پاکستان کے خوبصورت مقامات اور مناظر
06 جولائی 2020 (21:23) 2020-07-06

احسان بھٹہ

پاکستان ایک ایسا ملک ہے جس کو اللہ تعالی نے متنوع جغرافیہ اور انواع و اقسام کی آب و ہوا دی ہے۔ پاکستان میں مختلف لوگ،مختلف زبانیں اور علاقے ہیں جو پاکستان کو بہت سے رنگوں کا گھر بنا دیتے ہیں۔ پاکستان میں ریگستان،سرسبز و شاداب علاقے،میدان،پہاڑ، جنگلات،سرداور گرم علاقے، خوبصورت جھیلیں،جزائر اور بہت کچھ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سال 2012 میں پاکستان نے اپنے طرف 1 ملین سیاحوں کو مائل کیا۔ امن و امان کے مسئلے کے وجہ سے پاکستان کی سیاحت بہت متاثر ہوئی لیکن کورونا وائرس کے مسئلے سے قبل حالات بڑی حد تک معمول پر آچکے تھے اور اچھی خاصی تعداد میں لوگ پاکستان کا رْخ کر رہے تھے۔ کورونا ایک عارضی مسئلہ ہے جو یقینا جلد ہی حل ہو جائے گا۔

پاکستان میں سیاحت کو سب سے زیادہ فروغ 1970ء کی دہائی میں ملا جب ملک تیزی سے ترقی کر رہا تھا اور دیگر صنعتوں کی طرح سیاحت بھی اپنے عروج پر تھی، بیرونی ممالک میں سے لاکھوں سیاح پاکستان آتے تھے۔ اس وقت پاکستان کے سب سے مقبول سیاحتی مقامات میں درہ خیبر،پشاور،کراچی،لاہور،سوات اور راولپنڈی جیسے علاقے شامل تھے۔ وقت کے ساتھ ساتھ ملک کے دیگر خوبصورت علاقے بھی دنیا بھر میں متعارف ہوئے اور سیاحت تیزی سے بڑھی۔ یہی وجہ ہے کہ آج ملک میں سینکڑوں سیاحتی مقامات کی سیر کی جاتی ہے، خاص کر پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں سیاحت اپنے عروج پر رہی ہے۔ شمالی علاقوں میں آزاد کشمیر،گلگت بلتستان، خیبر پختونخوا اور شمال مغربی پنجاب شامل ہیں، پاکستان کے شمالی حصے میں قدرت کے بے شمار نظارے موجود ہیں،اس کے ساتھ ساتھ مختلف قلعے،تاریخی مقامات، آثارقدیمہ ،وادیاں،دریاں،ندیاں،جنگلات ،جھیلیں اور بہت کچھ موجود ہیں۔سکردو میں دیوسائی کا خوب صورت ٹھنڈا صحرا قدرت کی بے نظیر کاری گری ہے۔ پاکستان کے جنوبی علاقہ جات بھی سیاحوں کے لیے پرکشش ہیں۔ بلوچستان کے خوب صورت خشک پہاڑ،زیارت،کوئٹہ اور گوادر اپنی مثال آپ ہیں۔ سندھ کا ساحل سمندر،کراچی،مکلی کا قبرستان،گورکھ ہل سٹیشن دادو،صحرائے تھر،موئن جو دڑو اور بہت سے شہر اور دیہات اپنی خوب صورتی اور تاریخی پس منظر کی وجہ سے سیاحت میں خاص مقام رکھتے ہیں۔ جنوبی پنجاب کا تاریخی شہر ملتان،بہاولپور کا صحرائے چولستان اور ضلع ڈیرہ غازی خان کا خوب صورت علاقہ فورٹ منرو بھی سیاحتی اہمیت کے حامل ہیں۔

پنجاب میں سیاحت کے بہت سے خوبصورت مقامات موجود ہیں جن میں مری قابل ذکر قدرتی صحت افزا مقام ہے۔ صوبہ پنجاب بنیادی طور پر دو حصوں پر مشتمل ہے شمالی پنجاب اور اور جنوبی پنجاب۔ شمالی پنجاب میں قدرتی خطے پائے جاتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ ملک کے بہت سے بڑے بڑے شہر بھی یہاں پر واقع ہیں جیسے لاہور،راولپنڈی،گوجرانوالہ،سرگودھا،فیصل آباد وغیرہ۔ پنجاب کی صوبائی سرحد گلگت بلتستان کے سوا تمام دیگر صوبوں سے ملتی ہے۔ پنجاب کے شمال میں وفاقی دارالحکومت،اسلام آباد، شمال مغرب میں صوبہ خیبر پختونخوا ہے ،مغرب میں قبائلی علاقوں کا چھوٹا سا حصہ،جنوب میں صوبہ سندھ،جنوب مشرق میں بلوچستان ہے۔ پنجاب کی جغرافیہ میں سب سے خاص بات یہ ہے کہ پاکستان کے پانچوں بڑے دریاؤں کا گھر ہے۔ پنجاب میں سینکڑوں سیاحتی مقامات میں سے مینار پاکستان، قلعہ لاہور، لاہور عجائب گھر، بھوربن، پتریاٹہ، انارکلی بازار، لاہور عجائب گھر، ،قلعہ روہتاس، نور محل ، کٹاس، کلر کہار، کھیوڑہ، فورٹ منرو، وادی سون سکیسر اور صحرائے چولستان شامل ہیں۔

