پنجاب کے قبائلی علاقے (PATA) اور لائیوسٹاک ایوارڈز
06 جون 2018 2018-06-06

مہمان کے آنے پر استقبال اور وہ بھی منفرد انداز میں۔ میزبان مہمانوں کو بٹھاتا ہے اور ان کا حال پوچھتاہے۔ مہمانوں میں سے عمر میں بڑا کوئی شخص اپنے ساتھیوں سے اجازت طلب کرتے ہوئے گزرے وقت بارے بتاتا ہے ، کچھ سفر کا حال سناتا ہے اور آخر میں اپنے آنے کا مقصد بیان کرتا ہے۔ اس دوران میزبان انتہائی انہماک سے اپنے مہمان کو سنتا ہے اور جی جی بولتے ہوئے ردِ عمل دیتا ہے۔ اس کے بعد میزبان اپنا حال دیتا ہے ۔ یہ ہے بلوچی حال احوال۔ پچھلی ملاقات سے اب تک کی ملاقات کے دوران کی مصروفیات اور اہم واقعات کے خلاصے پر مشتمل یہ حال احوال کئی گھنٹوں تک بھی جاری رہ سکتاہے۔ بلوچوں کی یہ دلچسپ ثقافتی سرگرمی مجھے بہت اچھی لگی کہ میزبان پر مہمان کے آنے کا مقصد واضح ہو جائے اور کسی قسم کا ابہام نہ رہے۔ اگر مہمان کسی خاص مقصد سے نہ آیا ہو تو بھی وہ اپنا حال احوال دیتے ہوئے بتا دیتا ہے کہ ویسے ہی ملنے چلا آیا۔

یہ بالکل نیا انداز مجھے پنجاب کے قبائلی علاقوں میں ملا۔ Provincially Administered Tribal Areas (PATA) پنجاب میں ڈیرہ غازی خاں اور راجن پور کے اضلاع کے کچھ حصے پر مشتمل ہے۔ کوہِ سلمان کے پہاڑی سلسلے کا یہ حصہ بلوچستان اور سندھ کے ساتھ ساتھ خیبر پختونخوا میں ڈیرہ اسماعیل خاں سے ملتا ہے۔ یہاں لغاری، کھوسہ، قیصرانی، بزدار، دریشک، گورچانی، لُنڈ، مزاری اور کیتھران کے قبائل آباد ہیں۔ اگر لغاری قبیلے والوں کے علاقے کی بات کرنی ہو تو اسے تُمن لغاری بولیں گے، اسی طرح تمن گورچانی، تمن کھوسہ وغیرہ۔ تمن کا لفظی مطلب ہے سواروں کا دستہ، یہاں مراد قبیلہ اور تمن لغاری کا مطلب لغاری قبیلے کا علاقہ۔ تُمن لغاری کی مشہور جگہ فورٹ منرو سیاحتی اور تاریخی لحاظ لوگوں کی توجہ کا مرکز ہے۔

پنجاب کا یہ قبائلی علاقہ جہاں دفاعی لحاظ سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے وہاں نیشنل فوڈ سکیورٹی میں بھی اس کی اہمیت کسی طرح سے کم نہیں ۔ اس علاقے میں موجود لاکھوں کی تعداد میں بھیڑیں مقامی لوگوں کا بنیادی ذریعہ معاش ہیں ۔ پنجاب اور بلوچستان کے بارڈر بواٹہ سے تقریباً8 کلومیٹر آگے بلوچستان کا علاقہ رکنی ہے جہاں لائیوسٹاک کی بہت بڑی منڈی لگتی ہے ۔ یہ منڈی عید کے دن کے علاوہ سارا سال چلتی ہے۔ ڈیرہ غازی خاں کے قبائلی علاقوں کے ساتھ ساتھ بلوچستان سے بہت بڑی تعداد میں چھوٹا جانوررکنی منڈی میں لایا جاتا ہے جہاں سے سارے پاکستان میں سپلائی ہوتا ہے۔

