پب جی ملکی مسئلہ
06 جولائی 2020 (22:39) 2020-07-06

ہم اس ملک میں رہ رہے ہیں جہاں مسائل کا حل تلاش کرنے کی بجائے ہر چیز بند کرنے پر زور دیا جاتا ہے۔ مجھے یاد ہے کہ 2012 میں پاکستان میں چند ماہ کے لیے یوٹیوب بند کر دی گئی تھی۔ حالانکہ صرف ایک یو آر ایل بند کرنے سے بھی مسئلہ حل ہو سکتا تھا۔ دراصل مسائل کی نشاندہی کرنا اور ان کا حقیقی حل تلاش کرنا مثبت سوچ کی حامل قوموں کی نشانی ہوتا ہے۔ یہ ایک لمبا پینڈا ہے۔ جس کی ہمیں عادت نہیں ہے۔ ہم ایسے حل تلاش کرنا چاہتے ہیں کہ جو فوری میسر ہوں اور آسان ہوں۔ آج پاکستان میں پب جی بند کر دی گئی ہے۔ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی یعنی پی ٹی اے نے اس سے متعلق نوٹیفیکیشن بھی جاری کر دیا ہے۔ فی الحال یہ پابندی عارضی ہے لیکن یہ پابندی مستقل رہتی ہے یا ختم ہو جاتی ہے اس کا علم نو جولائی کو ہو چائے گا۔ کیونکہ نو جولائی کو لاہور ہائیکورٹ میں پب جی سے متعلق کیس کی سماعت ہے۔ میں آپ کو بتاتا چلوں کہ پب جی پر پابندی لاہور ہائیکورٹ نے نہیں لگائی ہے۔ لاہور ہائیکورٹ نے پی ٹی اے سے کہا تھا کہ عوامی شکایات کا نوٹس لے۔ لیکن پی ٹی اے نے اسے عارضی طور پر بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وجہ یہ بنائی ہے کہ 27 جون کو لاہور کے علاقہ گلشن عباس میں سولہ سالہ بچے نے پب جی کھیلنے سے روکنے پر خودکشی کر لی تھی۔ اس سے پہلے بیس جون کو صدر بازار نارتھ کنٹونمنٹ میں بھی ایک بیس سالہ بچے نے پب جی کھیلنے سے روکنے پر خودکشی کر لی تھی۔ ان واقعات کے بڑھنے کے بعد والدین نے حکومت سے اپیل کی تھی کہ پب جی کو پاکستان میں بین کر دیا جائے۔

جس طرح سے میڈیا نے پب جی کو کوریج دی ہے یوں معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ شاید یہی ہے۔ میرے جیسے ویڈیو گیمز سے نا آشنا لوگوں کے پاس بھی پب جی کی اتنی انفارمیشن آگئی

ہے کہ یوں گمان ہونے لگا ہے کہ پب جی نہ کھیل کر میں نے بہت بڑی غلطی کر دی ہے۔ آئیے آپ سے وہ انفارمیشن شئیر کرتا ہوں۔

