دائمی دُنیاکے امیر ترین فرد، ہم اور آپ....
06 جون 2018

آج کل تقریباً ہراخبار کی پیشانی پہ آیت مبارکہ، اور حدیث مبارکہ بھی لکھی ہوتی ہے جس کے باترجمہ پڑھنے اور سمجھنے سے مسلمانان عالم کے ہر مسلمان کو اور آیت پڑھنے کا حق ادا کرنے والے کو سونوافل کا ثواب مل جاتا ہے۔ ہمارا اخبار اس خدشے کے مدنظر کہیں آیات مبارکہ کے تقدس اور احترام کو لوگ پامال ہی نہ کردیں لہٰذا وہ اس سے اجتناب کرتے ہیں، چونکہ یہ اپنا، اپنا مو¿قف ہے جس کے حق اور مخالفت میں بے شمار دلائل دیئے جاسکتے ہیں۔ تاہم ہماری یہ شدید خواہش ہے کہ ”نئی بات“ کی پیشانی بھی ارشاد ربانی سے سجی ہو، کیا ہمارے خطے کے زائرین جب، حرمین شریفین میں جاتے ہیں، تو انہوں نے یہ نہیں دیکھا، کہ ”جبے ودستار“ میں ملبوس کچھ لوگ خانہ خدا کی طرف جہاں کروڑوں لوگوں کی ”جبین نیاز“ جھکتی ہے، پاﺅں پسارے، قرآن پاک کے سپارے سرکے نیچے رکھ کر دنیا ومافیا سے بے خبر، خراٹے لے رہے ہوتے ہیں۔ وہاں ہم جیسے دوسرے زائر یہ سب کیسے برداشت کرلیتے ہیں ؟
اس لیے قارئین محترم ہمیں اس بنیادی نکتے ، کو جو حضورﷺ نے ہمیں تلقین فرمایا ہے، کہ میری سنتوں اور شریعت کو زندہ رکھنے والے ہی میرے خلفاءہیں۔ پھر ہمیں اور کیا چاہیے، انہی روزمرہ زندگی میں حضورﷺ ،کی شب وروز کی زندگی گزارنے کے اسلوب، نیند سے بیدار ہوکر، شب بیداری کے تمام انداز اپنا لینے ہی سے قدم قدم پر نیکیوں اور اجر کے انبار لگ جائیں گے۔ مثلاً صبح بیدار ہونے کے بعد آپ ، اپنے نعلین مبارک کو جھاڑ کر یعنی اُلٹا کر اور دیکھ کر پہنتے تھے، تاکہ حشرارت الارض کا کوئی کیڑا مکوڑہ نہ اندر چلا گیا ہو، اس میں کوئی شک نہیں کہ آج کل سنگ وخشت کے کمروں میں ان چیزوں کا گزر تقریباً ناممکن ہے، مگر ایسا کرنے سے ہمیں تو سونوافل کا ثواب مل جاتا ہے، مگر یہاں تو ہم نے بہانے ڈھونڈ کر اپنے دل ہی کو سنگ وخشت بنالیا ہے، مثلاً آپ کو پہننے میں کرتا زیادہ پسند تھا، جسے ہم گھر میں گھر سے باہر بھی پہن سکتے ہیں، بلکہ رات کو Sleeping Suitپہننے سے کوئی ثواب نہیں ملے گا، مگر کرتے سے تو نوافل کا ثواب کمایا جاسکتا ہے۔ شریعت میں جمعے والے دن سفید کپڑے، اور عید پہ عمدہ کپڑے پہننے کی تلقین ہے، کرتے سے مراد عربی کرتہ ہے، جو لمبا ہوتا ہے۔ حضورﷺ نے ایک دفعہ ستائیں اونٹنیاں بیچ کر ایک جوڑا خریدا، اور شہنشاہ ارض و سما نے یہ جوڑا پہنا بھی، مگر ان کا معمول ہمیشہ سادہ کپڑے پہننے کا رہا۔ گو ایسا کرنا، ہمارے لیے ممکن ہے، اور ہم ثواب کما سکتے ہیں، اور سفید کپڑے پہننا آپ کو بے حد پسند تھا۔ مگر مجھے خدشہ ہے، کہ ہم میں سے کوئی مسلمان توکل کے اس معیار پہ نہیں پہنچا اور اگر ہم سب حضور کا یہ انداز اپنا لیں، تو ہمارے ملک سے غربت و افلاس ، اور مہنگائی کا مکمل خاتمہ ممکن ہے، مگر ہم ایسا دانستہ بھی نہیں کرتے، اور ہمارا لاشعور بھی ایسا کرنے سے معذور ہے، حضرت بی بی عائشہ ؓ کا فرمان ہے، کہ حضور کا معمول صبح کے کھانے میں شام کے لیے بچا کر رکھنے کا نہ تھا، اور شام کے کھانے میں صبح کے لیے بچانے کا نہ تھا حتیٰ کہ کرتا، چادر، لنگی، جوتا، دونہیں ہوتے تھے، ایک ایسا شہنشاہ جس سے قیصرو کسرٰی بھی ان کے رعب و دبدبے کی وجہ سے کانپ اٹھتے تھے، مگر ہم جیسے معمولی غلام بھی ایسا کرنے سے قاصر نظر آتے ہیں۔
