دہشت گردی کب اپنے انجام کو پہنچے گی ؟
06 جولائی 2020 (21:26) 2020-07-06

عزیز زہرا

پاکستان سٹاک ایکسچینج کراچی کی عمارت پر جس طرز سے دہشتگرد وںنے حملہ کیا گیا ، ایسی مذموم کوشش ایک عر صے کے بعد کی گئی ہے، ایک وہ وقت تھا کہ جب پاکستان ایسے ہی دہشتگردوں کی آمجگاہ بنا ہوا تھا، لیکن پاک فوج کی بے مثال قربانیوں کے صلے میں پاکستان میں امن قائم ہوا، پاک فوج نے دہشتگردوں کا صفایا کر دیا تاہم ابھی بھی تلچھٹ باقی ہے۔ کراچی اسٹاک ایکسچنج پر حملہ دراصل پاکستان کی معیشت پر حملہ تھا لیکن سکیورٹی فورسز کے بہادر جوانوں نے اپنی جانوں کا نذارنہ پیش کر کے دہشتگردوں کو پسپا کیا اور کئی قیمتی جانوں کو بچایا۔ اس نوعیت کے حملے سے صاف ظاہر ہے کہ اس کے پیچھے را ہے، جو پاکستان کا امن تباہ کرنا چاہتی ہے، بھارت پاکستان میں دہشتگردی میں براہ راست ملوث ہے لیکن یہ اس کی خام خیالی ہے کہ وہ ہمارا امن تباہ کردے گا۔اس میں بھی وکئی شک نہیں بھارت لداخ میں شرمندگی سے توجہ ہٹانے کیلئے پاکستان کو نشانہ بنا رہا ہے، دوسری طرف یہ بھی حقیقت اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ بھارت دہشتگردوں کی آماجگاہ بن چکا ہے۔بھارتی حکومت ہمسایہ ممالک میں دہشتگردی کی پشت پناہ ہے اور بھارت ریاستی پالیسی کے طور پر دہشت گردی کو بطور ہتھیار استعمال کر رہا ہے۔ بھارتی جاسوس و دہشتگرد کلبھوشن یادیو، بھارتی ریاستی دہشت گردی کی زندہ مثال ہے۔

اس سے قبل سری لنکا میں ہونے والی بدترین دہشتگردی جس میں 250سے زائد شہری ہلاک ہوئے تھے میں بھارت کے ملوث ہونے کا انکشاف ہوا تھا۔سری لنکن سفارتی ذرائع کے مطابق سری لنکا میں خودکش دھماکوں کا ماسٹر مائنڈ زاہران ہاشمی بھارت سے تربیت یافتہ نکلا، خودکش بمبار زاہران ہاشمی طویل عرصہ جنوبی بھارت میں مقیم رہا، اس کے انتہا پسند تنظیموں سے رابطے رہے جب کہ دہشتگرد تنظیم جماعت التوحید کے تانے بانے بھی بھارت سے ملے تھے۔

واضع رہے کہ پھر گذشتہ ماہ کابل میں تین مسلح حملہ آوروں نے ایک ہسپتال پر حملہ کیا تھاجس میں بچوں اور خواتین سمیت کم از کم چودہ افراد ہلاک جبکہ ایک درجن کے قریب زخمی ہوئے۔ دوسری طرف صوبہ ننگرہار کے ضلع شیوہ میں ایک سابق پولیس اہلکار کی نماز جنازہ میں ایک خودکش حملے میں کم از کم چوبیس افراد ہلاک اور پچاس سے زیادہ زخمی ہوئے۔ حملہ آورہسپتال کے زچہ بچہ وارڈ میں گھسے اور وہاں موجود ماؤں اور بچوں پر فائرنگ کر دی۔ اس واقعے میں دو نوزائیدہ بچے، گیارہ خواتین اور متعدد نرسیں ہلاک ہوئیں۔ مغربی کابل میں قائم دشت بارچی ہسپتال کا زچگی وارڈ ڈاکٹروں کی عالمی تنظیم ڈاکٹرز وِدآوَٹ بارڈرز (ایم ایس ایف) چلاتی ہے اور وہاں خدمات سر انجام دینے والوں میں غیرملکی بھی شامل ہیں۔

