بول کہ لب آزاد ہیں تیرے
06 جولائی 2020 (22:42) 2020-07-06

ایک لڑکی محلے میں ایک سیٹھ کے گھر آئی اور مسکراتے ہوئے کہا کہ مبارک ہو۔ قرعہ اندازی میں آپ کا انعام نکل آیا ہے۔ ہماری کمپنی کی طرف سے آپ اور آپ کی فیملی کیلئے ایک عدد تحفہ۔۔۔ آج رات کے شو کی ٹکٹیں۔۔ ساتھ میں کچھ کھانے پینے کی چیزیں بھی قبول کیجیے۔۔۔یہ سب ہم اپنی کمپنی کی مشہوری کیلئے کر رہے ہیں۔گھر کا مالک یہ سب دیکھ کر مسکرایا۔۔۔۔ بغیر محنت کے مفت میں رات کے شو کی ٹکٹیں۔۔۔رات کو جب فیملی فلم دیکھ کر واپس آئی تو ان کے گھر ڈکیتی کی واردات ہو چکی تھی۔۔۔ پورا گھر سامان سے خالی کیا جا چکا تھا اور وہیں پر ایک خط پڑا ملا۔۔۔ جس پر لکھا تھا ’’امید ہے فلم پسند آئی ہوگی ‘‘۔

خلاصہ: ایک کروڑ نوکریاں، پچاس لاکھ گھر، پانچ سو ڈیم، دس ارب درخت سال کے بارہ موسم (فلم کی ٹکٹوں) کی صورت میں دکھا کر ملک میں واردات ڈال دی۔ امید ہے آپ کو بھی یہ ’’فلم‘‘ پسند آئی ہو گی۔اب اس فلم کا دوسرا سین ملاحظہ کیجیے:

پہلے والے چور کون تھے؟اور بعد والے چور کون ہیں؟

ہوابازی کے وزیر، جناب سرور خان ہیں۔ 1985ء اور 1988ء اور 1990ء کے انتخابات میں یہ پیپلز پارٹی کے ایم پی اے منتخب ہوئے۔ 97میں پی پی ہی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑے، ہار گئے۔ 2004ء میں یہ شوکت عزیز کی کابینہ میں محنت اور افرادی قوت کے وزیر تھے۔ اب سرور خان بھی لوگوں کو راز کی یہ بات بتاتے پائے جاتے ہیں کہ ہمارا تو کوئی قصور نہیں، ملک تو پہلے والوں نے تباہ کیا تھا۔

خسرو بختیار صاحب اکنامک افیئرز کے وفاقی وزیر ہیں۔ 1997ء میں مسلم لیگ ن میں تھے۔ 2002ء میں ق لیگ کے ٹکٹ پر ایم این بنے۔ شوکت عزیز کی کابینہ میں امور خارجہ کے وزیر مملکت تھے۔ 2013ء میں پھر مسلم لیگ ن میں شامل ہو گئے۔ 2018میں جہانگر ترین کے بزنس پارٹنر بنتے ہی ان کا ضمیر جاگ اٹھا اور اس نے کہا بھاگ کر پی ٹی آئی میں شامل ہو جائو۔ اب ہو سکتا ہے ان کا بھی یہی خیال ہو کہ ملک تو پہلے والوں نے اس حال تک پہنچایا۔

صاحبزادہ محبوب سلطان بھی وفاقی وزیر ہیں۔ 2002ء اور 2008ء کا الیکشن ق لیگ کے ٹکٹ پر لڑا۔ 2013ء کے الیکشن میں مسلم لیگ ن کے امیدوار تھے۔ 2018ء میں تحریک انصاف ان کی منزل مراد بن گئی اور ان کی گرانقدر انقلابی خدمات کے صلے میں انہیں وفاقی وزارت عطا فرما دی گئی۔ ان کا بھی یہی خیال ہو گا کہ سارا ستیا ناس تو پہلے والوں نے کر رکھا تھا۔

فواد چودھری جوسائنس ایند ٹیکنالوجی کی وزارت

کی مدد سے عیدوں پر چاند چڑھاتے رہتے ہیں، پہلے مشرف صاحب کی آل پاکستان مسلم لیگ میں تھے۔ پھر پاکستان پیپلز پارٹی پر بہار آئی تو اس کی شاخ پر جا بیٹھے۔ اب وہ تحریک انصاف کے سدا بہار ملک الشعراء ہیں۔ ذرا پوچھ کر دیکھیے وہ آپ کو بتائیں گے کہ ساری خرابیاں پہلے والوں نے پیدا کی تھیں۔

نور الحق قادری وفاقی وزیر برائے مذہبی امور ہیں۔ زرداری دور میں جب یوسف رضا گیلانی وزیر اعظم تھے قادری صاحب زکوۃ و عشر کے وفاقی وزیر تھے۔ اتنے نظریاتی واقع ہوئے کہ پیپلز پارٹی نے انہیں بغیر کسی محکمہ کے وزیر بھی بنائے رکھا اور وہ بد مزہ نہ ہوئے۔ ان کو بھی یقینا شرح صدر ہو گا کہ خرابی تو ساری پہلی والوں نے پیدا کی تھی۔

