پپو کی ’’فکرانگیز‘‘ باتیں…
06 جولائی 2019 2019-07-06

دوستو، پپوہمارا بہت ہی پیارا دوست ہے، بلکہ کراچی والوں کی زبان میں اگر کہا جائے تو پپو اپنا ’’جگر‘‘ ہے۔۔ پپو کی باتوں میں ایسی ’’چاسنی‘‘ ہوتی ہے جو ’’شیرے‘‘ سمیت بدرجہ اتم موجود ہوتی ہے اور ان باتوں کا لطف اٹھانے کے لئے شوگر کے مریض بھی مجبور ہوتے ہیں۔۔ پپو کا انداز گفتگو بالکل سادہ سا ہوتا ہے جس میں الگ ہی بھولپن نمایاں ہوتا ہے لیکن ان کی دلچسپ باتوں پہ اگر غور کیا جائے تو الگ ہی فلسفہ نظر آتا ہے، وہ کبھی گہرائی سے سوچتا ہے،اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ ’’ٹویا‘‘ کرکے اس میں بیٹھ کر سوچتا ہے بلکہ سادہ سے انداز میں اگر آپ کو بتانا چاہوں تو یوں سمجھ لیجئے کہ پپو کا مشاہدہ بہت تیز ہے، وہ عام سی باتوں کو بھی اپنے ہی انداز سے دیکھتا ہے پھر اس پر سوچتا ہے اور اس کے بعد جب اس کے منہ سے ’’پھول ‘‘ جھڑتے ہیں تو سننے والوں کے بھی ہاتھ پیر ’’پھول‘‘ جاتے ہیں۔۔آج چونکہ اتوار کا دن ہے اور ہمارے قارئین کی بڑی تعداد آج چھٹی مناتی ہے اس لئے ہم آپ کی چھٹی قطعی ضائع کرنے کے موڈ میں ہرگز نہیں، اس لئے آج آپ کو پپو کی کچھ ’’ فکرانگیز ‘‘ باتیں سناتے ہیں۔۔

پپو کسی کام سے لاہور جارہے تھے، ٹرین کی سیٹ ملی نہیں، بس میں جانے کی عادت نہیں تھی، مجبوری میں جہازکا ٹکٹ کرایااور سیٹ پر جاکر بیٹھ گئے، تھوڑی دیر بعد ایک خاتون اپنی سیٹ نمبر دیکھتی ہوئی آئی ، اور اْس کے ساتھ والی سیٹ پر بیٹھ گئی ، پپو جی کھڑکی سے باہر دیکھ رہے تھے مگر اْنہیں محسوس ہوا کہ وہ خاتون مسلسل اْنہیں گھور رہی ہیں ، اْنہوں نے مڑ کر دیکھا تو وہ خاتون اْنہیں واقعی گھور رہی تھی۔ پپو نے بوکھلاکر پوچھ ہی لیا۔۔ کیا بات ہے محترمہ آپ مجھے ایسے کیوں گھور رہی ہیں؟ خاتون نے کہا، میں گھر سے ائیر پورٹ تک سارے راستے یہی دْعا کرتی آئی ہوں کہ میرے ساتھ کسی خاتون کو سیٹ ملے۔ پپو نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔۔ میں بھی سارے راستے یہی دْعا کرتا رہا ہوں ، اور اللہ جی نے میری دْعا سن لی۔۔ پپو کو پرانا پاکستان بہت پسند ہے، کہتا ہے پرانے پاکستان میں پیاز کاٹتے وقت آنکھوں میں آنسو آتے تھے، جبکہ نئے پاکستان میں پیاز خریدتے وقت آنکھوں میں آنسو آتے ہیں۔۔ پپو نے ایک بہت ہی عجیب انکشاف بھی کیا،فرماتے ہیں۔۔ہر پاکستانی کسی کو مشورہ دینے کے بعد یہ ضرور کہتا ہے کہ باقی آپ کی مرضی، یعنی کہ مشورہ غلط بھی ہو تو الزام نہ آئے۔۔