پنجاب کے قبائلی علاقے میں ایک گھر سے دوسرے گھر یا ا یک فارمر سے دوسرے فارمر تک پہنچنے میں کم از کم تین سے چار گھنٹے لگتے ہیں اور یہ تین چار گھنٹوں کا سفر پہاڑوں پر ہوتا ہے جہاں سڑ ک کا کوئی تصور نہیں؛ ہاں پتھروں سے بھرے تنگ راستے ، خطرناک چڑھائیاں اور گہری کھائیاں موت کا تصور ضرور دیتی ہیں ۔ کچھ فامرز ایسے بھی ہیں کہ ان تک پہنچنے میں ایک دن لگ جاتا ہے۔ ان پہاڑوں میں موجود فارمرز تک بھی ویٹرنری سروسز پہنچائیں پنجاب کے محکمہ لائیوسٹا ک نے اوربنیادی کردار ادا کیا اسی علاقے کے ایک نوجوان ویٹرنری ڈاکٹر نجیب اللہ لغاری نے۔گزشتہ کئی مہینوں سے فولو کر رہا تھا میں ڈاکٹر صاحب کو اور پھر ان کے کام کو دیکھنے کے لئے خود قبائلی علاقے میں گیا اور وہاں دو دن گزارے ۔ گزشتہ چھ سالوں میں انتہائی دلجمعی ، محنت ، ایمانداری سے معیاری سروسز فراہم کرتے ہوئے اس نوجوان نے تُمن لغاری کے لوگوں کو محکمہ لائیوسٹاک کا گرویدہ بنا دیاہے ۔

حکومتِ پنجاب نے محکمہ لائیوسٹاک کی سفارش پر ڈاکٹر نجیب اللہ کو نقد انعام اور بہترین کارکردگی اعزاز سے نوازا ہے۔ مجھے دل سے خوشی ہوئی کہ یہ ایوارڈ کسی ایسے شخص کو ملا جو واقعی اس کا حقدار ہے، بلکہ اس شخص کو تو صدارتی ایوارڈ ملنا چاہئے۔ ڈاکٹر نجیب کے ساتھ ساتھ محکمہ کے سابق ڈائریکٹرجنرل ڈاکٹر عبدالرحمٰن، زرعی افسر امین شاکر ، ڈاکٹر نجم الاسلام ،ڈاکٹر صالحہ گل، ڈاکٹر فرحت نذیر اور ڈاکٹر اقراء ظفر کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے، ا ن کو بھی مختلف ایوارڈزکے لئے چنا گیا ہے ۔ اسی طرح مزمل خاں ڈرائیور کے لئے صدارتی ایوارڈ کی سفارش کی گئی ہے۔ محکمہ کی جانب سے پہلی دفعہ سٹاف کی اس انداز میں حوصلہ افزائی قابلِ ستائش ہے۔

قبائلی علاقوں کے ساتھ ساتھ میں نے چولستان اور چھوٹو گینگ والے کچے کے علاقے میں بھی ایک ایک دن گزارا۔ چولستان میں ڈاکٹر علی رضا عباسی اور ان کی ٹیم کا کام کسی بڑے ایوارڈ کا مستحق ہے۔ ڈاکٹر عباسی نے چولستان میں اتنا کام کیا ہے کہ اس کے لئے شاید الگ سے کتاب لکھنی پڑ ئے ۔ دوسری جانب کچے کے علاقے میں ڈاکٹر عمران شوکت کے کام نے مجھے حیران کیا۔ اس علاقے میں گراس روٹ لیول تک کسی افسر کا پہنچنا اور پھر حقیقت میں کام کرنا مشکل ہے۔ اس کا اندازہ وہاں دریا میں وقت گزار کر ہی ہو سکتا ہے۔ ڈاکٹر عمران شوکت جیسے مزاج کا نوجوان ہی ایسے مشکل علاقے میں کام کر سکتا ہے۔ میری گزارش ہو گی کہ چولستان کی ٹیم کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر عمران شوکت، ڈاکٹر برہانِ اعظم اور دیگر اس طرح کے محنتی افسران کی کارکردگی کا بھی جائزہ لیا جائے تاکہ ان کی بھی حوصلہ افزائی ہوسکے ۔

اس کے ساتھ ساتھ ایک شخص جو شاید بالکل ہی نظر انداز ہو جائے ،اس کی حوصلہ افزائی بھی ضروری ہے۔ یہ شخص ڈاکٹر نجیب اللہ کا ڈرائیور ہے۔ جس طرح کے راستے اور جتنی گاڑی میر عالم نے چلائی ہے وہ ارادے کی پختگی کے بغیرممکن نہیں۔ میں نے دو دن ان کے ساتھ گزارے، Well Done کہے بغیر نہ رہ سکا۔ گزارش ہے کہ ان جیسے لوگوں کے لئے رسمی Well Done کا بھی انتظام ہونا چاہئے۔


ای پیپر