وزیر اعظم پاکستان عمران خان کی ہمیشہ سے ہی یہ خواہش رہی ہے کہ پاکستان کے سیاحتی مقامات کو ترقی دی جائے کیونکہ وہ سیاحت کو ریونیوجنریشن کا بڑا ذریعہ قرار دیتے ہیں۔ چنانچہ پنجاب میں سیاحت کے فروغ کے لیے 2ہزارہوٹل، 3ہزار ریسٹورنٹ اور 14ہزار ٹریول ایجنسیوں کی رجسٹریشن کا فیصلہ کیا گیا ہے، حکومت کا کہنا ہے کہ پنجاب بالخصوص لاہور میں عظیم الشان ثقافتی ورثہ موجود ہے، بعض تاریخی مقامات کی اہمیت سے مقامی افرادبھی آگاہ نہیں، مقبرہ جہانگیر اور نورجہاں سمیت دیگر آثار قدیمہ کو بحال ہونے ہونے کی ضرورتہے۔

حال ہی میں وزیر اعظم عمران خان کو صوبہ پنجاب میں سیاحت کے فروغ کے حوالے سے بریفنگ دی گئی اور بتایا گیا کہ صوبہ پنجاب کی سیاحت پالیسی کا مسودہ تیار ہے اور صوبے میں مزید آٹھ نئے سیاحتی مقامات کو از سر نو بحال کیا جا رہا ہے۔جبکہ سرکاری گیسٹ ہاؤسز کو تبدیل کرنے اور ان کو سیاحوں کے لیے رہائشگاہ بنانے کے حوالے اقدامات میں پیش رفت ہورہی ہے۔ محکمہ جنگلات اور آبپاشی کے 70ریسٹ ہاؤس عوام کے لیے کھولے جا رہے ہیں۔ثقافتی، تاریخی ،مذہبی اور یوتھ ایڈونچر ٹورازم، آن لائن بکنگ اور سوشل میڈیا پورٹل کے حوالے نئے اقدامات پر بھی وزیر اعظم کو بریفنگ دی گئی۔

چنانچہ اچھی خبر یہ بھی ہے کہ پنجاب حکومت آج کل سیاحت کے فروغ کے حوالے سے بھر پور کام کر رہی ہے۔ثقافتی، تاریخی،مذہبی اور جغرافیائی طور پر پنجاب اپنے اندر ہر وہ کشش رکھتا ہے جو ایک سیاح کو اپنی طرف کھینچ لے۔صرف حکومت کا کام ہے کہ تھوڑی توجہ سے سیاحوں کو اس جانب راغب کرنے کی کوشش کریں۔پنجاب میں تاریخی قلعے ہیں ,دریا ہیں ,ریگستانی سلسلے ہیں۔ خوبصورت باغات ہیں۔پہاڑی سلسلے ہیں اورپنجاب اپنے صحت بخش اور مزیدار کھابوں کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہے۔اسکے علاوہ موجودہ حکومت کی طرف سے کوٹلی ستیاں، چکوال، کوہ سلیمان، اٹک، کالا باغ، خوشاب، بہاولپور اور جہلم میں نئے سیاحتی مقامات عوام کیلئے کھولنے کا عندیہ بھی ایک اچھی خبر ہوگا۔سکھوں کی مذہبی اور ثقافتی سیاحت خصوصاً ننکانہ صاحب,ایمن آباد اور کرتارپور راہداری سے بھی پنجاب کی سیاحت کو بھر پور فروع ملنے کی امید ہے۔پنجاب کے میلے بھی آباد کرنے بھی بہت ضروری ہیں۔کیونکہ ان میلوں کو دیکھنے بھی کبھی سیاح دنیا بھر سے یہاں آیا کرتے تھے۔

