غمِ دہر
06 جولائی 2019 2019-07-06

IMF نے ہمارا خون نچوڑ، کھال ادھیڑ ہدایات جاری فرما کر مدد کرنے کی جو حامی بھری تھی وہ پایہ تکمیل کو پہنچی۔ اسد عمر نے کڑوا سچ بول دیا تھا ( عوام کی چیخیں نکلوانے کا ) تو وہ فارغ کر دیئے گئے۔ اب خاموشی سے عوام کا دھیان کرکٹ اور مقدماتی سیاست کی سنسنی خیزی میں لگا کر وہ سب کر دکھایا جو عالمی استحصالی اداروں کے تقاضے اور تمنائیں تھیں۔ سیلز ٹیکس بڑھانے پر رہی سہی ٹیکسٹائل یونٹ بند اور مالکان سراپا احتجاج۔ صنعت پہلے مشرف کے دور اول میں گیس بجلی کے ہاتھوں تباہ ہوئی۔ ملک کھوکھلا اسی نے کر دیا تھا ۔ کولیشن سپورٹ فنڈ ( امریکہ نیٹو افواج کی مدد اور پشت پناہی) کے ڈالروں پر ملک چلایا گیا ۔ اب مشرف حکمرانی ہی کا دوسرا دور ( مشرف کے بغیر، بیماری کی بنا پر) پوری با مشرف وزارتی مشاورتی ٹیم پر چل رہا ہے۔ کراماتی ہاتھ اندر سے ملک لوٹ کر کھا کر ملبہ سارا عوام پر منتقل کر دیتے ہیں۔ لہٰذا آج اشیائے ضروریہ کی مہنگائی اور بلوں کی لوٹ مار کا وہ عالم ہے کہ پوری قوم بلبلا اٹھی ہے۔ ایسے میں زخموں پر نمک چھڑکنے کو مہربان انصافی وزیر اعظم ایک شان بے اعتنائی سے بیانات جاری کرتے رہتے ہیں۔ ملک چلانے کے لیے پیسہ نہیں۔ ( صدارتی محل میں پرندوں، طوطوں کے پنجروں کے لیے توہے!) فرماتے ہیں: 21 کروڑ لوگ تھوڑا تھوڑا حصہ بھی ڈالیں تو مشکل سے نکل جائیں گے۔ 21 کروڑ کی جیبیں تو خالی کر کے آپ پھاڑ چکے! عوام کی جیب تجاوزات جان کر ختم کر دی گئی۔ اب آپ ( پاکستانی ) آئی ایم ایف کارندوں، حکومتی اہلکاروں ، پارٹی کے ئیسوں ( شوکت ترین کی شوگر ملوں کے صدقے چینی مہنگی کر کے عوام کی دسترس سے دور کی گئی۔) و دیگر مقتدرین ہائے مملکت کی جیبیں ٹٹولیں۔ عوام کی گھریلو معیشت اجاڑ کر اب قوم پر احسان عظم کی خوشخبری شہ سرخیوں میں داغی گئی ہے۔‘ IMF نے قرض پیکج کی منظوری دے دی ۔ پاکستان کا اظہار تشکر!‘ ذلت و خواری، پستی و بد حالی میں مبتلا کر کے ہم پر قرض مزید کی لعنت مسلط کر کے زیر بار کیا جارہا ہے ۔ قرض تو شہید کا بھی معاف نہیں ہوتا! سوال کی ذلت سے بچنا اسلامی تہذیب و تربیت کا بنیادی سبق ہے۔ لیکن 2001 ء کے بعد سے تو ہم اسلام کو فارغ خطی دے کر مشرف کی روشن خیالی کی سرنگ میں جا گھسے۔ اب باقی مسمار کردہ مسلم ممالک کی طرح سیاست میں بھی افراتفری لاگو کر دی گئی ہے۔ ملکی ترقی و بقا کے لیے لازم مہذب شائستہ افہام و تفہیم کی جگہ کھینچا گھسیٹی بد کلامی بد زبانی مقدمہ بازی کا سماں ہے۔

