ٹیکس اکٹھا کرنے کے لیے ہندوستان اور چائنا سے سبق سیکھیں
06 جولائی 2019 2019-07-06

تحریک انصاف نے اپنی حکومت کا پہلا بجٹ پیش کیا ہے۔ یہ بجٹ ماضی کے بجٹوں جیسا بجٹ ہے جس سے عوام کو ریلیف ملتا دکھائی نہیں دیتا۔ اس بجٹ میں کوئی بھی ایک اقدام ایسا نہیں ہے جسے انقلابی کہا جا سکے یا جسے پڑھ کر یہ محسوس ہو کہ حکومت پاکستانی معیشیت کو راہ راست پر لانے میں کامیاب ہو جائے گی۔ اس بجٹ کا سب سے خوفناک پہلو پانچ ہزار پانچ سو پچپن ارب کا ٹیکس ہدف ہے جو کہ آئی ایم ایف کے کہنے پر رکھا گیا ہے۔ جبکہ حکومت پچھلے نو ماہ کا تین ٹریلین کا ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے۔

اگر پاکستان یہ ہدف حاصل نہ کر سکا تو آئی ایم ایف پاکستان کی قسط روک لے گا۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حکومت یہ ٹیکس ہدف کیسے حاصل کرے گی؟ کیا حکومت کے پاس کوئی منصوبہ بندی ہے؟ حکومت کی گھبراہٹ اور خاموشی سے یہ احساس ہو رہا ہے کہ بظاہر ان سوالات کے جوابات نہیں ہیں۔ حکومت کس طرح آئی ایم ایف کے ٹیکس ہدف کو حاصل کر سکتی ہے اس حوالے میں کچھ تجاویز حکومت کے سامنے رکھ رہا ہوں۔ تجاویز دینے سے پہلے میں آپ کی توجہ ہندوستان اور چین کے ٹیکس کولیکشن نظام کی طرف دلوانا چاہتا ہوں۔ ہندوستان میں 14-2013 کی ٹیکس آمدنی 6.38 لاکھ کروڑ تھی جو 19-2018 میں بڑھ کر 12لاکھ کروڑ ہو گئی ہے۔ ٹیکس ریٹرن جمع کروانے والوں کی تعداد 3.79 کروڑ سے بڑھ کر 6.85 کروڑ ہو گئی ہے۔

ہندوستان نے یہ کامیابی کیسے حاصل کی آئیے جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔

دنیا کی جدید ترین معیشتوں کی طرح ہندوستان نے ٹیکس اکٹھا کرنے کے لیے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی پر انحصار شروع کر دیا ہے۔ ہندوستان نے موبائل فون بینکنگ کی طرف توجہ دی ہے۔ موبائل سے ادائیگیوں کو آسان بنانے کے لیے ہندوستانی سرکار نے یونیفائیڈ پیمنٹ انٹرفیس (یو پی آئی) متعارف کروایا ہے۔ مودی سرکار نے تمام دکانداروں اور سٹور مالکان کو بینک اکاونٹ کھولنے اور یو پی آئی نظام کے ساتھ منسلک ہو جانے کی ہدایت کی۔ اس نظام کے ذریعے کسی بھی چیز کی خریداری اتنی آسان ہو گئی جتنا آسان ایک واٹس ایپ کو استعمال کرنا ہے۔ اگر آپ کوئی سامان خریدنا چاہتے ہیں تو اپنے موبائل فون سے سامان پر لگا کیو آر کوڈ سکین کریں اور پلک جھپکتے ہی دکاندار کو رقم کی ادائیگی ہو جائے گی۔ اگر کیو آر کوڈ سکین نہیں کرنا چاہتے تو دکاندار کے اکاونٹ میں رقم لکھ کر ٹرانسفر کر دیں۔ اس کے علاوہ کارڈ سویپنگ مشین کے پاس موبائل لائیں تو کارڈ سویپ کیے بغیر آپ کے بینک اکاونٹ سے دکاندار کے اکاونٹ میں رقم منتقل ہو جائے گی۔ اس نظام نے بھارت میں ایک انقلاب برپا کر دیا ہے۔ مارچ 2019 تک 143بینکس یو پی آئی کے ساتھ منسلک ہو گئے ہیں۔ ایک ماہ کی ٹرانزیکشن کی تعداد 799.54 ملین ہو گئی ہے جن کی مالیت 1.334 ٹریلین بھارتی روپے یا انیس بلین امریکی ڈالر ہے۔ بھارتی حکومت کی ان سنجیدہ کاوشوں سے ٹیکس چوری کو روکنے میں مدد ملی ہے اور ٹیکس کی آمدنی میں تقریباً سو گنا اضافہ ہو گیا ہے۔ سال 19-2018 کا براہ راست ٹیکس کولیکشن ہدف گیارہ لاکھ پچاس کروڑ روپے تھا۔ ہندوستانی سرکار نے نہ صرف ٹیکس ہدف کو حاصل کیا بلکہ ہدف سے پچاس ہزار کروڑ زیادہ ٹیکس اکٹھا کیا جو کہ ڈیجیٹل اکانومی کی کامیابی کا ثبوت ہے۔

