’’فرامین شاہی‘‘…!
06 جولائی 2019 2019-07-06

فرمان امروز ہیـ"میں موت بھی برداشت کر سکتا ہوں ، شہباز نہیں کر سکتے۔ شہباز کہتے ہیں کہ اتنی سزا دو جتنی برداشت کر سکو، میں تو موت بھی برداشت کر سکتا ہوں۔ مجھے پتہ ہے کہ آپ موت نہیں برداشت کر سکتے کیونکہ اتنی محنت سے جو پیسہ جمع کیا ہے وہ باہر پڑا ہے جسے آپ انجوائے کرنا چاہتے ہیں اس لیے آپ کو فکر ہے کہ کہیں مر نہ جائیں۔" تین دن قبل کا فرمان شاہی ہے "جس بادشاہ سے مرضی سفارش کر وا لیں ، جس کے چاہے گھٹنے دبائیں این آر او نہیں دونگا۔ شریف اور زرداری خاندان اپنا آدھا پیسہ بھی واپس لے آئیں تو ملک کا قرضہ ختم ہو جائے گا جب کہ جو مرضی آپ کر لیں جنہوں نے ملک کو مقروض کیا اُن سے جواب لوں گا"۔ درمیان میں دو دن قبل کا فرمانِ شاہی ہے "انتقامی سیاست ہمارا نظریہ نہیں ۔ عدالتیں آزاد ہیں جن پر مقدمات ہیں عدالتوں میں صفائی دیں۔" وزیر اعظم عمران خان نے پچھلے تین چار دنوں میں جو فرامین شاہی جاری کیے ہیں آپ نے ملاحظہ کیے ۔ اس کے ساتھ عالی مرتبت نے حکومت کی ایک وزارت کو جو مبارک باد دی ہے اس کو بھی ملاحظہ کیجئے۔ وزارت توانائی کو اپنے ٹیوٹر پروگرام میں شاباش دیتے ہوئے جناب والا نے کہا "قومی گرڈ میں 22550میگا واٹ بجلی کی شمولیت کے ساتھ 2جولائی کو ہم ترسیل کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے اور پورا نظام بھی الحمداللہ بلا رُکاوٹ فعال ہے۔ گزشتہ موسم گرما کی ترسیل کی بلند ترین سطح سے یہ مقدار تقریباً 3000میگا واٹ زائد ہے۔"

وزیر توانائی عمر ایوب جن کے پاس پٹرولیم اور قدرتی وسائل کی وزارت کا اضافی چارج بھی ہے بلا شبہ یہ مبارک باد قبول کر سکتے ہیں۔ لیکن کیا و ہ اس مبارک باد کے حقدار بھی ہیں یا نہیں اس کا وہ خود ہی فیصلہ کر لیں۔ اس لیے کہ وہ سینے پر ہاتھ رکھ کر جواب دیں کہ بجلی کی اس ریکارڈ پیداوار میں تحریک انصاف کی حکومت اور ان کی وزارت کاکتنا حصہ ہے؟ کیا بجلی کی ترسیل اگر 22550میگا واٹ کی ریکارڈ سطح پر پہنچی ہے تو کیا یہ اس وجہ سے ممکن نہیں ہوا کہ مسلم لیگ ن کی حکومت جسے آپ چور کہتے نہیںتھکتے اور جس پر آپ کے کہ و مہ قرضے لینے کا الزام تھوپنے سے باز نہیں آتے اُس نے اپنے دورِ حکومت مئی 2018 تک 11000میگا واٹ بجلی کی پیداوار کے منصوبے مکمل کیے ۔ اب وہ سارے منصوبے جن میں ساہیوال کو ل پاور پراجیکٹ، حویلی بہادر شاہ پاور پراجیکٹ، بھکی پاور پراجیکٹ، نندی پور پاور پراجیکٹ ، پورٹ قاسم کول اینڈ گیس پاور پراجیکٹس، قائداعظم سولر پاور پراجیکٹ اور 990میگا واٹ کا جہلم نیلم ہائیڈرل پاور پراجیکٹ وغیرہ شامل ہیں ۔پوری پیداوار دے رہے ہیں اور آپ دعویٰ کر رہے ہیں کہ بجلی کی ترسیل ریکارڈ سطح پر پہنچ چکی ہے ۔ آپ کا تو یہ کہنا تھا کہ بجلی کے بوسیدہ نظام کو بدلنے کے لیے سابقہ حکومت نے کچھ نہیں کیا اس طرح بجلی کا بھاری بوجھ یہ نظام برداشت نہیں کر سکتا لیکن اب آپ تسلیم کرتے ہیں کہ الحمدا للہ پورا نظام بھی فعال ہے۔ کچھ شرم ہوتی ہے ، کچھ حیا ہوتی ہے جو اللہ کی دین ہے اگر آپ میں اس کا کچھ بھی مادہ موجود ہو تو آپکو ببانگ دہل یہ تسلیم کرنے میں کچھ عار نہیں ہونی چاہیے کہ سابقہ حکومت کی کوششوں ، محنت ، لگن اور بہتر منصوبہ بندی سے بجلی کے پیداوار کے ان منصوبوں کے مکمل ہونے کی بنا پر آج ہم اس قابل ہوئے کہ بجلی کی ریکارڈ پیداوار ہی حاصل نہیں کر رہے بلکہ ملک میں لوڈ شیڈنگ کا بھی بڑی حد تک خاتمہ ہو چکا ہے۔

