تاجروں نے حکومت کیخلاف خطرے کی گھنٹی بجا دی
06 جولائی 2019 (19:50) 2019-07-06

کراچی:کراچی کے تاجروں نے وفاقی بجٹ میں ٹیکسوں کی بھر مار کے خلاف پیر سے تین روزہ ہڑتال کا اعلان کرتے ہوئے وفاقی حکومت کو 11مطالبات پیش کردیئے ہیں ۔

ہفتہ کو کراچی اتحاد کے رہنماو¿ں نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے اعلان کیا کہ کراچی کے تاجر پیر ،منگل اور بدھ کو تین روزہ شٹر ڈاون ہڑتال کریں گے ۔تاجر رہنماوں نے کہا کہ اس وقت تمام تاجر متحد ہیں ۔ویلیو ایڈڈ ٹیکس ختم اور انکم ٹیکس کی چھوٹ کو 12 لاکھ پر واپس لایا جائے ۔ہر دکاندار سے ایک جیسا ٹیکس لیا جائے۔ٹیکس دینے والوں کا آڈٹ نہیں کیا جائے ۔

گاڑیوں کی درآمد پر ٹیکس کم کیا جائے ۔دکانوں پر چھاپے مارنے کا سلسلہ بندکی جائے ۔انہوںنے مطالبہ کیا کہ ایک کروڑ روپے تک کی سیلزٹیکس کی چھوٹ برقرار رکھتے ہوئے سالانہ 12لاکھ روپے کی آمدنی کوانکم ٹیکس سے استثنیٰ بحال کیاجائے۔50ہزارروپے کی سیل پرکسٹمرز کی سی این آئی سی کی شرط ختم کی جائے۔ہردکاندار سے فکسڈ انکم ٹیکس وصول کیاجائے۔

انکم ٹیکس گوشوارے کواردو زبان میں متعارف کرایاجائے۔4مختلف کٹیگری میں فکسڈ ٹیکس متعار ف کرایا جائے ۔تاجر رہنماوں نے کہا کہ پی ٹی اے سے موبائل فون رجسٹریشن کے نئے قانون کوختم کرکے فی موبائل400روپے ٹیکس عائد کیاجائے۔سیکنڈ ہینڈکلاتھ پر10فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی ختم کی جائے۔

انہوں نے کہا کہ گورنر سندھ نے تاجروں کے حوالے سے غلط گفتگو کی ہے ۔ہم عمران اسماعیل کو ہڑتال کرکے دکھائیں گے ۔انہوں نے گورنر سندھ کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر ہمارے مطالبات پورے نہ ہوئے تو احتجا ج کے دائرے کو ملک بھر تک وسیع کردیا جائے گا ۔


ای پیپر