اس کے علاوہ چین کی اکانومی ڈیجیٹل خریدوفروخت کی بہترین مثال ہے۔ چین دنیا کی سب سے بڑی موبائل سے ادائیگی کرنے والی مارکیٹ ہے۔ سنٹرل بینک کے مطابق ملک میں 76.9فیصد لوگ موبائل سے ادائیگیاں کرتے ہیں۔ جب چائنا نے کیش لیس اکانومی کا بیڑا اٹھایا تو عوام کے کو تحفظات تھے کہ اس طریقے سے حکومت ہمیں ٹیکس کے معاملے میں تنگ کر سکتی ہے۔ عوام کے تحفظات کے جواب میں چائنیز حکومت نے اعلان کیا کہ‘‘جب آپ کے پاس چھپانے کے لیے کچھ نہیں ہو گا تو آپ کو کوئی خوف بھی نہیں ہوگا’’ریاست نے عوام کو یقین دلایا کہ ان کی معلومات حکومت کے پاس امانت ہیں اور اگر آپ کچھ غلط نہیں کرتے تو آپ کو پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔حکومتی حکمت عملی نے کام دکھایا اور آج چائنا میں ٹیکس چوری کرنا یا چھپانا تقریباً ناممکن ہے۔

وزیراعظم صاحب آپ جانتے ہیں کہ دنیا میں کامیاب ہونے کا سادہ اور بہترین اصول یہی ہے کہ وہ راستہ اختیار کیا جائے جو کامیاب لوگ، ملک اور قومیں اختیار کرتی ہیں اور وہ راستہ چھوڑ دیا جائے جو ناکام لوگ، ملک اور قومیں اختیار کرتی ہیں۔ پاکستان اس وقت شدید مالی بحران سے گزر رہا ہے۔ میری وزیراعظم پاکستان اور مشیر خزانہ پاکستان سے گزارش ہے کہ ناکام ملکوں کی روایت چھوڑ کر کامیاب ملکوں کے اصول اپنائیں۔ پاکستان کو کیش اکانومی سے نکال کر کیش لیس ڈیجیٹل اکانومی کی طرف گامزن کریں۔ اس کے لیے آپ کو ایک نظام بنانا ہو گا۔ ایسا نظام جس میں کیش کا عمل دخل نہ ہونے کے برابر ہوں اور ایک روپے کی ادائیگی بھی بذریعہ بینک کارڈ یا موبائل کے ذریعے ہو سکے۔ ا یسا نظام جس میں ایک ریڑھی والے سے لے کر جہاز بنانے والوں تک تمام لوگ ٹیکس نظام میں رجسٹرڈ ہوں۔ ٹیکس کم ہو اور ٹیکس بیس زیادہ ہو۔ صرف آپ کی تھوڑی سے توجہ اس طرف ہو جائے اور آپ کے مشیران کو برا نہ لگے تو یہ کام انتہائی آسانی سے سرانجام پا سکتا ہے۔ تمام موبائل اکاونٹ ایف بی آر سے لنک ہوں۔ جب بھی کسٹمر کوئی ادائیگی کرنے لگے تو اس کا ٹیکس خودکار نظام کے ذریعے پہلے کٹے اور رقم ایف بی آر کے اکاونٹ میں چلی جائے اس کے بعد باقی رقم کی ادائیگی دکاندار کو ہو جائے۔ جیسا کہ بینک میں ہوتا ہے۔ جب تک بینک ٹیکس کاٹ نہیں لیتا وہ کسٹمر کی اپنی ذاتی رقم کی ادائیگی بھی نہیں کرتا۔ابتدائی طور پر موبائل یا کارڈ کے ذریعے ادائیگی کرنے والے کے لیے حکومت انعامات اور سہولیات کا اعلان کرے۔ تا کہ عوام اس طریقے کی طرف مائل ہو۔

