تحریکِ انصا ف کا منشو ر؟
06 جولائی 2020 (14:55) 2020-07-06

پاکستا ن تحر یکِ انصا ف کے معرضِ و جو د میں آ نے سے پہلے، بلکہ بہت بعد تک بھی پاکستان کی سیا ست دو بڑی پا رٹیو ںمسلم لیگ ن اور پا کستان پیپلز پا رٹی کے گرد گھو متی رہی۔ حا لا ت کی نو عیت کچھ اس قسم کی تھی کہ کسی بھی نئی پا رٹی کا وجود میں آ کر اپنا لو ہا منو الینا قر یبا ً قر یباً ایک نا ممکن امر تھا۔ ایسا نہیں کہ دنیا کے کسی ملک میں اس طرح کے حا لا ت میں کو ئی نئی سیا سی پا رٹی پنپ نہیں سکتی۔ با لکل پنپ سکتی ہے، تا ہم اس کے لیئے اس کے پاس ایک مضبو ط منشو ر کا ہونا ضر وری ہو تا ہے۔ مگر تحر یکِ انصا ف کے با نی عمرا ن خا ن کے پاس کیا کو ئی منشو ر تھا۔ کو ئی بھی تو نہیں تھا ، سوا ئے عوا م کو یہ با ور کرا نے کے کہ بر سرِ اقتد ا ر آ جا نے کی صو رت میں کسی کر پٹ کو نہیں چھو ڑ وں گا۔ مگر اب ان کے برسرِ اقتدا ر آ جا نے کے بعد ہو کیا رہاہے؟ان کے قریبی رفقا اور وزرا ء نے لو ٹ ما رکی وہ اندھی مچا دی ہے کہ اب پا رٹی کے اند ر ہی ان کے خلا ف کھلم کھلا با تیں ہو نا شر وع ہو چکی ہیں۔ حتیٰ کہ میڈ یا کے سا منے بھی پا رٹی کے لو گ ان کا دفا ع کر نے کا تیا ر نہیں۔ اور پھر سرکا ری سطح پر جس قسم کے فیصلے کیئے جا رہے ہیںاس سے تو یہی سجھائی دیتا ہے کہ ان دنو ں حکو مت کی با گ دو ڑ انتہا ئی نا تجر بہ کا ر لو گو ں کے ہا تھ میں ہے۔آ ج سے کو ئی دس روز پہلے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حد درجہ بے حکمتی کے ساتھ تمام قاعدوں اور ضابطوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے یکایک بے پناہ اضافے سے موجودہ دورِ حکومت کے آغاز ہی سے جاری سیاسی اور معاشی عدم استحکام کی فضا ایک نئے بھونچال سے دو چار ہوگئی۔ چھبیس جو ن کے روز کیے جانے والے اس اقدام پر ہفتے کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں اپوزیشن ارکان نے کٹوتی کی تحریکوں پر تقاریر کے دوران حکومت کی سخت خبر لیتے ہوئے تیل کی قیمتوں میں تازہ اضافوں کو عوام کی جیبوں پر ڈاکہ قرار دیتے ہوئے ناقابل قبول ٹھہرایا اور الزام لگایا کہ آئل کمپنیوں سے ملی بھگت کرکے کم قیمت پر ذخیرہ کیے گئے تیل کو قیمت بڑھائے جانے کے بعد بیچنے کا موقع فراہم کرکے ان کمپنیوں کے لیے ناجائز منافع کا راستہ کھولا گیا ہے۔ میاں شہباز شریف اور بلاول بھٹو نے بھی اپنے بیانات میں اسی موقف کا اظہار کیا ہے۔ اپوزیشن ارکان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت نے پٹرول بم گرا کر زبوں حال قومی معیشت کو بالکل ہی زمین بوس کرنے کا بندوبست کردیا ہے۔ ہماری صنعتیں جو پہلے ہی بنگلا دیش اور دیگر ملکوں کو منتقل ہورہی ہیں، پٹرولیم کی قیمتوں میں چونتیس فیصد اوسط اضافہ اس عمل کو مزید تیز کردے گا اور ملک میں برپا مہنگائی کا طوفان کسی حد پر نہیں رکے گا لیکن وزیر پٹرولیم عمر ایوب کا موقف تھا کہ عالمی منڈی میں تیل 112 فیصد مہنگا ہوگیا ہے لیکن ہم نے صرف 25 فیصد قیمت بڑھائی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں آج بھی تیل کے نرخ تمام پڑوسی ملکوں سے کم ہیں۔ تاہم مسلم لیگ (ن) کے رہنما سابق وزیراعظم شاہد خاقان