پنجا ب کی ثقافت کا ایک بہت خوبصورت رنگ پنجا ب بھر میں سجنے والے میلے ہوا کرتے تھے۔پچھلے دور میں ان میلوں کو بند یا محدود کر کے عوام کی خوشیوں پر ڈاکہ ڈالنے کی کوشش کی ہے۔کیونکہ یہ میلے بھی ہماری سیاحت کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا کرتے تھے۔ان میلوں میں ہونے والے کھیل تماشو ںکو دیکھنے کیلئے دور دور سے لوگ آیا کرتے تھے۔موجودہ حکومت نے سرکاری گیسٹ ہاؤسز کوسیاحوں کیلئے رہائشگاہیں بنانے کے حوالے سے جو اقدامات کیے ہیں وہ ایک بہترین کوشش ہے۔اب تک محکمہ جنگلات اور محکمہ آبپاشی کے زیر کنٹرول70ریسٹ ہاؤس عوام کیلئے کھولے جانے کی نویدہے۔موجودہ دور میں اب اس حقیقت کو سمجھ لیا گیا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی ایک حقیقی خطرہ ہے اور اس خطرے سے نمٹنے کیلئے عقل مندی سے بہترین منصوبہ بندی سے کام لیتے ہوئے راہیں متعین کرنا ہوںگی۔ اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کیلئے ہمیں بڑے بڑے نیشنل پارکس بنانے پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔اس وقت ملک میں بہت حد تک امن و امان کی فضا بن چکی ہے اسی وجہ سے آج پاکستان میں سیاحت فروغ پا رہی ہے۔ ویزہ پالیسی میں نرمی اور سیاحوں کیلئے آسانیاں فراہم کیے جانے کے اعلانات کے بعدغیر ملکی سیاحوں کی پاکستان میں سیاحت کے حوالے سے دلچسپی بڑھتی جا رہی ہے۔ سیاحت سے دنیا میں پاکستان کا اچھا نام بنے گا۔دنیا سے ہمارے رابطے بہتر سے بہترین ہونے لگیں گے۔ سیاحت کے فروغ سے مقامی لوگوں کو روزگار میسر ہو گا۔ سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا,ہماری معیشت بہتر ہوگی۔

پنجاب کو صوفیا کی دھرتی بھی کہا جاتا ہے وہ صوفیا جنہوں نے اپنے کلام اور اپنے طرز عمل سے اپنے ڈیرے پہ آنیوالے ہر انسان کو محبت سے اپنا بنایا۔آج پنجاب میں بہت ضروری ہے کہ ان صوفیا کے ّآستانوں کو بھی ثقافتی رنگ کے طور دیکھا جائے وہاں جانے والوں کیلئے سہولتیں مہیا کی جانے چاہیے۔بڑے مزارت کے پاس اچھے ہوٹلز بن جائیں تو زائرین جو اپنی فیملیز کے ساتھ وہاں جاتے ہیں ان کیلئے آسانیاں پیدا ہوں گی۔

واضع رہے کہ کورونا کے پھیلائو سے قبل غیر ممالک کے ذرائع ابلاغ نے 2020کو پاکستان کا سیاحتی سال قرار دیا تھا ، ذرائع ابلاغ نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ پاکستان پْر امن حالات کی وجہ سے توجہ کا مرکز بنا جا رہا ہے، ویزے سے متعلق مثبت اقدامات نے پاکستان کو بہترین سیاحتی ملک بنادیا ہے۔میگزین کا کہنا تھا کہ پاکستان تاریخی اور خوبصورت قدرتی مناظر سے مالا مال ہے، مذہبی سیاحتی لحاظ سے بھی پاکستان بہترین ملک بن گیا ہے، پاکستان امن کی بحالی کی وجہ سے سیاحت کے لیے بہترین ہے۔امریکی جریدے میں پاکستان کے مقبول سیاحتی مقامات سے لے کر بلند ترین پہاڑی سلسلوں کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ امریکی میگزین نے 20 ممالک کی فہرست جاری کی ہے جن میں پاکستان، برطانیہ، کرغزستان، آرمینینا، برازیل، آسٹریلیا، آئرلینڈ، فلپائن، فرانس، سسلی، سینیگال، پورٹ لینڈ، لبنان، چین، ڈنمارک، دی برٹش ورجن آئی لینڈ، مراکش، پاناما، کروشنیا اور جاپان شامل ہیں۔غیر ملکی سیاح اور معروف ٹریویل وی لاگر ایوا زوبیک نے اپنی ایک سوشل میڈیا پوسٹ پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ انہیں بہترین سیاحتی مقامات کی فہرست میں پاکستان کو نمبر ایک پر دیکھ کر بہت خوشی ہو رہی ہے۔انہوں نے کچھ عرصہ قبل پاکستان میں بنائی گئی ویڈیو بھی شیئر کی اور لکھا کہ ’ پاکستان غیر ملکی سیاحوں کے لیے ایک عمدہ مقام ہے۔

چنانچہ وفاقی حکومت کی طرف سے کیے گئے اقدامات اور صوبائی حکومت کی طرف سے سیاحت کے فروغ کیلیے کوششیں اس وقت ثمرآورپودے کی شکل اختیارکرتی جارہی ہیں۔انشا اللہ یہ حکومت پنجابی ثقافت کے سب رنگ سامنے لائے گی اور پنجاب جسے رنگوں کی دھرتی کہتے ہیں اپنی اسی پہچان سے سیاحت کا مرکز بنے گی۔

٭٭٭


ای پیپر