یادیں سفر حجاز کی.... (آخری قسط)
06 جولائی 2020 2020-07-06

جتنے دن مکہ معظمہ میں گزرے، کم و بیش روزانہ حطیم میں داخلے کی سعادت حاصل ہوئی۔ اللہ کے فضل سے میں گھنٹوں اس مقام مقدس میں بیٹھی رہتی۔ تاریخ کی کتابوں میں درج ہے کہ حطیم بیت اللہ کا جزو ہے۔ حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ سے گزارش کی کہ میں بھی کعبہ میں داخل ہونا چاہتی ہوں۔ حضور اقدس نے فرمایا کہ حجر (حطیم ) میں داخل ہو جاو¿، یہ بیت اللہ ہی کا حصہ ہے۔ جو لوگ عمرہ یا حج کی سعادت حاصل کر چکے، وہ بخوبی آگاہ ہیں کہ حطیم میں داخلہ نہایت خوش بختی سے نصیب ہوتا ہے۔ داخلی دروازے پر زائرین کا ہجوم بے کراں جمع رہتا ہے۔حطیم میںداخل ہو بھی جائیں تو دو نفل پڑھنے کیلئے جگہ ملنا مشکل ہو جاتا ہے۔ محاورتا نہیں ، واقعتا تل دھرنے کی جگہ نہیں ہوتی۔ تین برس قبل میں نے عمرہ کی سعادت حاصل کی تھی۔ انتہائی تگ و دو کے بعد دو رکعت نفل ادا کر سکی تھی۔ اس مرتبہ معاملہ مختلف تھا۔ ایک دن میں طواف کررہی تھی۔ دیکھا کہ حرم کعبہ کا ایک پاکستانی خادم ایک بزرگ خاتون کو حطیم میں داخل کرنے کیلئے کو شاں ہے۔ میں بھی اس کے پیچھے ہو لی۔وہ شخص ان خاتون کو حطیم کے ایک کونے میں لے آیا۔ یہ گوشہ نسبتا پر سکون تھا۔ معمو ل کی دھکم پیل سے مستثنی بھی ۔ میں نے وہاں تیس چالیس منٹ گزارے۔ خیال آیا کہ اپنی ماں کو بھی یہاں لے آو¿ں۔ پھر سوچتی کہ ایک بار اس جگہ سے نکلی تو نجانے دوبارہ داخلہ ممکن ہو سکے یا نہیں۔ لیکن میرا دل اور ذہن اپنی ماں کی طرف اٹکا ہوا تھا۔ یکدم مجھے خیال آیا کہ میں تو دنیا کی سب سے مقدس زمین پر بیٹھی رہوں۔ انتہائی قریب سے بیت اللہ کو تکے جاوں۔کیسے ہو سکتا ہے کہ میری ماں اس سعادت سے محروم رہے۔ یہ سوچ کر اٹھی۔ اپنی ماں کو تلاش کیا۔ وہ مجھے سبز بتی کے عین نیچے بیٹھی مل گئیں۔ وہی سبز بتی جہاں سے طواف کا آغاز ہوتا ہے۔تھوڑی بہت دھکم پیل سے گزر کر میں ، باجی اور امی ا س گوشہ عافیت میں جا پہنچے۔ پھر ہر روز ہم وہاں وقت گزارا کرتے۔ میں نے کہا کہ یقین نہیں آتا کہ ہم اس قدر سہولت سے حطیم میں گھنٹوں بیٹھے رہتے ہیں۔ باجی کہنے لگیںکہ یہ اللہ کی قدرت ہے۔ محسو س ہوتا ہے جیسے اللہ پاک نے حطیم کو کشادگی عطا کر دی ہے۔ تاکہ اللہ کے بندے بڑی تعداد میں یہاں عبادت کر سکیں۔ باجی کی یہ بات میرے دل کو لگی۔ وگرنہ میں یہ سوچے جاتی تھی کہ مجھے ہی کوئی ترکیب (trick) معلوم ہو گئی ہے۔ جسے بروئے کار لاتے ہوئے ہم اس گوشہ رحمت میں لامحدود وقت گزارتے ہیں۔ کئی مرتبہ میں اکیلے یہاں چلی آتی۔ بیت اللہ کے انتہائی قریب بیٹھی رہتی۔ اس قدر قریب کہ سجدہ کرتے میرا سر بیت اللہ شریف کی دیوار کو چھونے لگتا۔ میزاب رحمت کے عین نیچے بیٹھ کر دعا کرتی۔ سر اٹھائے میزاب رحمت اور بیت اللہ کو تکے جاتی۔ مجھے بار بار اپنی خوش بختی کا خیال آتا۔ اللہ کا شکر ادا کرتی۔ جس نے مجھ سیاہ کار کو یہاں تک رسائی عطا کر رکھی ہے۔