اب آپ کو پپو کے کچھ اقوال زریں سناتے ہیں۔۔ خاموشی بہت کچھ بیان کرتی ہے، بندہ اداس ہے، ناراض ہے،کسی فکر میں ہے،عادتاً سنجیدہ ہے یاشوہر ہے۔۔کون کہتا ہے کہ پروٹوکول صرف نوازشریف استعمال کرتاتھا۔۔ کبھی گجر کا،پروٹوکول دیکھا ہے سڑک پر ۔۔ 50 مجیں آگے 50 مجیں پیچھے اور ٹریفک بند۔۔وہ دونوں ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے جارہے تھے، وہ دونوں بہت خوش تھے، وہ دونوں میاں بیوی تھے، میاں کسی اورکااور بیوی کسی اور کی ۔۔سب سے زیادہ بے بس انسان نائی کے پاس بال کٹواتے ہوتا ہے اس کا جدھر دل کرے آپ کا سر پکڑ کے مروڑ دیتا ہے اور بندہ اسے کچھ کہہ بھی نہیں سکتا۔۔مرد کی ساری شخصیت ’’پانڈے میں وڑ‘‘ جاتی ہے ، جب وہ’’ لت پر لت ‘‘رکھ کر بیٹھا ہو اور نیچے سے اسکا ناڑا’’ لمک‘‘ رہا ہو۔۔۔کچھ لوگ ہوائی چپل کی طرح ہوتے ہیں، ساتھ تو دیتے ہیں لیکن پیچھے سے کیچڑ بھی اچھالتے ہیں۔۔آف شور کمپنیوں کے بعد اب آف شور بیویوں اور آف شور بچوں پر بھی کاروائی ہونی چاہیئے۔۔ہم لوگوں سے اچھا تو گوگل ہے، وہ تو ان کی مدد بھی کرتا ہے جنہیں گھر میں کوئی دوسری بار سالن نہیں دیتا۔۔ایم این اے کو قومی اسمبلی میں ڈیسک بجانے کا ڈیڑھ لاکھ ملتا ہے جب کہ غریب مزدور کو سارا مہینہ گدھے کی طرح کام کرکے پندرہ ہزار روپے ملتے ہیں۔۔کچھ لوگوں کے لیے مصروف زندگی سے وقت نکالنا پڑتا ہے اور کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جنہیں دل سے نکالنے کیلیے زندگی کو مصروف کرنا پڑتا ہے۔۔ایک روز ہم سے سوال کیا کہ۔۔ کیا حسن کی تعریف کرنا صرف مرد شاعروں کی ہی ذمہ داری ہے، کبھی کسی خاتون شاعرہ نے مونچھ پر کوئی نظم نہیں لکھی، جب کہ مرد شاعروں نے زلفوں پر پورے پورے دیوان چھاپ دیئے۔۔ہم سرکھجا تے رہ گئے تو اگلا سوال داغ دیا، مکھن کون سا مفید ہوتا ہے، جو کھایا جائے یا لگایا جائے؟؟

پپو کا ’’فلسفہ ‘‘ ابھی ختم نہیں ہوا۔۔ورلڈکپ کو انہوں نے’’ واٹر کپ‘‘ کا نام دیا ہے، کہتے ہیں اس بار بارش اتنی ہوئی کہ ورلڈ کپ کا سارا مزہ کرکرا ہوگیا۔۔پاکستانی بالرز کی تعریف کرتے ہوئے کہتے ہیں، پاکستانی بالرز اتنے اچھے ہیں کہ اکثر ان کا فائدہ دوسری ٹیم کو بہت ہوتا ہے۔۔ بنگلا دیش سے قبل انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کے میچ کے اختتام پر ان کا تبصرہ کچھ اس طرح سے تھا کہ، ہمیں نیوزی لینڈ نے لوٹا،انگلینڈ میں کہاں دم تھا، ہماری کشتی وہاں ڈوبی جہاں رن ریٹ کم تھا۔۔لاہور ائرپورٹ پر فائرنگ کے واقعہ کو پپو نے بھی نوٹس لیا اور ہمیں بڑے فکرانگیز انداز میں کہنے لگے،یار یہ لاہور ائرپورٹ پر فائرنگ کوئی کرکٹ ٹیم کی واپسی سے پہلے ہی کرگیا، کچھ صبر ہی کرلیتا۔۔ پپو نے یہ انکشاف بھی کیا کہ پاکستانی ٹیم کی پی آئی اے سے واپسی ہوگی، انیس سو بانوے میں بھی وہی ائرہوسٹس تھیں آج بھی وہی ہوں گی۔۔بنگلہ دیش کے میچ سے قبل ہمیں فون کرکے پوچھنے لگے،یار کسی کے پاس ایسا میسیج نہیں جیسے چالیس لوگوں کو سینڈ کرکے پاکستان سیمی فائنل کے لئے کوالیفائی کرجائے۔۔ہم نے پپو کو سمجھایا کہ بہکی بہکی باتیں نہ کرو، مگر وہ پپو ہی کیا جو باز آجائے کہنے لگے، یار یہ جہانگیر ترین پاکستان میں ہی ہے یا انگلینڈ میں، ہم نے پوچھا کیوں کیا ہوا؟ کہنے لگے، یار کاش وہ بنگلا دیشی کھلاڑیوں سے ایک بار مل لیتے پھر دیکھتے کہ کس آسانی سے ہم جیت سکتے تھے۔۔باباجی نے ایک جملہ کہہ کر بات ہی ’’ دی اینڈ‘‘ کردی کہ۔۔ سقوط ڈھاکا نہ ہوتا تو پاکستان سیمی فائنل میں ہوتا۔۔

اور اب چلتے چلتے آخری بات۔۔غیر ضروری ’’تنقید‘‘ وہ تلوار ہے جوسب سے پہلے خوبصورت تعلقات کاسر قلم کرتی ہے۔۔اس لئے درگزر کرنا سیکھئے ، خوش رہیں اور خوشیاں بانٹیں۔


ای پیپر