مریم نواز نے نواز شریف کی بے گناہی کا ثبوت پیش کر دیا
06 جولائی 2019 (17:52) 2019-07-06

لاہور:میاں نوا ز شریف کی صاحبزادی مسلم لیگ ن کی نائب صدرمریم نواز نے نواز شریف کی بے گناہی کے ثبوت پیش کر دئیے ، مریم نواز کا کہنا تھا کہ نواز شریف کیخلاف احتساب نہیں بلکہ انتقام لیا جا رہا ہے ،احتساب عدالت کے جج ارشد ملک نے اپنے ایک ویڈیو میں بتا یا کہ جج نے خود اعتراف کیا کہ میرا فیصلہ جھوٹ تھا ۔

لاہور ماڈل ٹاﺅن میں ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ پاناما سے شروع ہونے والا انتقام کا سلسلہ آج تک جاری ہے۔ جب تین نسلوں کے کھاتے کھنگالنے کے بعد بھی کوئی ثبوت نہ ملا تو کمال ڈھٹائی اور ہٹ دھرمی سے صرف مفروضوں اور انتقام پر مبنی فیصلے سنا دئیے گئے، اور کہا گیا کہ رسیدیں نہیں ملیں۔

مریم نواز نے ہنگامی پریس کانفرنس میں احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی خفیہ کیمرے سے کی گئی ریکارڈ نگ دکھائی اور بتایا کہ یہ ویڈیو میاں صاحب سے محبت کرنے والے پارٹی کے ایک کارکن نے بنائی ہے, مریم نواز نے مزید کہاکہ ایک ریکارڈنگ دکھانے لگی ہوں جو مسلم لیگ ن کے ایک رکن نے بنائی جو نوازشریف کیخلاف العزیزیہ ریفرنس میں سزا سنانے والے جج ارشدملک اور ناصر کی گفتگو پر مبنی ہے ، ویڈیو میں دکھایاگیا کہ جج صاحب کے گھر میں ناصر بٹ کی گاڑی گئی۔

جج کی گفتگو ۔۔۔

مریم نواز نے بتا یا کہ جج نے خود اعتراف کیا کہ میرا فیصلہ جھوٹ تھا ، مریم نواز کے مطابق جج نے آڈیو میں کہا کیس میں کوئی مالی بدعنوانی، کمیشن وغیرہ کا الزام کا ثبوت نہیں، یہاں وہی بات ہوگئی جو اس وقت ڈسکس کی تھی۔ جج نے لیگی کارکن سے آڈیو گفتگو میں کہا کہ آپ ایسا کریںکہ میرے گھر آئیں، رات کو نیند نہیں آتی، کہیں کسی بے گناہ سے زیادتی تو نہیں ہورہی ، میں آپ کوپوائنٹس دینا چاہتا ہوں جونوازشریف کے وکلائ تک پہنچ جائے۔وہ صاحب آدھے راستے میں پہنچے تو جج نے فون کیا کہ آپ گھر آجائیں، آپ کو اپنی گاڑی بھیجتا ہوں، وہ آپ کو لے آئے گی ، ناصر صاحب وہیں رک گئے ، اگرآپ مجھے اجازت دیں تو سٹینو کوساتھ لے آﺅں،جج صاحب نے کہاکہ بھروسے کا بند ہ ہے تو لے آئیں، پھرجج کی گاڑی آئی اور گھر پر لے گئی، اس ملاقات میں جج صاحب فیصلے کی غلطیاں بتارہے ہیں اور پنجابی میں کہا نہ اے الزام ہے ، نہ اے ثبوت ہے ، فیملی کے اثاثوں اور ذرائع آمدن کو دیکھا ہی نہیں گیا، فیملی بزنس تک گئے ہی نہیں، نہ ہی اس طرف دھیان دیا گیا۔