ایک رات میں نے گھر والوں کو ہوٹل میں سوتے چھوڑا۔ چپکے سے کمرے سے نکل آئی۔ رات ساڑھے گیارہ بجے کا وقت تھا۔ہمارا ہوٹل حرم کے بالکل سامنے واقع تھا۔ ایک مختصر سڑک عبور کرتے ہی ہم مسجد حرام میں داخل ہو جاتے۔ حرم کی طرف جانے والی سڑک پر زائرین کی آمدورفت جاری تھی۔ رات کے اس پہر سڑک عبور کرتے ، مجھے خیال آیا کہ ناروے کے شہر اوسلو (Oslo)کو دنیا کامحفوظ ترین شہر قرار دیا جاتا ہے۔ چند ماہ قبل میں اوسلو گئی تھی۔ خواہش کے باوجود رات کے وقت اس شہر میں گھوم پھر نہیں سکی تھی۔شام ڈھلتے ہی ہوٹل کا کمرہ بند کیے پڑی رہتی۔ ذیا دہ سے ذیادہ کمرے کیساتھ ملحق بالکونی میں کھڑے ہو کر شہر کا نظارہ کر لیتی۔ اس شہر محفوظ (مکہ معظمہ) میں لیکن میں کسی ڈر خوف کے بغیر رات کے اس پہر تن تنہا گھوم رہی ہوں۔ دنیا نے ناپ تول کے اپنے پیمانے وضع کر رکھے ہیں۔ کوئی مجھ سے پوچھے تو میرے لئے مکہ معظمہ دنیا کا محفوظ ترین شہر ہے۔

سفر حجاز کا ایک قصہ جو میں کبھی نہیں بھول سکتی۔ ایک دن ارادہ کیا کہ ایک دو نفلی روزے رکھ لئے جائیں۔ ہوٹل میں ناشتے کیلئے بوفے کا انتظام تھا۔مجھے گمان ہوا کہ سحری کا انتظام بھی ضرور ہو گا۔ ریسپشن پر کال کی۔ ہدایت ملی کہ سحری کے وقت ریستوران میں چلی جائیں۔ اگلی صبح میں نے باجی کوساتھ لیا اور مطلوبہ فلورپر چلی آئی۔ ریستوران کا دروازہ کھلا تھا۔ مگر بتیاں گل تھیں۔ واپس پلٹنے لگی تھی کہ ایک ویٹر نمودار ہوا۔ پوچھنے لگا کہ آپ سحری کیلئے آئی ہیں؟ اثبات میں سر ہلایا تو اس نے آگے بڑھ کر بتیاں جلا دیں۔ سجا سجایا بوفے سامنے تھا۔ میرے پوچھنے پر اس نے بتایا کہ ریستوران ناشتے کے لئے وقت مقررہ پر کھلتا ہے۔ آپ کی سحری کے لئے خصوصی طور پر چند گھنٹے پہلے کھول دیا ہے۔ مجھے سخت حیرت ہوئی۔ پلیٹ میں کھانے کی اشیاءڈال کر میز پر آن بیٹھی۔ اتنے میں ویٹر چائے کی بڑی سی ٹرالی گھسیٹ کر میز کے قریب لے آیا۔ اسکے بعد جوسز کی ٹرالی رکھ کر چلا گیا۔ اللہ جانتا ہے مجھے سخت شرمندگی محسوس ہوئی۔ باجی سے میں نے کہا کہ بلا وجہ ایک سحری کے لئے سارا ریسٹورنٹ کھلوا دیا۔ اس ندامت کے زیر اثر اگلے دن میں سحری کیلئے ریسٹورنٹ نہیں گئی۔

آخر کار ہماری روانگی کا دن آن پہنچا۔صحن کعبہ میں اپنے آخری لمحات میں نے پاکستان کے لئے دعا کی۔ کچھ عرصہ سے اپنے ملک کے متعلق میں انتہائی فکر مند رہتی ہوں۔ بیت اللہ کے انتہائی قریب کھڑے ہو کر میں نے دعا کی۔ عرض کیا ۔ یا اللہ میں اپنی انتہائی محدود عقل سمجھ اورتحقیق کے مطابق کچھ سیاسی نظریات اور شخصیات کو ملک کے لئے بہتر اور مفید خیال کرتی ہوں۔ نہایت ایمانداری سے ان کی حمایت کرتی ہوں۔ اس ملک کو نقصان پہنچانے والوں کو نا پسند کرتی ہوں۔ لیکن تو بہتر جاننے والا ہے۔اس وقت میرا ملک تیزی سے زوال پذیر ہے۔ اس پر رحم فرما۔ جو لوگ اس کی بربادی کے ذمہ دار ہیں، ان کی کڑی گرفت کر۔ اسکے دشمنوں کو نیست و نابود کر دے۔ جو اس کے خیر خواہ ہیں، ان کی حفاظت اور مدد فرما۔ آمین یا رب العالمین۔

