رانا ثناء اللہ سے حاجی ثناء اللہ تک
06 جولائی 2019 2019-07-06

صحافی: رانا ثناء اللہ سے پندرہ کلو ہیروئن برآمد ہوئی، کوئی ویڈیو یا تصویری ثبوت موجود ہے؟

وزیر مملکت: دیکھیں، اللہ الحق ہے، پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ایسی حکومت آئی ہے جس کی نظر میں سب برابر ہیں۔ یہ پہلی کرپٹ حکومتوں کی طرح نہیں کہ جو طاقتور ہوتا تھا، وہ قانون کی گرفت سے بچ جاتا تھا۔ یہ نیا پاکستان ہے، مدینے کی ریاست کی طرح یہاں ہر ایک کو قانون کے سامنے اپنا آپ پیش کرنا ہوگا۔ جو پیش نہیں ہوگا، قانون اس سے پوچھے گا۔ یہ ہمارا آپ سے اور پوری قوم سے وعدہ ہے۔

ایک اور صحافی: میں اپنے صحافی دوست کے سوال کو مختلف انداز میں دُہراتا ہوں کہ جب بھی اے این ایف کوئی کارروائی کرتی ہے تو تصاویر بنائی جاتی ہیں اور خبر کے ساتھ یہ ریلیز کردی جاتی ہیں، لیکن یہاں تین دن گزرگئے، اب تک ایسا کیوں نہیں ہوا؟

وزیر مملکت: دنیا کے بڑے طاقتور ملک اس لیے تباہ ہوجاتے ہیں کہ وہاں کمزور کے لیے الگ قانون ہوتا ہے اور طاقتور کے لیے الگ۔ دیکھیں اگر ہم نے ترقی کرنی ہے تو ہمیں ایسے لوگوں کو بھی قانون کی گرفت میں لانا ہوگا اور مجھے پورا یقین ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں اب ہم یہ کرکے دکھائیں گے اور پوری قوم دیکھ رہی ہے کہ ہم یہ کررہے ہیں۔ عوام نے ہمیں اسی کے لیے ووٹ دیا ہے کہ کرپٹ لوگوں کا احتساب ہو اور پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ایسی حکومت آئی ہے جو پہلی والی حکومتوں سے مختلف ہے۔

آپ نے وزیر مملکت شہریار آفریدی کی پریس کانفرنس دیکھی اور سنی ہوگی۔ ممکن ہے کہ الفاظ اور جملے اس سے کچھ مختلف ہوں، لیکن خلاصہ اس سے زیادہ مختلف نظر نہیں آئے گا۔ رانا ثناء اللہ کی گرفتاری عمل میں آئی تو تین دن تک آفیشلی کوئی وضاحت سامنے نہیں آئی۔ ایف آئی آر کی کاپی ضرور زیرگردش رہی، لیکن اس قدر کمزور کہ جس کا دفاع کرنا کسی کے لیے ممکن نہ تھا۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ کی کچھ ایف آئی آرز پر کام کیا جائے تو ممکن ہے کمزوری کے لحاظ سے یہ سب پر سبقت لے جائے۔ لیکن اس کے باوجود حکومتی شخصیات کا اعتماد آسمان کو چھورہا تھا۔ سو یہی ذہن میں تھا کہ شاید حقائق کچھ اور ہیں جو منظرعام پر آئیں گے تو ن لیگ کو لگ پتا جائے گا۔ سو جب پریس کانفرنس کا اعلان ہوا تو ہم بھی یہ توقعات لگابیٹھے کہ شاید اب دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہونے جارہا ہے۔ یہ یقین تھا کہ تصویری شواہد کے ساتھ پریس کانفرنس ہونے جارہی ہے۔ یہ بھی کہ آج شاید پاکستان کی تاریخ کے اہم ترین انکشافات ہونے جارہے ہیں، جس سے سیاست کے ایوانوں میں زلزلہ برپا ہوگا۔

ظاہر ہے جس انداز سے اس کیس کو پیش کیا جارہا تھا اور جس طرح حکومتی اراکین اس پر خوشی سے پھولے نہیں سمارہے تھے، اس سے ایسی توقعات وابستہ کرنا کوئی انہونی نہیں تھی۔ پریس کانفرنس سے یہ اُمیدیں اس لیے بھی بڑھ گئیں کہ اے این ایف نے پہلی ہی پیشی پر جسمانی ریمانڈ لینے سے معذرت کرلی۔ اس کا کہنا تھا کہ ہم تفتیش مکمل کرچکے ہیں۔ ماہرین سے رجوع کیا تو یہی بتایا گیا کہ یہ اسی صورت ممکن ہوسکتا ہے جب کیس سے متعلق ساری تفصیلات معلوم ہوں اور مزید کسی تفتیش کی ضرورت محسوس نہ ہورہی ہو۔ جب ملزم کے ساتھ گروہ کے دیگر افراد بھی گھیرے میں آچکے ہوں، سو پریس کانفرنس کے متعلق جان کر تجسس آسمان تک پہنچ گیا!

