مائنس ون، مائنس تھری یا مڈ ٹرم الیکشن
06 جولائی 2020 (14:55) 2020-07-06

حیرت ہے دو سالوں ہی میں ہوائیں مخالف سمت میں چلنے لگی ہیں۔ وزیر اعظم کو مائنس ون کی ہوا کہاں سے لگی۔ اپوزیشن والے تو صاف مکر گئے ٹی وی پر ٹاک شوز، اوٹ پٹانگ باتیں ہوتی رہتی ہیں۔ لوگ انٹرٹینمنٹ آئٹم سمجھ کر انہیں سنتے ہیں۔ وزیر اعظم نے کبھی ان کو درخور اعتنا نہیں سمجھا۔ وہ خود ہر روز ’’ٹاک شوز‘‘ کرتے ہیں ٹی وی دیکھتے ہیں نہ اخبار پڑھتے ہیں۔ اپنے کام سے کام، روزانہ ایک دو اجلاس، ارکان اسمبلی، منتخب وزیروں، غیر منتخب مشیروں، درجنوں ترجمانوں سے ملاقاتیں، مثالی صحت کا راز یہی ہے۔ مائنس ون کی بات خود وزیر اعظم نے کی ’’کسی سے سن لیا ہوگا کہ کرسی چار دن کی ہے‘‘ لیکن مائنس ون کا ذکر اس شد و مد سے کرنے کی کیا ضرورت پیش آگئی۔ کیا کوئی ’’کبوتر‘‘ سیاں جی کا پیغام لے کر منڈیر پر آ بیٹھا تھا۔ بظاہر تو مائنس ون یا مائنس آل کی کوئی وجہ سمجھ میں نہیں آتی۔ سروے کرا لیے۔ ان میں بھی غربت اور بیروزگاری کے مارے 57 فیصد عوام نے کہا کہ حکومت کو 5 سال پورے کرنے چاہیے صرف 42 فیصد کا ناک میں دم ہے۔ ان کی رائے بر عکس ہے۔ جہاں سے مائنس ون کا خطرہ ہے وہاں سے کوئی خطرہ نہیں۔ دوسرے تیسرے روز ملاقاتیں ہوتی رہتی ہیں۔ ہاں اپنے پنڈی والے شیخ رشید ما شا ء اللہ کرونا سے صحت یاب ہو کر مزید فربہی کی جانب مائل ہوگئے اس دوران دو دن میں یکے بعد دیگرے ٹرینوں کے دو حادثات، لیکن انہیں اس کی پروا نہیں۔ اپنے مائنس ہونے کا خطرہ نہیں کہنے لگے مائنس ون کی بات آئی تو مائنس تھری ہوگا سسٹم لپیٹا جائے گا۔ شیخ رشید کو کس نے بتایا جن کے ہیں انہوں نے بتایا ہوگا یا پھر بے پر کی اڑا رہے ہوں گے۔ شیخ جی کی باتیں چھوڑیں۔ حکومت کو بجٹ منظوری کے دوران ہلکا سا جھٹکا ضرور محسوس ہوا۔ 160 ارکان نے بجٹ کی حمایت کی 24 کہاں گئے مگر پریشانی کیسی، اپوزیشن کے تو 42 ارکان غائب ہوگئے۔ 119 ارکان شور مچاتے رہے۔ ایوان میں گرما گرمی رہی، احتجاج ،کاپیاں پھاڑ دیں، اور واک آئوٹ کر کے چائے پینے چلے گئے۔ اپوزیشن کی تمام ترامیم مسترد، بجٹ منظور ۔کہنے کو اپوزیشن کے 162 ارکان، باقی کہاں گئے۔ ڈر، خوف، دھمکیوں، کرونا وائرس سے گھروں میں چھپے ہیں یا چھپا دیے گئے۔ ’’سیاست میں تیرے سر کی قسم ایسا بھی ہوتا ہے‘‘ غیبی پیغام رسانی انتہائی آسان۔ بجٹ کا دن ہے گھر میں قرنطینہ اختیار کیے رکھو ورنہ رزلٹ مثبت آجائے گا۔ سانس لینا مشکل ہوجائے گا۔ ارکان نے اسی میں عافیت جانی، جان سب کو عزیز، جانی کی بات نہ مان کر جان سے جانا کسی کو منظور نہیں۔ اختر مینگل نے چار ارکان اپوزیشن کو ادھار دیے تھے دو حاضر ہوئے خود اختر مینگل غیر حاضر، تنگ آکر حکومتی اتحاد سے علیحدہ ہوگئے۔ ق لیگ والے ابھی تنگ نہیں ہوئے مگر سیانے نکلے وزیر اعظم کا نمک کھانے سے گریز کیا کل کلاں کو نمک حرام نہ کہلائیں، ق لیگ سے کوٹے پر آئے وفاقی وزیر ہائوسنگ طارق بشیر چیمہ نے دبے لفظوں میں کہہ دیا کہ مسائل بڑھ رہے ہوں تو حکومت سے علیحدگی جرم نہیں۔ چوہدریوں نے وزیر اعظم کے عشائیہ میں شرکت سے انکار کردیا۔ مگر تسلی دی، مائی باپ کے حکم پر ووٹ حکومت کو دیں گے۔ باقی اتحادی فی الحال سکھ چین سے زندگی گزار رہے ہیں۔ بجٹ منظور ہوگیا مگر وزیر اعظم کو

19 ارکان کی فکر، اسی طرح گھٹ ہوتے رہے تو واقعی گھٹ ہوجایئں گے۔ سینیٹ سے بجٹ کی منظوری باقی جہاں اپوزیشن کی قطعی اکثریت مگر چیئرمین سینیٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی طرح پھر کوئی جھرلو پھیرنا ہوگا۔ خفیہ رائے شماری کی بجائے شو آف ہینڈز مشکل مرحلہ، مگر سینٹروں کے ہاتھ لوشن لگا کر منجمد کر دیے جائیں گے تو مخالفت کیسے ہوگی۔ وہ ہر چند کہیں کہ ہیں نہیں ہیں کی مثال بنے ایوان میں چپ بیٹھے رہیں گے۔ اس صورتحال کے باوجود کہ سیاں جی کوتوال ہیں۔ بندگان عالی کو مائنس ون کی فکر کھائے جاتی ہے کس مخلوق سے خطرہ ہے؟ جس کی وجہ سے پریشان پھر رہے ہیں۔ بقول شعیب بن عزیز ’’کیوں اداس پھرتے ہو سردیوں کی شاموں میں، اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں‘‘ مائنس ون کا ڈھنڈورا، نحمدہو و نصلی علی کا خطبہ پڑھ کر سیاسی باتیں کرنے والے وفاقی وزیر علی محمد خان نے یہاں تک کہہ دیا کہ عمران خان مائنس ہوئے تو جمہوریت مائنس ہوجائے گی۔ فیصل واوڈا نے دھمکی دی جو عمران کی پالیسی کے خلاف چلا اسے کاٹ دیں گے۔ نوبت قصابوں کے بغدے تک پہنچ گئی۔ اللہ اپنا کرم کرے، بقول غالب ’’جس کو ہو دین و دل عزیز اس کی گلی میں جائے کیوں‘‘ دھمکیوں اور خطبات سے قطع نظر پی ٹی آئی کے لیے لمحہ فکریہ، مقبولیت میں تیزی سے کمی کیوں ہو رہی ہے۔ مائنس ون یا مائنس آل کی بحث میں پڑنے کی بجائے مسائل کا حل تلاش کیوں نہیں کرتے۔ اصلاحات کریں کس نے روکا ہے۔ 2 سال کے دوران حکومت خود ہی مسائل میں الجھ گئی۔ آبیل مجھے مار والا محاورہ ،خوامخواہ کے پنگے، مختلف مافیاز انگڑائیاں لے کر جاگ اٹھیں اور حکومت کا ناطقہ بند کردیا۔ ’’ناطقہ سر بگریباں ہے اسے کیا کہیے‘‘ چینی، آٹا، پیٹرول، ادویات کی قیمتیں بڑھیں گی تو عوام چیخیں گے۔ ان چیخوں میں مائنس ون یا مائنس آل کی آہیں بھی سنائی دے سکتی ہیں۔ گزشتہ مہینوں سے قیمتیں اتنی بڑھ گئیں کہ کسی کے کنٹرول میں نہیں۔ متعلقہ وزیر مشیر معاون خصوصی اور ترجمان قیمتیں کنٹرول کرنے کی بجائے پی پی اور ن لیگ کو صلواتیں سنانے میں مصروف، سوال چنا جواب جو، درد جگر ہووے ہائے میری لات میں، کچھ نہ بن پڑے تو قیمتوں میں اضافہ کا بوجھ مافیاز پر ،کہنے لگے پیٹرول سستا کیا تھا مافیا نے غائب کردیا۔ متعلقہ ادارے سے مشورہ کیے بغیر ایک دم 25 روپے لیٹر بڑھا دیا۔ مافیا کو قابو کرنے کا انوکھا طریقہ، آئل کمپنیوں پر 6 کروڑ جرمانہ، 25 روپے لیٹر بڑھا کر 7 کروڑ کا فائدہ پہنچا دیا۔ پیٹرولیم کے وزیر نے کس دھڑلے سے ٹی وی چینلوں پر آکر جھوٹ بولا کہ بین الاقوامی کمپنیوں نے پیٹرول کے دام بڑھا دیے۔ ان کے بیان پر کھوج لگائی گئی تو پتا چلا کہ انٹرنیشنل مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں ابھی تک 40 ڈالر فی بیرل کے قریب ہیں۔ اس دوران اوپیک کی جانب سے فی بیرل قیمت میں 6.70 فیصد کمی ہوئی۔ جس کے بعد قیمت 37.38 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔ ایک کے سوا باقی تمام کمپنیوں نے قیمت میں کمی کی جس نے 2.09 فیصد اضافہ کیا اس کے آئل کی قیمت بھی 39.62 ڈالر فی بیرل رہی۔ وزیر پیٹرولم کس جہان کی مخلوق ہیں کہ بیٹھے بٹھائے آئل کمپنیوں اور ایشیائی ملکوں میں قیمتوں کا تقابل کرتے رہتے ہیں جن ایشیائی ملکوں کا ذکر کیا ان میں فی کس آمدنی کا تناسب بھول گئے پاکستان میں فی کس آمدنی اتنی قلیل کہ موٹر سائیکل والا روزانہ صرف ایک لیٹر پیٹرول خرید سکتا ہے۔ اس میں بھی فکر میں مبتلا کہ گھر میں آٹا، دال موجود ہوگا کہ نہیں۔ وزیروں کو کون سمجھائے کہ عوام سے ایک لیٹر پیٹرول پر 47 روپے وصول کر کے وہ کس کی خدمت کر رہے ہیں۔ ایک لیٹر پیٹرول پر 30 روپے پیٹرولیم لیوی اور 14 روپے 55 پیسے جی ایس ٹی وصول کیا جا رہا ہے۔ آٹا بحران چل رہا ہے کسی کو خبر نہیں کہ گزشتہ 21 ماہ میں آٹے کی قیمتوں میں 65 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ مافیا نے اربوں کما لیے، عوام نڈھال، روٹی نہیں تو کیک کھائو، گزشتہ چار ہفتوں میں 20 کلو آٹے کے تھیلے پر 31 فیصد اضافہ ہوا۔ ’’چوروں، ڈاکوئوں‘‘ کے دور میں 20 کلو آٹے کا تھیلا 500 روپے میں دستیاب تھا۔ صادق اور امین ڈکلیئرڈ کے دور میں 850 روپے اور اب 1020 روپے کا ہوگیا۔ چینی 53 روپے سے 85 روپے کلو بک رہی ہے۔ اربوں کا فائدہ کسے ہو رہا ہے۔ 2 سال سے چور ڈاکو تلاش کیے جا رہے ہیں۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا۔ ’’بکل میں چھپے ہوئے تھے نکل بھاگے۔ لندن میں اپنے گیارہ ایکڑ کے فارم ہائوس میں آرام سے بیٹھے ہیں۔ ’’ہم کہاں آگئے بات ہی بات میں‘‘ مائنس ون سے بات آگے بڑھ رہی ہے، اسپیکر کے خلاف تحریک عدم اعتماد اور پارلیمنٹ کے کمروں اور غلام گردشوں میں آئندہ 6 ماہ کے دوران مڈ ٹرم الیکشن کی باتیں سننے میں آرہی ہیں۔ ایسا ہے تو ہر دوسرے تیسرے روز ملاقاتوں سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ میر تقی میر نے جانے کس کو خبردار کیا تھا کہ ’’مژگاں تو کھول شہر کو سیلاب لے گیا‘‘۔


ای پیپر