جناب بزدار صاحب! پنجاب یاد رکھتا ہے
06 جولائی 2020 (22:42) 2020-07-06

یوں تو وطن عزیز کے لوگ یاد رکھتے ہیں کبھی نہیں بھولتے جو جیسا ہو ویسا ہی ذکر کرتے ہیں کیونکہ آج میرا مخاطب پنجاب کے وزیراعلیٰ ہیں اور موجودہ حکومت وفاقی ہو یا صوبائی ہر ناکامی کاملبہ سابقہ حکومتوں پر ڈال دیتے ہیں۔ اب ایک نیا بہانہ مل گیا۔ ہر ایک کو مافیا کا نام دے کر راہ فرار لیتے ہیں۔ نئی نسل سمجھتی ہے کہ اس ملک میں سب کچھ پہلی بار ہو رہا ہے۔ ہمارے لڑکپن کا زمانہ تھا ۔ ملک غلام مصطفی کھر گورنر پنجاب تھے۔ پنجاب پولیس ہڑتال پر چلی گئی ہے۔ گورنر پنجاب نے ریڈیو پر چند منٹ تقریر کی جس میں گورنر نے کہا ’’کل 4 بجے تک یا کوئی بھی وقت دیا اگر پولیس والے اپنی ڈیوٹیوں پر واپس نہ آئے تو نئی بھرتی شروع کر دی جائے گی۔ گورنر کی تقریر ختم ہونے کے ایک گھنٹے بعد ہی پولیس اپنی ڈیوٹیوں پر تھی۔ ایک نہیں کئی واقعات ہیں کہ حکومت نے بیورو کریسی کو بتایا کہ اہل عوامی قیادت کیا ہوتی ہے۔

اس میں کوئی شبہ نہیں کہ میاں نواز شریف ضیاء الحق کے دور میں اقتدار میں آئے۔ اُن کے پیچھے اسٹیبلشمنٹ، تمام ادارے اشرافیہ، عدلیہ اور پوری ریاست تھی لیکن لوگوں سے روابط انہوں نے خود بڑھائے۔ آج ہر کام میں حکومت کے ساتھ ایک پیج نہیں پوری ریاستی مشینری حکومت کو حصار میں لیے ہوئے ہے پھر بھی کارکردگی سوالیہ نشان ہے۔ نواز شریف وزیراعلیٰ تھے۔ 12 ربیع الاول کا جلوس تھا۔ ایک جلوس کی قیادت لاہور میں میاں شہباز شریف کر رہے تھے۔ اندرون لاہور سے جلوس جا رہا تھا۔ شہبا ز شریف کسی ورکر کے کندھوں پر سوار تھے۔ ایک اندرون شہر کے رہائشی نے جلوس میں بھاگتے بھاگتے آگے آ کر میاں شہبازشریف کے برابر آ کے کہا (میاں صیب) میاں صاحب (12 دیگاں پکیاں نیں) میں نے 12 دیگیں پگائی ہیں۔ شہباز شریف نے اس کی گال پر تین چار بار تھپکی دی اور ہر تھپکی پر کہا چھ چھ چھ دراصل اس نے 6 دیگیں پکوائی تھیں یہ بات تھی گویا وہ باخبر لوگ تھے۔

1999ء میں میرے گھر ڈکیتی ہو گئی اللہ زندگی سلامتی عافیت میں رکھے۔ میرے بڑے بھائی (گلزار احمد بٹ) نے اگلے دن وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف سے وقت لیا۔ صبح 8 بجے کا وقت تھا۔ حمزہ شہباز آئے جناب چوہدری مختار حسین سے کاروباری معاملہ کی بات کی تو چوہدری صاحب نے ہدایت دینے کے انداز میں بتایا کہ گلزار بٹ صاحب آپ کے انکل ہیں حمزہ شہباز نے دونوں ہاتھوں سے انتہائی مؤدبانہ سلام کیا۔ بہرحال ہم بیٹھے تھے کہ میاں شہباز شریف کے دفتر کے اندر سے ان کا سیکرٹری آیا کہ آپ نے صاحب سے وقت لیا ہے۔ اگر مجھے بریف کر دیں کام کی نوعیت تو آسانی ہو جائے گی۔ ہم نے کہا کہ ڈکیتی ہوئی ہے سیکرٹری کہنے لگا کہ دو منٹ انتظار کر لیں فائل باہر آئے گی وہ چیک کر لیں۔ وہ بات کر

ہی رہا تھا کہ ایک رجسٹر باہر آیا اس نے کھولا تو اخبارات کی کٹنگز اور خبریں لگی ہوئی تھیں میری ڈکیتی کی خبر کو سرخ رنگ کے مارکر سے سرکل کیا ہوا تھا ہرے رنگ کے مارکر سے وزیراعلیٰ نے ایس پی ماڈل ٹاؤن اور ٹاؤن شپ ،2 ایس پی کی ڈیوٹی اور دو ہفتوں میں رپورٹ مانگی ہوئی تھی۔ ہم نے کہا کہ یہ ہماری خبر ہے۔ انہوں نے کہا اب آپ کے لیے احکامات تو جو ہونے تھے ہو گئے اب اگر ویسے ملنا ہے تو مل لیں۔ ہم نے کہا نہیں اب ضرورت نہیں، جناب وزیراعلیٰ بزدار صاحب! 7 ویں دن تک انصاف مکمل ہو چکا تھا۔ آپ تو خود ن لیگ میں رہے ہیں۔ آپ کا داوڑ گاؤں میں استقبال دیکھ کر ایک بڑھیا نے پوچھا کیا ہو گیا اس کے ساتھ اتنے لوگ کیوں ہیں تو اس خاتون کو آپ کے آدمی نے سمجھانے کے لیے کہا کہ (اے لہور وچ شہباز شریف لگ گیا اے، یہ لاہور میں شہباز شریف لگ گئے ہیں۔ گویا شہباز شریف کی کارکردگی کی وجہ سے وہ بوڑھی عورت بھی واقف تھی۔ نیا کچھ نہ بن پائے تو بنے ہوئے ہی قائم رہ جائیں۔ شہباز شریف تو چلیں بہت عرصہ رہے وائیں کی کارکردگی بھی بری نہ تھی واقعات تو بہت ہیں مگر چند ایک کا حوالہ دیا ہے کہ اپنی بات کہہ سکوں۔ پچھلے دنوں گوجرانوالہ جانا ہوا۔

