اللہ کا مہمان…
06 جولائی 2020 (14:54) 2020-07-06

دہلی کے محلہ قرول باغ کا مکیں نو عمر لڑکا جب والدین کے ہمراہ ہجرت کا دکھ اٹھا رہا تھا، تو یہ بھی معلوم نہ تھا کہ اس کی اگلی منزل کون سی ہے،افسردہ دل، بوجھل قدموں کیساتھ یہ سفر صدیوں پر محیط تھا،پیاروں کے بچھڑنے کاغم،بے سروسامانی اسکو اور بھی گہرا کر رہی تھی،خاندان کے ہمراہ پرانے قلعہ میں اس وقت پناہ لی جب ہر سو فسادات تھے، خوشی یہ کہ اک خواب کی تعبیر مل رہی تھی جو دوسرے لوگوں کے ساتھ والدین نے بھی دیکھا تھا، نو عمر کا خمیر مسلم لیگی گھرانے سے اٹھاتھا،والدہ تحریک پاکستان کی کا رکن، والد شعبہ تعلیم سے وابستہ،زبان پر کوئی شکوہ نہ تھا،آخری پڑائو کراچی میں پڑا،کربناک واقعات سے والدنے چپ سادہ لی،لیکن انکا فرزند اللہ کی عطا کردہ خداد داد صلاحتیں سے انسانیت کیلئے کچھ کرنے کو بے تاب تھا،، ہر چند کہ طبیعت مائل مذہب تھی،تاہم کارل مارکس کے نظریات سے متاثر ہونے کا سبب، سندھ کا وڈیرہ شاہی، جاگیر داری طبقاتی نظام تھا ۔

یہ وہ عہد تھا جب یہ لا اُبالی سا نوجوان کالج میں قدم رکھ رہا تھا ،اسکی ذہانت نے نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن کی صدارت اپنے نام کی،تاہم اجلاس سے اٹھ کر نماز پڑھنے کی ’’خطا‘‘ نے اس تنظیم سے راستے اس وقت جدا کردیئے جب شرکاء اجلاس نے ناگواری کا اظہار کیا،اندر کی تڑپ نے بیٹھنے نہ دیا،سید مودودی ؒ کے لٹریچر کو پڑھ کر تو دل کی دنیا ہی بدل گئی،خوشی سے نہال کہ جیسے منزل مل گئی، اس زمانے میں

جب این ایس ایف کا کراچی میں طوطی بولتا تھااسے خیر آباد کہا اور دائیں بازو کی طلباء تنظیم اسلامی جمعیت طلباء سے وابستہ ہوگئے،اپنی محنت، منصوبہ سازی،اچھے اخلا ق نے ناظم اعلیٰ کے منصب تک پہنچا دیا،عہد ایوبی میں جب بڑے بڑے جاگیر دار،تمن دار آمرکے سامنے ہاتھ باندھے کھڑے ہوتے ،،المیہ یہ کہ تحریک پاکستان کے جیٗد راہنماء بھی اسکے ہم نوالہ اور پیالہ تھے،فاطمہ جناح کے خلاف کراچی کی سرزمین پر جلسہ کر رہے تھے،جہاں کسی کو پر مانے کی اجازت نہ تھی اس جلسہ میں خلیق الزاماں و دیگر لیڈر موجود تھے ،اس نوجوان نے اپنی جان ہتھیلی پر رکھتے ہوئے،اپنے مٹھی بھر ساتھیوں کے ہمراہ کرسی دھکیل کر اپنا خطاب شروع کیاتو سماع باندھ دیا، مجمع کی توجہ حاصل کی،انکے دیرینہ دوست سعید عثمانی بتاتے ہیں، معاہدہ تاشقند کے خلاف عوامی غم وغصہ پایا جاتا تھا،جلسے، جلوس پر پابندی تھی،لیکن اس نوجوان نے اپنے دوست کے ولیمہ کے نام پر وومن کرسچین ایسوسی ایشن کا ہال بک کروا کر مذکورہ معاہدہ کے خلاف جلسہ کر ڈالا۔ یہ نوجوان ہجرت کی کہانیاں سنتے سنتے جواں ہواتھا اس تلخ تجربے نے اسے شرراتوں سے دور رکھا، لیکن پڑھنے لکھنے کی عادت نے وقت سے پہلے ہی مدبر بنادیا،کثیر المطالعہ شخصیت کا لقب پایا جب بولتے تھے تو لفظ ہاتھ باندھے کھڑے ہوتے۔جمعیت میں اپنی قابلیت کا لوہا منوا کرجماعت اسلامی کی عملی سیاست میں قدم رکھنے والی ہستی