جبکہ کابل میں بعض مبصرین کا خیال تھا کہ یہ افغانستان میں سرگرم مسلح گرو داعش کی کارروائی ہو سکتی تھی لیکن افغانستان کے لئے امریکی خصوصی نمائندہ زلمے خلیل زاد کاکہنا ہے کہ افغانستان میں ہونے والے دونوں خورنریز حملوں میں بھارت اور داعش ملوث تھا۔

وزیراعظم عمران خان نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ میں سب سے پہلے پاکستان کے ہیروز کو خراج تحسین پیش کرنا چاہتاہوں ، سب انسپکٹر شاہد شہید ، سیکیورٹی گارڈز افتخار شہید، خدایار شہیداور حسن علی شہید ہمارے ہیروز ہیں ، مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ حسن علی کی بہن کو جب پتا چلا کہ وہ شہید ہو گئے ہیں تووہ بھی صدمے کی وجہ سے اس دنیا سے رخصت ہو گئیں۔عمران خان نے کہا کہ انہوں نے قربانیاں دے کراور ہماری سیکیورٹی فورسز نے مقابلہ کر کے بڑے دہشتگردی کے منصوبے کو ناکام بنایا ہے۔عمران خان کا کہناتھا کہ بھارت نے پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کیلئے بڑا منصوبہ بنایا تھا ، دہشتگرد بہت زیادہ اسلحہ لے کر آئے تھے ،ان کا مقصد تھا کہ سٹاک ایکسچینج میں لوگوں کو یرغمال بناتے ، جو ایک مرتبہ ممبئی میں بہت بڑی دہشتگردی ہوئی تھی ، ان کا پلان بھی یہی تھاکہ اسی طرح بے قصور لوگوںکو قتل کرتے۔

وزیراعظم عمران خان کا کہناتھا کہ یہ پلان ہمیں کوئی شک نہیں کہ ہندوستا ن سے ہواہے ، گزشتہ دو ماہ سے میں نے اپنے وزراء کو بتایاہے کہ ہماری تمام ایجنسیاں ہائی الرٹ پر تھیں ، ہم نے اپنی انٹیلی اجنسیوں کی وجہ سے چار بڑی دہشتگردی کی کارروائیوں کو پہلے ہی ناکام بنا دیاجن میں سے د و اسلام آباد میں ہونی تھیں۔ ہماری اس کی پوری تیاری تھی ، ہم اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں۔

مشیر قومی سلامتی معید یوسف نے کہا کہ پاکستان پر حملہ ریاستی دہشتگردی کا نتیجہ ہے، کوئی شک نہیں پاکستان پر آج ریاستی دہشتگردی کی گئی،واضح ہوگیا کہ بھارت پاکستان میں دہشتگردی میں ملوث ہے، بھارت کی ریاستی دہشتگردی سے متعلق پاکستان کی ہربات سچ ثابت ہوئی،انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے پہلے ہی بھارت کے فالس فلیگ آپریشن کے خدشات کا اظہار کیا تھا،انہوں نے کہا کہ بھارت اپنے پیر پر کلہاڑی مارنا چاہتا ہے تو مارے،پاکستان کا دشمن کھلی جارحیت پر اتر آیا ہے۔

