عمرہ نامہ ! ........(دسویں قسط)
06 جولائی 2019 2019-07-06

گزشتہ سے پیوستہ....

خانہ کعبہ کی طرف پہلی نظر پڑتے ہی کچھ دعائیں مانگنے کے بعد میں نے خانہ کعبہ کو جی بھر کر دیکھا۔ مجھ پر رقت طاری تھی، میں سوچ رہا تھا میں کتنا خوش نصیب انسان ہوں ساری عمر اپنی ٹوٹی پھوٹی نمازوں میں ہم یہ کہتے ہیں ”منہ میرا قبلہ شریف کی طرف“، آج قبلہ شریف کے سامنے کھڑا تھا، میں نے خانہ کعبہ کے داخلی دروازے کے قریب پڑے آب زم زم کے بڑے بڑے کولروں میں سے ایک کولر سے دوگلاس پیئے، سفر کی تھکان کی وجہ سے جسم کا جوڑ جوڑ درد کررہا تھا، جیسے ہی آبِ زم زم میرے حلق سے نیچے اُترا ایک عجیب ٹھنڈسی پڑ گئی، یوں محسوس ہوا صدیوں سے کسی سوکھے درخت کو پانی مِل گیا ہو، صدیوں سے پیاسی کسی دھرتی پر موسلادھار بارش ہو گئی ہو، آب زم زم پینے سے پہلے میں اِس احساس میں مبتلا تھا گھٹنوں میں شدید درد ہے، پیٹ بھی اپ سیٹ ہے۔ اِس حالت میں صحیح طرح عمرہ کیسے کرسکوں گا؟،یا اُس جذبے سے کیسے کرسکوں گا جو کئی برسوں سے میرے دِل میں پل رہا ہے، .... مگر آب زم زم پینے کے بعدمیں خود کو توانا محسوس کرنے لگا، اِس سے پہلے میرے گھٹنوں میں اتنا درد تھا، میں اتنا تھکا ہوا تھا یوں محسوس ہورہا تھاجیسے میں پاکستان سے پیدل چل کر یہاں پہنچا ہوں، دوگلاس آب زم زم نے میری ساری تھکاوٹ دورکردی تھی، شکرانے کے نوافل ادا کرنے کے بعد میں نے خانہ کعبہ کے طواف شروع کردیئے، رش بہت زیادہ تھا، مسلمانوں کا جذبہ دیدنی تھا، میں سوچ رہا تھا جس جذبے اور لگن سے ہم حج اور عمرے وغیرہ کرتے ہیں اِسی جذبے اور لگن سے ہم اللہ کے دیگر احکامات یا فرائض پر خصوصاً حقوق العباد پر عمل کرنا شروع کردیں ہماری دنیا اور آخرت دونوں سنور جائیں، افسوس ہم میں سے اکثر لوگوں کی حج اور عمرے کی ادائیگی کے دوران نیت اور جذبے کچھ اور ہوتے ہیں اور جیسے ہی اس سے ہم فارغ ہو جاتے ہیں فوراً دنیا داری کے اُس مقام پر واپس آجاتے ہیں جو مختلف اقسام کی غلاظتوں سے بھراہوا ہوتا ہے ، جیسے ہم کسی کے جنازے میں شریک ہوتے ہیں ہم پر یہ احساس غالب آجاتا ہے اپنی تمام حباثتوں کو ترک کرکے اُس سیدھی راہ پر ہمیں چلنا چاہیے ہمارے دین نے ہمارے لیے جو متعین کی ہے، مگر جیسے ہی جنازے سے ہم فارغ ہوتے ہیں ہمارے دنیاوی معاملات میں رتی بھر فرق نہیں آتا، .... خانہ کعبہ کے سات طواف مکمل کرنے کے بعد اگلامرحلہ صفاومروہ کے چکر مکمل کرنا تھا، یہ خوشبوﺅں سے بھرا ہوا ایسا روشن مقام ہے میرے خیال میں اُس وقت ہرمسلمان کا ضرور یہ جی چاہتا ہوگا وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے یہیں رہ جائے، .... یہ مرحلہ بھی بڑی آسانی اور روانی سے مکمل ہوگیا، اس دوران عصر کی اذان ہوگئی، ہرطرف ایک ٹھہراﺅ سا آگیا، لوگ نماز کی تیاری کرنے لگے۔ عمرے کی ادائیگی اور نماز سے فارغ ہونے کے بعد میں خانہ کعبہ کے سامنے ایک مقام پر آکر بیٹھ گیا، ایسا سکون شاید ہی زندگی میں کبھی میں نے محسوس کیا ہو جیسا اُس وقت تھا، یوں محسوس ہورہا تھا آج میں مکمل ہوگیا ہوں، میں ”اُدھورا“ تھا آج پورا ہوگیا ہوں،میرے پاس زندگی میں صرف ایک ہی نعمت ایک ہی انعام کی کمی تھی جو آج مجھے مل گیا،.... اِس دوران اچانک میری نظر بابر اعوان پر پڑی، وہ آنکھیں بند کیے زاروقطار رورہے تھے، اُن کی بھی اُس وقت وہی کیفیت تھی جو میری تھی، وہ اُس وقت ایک انتہائی طاقت وروزیر تھے مگر اللہ کے گھر میں کوئی طاقتور نہیں ہوتا، وہ جس انداز میں ایک کونے میں بیٹھے ہوئے تھے، جو ”لگن “ اُس وقت اُنہیں لگی ہوئی تھی، اِس حالت میں اُنہیں دیکھ کر میرے دل میں اُن کے لیے بڑی قدر پیدا ہوئی، پھر اُنہوں نے دعا کے لیے ہاتھ اُٹھادیئے۔ میں اُن سے ذرا پرے بیٹھا ہوا تھا، میں نے بھی دعا کے لیے ہاتھ اُٹھا دیئے۔ مجھے لگا میری اور اُن کی دعائیں سانجھی ہیں، میں نے سوچا میں اُن سے ملتا ہوں، اُن کے پاس