ہمدم دیرینہ جناب محمد فاضل چیمہ کو فون کیا تو پتہ چلا کہ یک نہ شد دو شد فیصل آباد سے حاجی آصف تارڑ صاحب بھی آئے ہوئے ہیں میں نے سوچا کہ چلیں آج یادیں تازہ کرتے ہیں۔ فون پر وقت طے کر کے پسرور روڈ پر واقع موضع پیرو چک کے لیے نکلا۔ 10، 12 کلو میٹر کا راستہ ایسے تھا جیسے کھنڈرات کا اک دشت ہے اور گزر کے جانا ہے۔ سڑک کی یہ حالت تھی کہ گاڑی میں ہی ہڈی پسلی ایک ہو گئی۔ میں نے کہا چیمہ صاحب آپ کی محبت لے آئی ورنہ سڑک کی حالت نے تو توبہ کرا دی یہاں کوئی وباء تو پہنچ سکتی ہے سواری نہیں۔ کہنے کو پسرور روڈ ہے مگر یہ گوجرانوالہ سے شکر گڑھ تک کی سڑک ہے تقریباً 125 کلو میٹر ہے جو پہلے سے موجود ہے۔ یہ 5 تحصیل ہیڈ کوارٹرز کی نمائندہ سڑک جس میں تحصیل گوجرانوالہ ، ڈسکہ، نارووال، شکر گڑھ اور تحصیل پسرور شامل ہیں، انسانوں کی آبادی لاکھوں سے تجاوز کر تی ہے، سینکڑوں تعلیمی ادارے ، کاروباری مراکز، صنعتیں، منڈیاں، دواخانوں تک اسی روڈ کے ذریعے لوگ پہنچ پاتے ہیں۔ زرعی اجناس کی ترسیل کا بھی یہی ذریعہ ہے۔ شہباز شریف کے دور میں اس پر ورکنگ ہوئی پھر یہ سڑک پرانے پاکستان میں آ گئی کوئی ایک دن نہیں گزار سکتا مگر یہاں کے باسی لاکھوں سے تجاوز کرتی ہوئی آبادی دکھ جیل رہی ہے۔ مواصلات کا نظام کہنا زیادتی ہے نظام ہے ہی کوئی نہیں۔ گوجرانوالہ سے پسرور تک تو بہت ہی تباہ کن صورت حال ہے۔ اس علاقے کے لوگ شہباز شریف کو یاد کرتے ہیں۔ یہ کوئی نئی سڑک نہیں ہے پرانی سڑک ہے جس کی مرمت ہونا ہے۔ یہاں کے لوگ اسی کے ذریعے موٹروے کی شکل دیکھ سکتے ہیں ۔ عمران خان نے ایک تقریر میں مذاق اڑاتے ہوئے کہا تھا ’’اوے سڑکیں نہیں قوم بناتے ہیں‘‘ مگر ’’وزیراعظم‘‘ نے قوم میں نفرت کی جو فصل بوئی اس کو تو آنے والی نسل کاٹتی رہے گی کم از کم ’’سابقہ کرپٹ حکومتوں‘‘ کی بنائی ہوئی سڑکوں کی مرمت ہی کر دیں ہو سکتا ہے پرانے پاکستان کی پرانی سڑکوں میں سے نیا پاکستان برآمد ہو سکے۔

میں سوچ میں پڑ گیا کہ کون کر سکتا ہے کیوں کہ حکومت کے خدو خال تو واضح نہیں لہٰذا جناب وزیراعلیٰ بزدار، جناب گورنر پنجاب، جناب سینئر وزیر علیم خان، سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی صاحب اور چیف سیکرٹری پنجاب سیکرٹری سی اینڈ ڈبلیو یا کمشنر کا اختیار ہے۔ گوجرانوالہ کا دورہ ہی کر لیں تا کہ 5 تحصیلوں اور متعدد اضلاع کے لوگوں کے لیے سڑک کی مرمت کروا کر شہباز شریف کے بنائے ہوئے منصوبوں کے ساتھ جوڑ دیں۔ اس علاقے کے محروم اور مجبور لوگ پنجاب سے مل جائیں گے۔ علاقے کے عوام کو بھی ادراک نہیں ہے اور مجھے بھی کچھ علم نہیں کہ حکومت میں کون سا کام کس نے کرنا ہے اس کے لیے کون شخصیت اور عہدیدار ہے، ورنہ کسی ایک کو ہی مخاطب کر لیتے۔ بزدار صاحب! پنجاب یاد رکھتا ہے۔


ای پیپر