اقوام تحدہ میں پاکستان کی سفیر نے کہا تھا کہ بھارت آئے روز سیز فائر کی خلاف ورزی کرتا رہتا ہے، بھارت جنوبی ایشیا میں دہشت گردی کی ماں ہے، کلبھوشن یادیو نے پاکستان میں دہشتگردی کا اعتراف کیا، بھارتی حکمران جماعت کے ہاتھ خون سے رنگے ہوئے ہیں، نریندرمودی گجرات میں مسلمانوں کے قتل عام میں ملوث رہاہے، بھارت میں کوئی بھی اقلیت محفوظ نہیں، بھارت دہشتگردی کوریاستی ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کرتا ہے جب کہ بھارت کومذاکرات کیلیے دہشت گردپالیسی ترک کرنا ہوگی۔کشمیر میں جاری بھارتی جارحیت کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ کشمیر بھارت کا حصہ نہیں، کشمیرپربھارتی قبضہ غیرقانونی ہے، مذاکرات کیلئے بھارت کو دہشت گردی کی پالیسی ترک کرنا ہوگی، پاکستان تمام مسائل کاحل مذاکرات سے چاہتا ہے، کشمیرمیں بھارتی جرائم کی تحقیقات ہونی چاہیئں اورفریقین تنازعہ حل نہ کر سکیں تو اقوام متحدہ اور عالمی برادری مداخلت کی پابند ہے۔

کلبھوشن کی گرفتاری کے بعد سے اب تک پاکستان کے سیکورٹی ادارے بیسیوں بھارتی جاسوسوں کو گرفتار کر چکے ہیں، ابھی حال ہی میں پاکستان نے چار بھارتی شہریوں کو دہشت گردی کی فہرست میں شامل کیا تھااور اقوام متحدہ کو اگاہ کیا تھا۔ اس حوالے پاکستانی دفتر خارجہ نے بتایا تھا کہ پاکستان نے2019ء میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل 1267 کی سینکشن لسٹ کے تحت وینومادھاڈونگارا ، اجے مستری ، گوبندا پٹنائک ، اور انگارا اپا جی نامی چار بھارتی شہریوں کو دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کرنے کی تجویز پیش کی تھی۔ یہ بھارتی شہری ٹی ٹی پی ، جماعت الاحرار اور دیگر دہشت گرد گروہوں کو مالی ، تکنیکی اور مادی مدد فراہم کرکے پاکستان کے اندر دہشت گردی کی مالی اعانت ، سرپرستی اور منظم کر رہے تھے۔ ترجمان نے کہا تاہم ہمیں مایوسی ہوئی جب پاکستان کی طرف سے وینومادھا ڈونگارا کو دہشت گرد قرار دینے کی تجویز پر اعتراض اٹھایا گیا۔

ترجمان نے توقع ظاہر کی کہ یو این ایس سی 1267 سینکشن کمیٹی دیگر تین بھارتی شہریوں کے ناموں کو دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کرنے کا معاملہ شفاف انداز میں زیر غورلائے گی۔ترجمان نے کہا کہ ہمارے پڑوس میں طویل تنازع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بھارت پاکستان میں تخریب کاری اور بے گناہ لوگوں کو مارنے کیلیے دہشت گرد گروہوں کو تربیت ، مالی اور مادی مدد فراہم کرکے پاکستان کے اندر دہشت گردی کو ہوا دی ہے۔ ترجمان نے کہا کہ یہ بھارتی شہری اب مکمل استثنا کے ساتھ بھارت میں مقیم ہیں جو پاکستان کے اس موقف کو ثابت کرتا ہے کہ بھارت ریاستی دہشت گردی میں ملوث ہے۔علاوہ ازیں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ موجودہ بھارتی قیادت پر بھروسا نہیں کرسکتے ، بھارتی قیادت کچھ بھی کرسکتی ہے ہمیں ہر قسم کی تیاری میں رہنا چا ہیے۔ انہوں نے کہاکہ بھارت پاکستان کو نقصان پہنچانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتا۔ بھارت ہمیشہ بلوچستان اور ہمارے قبائلی علاقوں میں افراتفری پھیلاتا رہا ہے یہ کچھ بھی کرسکتا ہے۔ بھارت بہانے تلاش کررہا ہے وہ اپنی خفت مٹانا چاہتا ہے بھارتی معیشت تباہ ہوچکی ہے۔

پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی کہا ہے کہ پاکستان میں دہشتگرد کارروائیوں میں را کے ملوث ہونے کے شواہد عالمی برادری کو دے چکا ہے ، بھارتی وزارت خارجہ کی طرف سے کراچی حملے پر بیان حقائق سے نظریں چرانا ہے، بھارت اپنے رویے سے پاکستان میں دہشتگردی کرانے کی حقیقت نہیں بدل سکتا ۔ترجمان دفتر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ عالمی برادری بھارت کی طرف سے ہمسایہ ممالک میں دہشتگردی کرانے کا نوٹس لے، بیرونی مدد سے ہونے والا بزدلانہ حملہ پاکستان مخالف ریاستی دہشتگردی کا عکاس ہے،پاکستان اس دہشتگرد حملے کی شدید مذمت کرتا ہے.

واضع رہے کہ سکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) کی عمارت پر حملے کی کوشش کرنے والے چاروں دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا تھاجبکہ فائرنگ کے نتیجے میں ایک پولیس اہلکار سمیت 5 افراد جاں بحق ہوئے۔اسٹاک ایکسچینج میں صبح کاروبار کے آغاز کے وقت بڑی تعدد میں لوگوں کی آمد و رفت جاری تھی کہ جب 10 بجے سے کچھ پہلے دہشت گردوں نے فائر کھول دیے اور داخلی دروازے پر دستی بم حملہ بھی کیا گیا۔ کراچی پولیس کی جانب سے جاری بیان کے مطابق فائرنگ کے تبادلے میں داخلی دروازے پر ڈیوٹی پر موجود کراچی پولیس کے سب انسپکٹر شاہد دہشت گردوں کی فائرنگ سے شہید اور 3 پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔پولیس ترجمان کا کہنا ہے کہ حملہ آور دہشت گردوں کی جانب سے فائرنگ اور دستی بم حملے میں 4 سیکورٹی گارڈ سمیت ایک شہری بھی جاں بحق ہوا ہے۔ دہشت گردوں کے قبضے سے جدید ہتھیار، دستی بم اور دھماکا خیز مواد برآمد ہوا ۔

ذرائع ابلاغ کی رپورٹ کے مطابق مسلح حملہ آوروں کے تھیلوں سے کھانے پینے کی اشیا بھی برآمد ہوئی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کا دیر تک محاصرہ کرنے کا ارادہ تھالیکن سیکورٹی فورسز نے ان کی کوشش ناکام بنادی۔خیال رہے کہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی عمارت کراچی کا معاشی حب سمجھے جانے والے علاقے میں آئی آئی چندریگر روڈ پر واقع ہے، اس کے ساتھ ہی پولیس ہیڈ کوارٹرز، اسٹیٹ بینک پاکستان کے علاوہ متعدد کاروباری دفاتر، بینکس اور میڈیا ہاؤسز کے دفاتر ہیں۔ جبکہ سندھ رینجرز کا مرکزی دفتر بھی اس جگہ سے ڈھائی کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔

دوسری جانب پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے منیجنگ ڈائریکٹر فرخ خان نے حملے کو ’بدقسمتی‘ قرار دیتے ہوئے سیکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی کو سراہا۔ان کا کہنا تھا کہ عمارت میں موجود افراد کی تعداد معمول سے کم تھی، عموماً اسٹاک ایکسچینج میں 6 ہزار کے قریب افراد ہوتے ہیں لیکن کورونا وائرس کی وجہ سے ملازمین کی بڑی تعداد گھروں سے کام کررہی ہے۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ دہشت گردوں کو عمارت کے اندر داخل ہونے سے روک دیا گیا اور صرف ایک دہشت گرد احاطے میں ’کچھ قدم کے فاصلے‘ تک احاطے میں داخل ہوسکا۔فرخ خان کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں میں سے کوئی بھی ٹریڈنگ ہال یا عمارت میں داخل نہیں ہوسکا، ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی بتایا ٹریڈنگ معطل نہیں کی گئی بلکہ جاری رہی۔

٭٭٭


ای پیپر