شیخ رشید احمد ریلوے کے وفاقی وزیر ہیں۔ اب تبدیلی آ گئی ہے اور وہ وزارت کے اہل ٹھہرے ہیں۔ ان سے تو پوچھنے کی بھی ضرورت نہیں کہ تباہی میں پہلے والوں کا کتنا ہاتھ تھا۔ یہ سبق وہ روز سناتے ہیں۔

محمد میاں سومرو الیکشن والے سال تحریک انصاف کا حصہ بنے۔ ان کی گرانقدر خدمات کا صلہ ہے کہ وہ اس وقت وفاقی وزیر ہیں۔ وہ چیئر مین سینٹ بھی وہ چکے اور مشرف دور میں گورنر سندھ بھی۔ اس لیے وہ زیادہ بہتر طریقے سے بتا سکتے ہیں کہ ملک تو پہلے والوں نے تباہ کیا تھا، موجودہ حکومت کا تو کوئی قصور نہیں ہے۔

عمر ایوب خان بھی وفاقی وزیر ہیں۔ 2002ء کا الیکشن ق لیگ کے ٹکٹ سے لڑا۔ شوکت عزیز کی کابینہ میں وزیر مملکت رہے۔ ق لیگ پر زوال آیا تو 2012ء میں ن لیگ میں چلے گئے۔ الیکشن سے چند ماہ پہلے تحریک انصاف میں شامل ہو گئے۔ ان کی عظیم جدوجہد کی وجہ سے انہیں وفاقی وزیر کا عہدہ عطا کیا گیا۔ ایک صدر مملکت کے پوتے اور ایک وزیر خاجہ کے صاحبزادے ہونے کے ناطے وہ بھی بتا سکتے ہیں کہ ملک تو پہلے والوں نے خراب کیا، ہمارا کیا قصور ہے۔

اعظم سواتی بھی وفاقی وزیر ہیں۔ یوسف رضا گیلانی کی حکومت میں بھی صاحب وفاقی وزیر تھے۔ باقی کی ساری داستان سے آپ واقف ہی ہوں گے۔ سید فخر امام بھی وفاقی وزیر ہیں۔ سابق سپیکر رہ چکے۔ ان کی اہلیہ نواز شریف دور میں وزیر خارجہ رہ چکیں۔ یہ بھی آپ کو بتا سکتے ہیں کہ ملک تو پہلے والوں نے خراب کیا، ہمارا کیا قصور ہے۔ ہمیں تو اقتدار میں آئے ابھی دو سال بھی نہیں ہوئے۔ ہم ستر سال کا گند دو سالوں میں کیسے صاف کر سکتے ہیں۔

طارق بشیر چیمہ صاحب بھی وفاقی وزیر ہیں۔ سیاسی سفر میں البتہ وہ پی پی میں رہے، ق لیگ میں رہے۔ بہاولپور کے ناظم رہے۔ ایم پی اے رہے، پنجاب کے وزیر خوراک و زراعت رہے۔ 2016ء میں ق لیگ کے سیکرٹری جنرل تھے۔ اب وہ بھی شاید کہتے ہوں گے کہ ہمیں تو دو سال ہوئے ہیں آئے ہوئے، ملک تو پہلے والوں نے لوٹا۔

زبیدہ جلال، فروغ نسیم، فہمیدہ مرزا ، عبدالحفیظ شیخ جیسوں کی تو بات ہی کیا، ابھی تو مشیران اور وزرائے مملکت کی فہرست بھی باقی ہے۔ الیکٹیبلز کو لے کر چلنے کی تو پھر کوئی مجبوری ہو تی ہو گی، یہاں تو حالت یہ ہے کہ ایک غیر منتخب، فردوس عاشق اعوان کو مشیر اطلاعات بنا دیا جاتا ہے۔ کابینہ میں 34 فیصد لوگ غیر منتخب ہیں۔

یہ بات تسلیم اور سر آنکھوں پر کہ پہلے والوں نے ملک لوٹ کھایا اور ان کا پھیلایا گند دو سالوں میں صاف نہیں ہو سکتا لیکن عالی جاہ یہ تو بتا دیجیے وہ پہلے والے تھے کون؟ اور یہ جو کابینہ میں ہیں یہ کیا بعد والے ہیں؟؟بقول مسعود احمد

سیاست میں یہی گنتی کے۔موروثی گھرانے ہیں

علی بابا نیا ہے چور تو سارے پرانے ہیں

انہی چوروں نے ہم کو چور دروازے سے لوٹاہے

انہی کے پاس اب قارون سے بھاری خزانے ہیں

یہ لولی پاپ سے بہلا رہے ہیں ہم کو نسلوں سے

وہی من گھڑت قصے ہیں وہی حیلے بہانے ہیں

خداکی شان دیکھیں عقل ہے نہ موت ہے انکو

بس انکے پاس دانے ہیں سو یہ کملے سیانے ہیں


ای پیپر