لیکن یہ کیا! پریس کانفرنس شروع ہوئی اور ختم بھی ہوگئی، اس میں سے خبر تلاش کرتے رہے، لیکن نتیجہ! مایوسی کے سوا کچھ نہ نکلا۔ جس کنفیوژن کو ختم کرنے آئے تھے، وہ مزید بڑھاکر چلے گئے۔ جن سوالات کے جواب دینے آئے تھے، ان میں مزید اضافہ کرگئے۔ کیس سے دلچسپی رکھنے والا حیران، اور حکومت کے ساتھ ہمدردی رکھنے والا پریشان کہ ایسا کمزور مقدمہ کہیں  رانا ثناء اللہ کو حاجی ثناء اللہ بنانے کا پلان تو نہیں؟ بڑے پیمانے پر یہ بیانیہ گردش کرنے لگا کہ اگر رانا ثناء اللہ کو ’’گھیرنا‘‘ ہی تھا تو بے شمار جینوئن کیسز ہوسکتے تھے۔ سو مایوس ہونا بنتا تھا۔ سوال پیدا ہوا کہ اگر یہی کچھ میڈیا کے سامنے آکر بیان کرنا تھا تو اس سے بہتر نہ تھا کہ خاموش رہ لیا جاتا؟ بہت ہی ضروری تھا تو کسی پریس ریلیز کے ذریعے چند نکات میڈیا کو جاری کرنا بھی کافی۔

جب شرمندگی حد سے بڑھنے لگی تو وزیراعظم کو بنفس نفیس اعلان کرنا پڑا کہ اس گرفتاری سے ہمارا کوئی تعلق نہیں۔ گویا ملبہ اے این ایف کے سر ڈال دیا گیا۔ حالانکہ صرف دو دن پہلے پی ٹی آئی اس پر خوشی کے شادیانے بجارہی تھی۔ ٹویٹر پر ہر طرف دھوم مچی تھی۔ یہ باور کروایا جارہا تھا کہ پہلی بار طاقتوروں کو جکڑا جارہا ہے۔ اب مزید بہت سے طاقتور گرفت میں آنے والے ہیں۔ بہت سے لوگ تو کچھ اہم شخصیات کے نام بھی لیتے پائے گئے کہ وہ بھی اس گروہ کا حصہ ہیں اور ان کے گرد بھی گھیرا تنگ ہونے کو ہے۔ لیکن اب تک کی تفصیل کا خلاصہ اس سے بڑھ کر نہیں کہ کھودا پہاڑ تو نکلا چوہا اور وہ بھی مرا ہوا!

کیس کا انجام ابھی نہیں ہوا، ممکن ہے واقعی ثبوت موجود ہوں، اس پر حتمی رائے دینا ممکن نہیں۔ لیکن ایک بار پھر عرض کروں جس انداز سے اس کیس کو ہینڈل کیا گیا، وہ بہت سے سوالات ضرور کھڑے کرگیا ہے۔ اگر واقعی پی ٹی آئی اس سے کوئی سیاسی فائدہ اُٹھانا چاہتی تھی تو اسے حاصل کرنے میں مکمل ناکامی۔ جبکہ مقابلے میں، اپوزیشن اس پر سیاست کرنے میں مکمل کامیاب۔ خصوصاً ن لیگ اسے سیاسی انتقام قرار دے رہی ہے، اور اپوزیشن کی تمام جماعتیں اس کے ہم آواز ہیں۔ رانا ثناء اللہ کی سلاخوں کے پیچھے تصویر نے اس ہمدردی میں مزید اضافہ کردیا۔ اب اگر اس کا انجام بھی وہی ہوا جو شہاب الدین اور حنیف عباسی کیسز کے ساتھ ہوا تو اپوزیشن کا یہ بیانیہ مزید مضبوط ہوکر سامنے آئے گا کہ ہمیں سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ جبکہ حکومت اخلاقی لحاظ سے مزید دباؤ کا شکار ہوگی۔ دیکھتے ہیں اس کیس میں کس کی فتح ہوتی ہے اور ہار کس کا مقدر بنتی ہے!


ای پیپر