابات ایک ماہ کیلئے ملتوی کیئے جائیں ۔سیاسی زبان میں ایک ماہ کا مطلب کم از کم ایک سال کا عرصہ لیا جاتا ہے اس لیے بلوچستان اسمبلی کی قرار داد کاپاس ہونا عام انتخابات بروقت نہ ہونے کی ایک اہم کڑی ہے جس کو تقویت بخشنے کیلئے خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کا خط بڑی اہمیت کا حامل ہے جس نے خط لکھ کر الیکشن کمیشن آف پاکستان کو عام انتخابات ملتوی کرنے کی تجویز دی ہے ۔ایک کڑی کا دوسری کڑی سے ملنا عندیہ یہ دیتا ہے کہ عام انتخابات التوا ء کا شکار ہو سکتے ہیں ۔اسلام آباد ہائیکورٹ اب تک دس کے قریب حلقہ بندیوں کو کالعدم قرار دے چکی ہے اور کئی ایک حلقہ بندیوں کے اعتراضات کی سماعت کر رہی ہے۔ حلقہ بندیوں کو درست کیے بغیر عام انتخابات کا انکار ممکن نہیں ہے۔ بہرحال انتخابات سے قبل مردم شماری کے نتائج کا اعلان نہ ہونا ، حلقہ بندیوں کے اعتراضات پر سماعت کا جاری ہونا اور اس وقت جب کاغذات نامزدگی جمع کرانے کی تاریخ دی جا چکی ہے اس موقع پر حلقہ بندیوں کے کالعدم ہونے کا فیصلہ ہونا نیک شگون نہیں ہے ۔اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی بھی وقت کچھ بھی ہو سکتا ہے یہ بھی ہو سکتا ہے کہ آنے والے چند دنوں میں عام انتخابات کے التواء کیلئے کوئی ایک پارٹی یا کوئی اور اس قانونی سقم کو دور کرنے کیلئے عدالت سے رجوع کر لے کہ حلقہ بندیوں کے صحیح تعین کیلئے یہ ضروری تھا کہ پہلے مردم شماری کے نتائج کا اعلان کیا جاتا اور پھر مردم شماری کے نتائج کے مطابق حلقہ بندیاں کی جاتیں ۔ہو سکتا ہے کہ عدالت اس دلیل کو مانتے ہوئے از سر نو حلقہ بندیوں کے تعین کا اعلان کر دے ۔خدانخواستہ اگر ایسا ہوتا ہے تو پھر عام انتخابات ایک دو ماہ کیلئے ملتوی نہیں بلکہ ایک سال کے عرصہ تک کیلئے التواء کا شکار ہوں گے ایسا ہوا توایک حلقہ تو الیکشن ملتوی کروانے کیلئے پہلے سے متحرک ہے الیکشن ملتوی کرنے کا جو بھی جواز بنایا جائے لیکن کم از کم یہ کہنا درست نہیں ہو گا کہ الیکشن محض سیاسی مطالبہ اور تجویز کو مد نظر رکھتے ہوئے کیئے گئے ہیں کیونکہ ایک سیاسی جماعت کو باقاعدہ طورپر وزیر اعظم نواز شریف کی حکومت کو چلتا
کر کے بغیر کسی الیکشن کے اقتدار کی کرسی پر براجمان ہونے کا لائحہ عمل ترتیب دیئے ہوئے تھی ۔اب الیکشن کے التواء کے حق میں اشارے بھی انہی کی طرف سے آ رہے ہیں ۔بلوچستان اسمبلی اور خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کی تجویز اسی کا شاخسانہ ہے ۔اب دیکھنا یہ ہے کہ ٹینک رکھنے والا حلقہ تھنک ٹینک اب کیا فیصلہ کرتا ہے ۔اگر الیکشن بروقت ہوئے تو فیصلہ عوام کا نہیں تو اس الیکشن کا فیصلہ تھنک ٹینک کا ہو گا۔تھنک ٹینک کے فیصلے کے آگے سر تسلیم خم کرنا ہماری روایت بن چکی ہے کیونکہ ہم اسلامی جمہوریہ پاکستان کی عوام ہیں ۔لبرل ملک ترکی کے نہیں جو ٹینک رکھنے والے تھنک ٹینک کے سامنے کھڑے ہو کر یہ کہہ سکیں کہ ہم سیاسی سوچ کے حامی تھنک ٹینک کے فیصلوں کا احترام کرتے ہیں ۔


ای پیپر