ملک پاکستان میں موبائل کمپنیوں کا جال پہلے سے بچھا ہواہے اور وہ آن لائن رقم کی منتقلی کی سہولت بھی فراہم کر رہے ہیں۔ آپ سے گزارش ہے کہ آپ بھی ہندوستان کی طرح سرکاری سطح پر یو پی آئی جیسا ایک ادارہ بنائیں جو کہ پورے ملک کے بینکوں سے منسلک ہو۔ عوام میں آگاہی مہم چلائیں اور دکانداروں اور سٹور مالکان کے لیے بینک اکاونٹ کھلوانا اور آن لائن نظام کے ذریعے منسلک ہونے کو لازمی قرار دیں۔ کسی دکاندار کو دکان کھولنے اور ریڑھی والے کو ریڑھی لگانے کی اجازت اس وقت تک نہ دی جائے جب تک وہ موبائل اور آن لائن خریداری کے نظام سے منسلک نہ ہو جائے۔ کیش پر خریدوفروخت کرنے والوں کو جرمانہ کیا جائے اور ان کی دکان سیل کر دی جائے۔ عوام کو یقین دلایا جائے کہ ان کی معلومات حکومت کے پاس امانت ہیں اور اگر انھوں نے کچھ غلط نہیں کیا تو انھیں ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ مجھے امید ہے عوام آپ پر اعتماد کریں گے، آپ کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہوں گے اور پاکستان آئی ایم ایف کے طے کردہ ٹیکس وصولیوں کے ہدف کو با آسانی حاصل کر لے گا۔

تحریک انصاف نے اپنی حکومت کا پہلا بجٹ پیش کیا ہے۔ یہ بجٹ ماضی کے بجٹوں جیسا بجٹ ہے جس سے عوام کو ریلیف ملتا دکھائی نہیں دیتا۔ اس بجٹ میں کوئی بھی ایک اقدام ایسا نہیں ہے جسے انقلابی کہا جا سکے یا جسے پڑھ کر یہ محسوس ہو کہ حکومت پاکستانی معیشیت کو راہ راست پر لانے میں کامیاب ہو جائے گی۔ اس بجٹ کا سب سے خوفناک پہلو پانچ ہزار پانچ سو پچپن ارب کا ٹیکس ہدف ہے جو کہ آئی ایم ایف کے کہنے پر رکھا گیا ہے۔ جبکہ حکومت پچھلے نو ماہ کا تین ٹریلین کا ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے۔

اگر پاکستان یہ ہدف حاصل نہ کر سکا تو آئی ایم ایف پاکستان کی قسط روک لے گا۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حکومت یہ ٹیکس ہدف کیسے حاصل کرے گی؟ کیا حکومت کے پاس کوئی منصوبہ بندی ہے؟ حکومت کی گھبراہٹ اور خاموشی سے یہ احساس ہو رہا ہے کہ بظاہر ان سوالات کے جوابات نہیں ہیں۔ حکومت کس طرح آئی ایم ایف کے ٹیکس ہدف کو حاصل کر سکتی ہے اس حوالے میں کچھ تجاویز حکومت کے سامنے رکھ رہا ہوں۔ تجاویز دینے سے پہلے میں آپ کی توجہ ہندوستان اور چین کے ٹیکس کولیکشن نظام کی طرف دلوانا چاہتا ہوں۔ ہندوستان میں 14-2013 کی ٹیکس آمدنی 6.38 لاکھ کروڑ تھی جو 19-2018 میں بڑھ کر 12لاکھ کروڑ ہو گئی ہے۔ ٹیکس ریٹرن جمع کروانے والوں کی تعداد 3.79 کروڑ سے بڑھ کر 6.85 کروڑ ہو گئی ہے۔