نجاشی حبشہ کے بادشاہ نے ایک دفعہ آپ ﷺ کو دوعدد موزے، تحفتاً بھجوائے حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے جنگل میں ایک موزہ پہننے کے بعد دوسرا موزہ پہننے کا قصد فرمایا ہی تھا کہ ایک کوا دوسرا موزہ اٹھا کر لے گیا، اور اوپر لے جاکر اس کو پھینک دیا، موزے میں سانپ گھسا ہوا تھا جو اس کے گرنے سے باہر نکلا، حضور نے حق تعالیٰ کا شکر ادا کیا، اور آداب موزہ میں ایک قانون فرما دیا، کہ ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ جب وہ موزہ پہننے کا ارادہ کرے، تو اس کو جھاڑ لیا کرے، یہاں موزے سے مراد چمڑے کا موزہ ہے، عموماً آپ موزے کو پھٹنے تک استعمال کرتے تھے، ایسا کرکے صرف اتباع رسول کی سنت سے تو ہم ثواب حاصل کرسکتے ہیں۔
اس کے علاوہ آپ سے یہ بھی منسوب ہے ، کہ حضور کے پاس دوانگوٹھیاں تھیں، جنہیں آپ کبھی کبھی پہن بھی لیا کرتے تھے، جو چاندی کی تھیں، جن میں سے ایک کو وہ دوسرے بادشاہوں کو خطوط بھیجتے وقت مہر کے طورپر جن پر ”رسول اللہ“ لکھا ہوا تھا مہر لگاتے، اور دوسری سادہ تھی، بعض یہ کہتے ہیں کہ اس میں پتھر بھی لگاہوا تھا مگر وہ اس نگینے کو اوپر نہیں بلکہ انگلی کی طرف نیچے کرلیا کرتے تھے۔ اور آپ جب بھی بیت الخلا تشریف لے جاتے، تو وہ انگوٹھی اتار لیا کرتے تھے، کیونکہ اس پر ”اللہ “ بھی لکھا ہوا تھا، یعنی ”رسول اللہ“
رسول اللہ ﷺ انگوٹھی کو ہمیشہ دائیں ہاتھ میں پہنتے تھے، حضور نے ایک دفعہ سونے کی انگوٹھی بھی بنوائی تھی، مگر چوں کہ سونے کی انگوٹھی، اور ریشمی لباس مردوں کے لیے جائز نہیں، لہٰذا آپ نے ان دونوں کو پسند نہیں فرمایا، اور نہ ہی آپ کے اصحابؓ نے پسند فرمایا، لہٰذا ہم بھی ثواب کی نیت سے ایسا کرسکتے ہیں، اور ثواب کما سکتے ہیں ابوہریرہؓ فرماتے ہیں کہ میں نے حضوراقدس سے زیادہ حسین کوئی نہیں دیکھا، چمک اور روشنی چہرہ مبارک میں اس قدر تھی کہ گویا آفتاب آپ کے چہرہ مبارک میں چمک رہا ہے، میں نے آپ سے زیادہ تیز رفتار بھی کوئی نہیں دیکھا۔ زمین گویا لپٹی جاتی تھی۔ یعنی ابھی چند منٹ یہاں، اور چند ہی منٹ میں وہاں آپ کے ساتھ چلتے ہوئے ہم لوگ مشقت میں ہوتے، مگر آپ اپنی معمولی رفتار سے چلتے، آپ عورتوں کی طرح پاﺅں زمین پرگھسیٹ کر نہیں چلتے تھے، بلکہ لگتا تھاکہ ہمت، اور قوت سے پاﺅں اُٹھاتے کیا ہم اور آپ ، حضورﷺ کا انداز، اپنا کر ان کی طرح چلنے پھرنے سے نجانے دن میں کتنی کتنی بار سونوافل کا ثواب حاصل نہیں کرسکتے؟