کو دنیا سید منور حسن کے نام سے جانتی ہے،ہر چند ہجرت کی نسبت سے مہاجر کہلائے مگر اپنے دامن پر کبھی بھی لسانیت کا دھبہ نہیں لگنے دیا ، چند گز کے مکان کا مکین جہاں فکر معاش میں الجھا ہواتھا وہاں بچوں کی ذمہ داریوں کا بوجھ بھی ناتواں کندھوں پر تھا،کراچی میں لوٹ، کھسوٹ کا بازار بھی تو مہاجر کے حقوق کے نام سے آباد تھا،اپنی زندگی کی متاع لٹا کر آنے والا خاندان بھی تو اس میرٹ پر پورا اترتا تھا،یہ اگر چاہتا تو بھاری بھر منقولہ، غیر منقولہ جائداد اپنے اور بچوں کے نام کرواکر باقی ساری حیاتی آرام سے بسر کرتا، بیٹی کی شادی پر دعوت شیراز کا اہتمام کرتا، گاڑیوں کے تحفے وصول کرتا،اپنے بینک بیلنس کو بڑھاتا۔قدرت نے موقع بھی فراہم کیا،یہ ان دنوں کی بات ہے جب ’’بھائی جی‘‘ کا کراچی میں طوطی بولتا تھا اس نے سید منور حسن کواپنے گھر بلا کر انکے اندر کا ’’مہاجر ‘‘جگانے کی کاوش کی،اس دور میں جب ہماری مقتدر کلاس ،’’بھائی جی ‘‘سے ملاقات کو بھی اپنے لئے سعادت سمجھتی تھی، سید صاحب نے اسکو سب کے سامنے جھاڑ پلا دی اورنائن زیروسے باہر نکل آئے، وہ کس طرح ان شہداء سے غداری کرتے جن کے لاشے ہجرت کے وقت اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھے تھے،تاریخ کا سبق ہے اس فسطائی گروہ کو اگر کوئی للکارنے والا بہادر تھا تو وہ صرف سید منورحسن ہی تھا، جب بانی پاکستان کا جنازہ جمشید روڈ سے گذر رہا تھا توہر چہرہ بشمول سیدمنور آنسوئوں سے تر تھا اگریہ کہا جائے کہ بطور ذمہ دار شہری سید منورحسن ہی قائد کا سفیر تھا تو بے جا نہ ہوگا، جس نے بیٹی کی شادی پر ملنے والے تحفے بھی یہ کہہ کرجماعت کے بیت المال میں جمع کروادئے کہ وہ امیر جماعت کی حثیت سے ملے تھے، ہمارے ہاں روایت تو اسکے بالکل برعکس تھی ، مال مفت دل بے رحم کی عملی تفسیر وہ حکمران بنے جنہوں نے بیرون ملک سے ملے تحائف کوڑیوں کے بھائو اس لئے خرید کئے کہ انھیں بطور وزیر اعظم اور صدر ملے تھے،وردی والوں نے بھی یہی رویہ اپنایا تھا۔

سید منور حسن عملی آدمی بن کر رہے جو کام بھی کرتے کشتیاں جلا کر کرتے تھے ، بنیؐ آخر زماں کو اپنا آئیڈیل قرار دینے والی بڑی شخصیت سے اسی طرز کے صاف، شفاف کردار، ارو قناعت پسندی کی توقع کی جاسکتی تھی، انکی وفات پر تمام مکتبہ فکر کی جانب سے خراج تحسین کاعمل،اخبارات کے کالمز، میڈیا پر تذکرہ اس بات کی شہادت ہے کہ وہ بلا امتیاز سب کے محبوب لیڈر تھے،ان کے دل میں امت کا درد بھی تھا اور یہ قلق بھی کہ اس کے مسائل کا بڑا مسلہ قیادت کابحران اور حکمرانوں کی پالیسیاں ہیں ، سامراجی طاقت نے جس جہاد کو گالی بنانے کی ناکام کاوش کی، سید منور اسکی مسلسل تذکیر کرتے رہے

، اسے امت کی منزلت اور توقیر کا منبع کہتے ،وہ قومی اداروں کو انکے فرائض بھی یاد کراتے رہے، ان کا دل اہل کشمیر، اور فلسطین کے ساتھ دھڑکتا تھا،ہر چند وہ مذہبی جماعتوں کے اتحاد کے حامی رہے مگر مولانا فضل الرحمن کی جانب سے ایم ایم اے کے نام کا غلط استعمال انھیں غیر اخلاقی لگا،ایک انٹرویو میں کہا رائٹ اور لفٹ کا زمانہ طالب علمی بڑا اچھا تھا، دونوں باکردار، شائق مطالعہ ہوتے، یونیورسٹی میں اگر دن کو جھگڑا ہوتا تو شام کی چائے اکٹھے پیتے، ملکی اور بین الاقوامی موضوعات زیر بحث ہوتے، 70 کی دہائی کے بعد نظریاتی سیاست زوال پذیر ہے،تاہم لبرل طبقات نے اپنے نظریہ،افکار، قیادت کے متعلق واضع موقف پیش نہیں کیا اس لئے ابہام پایا جاتا ہے،سوویت یونین کیوں ٹوٹا، اس کے اسباب کیا تھے ؟ عوام کو بتانا پاکستانی لبرلز پر قرض ہے،کیونکہ کیمونسٹ پارٹی نے اپنے خلاف قرار داد منظور کرلی تھی۔سید منور حسن کہا کرتے کہ جماعت اسلامی ایک نظریاتی پارٹی ہے،آپ مجھ سے تو ناراض ہو سکتے ہیں، جماعت سے نہیں، سید مودودیؒ کے لٹریچر نے باصلاحیت،ایماندار افراد ی قوت قوم کے حوالہ کی اس سے مفر ممکن نہیں، بڑے محلات کے مکیں یہ آرزو تو رکھتے ہیں کہ انکی غائبانہ نماز جنازہ امام کعبہ پڑھائیں جس طرح سید جی کی ادا ہوئی، خرافات، آلائشوں سے دامن بچاکر دنیا میں اللہ کا مہمان بن کررہنے والے ہی یہ عزت پاتے ہیں ،یہ اعزاز بھی سید منور حسن ہی کا نصیب ٹھہرا۔


ای پیپر