یہ گیم جنوبی کوریا میں بنائی گئی ہے۔ یہ گیم پب جی کارپوریشن نے تیار کی ہے۔ یہ کمپنی ساؤتھ کورین کمپنی بلیو ہول کی ایک شاخ ہے۔ اس گیم کے پروڈیوسر کا نام کم چینگ ہین ہے۔اسے برینڈن گرین نے ڈیزائن کیا ہے۔ اور ٹاک سیلٹا نے کمپوز کیا ہے۔اسے مائیکروسافٹ ون ڈوز نے 2017 میں، اینڈراؤڈ آئی او ایس نے 19 مارچ 2018، ایکس باکس ون نے 4 ستبمر 2018, پلے سٹیشن فور نے 7 دسمبر 2018 اور سٹاڈیا نے 28 اپریل 2020 کو ریلیز کیا تھا۔ یہ گیم لانچ ہوتے ہی مقبولیت کے تمام ریکارڈ توڑ گئی تھی۔ بلیو ہول کی جانب سے جاری کیے گئے اعدادوشمار کے مطابق گیم ریلیز کرنے کے پہلے چار ماہ میں ہی اس کے دس ملین یقینی کہ ایک کروڑ سے زیادہ راؤنڈز کھیلے گئے۔ کورین کمپنی کے مطابق دو ہزار سترہ میں یہ دنیا میں کھیلی جانے والی دوسرے بڑی گیم تھی۔ پہلے نمبر پر جو گیم تھی اس کا نام تھا لیگ آف لیجنڈز۔ 2017 کے بعد پب جی نے لیگ آف لیجنڈز کو بھی پیچھے چھوڑ دیا اور دنیا میں سب سے زیادہ کھیلی جانے والی گیم بن گئی ہے۔ یہ پہلی مرتبہ نہیں ہے کہ پب جی کو دنیا کے کسی حصے میں بین کیا گیا ہو۔ اس سے پہلے مارچ 2019 میں بھارتی ریاست گجرات میں بھی پب جی کو بین کر دیا گیا تھا۔ گجرات میں بھی اسے والدین کی شکایت پر بین کیا گیا تھا۔ والدین نے شکایت کی تھی کہ پب جی انتہائی ایڈیکٹو ہے اور اس سے بچوں کی تعلیم بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ مارچ امتحانات کے بعد اسے کھول دیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ اپریل 2019 میں عراق اور نیپال میں بھی بین لگایا گیا تھا۔ نیپال کی سپریم کورٹ نے چند دنوں کے بعد یہ بین اٹھا دیا تھا۔ عدالت کا کہنا تھا کہ حکومت کی طرف سے گیم پر پابندی لگانا عام آدمی کی آزادی کے خلاف ہے۔ اس کے علاوہ 2019 میں ہی انڈونیشیا اور اردن میں بھی پب جی پر بین لگایا گیا تھا۔

اگر اس کی آمدن پر بات کی جائے تو اس کے اعدادوشمار بھی حیران کر دینے والے ہیں۔ دسمبر 2017 تک سات سو بارہ ملین یو ایس ڈالرز سے زیادہ پیسہ کما چکی تھی۔ جی ہاں اپنے لانچ کے صرف نو ماہ میں اس نے یہ کمائی کر لی تھی اور مارچ 2018 تک یہ کسی بھی پلیٹ فارم پر بکنے والی دنیا کی تیسری بڑی گیم بن گئی۔اس کے علاوہ امریکہ میں صرف ایکس باکس کے ذریعے اس کی سیل چار ملین کاپیاں تھیں اور اس کی کمائی چوتھے نمبر پر تھی۔ یعنی کہ روزانہ اوسطاً 87 ملین پلئرز اور چار سو ملین ان ٹوٹل اسے کھیلتے تھے۔یہ بات صرف ایکس باکس کی ہو رہی ہے۔ 2019 میں اس کو پوری دنیا میں پانچ سو پچپن ملین لوگ کھیل رہے تھے۔ اس کی سب سے بڑی مارکیٹ انڈیا ہے جہاں تقریباً 116 ملین لوگ اسے کھیلتے ہیں۔ اس کے بعد چائنہ کانمبر ہے جہاں 108 ملین لوگ اسے کھیل رہے ہیں اور اس کے بعد امریکہ جہاں 42 ملین لوگ اسے کھیل رہے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ نیویارک گیم ایوارڈ سمیت بیسیوں ایوارڈز بھی جیت چکی ہے۔

اگر میری طرح آپ کو بھی یہ محسوس ہو رہا ہے کہ دنیا کی سب سے زیادہ کامیاب گیم نہ کھیل کر آپ نے غلطی کر دی ہے تو زیادہ پریشان نہ ہوں۔ میرے اندازے کے مطابق پب جی پر بین زیادہ دیر تر قائم نہیں رہ سکتا۔ کیونکہ دنیا کے جس بھی ملک میں اس پر پابندی لگی ہے وہ زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکی۔ لہذا پب جی کھیلنے والوں سے گزارش ہے کہ وہ تھوڑا انتظار کر لیں۔ اگر ہائیکورٹ نے اس پر پابندی لگا بھی دی تو سپریم کورٹ سے ریلیف مل جائے گا۔ لہذا پریشان نہ ہو۔ جو اب بھی کھیلنا چاہتے ہیں وہ VPN کے ذریعے کھیل سکتے ہیں۔ سپیڈ زرا کم ہو گی لیکن گزارا ہو جائے گا۔ لیکن بچوں سے گزارش ہے کہ اسے اتنا مت کھیلیں کہ آپ کی پڑھائی پر فرق پڑے اور والدین پریشان ہوں۔ گیم کو گیم سمجھ کر کھیلیں۔ اس کو نشہ مت بنائیں۔


ای پیپر