مریم نواز شریف نے اس موقع پر احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی خفیہ کیمرے سے کی گئی ریکارڈ نگ دکھائی اور بتایا کہ یہ ویڈیو میاں صاحب سے محبت کرنے والے پارٹی کے ایک کارکن نے بنائی ہے, مریم نواز نے مزید کہاکہ ایک ریکارڈنگ دکھانے لگی ہوں جو مسلم لیگ ن کے ایک رکن نے بنائی جو نوازشریف کیخلاف العزیزیہ ریفرنس میں سزا سنانے والے جج ارشدملک اور ناصر کی گفتگو پر مبنی ہے ، ویڈیو میں دکھایاگیا کہ جج صاحب کے گھر میں ناصر بٹ کی گاڑی گئی، دونوں ڈرائنگ روم میں بیٹھے اور گفتگو ہوتی رہی کہ اس جگہ سے ڈینٹ کیا، تھوڑا گمایا، وہ زبان سے کہہ رہے ہیں کہ میرے فیصلہ جھوٹ تھا۔ مریم نواز کے مطابق جج نے آڈیو میں کہا کیس میں کوئی مالی بدعنوانی، کمیشن وغیرہ کا الزام کا ثبوت نہیں، یہاں وہی بات ہوگئی جو اس وقت ڈسکس کی تھی۔ جج نے لیگی کارکن سے آڈیو گفتگو میں کہا کہ آپ ایسا کریںکہ میرے گھر آئیں، رات کو نیند نہیں آتی، کہیں کسی بے گناہ سے زیادتی تو نہیں ہورہی ، میں آپ کوپوائنٹس دینا چاہتا ہوں جونوازشریف کے وکلاءتک پہنچ جائے۔وہ صاحب آدھے راستے میں پہنچے تو جج نے فون کیا کہ آپ گھر آجائیں، آپ کو اپنی گاڑی بھیجتا ہوں، وہ آپ کو لے آئے گی ، ناصر صاحب وہیں رک گئے ، اگرآپ مجھے اجازت دیں تو سٹینو کوساتھ لے آ?ں،جج صاحب نے کہاکہ بھروسے کا بند ہ ہے تو لے آئیں، پھرجج کی گاڑی آئی اور گھر پر لے گئی، اس ملاقات میں جج صاحب فیصلے کی غلطیاں بتارہے ہیں اور پنجابی میں کہا نہ اے الزام ہے ، نہ اے ثبوت ہے ، فیملی کے اثاثوں اور ذرائع آمدن کو دیکھا ہی نہیں گیا، فیملی بزنس تک گئے ہی نہیں، نہ ہی اس طرف دھیان دیا گیا،ذرائع آمدن کا تعین ہوگا تو پھر ہی سب کچھ ہوسکے گا،۔

جج نے مزید کہا کہ ۔۔۔

مریم نوازکے مطابق جج ویڈیو میں مزید فرمارہے ہیں کہ حسین غیرمقیم پاکستانی ہے ، یہاں تو اس کا کوئی شواہد نہیں کہ یہاں سے لے کر گیا، ایسا کوئی شواہد نہیں کہ پاکستان سے رقم منتقل کی گئی ، ملزم کی طرف سے پاکستان سے رقم منتقلی کا ثبوت نہیں، لندن پراپرٹیز کی بنیاد پر وزیراعظم کو نااہل کیاگیا، پراسیکیوشن کے دوران پانا ماکیس ثابت کرنے میں ناکام رہی اور معاملات کو مشکوک بنارہی ہے ، مطلب ڈبل سٹینڈرڈ ہے ، کوئی شہادت ہی نہیں تھی کہ پراپرٹیز نوازشریف کے پیسے سے خریدی گئیں، ناصر نے حکومت کی طرف سے میسجرآنے کاسوال کیاتو جوابی طورپر جج صاحب کے سامنے ایک ویڈیو چلادی گئی، انہیں ایک کمرے میں بٹھایا گیا اور جج کے سامنے لگی سکرین پر کچھ ویڈیو چلی اور واپس آکر ان لوگوں نے کہا کہ کوئی بات نہیں، ہوجاتا ہے ، یعنی بلیک میل کیاگیا۔ناصرصاحب سے جج صاحب نے کہا کہ دس سال پرانی بات تھی لیکن اس ویڈیو میں ان کے پاس بالکل درست معلومات تھی لیکن ان معلومات کے بارے مٰیں زیادہ بات نہیں کرنا چاہتے کیونکہ یہ اللہ اور اس شخص کامعاملہ ہے۔ناصر صاحب نے کہا کہ ہمارے ساتھ مل جائیں، یہی بہتر نہیں ہے تو جج نے کہا کہ میرے پاس یہی ا?پشن ہے کہ خود کشی کر لوں۔

مزید تفصیل آرہی ہے ۔۔۔


ای پیپر