جاکر بیٹھتا ہوں، پر میں نے اُنہیں ڈسٹرب نہیں کیا، کچھ دیر بعد میں ہوٹل میں اپنے کمرے میں واپس آگیا، میں نے سوچا تھوڑا آرام کرتا ہوں، رات کو صدر زرداری کی جانب سے ہوٹل میں ڈنر کا اہتمام کیا گیا تھا، سعودی حکام نے اُن کے عمرے کے لیے رات دیر گئے کا وقت مقرر کیا ہوا تھا، ڈنر کے دوران زرداری اپنے ساتھ عمرے پر آنے والے تمام لوگوں سے ملے، بلکہ اُن میں گھل مل گئے، میری نظریں بابر اعوان کو ڈھونڈ رہی تھیں، میرا خیال تھا اب تک وہ بھی خانہ کعبہ سے اپنے ہوٹل واپس آگئے ہوں گے، وہ مجھے کہیں دیکھائی نہیں دیئے، اِس دوران زرداری صاحب نے کسی سے پوچھا ” یہ بابر اعوان کدھر غائب ہے“ ....میں نے عرض کیا وہ ”غائب “ نہیں ” حاضر “ ہیں اور وہیں حاضر ہیں جہاں اصل میں ہم سب کو ہونا چاہیے“ .... میرا خیال تھا وہ میری بات سمجھ نہیں پائیں گے، اُنہوں نے فرمایا ”آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں، میں نے اُنہیں بتایا ہم نے عمرہ کرلیا ہے، اُنہوں نے مبارک دی، اُس کے بعد وہ وہاں سے چلے گئے، میں اپنے کمرے میں واپس آگیا، سونے کی کوشش کی مگر اِس تڑپ نے سونے نہیں دیا یہاں زیادہ سے زیادہ وقت عبادت میں گزرنا چاہیے، میں نے قرآن پاک پڑھنا شروع کردیا، اِس دوران کمرے کے فون کی گھنٹی بجی۔ زرداری کے ملٹری سیکرٹری نے بتایا ” صاحب عمرے کے لیے روانہ ہونے والے ہیں، آپ نے ساتھ جانا ہے تو نیچے لابی میں آجائیں “، میں نے احرام باندھا اور ٹیکسی لے کر مسجد عائشہ چلے گیا، وہاں دوسرے عمرے کی نیت کرنے کے بعد خانہ کعبہ آیا تو دیکھا سخت سکیورٹی میں زرداری اپنے وفد کے اراکین کے ساتھ طواف کررہے تھے۔ سکیورٹی سٹاف نے اُنہیں مکمل طورپر اپنے حصار میں لے رکھا تھا، میرے لیے ممکن نہیں تھا میں اِس حصار کو توڑ کر اُن کے ساتھ مل جاﺅں میں نے اپنے طورپر طواف شروع کردیئے، دوران طواف پتہ نہیں کیسے زرداری کی نظر مجھ پر پڑ گئی، اچانک ایک ہٹے کٹے سکیورٹی گارڈ نے آواز دے کر اپنی جانب مجھے متوجہ کیا تو فوراً پہلا خیال یہ آیا مجھ سے کوئی غلطی ہوگئی ہے اور یہ گارڈ مجھے اب نہیں چھوڑے گا، پھر وہ میرے قریب آگیا اور مجھے بازو سے پکڑ کر تیزی سے کھینچتے ہوئے زرداری کے پاس لے گیا ۔ (جاری ہے)


ای پیپر