پڑی ہے اپنی اپنی ہر بشر کو

یہی آسیب لے ڈوبے نہ گھر کو

باہر معاشی حملے، اندر ثقافتی تہذیبی حملے اور اسلام پر چاند ماری جاری ہے۔ بیکن ہائوس سکول کی ساتویں جماعت کی سائنس کی کتاب میں ، شور کی آلودگی، کے عنوان سے مسجد سے اٹھتی اذان کی آواز بھی شامل کی دی گئی ہے۔ تصویر میں مسجد سے اٹھتی آواز اور تکلیف سے سر پکڑے مرد کو دیکھا جا سکتا ہے۔ شعائر اللہ کی حرمت پامال کرنے کی کھلی چھٹی ایسے سکولوں اور ان کے نصابوں کو دی گئی ہے۔ ( پہلے بھی نشاندہی کی جا چکی ہے ) اذان کی تکبیر اور کلمہ شیطان کی سر پر ہتھوڑے برساتا ہے اور وہ ہراساں ہو کر گوز مارتا بھاگ لیتا ہے۔ یہی کیفیت مسلم ملک کے معروف تعلیمی ادارے کی بے حساب شاخوں کی بھی ہے؟ کمال یہ ہے کہ گرجے کی گھنٹیاں اس میں شامل کرنے کی جرات نہ تھی ! مساجد کے لیے ہی یہ ہتھ چھٹ ہیں۔ کیا فرماتی ہیں انصافی خاتونِ اول اس بارے ؟ یہ بھی ملاحظہ ہو کہ مدارس کی تعداد پر متوحش، اور ایسے شتربے مہار سکولوں کا گھمبیوں کی طرح گلی گلی پھیلا جال؟ بھاری فیسوں سے عوام کو لوٹنے اور فکری نظریاتی تربیت تباہ کرنے کی انڈسٹری!

ایک تازہ کمرشلـ’ ایریل واشنگ پائوڈر‘ نے بھی داغی ہے۔ پہلے ان کا ایک اشتہار کئی سال داغ تو اچھے ہوتے ہیں، کے عنوان سے قوم کی بیٹیوں کو داغدار ہونے کی جرأت دلانے پر مامور رہا۔ ملک بھر میں سبھی چپکے تکا کئے۔ کسی ماتھے پر بل نہ آیا۔ ا چھے بنائے گئے ان داغوں کے ہاتھوں غیرتی قتل بھی ہوئے، حادثے بھی، کوڑے کے ڈھیر پر بچے بھی پھینکے گئے۔ خاندان اجڑے۔ اب نیا داغی اشتہار ملاحظہ ہو۔ بیٹیوں کی برین واشنگ ہو رہی ہے۔ ( کپڑے نہیں دماغ دھوئے جا رہے ہیں گدلے بدبو دار پانیوں میں۔) چند جملے دکھا کر کہا گیا ہے کہ یہ جملے نہیں داغ ہیں جن کا دھونا ضروری ہے۔ ( مگر آپ تو کہ چکے کہ داغ تو اچھے ہوتے ہیں۔) جملے ملاحظہ کیجئے۔ ’چادر چار دیواری میں رہو‘۔ ’تم ایک لڑکی ہو ‘۔ ’چادر پہن کر رہو‘۔ ’لوگ کیا کہیں گے‘۔ ’پڑھ لیا اب گھر بیٹھو‘۔ (نہیں خود در بدر ہو اور دوسروں کے گھر اجاڑو!) ’ تم ایک لڑکی ہو‘۔لڑکی کو کہنا کیا اسے داغدار کرنا ہے؟ مغربی احساس کمتری کا وہ وائرس جس کے تحت نسوانی عورت وہاں نایاب ہو گئی اور ایک مردانی عورت وجود میں آئی۔ یہ عین وہی سب ہے۔ اس اشتہار میں ورغلانے والی ماڈل ، کرکٹ کا بیٹ تھامے کرکٹ کی مردانہ وردی پہنے اپنے نفسیاتی عارضے کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ مسلمان عورت تو اپنی زنانہ شناخت پر نازاں، مطمئن، پر سکون زندگی بسر کرتی ہے۔ اپنے محرم مردوں کے تحفظ، محبت اور احترام میں گھری! یہ مغربی ایجنڈے ملٹی نیشنلز کے پراڈکٹ کے ساتھ عورت کو بھی نرا پراڈکٹ بنا بیچتے ہیں۔ اٹھائیں، لپیٹیں مغربی کثافت۔ پھینک دیں باہر گلی میں! جو ایک طرف عصمتیں لٹانے کے اسباق ، داغ تو اچھے ہوتے ہیں،۔ کہ کر ازبر کروائے۔ اور اب چادر، چار دیوار اور حیا کی پاکیزگی میں جن کا دم گھٹے سانس رکے۔ فیق صدر کی یہ کیفیت سورۃ الانعام میں بیان ہوئی۔ ’( اسلام کا تصورکرتے ہی) اسے یوں معلوم ہونے لگتا ہے کہ گویا اس کی روح آسمان کی طرف پرواز کر رہی ہے۔ اس طرح اللہ ( حق سے فرار اور نفرت کی) ناپاکی ان لوگوں پر مسلط کر دیتا ہے۔ جو ایمان نہیں لاتے ۔ حالانکہ یہ راستہ (قرآن، اسلام کا) تمہارے رب کا سیدھا راستہ ہے اور اس کے نشانات ان لوگوں کے لیے واضح کر دیئے گئے ہیں جو نصیحت قبول کرتے ہیں۔ ان کے لیے ان کے رب کے پاس سلامتی کا گھر ہے۔ اور وہ ان کا سر پرست ہے ان کے اعمال کی بنا پر جو انہوں نے کیے۔‘ ( الانعام: 125-127 )