ہندوستان نے یہ کامیابی کیسے حاصل کی آئیے جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔

دنیا کی جدید ترین معیشتوں کی طرح ہندوستان نے ٹیکس اکٹھا کرنے کے لیے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی پر انحصار شروع کر دیا ہے۔ ہندوستان نے موبائل فون بینکنگ کی طرف توجہ دی ہے۔ موبائل سے ادائیگیوں کو آسان بنانے کے لیے ہندوستانی سرکار نے یونیفائیڈ پیمنٹ انٹرفیس (یو پی آئی) متعارف کروایا ہے۔ مودی سرکار نے تمام دکانداروں اور سٹور مالکان کو بینک اکاونٹ کھولنے اور یو پی آئی نظام کے ساتھ منسلک ہو جانے کی ہدایت کی۔ اس نظام کے ذریعے کسی بھی چیز کی خریداری اتنی آسان ہو گئی جتنا آسان ایک واٹس ایپ کو استعمال کرنا ہے۔ اگر آپ کوئی سامان خریدنا چاہتے ہیں تو اپنے موبائل فون سے سامان پر لگا کیو آر کوڈ سکین کریں اور پلک جھپکتے ہی دکاندار کو رقم کی ادائیگی ہو جائے گی۔ اگر کیو آر کوڈ سکین نہیں کرنا چاہتے تو دکاندار کے اکاونٹ میں رقم لکھ کر ٹرانسفر کر دیں۔ اس کے علاوہ کارڈ سویپنگ مشین کے پاس موبائل لائیں تو کارڈ سویپ کیے بغیر آپ کے بینک اکاونٹ سے دکاندار کے اکاونٹ میں رقم منتقل ہو جائے گی۔ اس نظام نے بھارت میں ایک انقلاب برپا کر دیا ہے۔ مارچ 2019 تک 143بینکس یو پی آئی کے ساتھ منسلک ہو گئے ہیں۔ ایک ماہ کی ٹرانزیکشن کی تعداد 799.54 ملین ہو گئی ہے جن کی مالیت 1.334 ٹریلین بھارتی روپے یا انیس بلین امریکی ڈالر ہے۔ بھارتی حکومت کی ان سنجیدہ کاوشوں سے ٹیکس چوری کو روکنے میں مدد ملی ہے اور ٹیکس کی آمدنی میں تقریباً سو گنا اضافہ ہو گیا ہے۔ سال 19-2018 کا براہ راست ٹیکس کولیکشن ہدف گیارہ لاکھ پچاس کروڑ روپے تھا۔ ہندوستانی سرکار نے نہ صرف ٹیکس ہدف کو حاصل کیا بلکہ ہدف سے پچاس ہزار کروڑ زیادہ ٹیکس اکٹھا کیا جو کہ ڈیجیٹل اکانومی کی کامیابی کا ثبوت ہے۔

اس کے علاوہ چین کی اکانومی ڈیجیٹل خریدوفروخت کی بہترین مثال ہے۔ چین دنیا کی سب سے بڑی موبائل سے ادائیگی کرنے والی مارکیٹ ہے۔ سنٹرل بینک کے مطابق ملک میں 76.9فیصد لوگ موبائل سے ادائیگیاں کرتے ہیں۔ جب چائنا نے کیش لیس اکانومی کا بیڑا اٹھایا تو عوام کے کو تحفظات تھے کہ اس طریقے سے حکومت ہمیں ٹیکس کے معاملے میں تنگ کر سکتی ہے۔ عوام کے تحفظات کے جواب میں چائنیز حکومت نے اعلان کیا کہ‘‘جب آپ کے پاس چھپانے کے لیے کچھ نہیں ہو گا تو آپ کو کوئی خوف بھی نہیں ہوگا’’ریاست نے عوام کو یقین دلایا کہ ان کی معلومات حکومت کے پاس امانت ہیں اور اگر آپ کچھ غلط نہیں کرتے تو آپ کو پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔حکومتی حکمت عملی نے کام دکھایا اور آج چائنا میں ٹیکس چوری کرنا یا چھپانا تقریباً ناممکن ہے۔