جناب عُمر ایوب کو یہ یاد دلانے کی ضرورت نہیں کہ آج سے تقریباً 6عشرے قبل ان کے دادا صدر ِ ایوب خان کے دور میں بھارت کے ساتھ دریاوں کے پانی کی تقسیم کے لیے سند ھ طاس کا معاہدہ ہوا۔ بہت سارے حلقے اس معاہدے کے بارے میں سمجھتے ہیں کہ ایوب خان نے اس معاہدے کے تحت پاکستان کے دریائوں راوی اور ستلج اور کسی حد تک چناب کے پانیوں پر بھارت کے حق کو تسلیم کرکے اپنے ملک کے ساتھ زیادتی کی۔ میں خیر ایسا نہیں سمجھتا ۔ اس معاہدے کے تحت دریائے جہلم پر منگلا ڈیم کی تعمیر 1967کے آواخر میں مکمل ہو گئی اور اس کا افتتاح بھی ہو گیا۔ دریائے سندھ پر تربیلا ڈیم کی تعمیر کا سنگِ بُنیاد رکھا گیا۔ اس کے بعد کونسا منصوبہ مکمل ہوا؟ کہاں سے بجلی کی پیداوار شروع ہوئی؟ کس نے کتنی بجلی پیدا کی؟ سوائے تربیلا ڈیم کے بجلی کی پیداوار کا اور کوئی منصوبہ مکمل نہ ہو سکا۔ کالا باغ ڈیم ، تربیلا ڈیم کے بعد تعمیر کیا جانا چاہیے تھا لیکن اس کی تعمیر کو متنازعہ بنا دیا گیا۔ اس میں کس کا کتنا کردار ہے ، یہ سب تاریخ کا حصہ ہے۔ نتیجہ اس کا یہ سامنے آیا کہ ہمیں اپنی فصلوں کے لیے 6.1ملین ایکڑ فٹ پانی کی ذخیرہ اندوزی سے ہی محروم نہیں ہونا پڑا بلکہ 3500میگا واٹ سستی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت کو بھی ہم نے کالا باغ ڈیم کی مخالفت اور پنجاب دُشمنی کی بھینٹ چڑھا دیا۔ بعد میں محترمہ بینظیر بھٹو کے دوسرے دورِ حکومت میں رینٹل پاور پروڈکشن کے تحت IPPs یعنی (Independent Power Producers) سے مہنگی بجلی خرید کر قومی گرڈ کے ذریعے تقسیم کی جانے کے باوجود لوڈ شیڈنگ میں بتدریج اضافہ ہی نہیں ہوا بلکہ گردشی قرضوں کا آسیب بھی ہمارے گلے کا ہار بننا شروع ہوگیا۔

لوڈ شیڈنگ کا عذاب دن بدن بڑھتا رہا۔ جنرل مُشرف کے دور میں بہت سارے من مانے فیصلے کیے گئے جن کے منفی اثرات آج تک ملک و قوم کو بھگتنے پڑ رہے ہیں۔ اگر کالا باغ ڈیم اور کچھ دوسرے ہائیڈل پاور پراجیکٹس، دیامیر بھاشا اور داسو ڈیم کا سنگِ بُنیا د رکھ کر ان پر کام شروع کر دیا جاتا توآج ہمیں سستی بجلی ہی دستیاب نہ ہوتی بلکہ ہم بجلی کی پیداوار میں خود کفیل بھی ہو چکے ہوتے ۔ اس کے ساتھ پانی ذخیرہ کرنے کے وسائل بھی دستیاب ہوتے لیکن مُشرف کو اپنے اقتدار کو طول دینے سے غرض تھی ۔ وہ متحدہ قومی مومنٹ (مہاجر قومی مومنٹ) کے بانی اپنے مربی و محسن الطاف حسین اور خیبر پختون خواہ ، سندھ اور بلوچستان کے انتہا پسند اور قوم پرست حلقوں کو کیوں کر ناراض کرتا۔مشرف کے بعد 2008 ء میں پیپلز پارٹی برسرِ اقتدار آئی تو بجلی کی پیداوار اور پانی ذخیرہ کرنے کے منصوبوں کی تعمیر و تکمیل اس کی ترجیحات میں شامل نہیں تھی۔ نتیجہ اس کا ملک میں بد ترین لوڈ شیڈنگ کی صورت میں سامنے آیا اور ساتھ ہی گردشی قرضوں کا آسیب بھی مہیب شکل اختیار کر گیا۔