کالموں کا یہ سلسلہ یہاں ختم ہوتا ہے۔ ایک معاملے کا ذکرضروری محسوس ہوتا ہے۔ اکثر و بیشتر شکایات سننے میں آتی ہیں کہ حج و عمرہ کمپنیاں حجاج اور زائرین کرام سے کئے گئے معاہدے پر پوری طرح عمل درآمدنہیں کرتیں۔ جن سہولیات کا وعدہ کیا جاتا ہے، وہ مہیا نہیں کی جاتیں۔ اللہ کا شکر ہمیں کسی قسم کا مسئلہ درپیش نہیں ہوا۔اسکا کریڈٹ یقینا خدام الحرمین انٹر نیشنل ، فیصل آباد کے روح رواں شفیق کاشف صاحب کو جاتا ہے۔ کاشف صاحب نے وہ سہولیات بھی مہیا کیں جو معاہدے کا حصہ نہیں تھیں۔ مکہ اورمدینہ میں د ونوں ہوٹل حرم کے انتہائی قریب تھے۔ مدینہ میں حافظ قاسم صاحب اور مکہ میں جبار صاحب خبر گیری کرتے رہے۔ مکہ میں پہلے دن جبار صاحب نے ہمیں ہوٹل پہنچایا۔ کچھ دیر بعد اپنے گھر سے پلاو¿، سبزی گوشت اور گڑ والے چاول بنوا کر لے آئے۔ یہ سب یقینا شفیق کاشف صاحب کی ہدایات کی وجہ سے تھا۔شفیق کاشف صاحب خود بھی مسلسل فون پر رابطے میں رہے۔ اللہ ان سب کو جزائے خیر عطا فرمائے۔ آمین

فیڈ بیک کا تذکرہ بھی لازم ہے۔ سفر حجاز کے کالموں سے متعلق قارئین کرام کے بھرپور فیڈ بیک کا بہت شکریہ۔ نا صرف پاکستان میں بلکہ بیرون ملک پڑھنے والوں نے بھی ان تحریروں کو سراہا۔ یہ یقینا اس موضوع کا فیضان اور برکت ہے جو اللہ پاک نے اس سلسلے کو پذیرائی بخشی۔ خصوصی طور پر ڈاکٹر ضیا الرحمن اعظمی صاحب کے قبول اسلام اور ان سے ملاقات کے احوال پر مبنی کالموں کا فیڈ بیک مثالی تھا۔مجھے اطلاع ملی کہ سعودی عرب میں بھی اعظمی صاحب سے متعلق کالم کثرت سے زیر گردش رہا۔ بہت سی معتبر شخصیات نے بھی سفر حجاز کے کالموں پر میری حوصلہ افزائی کی۔ چند شخصیات کا ذکر نا گزیرہے۔معروف کالم نگار عرفان صدیقی صاحب کی طرف سے ہر کالم کے بعد شاباشی کا پیغام موصول ہوتا رہا۔ مجھ طالب علم کی اصلاح کے لئے وہ زبان و بیان کی کچھ اغلاط کی نشاندہی بھی فرماتے رہے ۔" مکہ مدینہ " کے سفر پر نہایت عمدہ کالموں کے لکھاری ، ایک صاحب اسلوب کالم نگار اور اردو کے استاد کی طرف سے ان تعریفی پیغامات نے واقعتا میرا حوصلہ بڑھایا۔ جماعت اسلامی کے نائب امیر ڈاکٹر فرید احمد پراچہ صاحب دانشور شخصیت ہیں۔ کئی عمدہ کتابوں کے مصنف ہیں ۔ میرے ان کالموں کے متعلق جو عمدہ کلمات انہوں نے کہے وہ مجھ ادنیٰ لکھاری کے لئے نہایت اعزاز کی بات ہے۔ مزید نوازش انہوں نے یہ کی کہ سید مودودی کی کتابوں کیساتھ ساتھ اپنا سفر نامہ حج " سفر شوق©" مجھے بھجوایا ۔ زندگی رہی تو اسے پڑھ کر ضرور تبصرہ لکھوں گی۔ ممتاز کالم نگار جناب رو¿ف طاہر صاحب ، انگریزی کے معتبر صحافی سرمد بشیر صاحب کی مہربانی جو ہر قسط کے بعد حوصلہ افزائی فرماتے رہے۔ نئی بات کے سینئر صحافی محترم زاہد رفیق صاحب کی حوصلہ افزائی کا بھی شکریہ۔ اللہ پاک ہم سب کو بار بار سفر حجاز نصیب فرمائے اور اپنے احکامات پر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔


ای پیپر