اللہ سبحانہ‘ وتعالیٰ چونکہ نیتوں کا بھید جانتا ہے ، اوراگر ہم اپنی نیت صرف، اور صرف ثواب کے لیے اپنے آقا ومولیٰ کے اتباع کے لیے خالص کرلیں، تو پھر ہم اس ہستی کے جن کا مزاج، اور تبلیغ صرف، اور صرف حق بولنا، امرربی تھا، اور جن کا اپنا دین مبارک بھی اللہ کی مرضی اور رضا الٰہی کے حصول کے لیے کھلتا تھا، یعنی وہ مزاح ومذاق میں بھی سچ بولتے، اور تبلیغ کے لیے بھی ہمیشہ سچ بولتے تھے، مسلمانوں کا تو ایمان ہے کہ ہماری اصلی، اور ابدی زندگی، انسانوں کی ان کی موت کے بعد، مسلمانوں کے نزدیک ”وصال“ کے بعد شروع ہوتی ہے، اس حقیقی زندگی، اور ہمیشہ رہنے والی زندگی، جس میں موت کا کوئی تصور نہیں ہے، وہ زندگی امیرانہ طریقے سے گزارنے کے لیے ”نوافل“ ہی ہمیں امیر تر کرسکتے ہیں، لہٰذا قارئین کرام، اس طریقہ انفال کو اپنا کر ہم روز بروز امیر تر ہوسکتے ہیں، کیونکہ ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبروں میں ہمارے نبی آخر زماں کا فرمان ہے کہ میں اپنی امت کے لیے باپ کا درجہ رکھتا ہوں لہٰذا وہ ہمارے اٹھنے، بیٹھنے ، کھانے پینے، سونے غرضیکہ ایک ایک لمحے کی تربیت فرماتے ہیں اور تعلیم قرآنی دیتے ہیں، حتیٰ کہ قرآن پاک میں ارشاد ربانی ہے کہ وہ مسلمانوں کے لیے، یعنی مسلمانوں کی بھلائی کے لیے ”حریص “ ہیں، اور اللہ سبحانہ‘ وتعالیٰ نے ان سے ارشاد فرمایا ہے کہ آپ ان کی بھلائی کے لیے اپنی جان کو کیوں ہلکان کررہے ہیں، اسی لیے سورہ الحشر میں ارشاد فرمایا ہے، رسول اللہ ﷺ مسلمانوں کے سردار ہیں، ہر مسلمان کو چاہیے، کہ آپ کا حکم بجالانے کے لیے ہمیشہ تیار رہے اور کبھی اس راستے پر نہ چلے، جس پر آپ نہ چلے ہوں، یا جس پر چلنے سے آپ نے منع فرمایا ہو۔ اور آپ کے بعد مسلمانوں کا پہلا فرض یہی ہے، کہ اپنا وہ سردار مقرر کریں، جو رسول اللہ کے طریقہ کا پابند ہو، اور پھر ہروقت اس کی فرمانبرداری اور خیرخواہی پر ہروقت تیاررہیں ، اور سردارکو چاہیے کہ امت کے سمجھ دار لوگوں کی مشاورت سے تمام امت کے حالات درست کرے، اور اپنی ضرورتیں کم کرے، اور اس طرح سے رہے، جیسے اور رہتے ہیں، یعنی رعایا کے لوگ ،قارئین کرام، اللہ سبحانہ‘ وتعالیٰ بات کو کہاں سے کہاں لے آیا ہے، اللہ ہی گواہ ہے میرے وہم وگمان بھی نہیں تھا ، کہ بات لکھتے لکھتے انتخابات پہ ختم ہوگی کہ ہم بیس کروڑ عوام کو اپنا سربراہ اسے منتخب کرنا ہے، جو رسول اللہ ﷺ کو اپنا سربراہ اور آخری نبی مانے، اورخودہمیشہ ان کے حکم کی تعمیل کرنے کے لیے ہمہ وقت تیار رہے، حضرت اقبالؒ بھی آواز غیب پہ کان دھرنے کا سبق دیتے ہیں :
آتی ہے دم صبح صدا عرش بریں سے
کھویا گیا کس طرح تیرا جوہر ادراک!!
تو ظاہر وباطن کی خلافت کا سزاوار
کیا شعلہ بھی ہوتا ہے، غلام خس وخاشاک!
قارئین ، اپنی رائے سے نواز کو نوازیں، کہ نوافل کے حصول کا کالم مزید لکھوں؟


ای پیپر