وزیراعظم صاحب آپ جانتے ہیں کہ دنیا میں کامیاب ہونے کا سادہ اور بہترین اصول یہی ہے کہ وہ راستہ اختیار کیا جائے جو کامیاب لوگ، ملک اور قومیں اختیار کرتی ہیں اور وہ راستہ چھوڑ دیا جائے جو ناکام لوگ، ملک اور قومیں اختیار کرتی ہیں۔ پاکستان اس وقت شدید مالی بحران سے گزر رہا ہے۔ میری وزیراعظم پاکستان اور مشیر خزانہ پاکستان سے گزارش ہے کہ ناکام ملکوں کی روایت چھوڑ کر کامیاب ملکوں کے اصول اپنائیں۔ پاکستان کو کیش اکانومی سے نکال کر کیش لیس ڈیجیٹل اکانومی کی طرف گامزن کریں۔ اس کے لیے آپ کو ایک نظام بنانا ہو گا۔ ایسا نظام جس میں کیش کا عمل دخل نہ ہونے کے برابر ہوں اور ایک روپے کی ادائیگی بھی بذریعہ بینک کارڈ یا موبائل کے ذریعے ہو سکے۔ ا یسا نظام جس میں ایک ریڑھی والے سے لے کر جہاز بنانے والوں تک تمام لوگ ٹیکس نظام میں رجسٹرڈ ہوں۔ ٹیکس کم ہو اور ٹیکس بیس زیادہ ہو۔ صرف آپ کی تھوڑی سے توجہ اس طرف ہو جائے اور آپ کے مشیران کو برا نہ لگے تو یہ کام انتہائی آسانی سے سرانجام پا سکتا ہے۔ تمام موبائل اکاونٹ ایف بی آر سے لنک ہوں۔ جب بھی کسٹمر کوئی ادائیگی کرنے لگے تو اس کا ٹیکس خودکار نظام کے ذریعے پہلے کٹے اور رقم ایف بی آر کے اکاونٹ میں چلی جائے اس کے بعد باقی رقم کی ادائیگی دکاندار کو ہو جائے۔ جیسا کہ بینک میں ہوتا ہے۔ جب تک بینک ٹیکس کاٹ نہیں لیتا وہ کسٹمر کی اپنی ذاتی رقم کی ادائیگی بھی نہیں کرتا۔ابتدائی طور پر موبائل یا کارڈ کے ذریعے ادائیگی کرنے والے کے لیے حکومت انعامات اور سہولیات کا اعلان کرے۔ تا کہ عوام اس طریقے کی طرف مائل ہو۔

ملک پاکستان میں موبائل کمپنیوں کا جال پہلے سے بچھا ہواہے اور وہ آن لائن رقم کی منتقلی کی سہولت بھی فراہم کر رہے ہیں۔ آپ سے گزارش ہے کہ آپ بھی ہندوستان کی طرح سرکاری سطح پر یو پی آئی جیسا ایک ادارہ بنائیں جو کہ پورے ملک کے بینکوں سے منسلک ہو۔ عوام میں آگاہی مہم چلائیں اور دکانداروں اور سٹور مالکان کے لیے بینک اکاونٹ کھلوانا اور آن لائن نظام کے ذریعے منسلک ہونے کو لازمی قرار دیں۔ کسی دکاندار کو دکان کھولنے اور ریڑھی والے کو ریڑھی لگانے کی اجازت اس وقت تک نہ دی جائے جب تک وہ موبائل اور آن لائن خریداری کے نظام سے منسلک نہ ہو جائے۔ کیش پر خریدوفروخت کرنے والوں کو جرمانہ کیا جائے اور ان کی دکان سیل کر دی جائے۔ عوام کو یقین دلایا جائے کہ ان کی معلومات حکومت کے پاس امانت ہیں اور اگر انھوں نے کچھ غلط نہیں کیا تو انھیں ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ مجھے امید ہے عوام آپ پر اعتماد کریں گے، آپ کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہوں گے اور پاکستان آئی ایم ایف کے طے کردہ ٹیکس وصولیوں کے ہدف کو با آسانی حاصل کر لے گا۔


ای پیپر