مئی 2013 ء میں مسلم لیگ ن کی حکومت نے اقتدارسنبھالا تو اس نے بلاشبہ بجلی کی پیداور کے منصوبوں کی تعمیر و تکمیل اور ملک سے لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کو اپنے ترجیحات میں سر فہرست رکھا۔ سی پیک کے تحت چین سے تقریبا ً 50 ارب ڈالر کے قرضوں کی دستیابی پر دستخط ہوئے جن میں سے تقریباً 80 فیصد (40ارب ڈالر کے لگ بھگ) توانائی کے منصوبوں کی تعمیر و تکمیل کے لیے مخصوص کئے گئے۔ مئی 2018 ء میں مسلم لیگ ن کی حکومت کے خاتمے سے قبل توانائی کے یہ تمام منصوبے مکمل ہو چکے تھے اور ملکی ضرورت کے مطابق بجلی دستیاب ہی نہیں تھی بلکہ فاضل بجلی بھی پیدا ہورہی تھی ۔ آج بجلی کی اسی پیداوار کو سامنے رکھ کر تحریک انصاف کی حکومت بالخصوص وزیر اعظم عمران خان اپنے شاہی فرمودات میں اپنے ماتحت کارندوں کو مبارک باد دے رہیں ہیں تو انہیں زمینی حقائق کا بھی کچھ نہ کچھ تذکرہ ضرور کرنا چاہیے۔

وزیر اعظم عمران خان کہتے ہیں کہ جنھوں نے ملک کو مقروض کیا اُن سے جواب لوں گا۔ وہ ضرور جواب لیں لیکن اس بات کا بھی جواب دیں کہ وہ خود اتنے قرضے کیوں لے رہے ہیں۔ کیا اُنھوں نے ملکی بینکوں اور مالیتی اداروں سے بھاری قرضے لینے کے علاوہ سعودی عرب سے 3ارب ڈالر، متحدہ عرب عمارات سے بھی 3ارب ڈالر ، چین سے 2ارب ڈالر، قطر سے 1ارب ڈالر اور اب IMF سے 6ارب ڈالر کے قرضے نہیں لیے ہیں؟۔ کیا یہ قرضے لے کر اُنھوں نے ملک کو مزید مقروض نہیں کیا ؟ اُن کے اقتصادی ماہرین بالخصوص مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ اور وزیر مملکت خزانہ حماد اظہر تو IMF سے 6ارب ڈالر کا قرضہ ملنے پر خوشی کے شادیانے بجا رہے ہیں کہ IMF پروگرام کے بعد مزید 38 ارب ڈالر آئیں گے ۔ ان میں سے 8ارب 70کروڑ ڈالر پراجیکٹ قرضہ ہو گا ، 4ارب 2کروڑ ڈالر پروگرام قرضہ، 14ارب ڈالر آل اوور قرضہ اور 8ارب ڈالر سے زائد کمرشل قرضے ہونگے۔کل کلاں جب عمران خان کی حکومت کی معیاد ختم ہوگی تو کیا ملک و قوم کو یہ قرضے ادا نہیں کرنے ہونگے؟ یقینا مستقبل میں جو بھی حکومت آئی گی یا حکومتیں آئیں گی انہیں یہ قرضے اور ان سے پہلے لیے ہوئے قرضے ادا کرنے ہونگے۔ عمران خان کو سمجھنا چاہیے کہ حکومتیں قرضے لیتی ہیں ۔ ان قرضوں کی بُنیاد پر معاشی سر گرمیوں کو فروغ ملتا ہے ۔ مالی ضروریات اور بجٹ خسارے پورے ہوتے ہیں اور تعمیر و ترقی کے منصوبے مکمل ہوتے ہیں۔ دھمکیاں دینا ، سب کو چور و ڈاکو کہنا اور ایک ہی سانس میں یہ کہنا کہ میں کسی کو نہیں چھوڑوں گا کسی کی بھی منتیں کر لیں کوئی این آر او نہیں دونگا اور ساتھ یہ ارشاد فرمانا کہ عدالتیں فیصلے کرنے میں آزاد ہیں تو پھر عدالتوں کو فیصلے کرنے دیں آپ خواہ مخواہ دھما چوکڑی کیوں مچائے ہوئے ہیں ۔ چیرمین نیب بھی اگر 35برس برسرِ اقتدار رہنے والوں کا پہلے احتساب ضروری سمجھتے ہیں وہ ضرور اپنا شوق پورا کر لیں لیکن شُرفا کو رسوا کرنے کی روش کو ختم کریں اورخود اُن کی اخلاقی حیثیت پر جو الزامات سامنے آئے اُن کا بھی جواب دے کر قوم کو مطمئن کریں۔


ای پیپر