مذکورہ بالا آیت کے مصداق نصیحت قبول کر نے والوں، کی ایک لائق تقلید مثال ماڈلنگ اور شوبز سے وابستہ افراد کے لیے بھارت میں کشمیری نژاد مسلمان سابقہ اداکارہ زائرہ وسیم کی ہے۔ 13 سال کی عمر میں فلمی دنیا میں قدم رکھنے والی یہ بچی ، گلیمر، شہرت ، پیسہ، ہر دلعزیزی کی انتہائوں کو بہت جلد جا پہنچی۔ تاہم ضمیر کی کشمکش نے اسے قرار نہ لینے دیا۔ پانچ سال اس دنیا میں گزار کر اب اس نے تائب ہو کر اس راستے کو خیر باد کہا اظہار برآت کرتے ہوئے۔ قرآن سے وابستہ ہو کر اس نے اپنے رب کو پالیا۔ اس روحانی سفر کی روداد خوبصورت ایمان افروز آیات، احادیث، اسمائے الٰہی سے مزیّن اس کے اندر کی روشنی کی خبر دیتی ہے۔ فلمی ماحول میں باہر کا گلیمر اور شور، ضمیر کی پکار اور روح کی آواز سننے نہیں دیتا۔ کہتی ہے، میری زندگی کی ساری برکات ختم ہو گئیں۔ میری روح مسلسل حالتِ اضطراب میں تھی۔ میں نے کلام اللہ میں پناہ چاہی۔ دل کا براہ راست رابطہ قرآن سے ہوا۔ قرآن کی عظیم حکمت و دانائی میں مجھے سکون و قرار مل گیا ۔ شکوک و شبہات، خطائوں اور خواہشات نفس کے مریض دل کا علاج صرف اللہ کی رہنمائی میں تھا۔ قرآن اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رہنمائی میرے لیے فیصلہ کن ثابت ہوئی۔ اسی سے میری زندگی کا رخ اور رویہ کلیتاً تبدیل ہو گیا۔ فلمی دنیا میں تہلکہ خیز کردار ادا کرنے والی اس نوخیز مسلمہ کا بیانیہ ایمان افروز اور رہنما ہے اس پورے طبقے کے لیے ۔ اللہ تعالیٰ اسے ایمان و استقامت سے مالا مال کر دے اور ہر فتنے سے محفوظ و مامون رکھے۔ آمین، ادھر ہمارے ہاں سراج الحق صاحب نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت عالمی عدالت میں مرسی شہید کا مقدمہ لڑے۔ اس سادگی پہ کون نہ مرجائے اے خدا۔ پاکستان تو خود پرویز مشرف دور میں اپنے کارندے مصر بھیج بھیج کر اسلامیوں کے خلاف کریک ڈائون کی تربیت دلواتا رہا۔ لاپتگی کا ناسور اور گھروں پر چھاپوں ، ٹارگٹ کلنگ پولیس مقابلے سب مصر کی دین ہے! اب اسی کے خلاف یہ وزیر اعظم عدالت میں جائے؟ جبکہ وہ تو السیسی قاتل اخوان کو پاکستان دورے کی محبت بھری دعوت دے کر آئے ہیں!

غوطہ زن ہو کے غم دہر میں لکھ لیتا ہے

حرف دو چار، قلم کار، تجھے کیا معلوم


ای پیپر