عباسی نے اپنے ساتھیوں خواجہ آصف اقبال، احسن اقبال اور خرم دستگیر خان کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب میں دعویٰ کیا کہ پٹرول کی حقیقی قیمت صرف 67 روپے فی لیٹر بنتی ہے جبکہ باقی سب ٹیکس ہے جس کی شرح موجودہ حکومت نے ماضی کے مقابلے میں بہت بڑھا دی ہے اور ایک لیٹر پر 44 روپے ٹیکس وصول کیا جارہا ہے۔ وفاقی بجٹ کو انہوں نے غلط اعداد و شمار کا پلندہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس میں ظاہر کیے گئے ذرائع آمدن اور اخراجات کی تفصیل کچھ بھی درست نہیں اور اس بارے میں حقائق وہ اپنی اگلی پریس کانفرنس میں سامنے لائیں گے۔ مسلم لیگ کے رہنمائوں نے حکومت کو معیشت سمیت ہر محاذ پر ناکام قرار دیتے ہوئے وزیراعظم عمران خان سے استعفے کا مطالبہ کیا اور تحریک انصاف کو کسی اور قائد کے انتخاب کا مشورہ دیا۔ واقعہ یہ ہے کہ ملک کی معاشی اور سیاسی صورتحال کی ابتری ہر ہوش مند شخص کو بچشم سر نظر آرہی ہے۔ محض کورونا کو اس کا سبب قرار دینا کھلے حقائق کے منافی ہے۔ نجی شعبہ اس دور میں سرگرم ہو ہی نہیں سکا جبکہ سرکاری شعبے کا انحطاط محتاج بیان نہیں۔ معیشت کی شرح ترقی منفی ہوچکی ہے جس کے نتائج کا تصور بھی ہولناک ہے۔ تحریک انصاف جن دعوئوں اور وعدوں کے ساتھ اقتدار میں آئی تھی ان میں سے کوئی بھی حقیقت نہیں بن سکا۔ وزیراعظم دو سال میں اپنی ٹیم بنانے میں کامیاب ہوسکے نہ حکمت عملی اور اہداف کے تعین میں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے اتحادی ہی نہیں خود تحریک انصاف کے ارکان بھی مایوسی کا شکار ہیں۔ یہ حالات مزید جاری رہے تو ملک کا ناقابل تلافی نقصان سے دوچار ہونا یقینی نظر آرہا ہے۔

ملک کو اس وقت بہت سے اندرونی و بیرونی خطرات اور مشکل چیلنجوں کا سامنا ہے جن کا پوری قوم کو متحد ہوکر مقابلہ کرنا چاہیے۔ ایسے حالات میں حکومت اور اپوزیشن کی سیاسی جماعتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی محاذ آرائی کوئی نیک فال نہیں ہے۔ ایک طرف اپوزیشن جماعتیں قومی مفاد کا حوالہ دے کر ان مسائل و مشکلات کو حکومت کے خلاف استعمال کرنے، اس کی صفوں میں دراڑیں ڈالنے، اسے چلتا کرنے اور نئے انتخابات کی راہ ہموار کرنے کے لیے زور لگارہی ہیں تو دوسری طرف حکومت اپنے اقتدار کو دوام دینے کے لیے اپوزیشن کو دبانے میں مصروف ہے۔ سیاست کے اس کھیل میں حکومت کی اتحادی جماعتیں اور ناراض ارکان بھی اپنے اپنے مطالبات منوانے اور مراعات سمیٹنے کی فکر میں ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے وفاقی بجٹ کی منظوری یقینی بنانے کے لیے اتوار کی رات پی ٹی آئی اور اس کی اتحادی جماعتوں کے ارکان کے اعزاز میں عشائیہ دیا تاکہ انہیں اعتماد میں لے سکیں۔ بی این پی مینگل تو پہلے ہی ان سے راہ الگ کرچکی ہے، اس لیے وہ عشائیہ میں شریک نہیں ہوئی۔ مسلم لیگ ق نے بھی کہا کہ بجٹ پر رائے شماری میں ووٹ تو وعدے کے مطابق آپ کو دیں گے مگر آپ کا کھانا نہیں کھائیں گے۔ باقی اتحادی پارٹیاں وزیراعظم سے اپنے تحفظات دور کرانے کی یقین دہانیاں حاصل کرکے عشائیہ میں شریک ہوگئیں۔ وزیراعظم نے اس موقع پر اپنی تقریر میں اپنے حامیوں کو یقین دلایا کہ اپوزیشن جو مرضی کرے، میرے سوا کوئی چوائس نہیں ہے۔ خدا پا ک معا ف فر ما ئے، قا رئین کرا م، ما ضی میں ملک کے ایک انتہائی مضبو ط وز یرِ اعظم ذ ولفقا ر علی بھٹو نے بھی کچھ اسی قسم کا بیا ن دیا تھا۔ ان کے انجا م سے آ پ اچھی طر ح وا قف ہیں۔

بہرحا ل حالا ت تو یہ ہیں کہ پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ سے لگتا ہے کہ ہر ماہ منی بجٹ آیا کرے گا۔ روپے کی قدر 40 فیصد کم ہو گئی ہے، برآمدات مسلسل کم ہورہی ہیں، محصولات پہلی بار ہدف سے کم جمع ہوئے۔ غربت اور بے روزگاری تیزی سے بڑھ رہی ہے، بجٹ میں کورونا کا مسئلہ بالکل نظر انداز کردیا گیا۔ تاریخی مہنگائی کے باوجود ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ نہیں کیا گیا۔ اپوزیشن کودبانے کے لیے نیب کو استعمال کیا جارہا ہے اور اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے میڈیا کا گلا گھونٹا جارہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی بلاول بھٹو، خواجہ آصف اور دیگر اپوزیشن رہنمائوں نے ایک پریس کانفرنس میں ملکی معاملات چلانے میں ناکامی پر حکومت سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا ہے۔ اس سلسلہ میں اگلے ہفتے آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا بھی عندیہ دیا گیا ہے۔


ای پیپر