فااعتبرو یا اولی الابصار
06 جولائی 2018 2018-07-06

کون نہیں جانتا اور کہ 28جولائی 2017 ء کوپاکستان کی سپریم کورٹ کے5 رکنی بنچ نے پاناما لیکس کے معاملے میں اپنے متفقہ فیصلے میں وزیر اعظم نواز شریف کو نااہل قرار دیتے ہوئے ان کے اور ان کے خاندان کے افراد کے خلاف نیب میں ریفرنس دائر کرنے کا حکم دیا تھا۔سپریم کورٹ کے بنچ نے جس میں پاناما لیکس کے معاملے پر ابتدائی مقدمہ سننے والے پانچوں جج صاحبان شامل تھے، آئین پاکستان کے آرٹیکل 184 کے تحت دائر درخواستوں پر اپنے فیصلہ سناتے ہوئے کہا تھاکہ ’ نواز شریف 2013 ء میں دائر کیے گئے کاغذات نامزدگی میں ایف زیڈ ای نامی کمپنی میں اپنے اثاثے ظاہر نہ کر کے صادق اور امین نہیں رہے۔عدالت نے اپنے فیصلے میں الیکشن کمیشن کو حکم دیا کہ صادق اور امین نہ رہنے کی وجہ سے الیکشن کمیشن فوری طور پر پارلیمان سے ان کی رکنیت کے خاتمے کا نوٹیفیکشن جاری کرے۔عدالتی حکم پر الیکشن کمیشن آف پاکستان نے نواز شریف کی قومی اسمبلی کی رکنیت ختم کرنے کا نوٹیفیکیشن بھی جاری کر دیا ۔الیکشن کمیشن کے نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ ’ سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں نواز شریف کی لاہور سے قومی اسمبلی کے حلقے این اے 120 سے رکنیت ختم کر دی گئی ہے اور یہ فیصلہ فوری طور پر نافذ العمل ہوگا‘۔
28جولائی 2017ء کے سپریم کورٹ کے فیصلے پرتبصرہ کرتے ہوئے 8اگست 2017ء کو پنجاب ہاؤس اسلام آباد میں صحافیوں سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نوازشریف نے شدید غم و غصہ اور پژمردہ لہجے میں کہاکہ ’’ فیصلے سے لگتا ہے میری نااہلی کا فیصلہ ہوچکا تھا، وجہ تلاش کی جارہی تھی، کچھ نہیں ملا تو بیٹے کی کمپنی سے تنخواہ نہ لینے پر مجھے فارغ کر دیا گیا ،کروڑوں لوگ ووٹ دیں اور بیٹے کی کمپنی سے تنخواہ نہ لینے پر 5 قابل احترام جج نااہل کر دیں ،یہ مناسب نہیں‘۔ انہوں نے زرد دے کر کہا تھا کہ ’اگر مجھے نکالنا تھا تو کسی وجہ پر نکالتے، نیب کا قانون مشرف نے سیاستدانوں بالخصوص میر ے لیے بنایا،نیب قانون کے خاتمے کا ارادہ تھا لیکن مجھے موقع نہیں ملا‘۔اب کون ہے جو ان سے استفسار کرے کہ آپ کو چار سال 2ماہ اقتدار کے لیے فری ہینڈ دیا گیا، لیکن یہ اپ کا تغافل تھا کہ آپ میثاق جمہوریت کی اولین شق پر بھی عملدرآمد نہ کرسکے۔اسی دوران نا اہل وزیراعظم نے ’’عوامی عدالت‘‘ سے اپنے حق میں فیصلے لینے کے لیے جی ٹی روڈ کے ذریعہ اسلام آباد سے لاہور کے لیے روانہ ہونے کا فیصلہ کیا۔عین اس وقت جب میاں نوازشریف صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے عدالتِ عظمیٰ کے فیصلے کے بارے اپنے تحفظات، شکوے اور شکایات ریکارڈ پر لا رہے تھے تو اسلام آباد ہی میں سابق وزیر اعظم کے جی ٹی روڈ پراعلان کردہ پاور شو کے حوالے سے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اسلام آباد میں پریس کانفرنس میں یہ سوال اٹھا رہے تھے ’ جب ہم سڑکوں پر نکلے تو الزام لگایا گیا ہم جمہوریت کو ڈی ریل کرنا چاہتے ہیں اور ہمیں اشارہ ملا ہے لیکن اب نواز شریف بتائیں انہیں یہ سب کرنے کیلئے کہاں سے اشارہ ملا،نوازشریف کو کس نے یہ اشارہ دیا کہ فوج کو بدنام کیا جائے،کہیں باہر بیٹھے لوگوں سے نوازشریف کو اشارہ تو نہیں مل رہا۔
8اگست 2017ء کی سہ پہر الیکشن کمیشن کی طرف سے جاری کیے گئے نوٹس میں کہا گیا کہ’ پولیٹیکل پارٹیز ایکٹ 2002ء کے تحت کوئی بھی نااہل شخص پارٹی کا عہدہ نہیں رکھ سکتا، پاکستان مسلم لیگ نواز کے پارٹی آئین کے تحت بھی صدارت کا عہدہ ایک ہفتے سے زیادہ عرصے تک خالی نہیں رہ سکتا ہے‘۔الیکشن کمیشن نے حکمران جماعت کو ہدایت کی کہ وہ نیا صدر منتخب کر کے الیکشن کمیشن کو آگاہ کرے‘‘۔۔۔ادھر حکمران جماعت کی طرف سے بتایا جا رہا تھا کہ ’’عدالت عظمیٰ کے فیصلے کے خلاف نظرثانی کی اپیل تیار کر رہی ہے اور آئندہ ہفتے اس کی جانب سے نظرثانی کی اپیل دائر کیے جانے کا امکان ہے‘‘۔تاہم قانونی ماہرین کی رائے تھی کہ ’’ آئین کے آرٹیکل 184کی ذیلی شق تین کے تحت کیے گئے فیصلے میں نظر ثانی کا اختیار بڑا محدود ہوتا ہے اور اکثر مقدمات میں نظرثانی کی اپیل کی سماعت بھی سپریم کورٹ کا وہی بنچ کرتا ہے جس نے فیصلہ دیا ہوتا
ہے‘‘۔ نواز شریف نظر ثانی کی اپیل کے حوالے سے متأمل اور متذبذب تھے اور ادھر مسلم لیگ ن کے قائدین غیرعلانیہ طور پر جماعت کے نئے سربراہ کے نام پر بھی غور کر رہے تھے۔ تب یہ سوال بھی پیدا ہواتھا کہ’’ اگر جماعت کا کوئی نیا سربراہ آیا تو کیا یہ جماعت الیکشن کمیشن میں پاکستان مسلم لیگ ن کے نام سے درج ہو گی یا نئے سربراہ کے نام سے اسے موسوم کیا جائے گا‘‘۔ اس فیصلے کے فوری بعد ن لیگ کے ہم خیال حلقوں نے ڈس انفارمیشن کی آزمودہ روایت کو آگے بڑھاتے ہوئے اس قسم کی درفنطنیاں اختراع کرنا شروع کردیں کہ ’خفیہ اور ظاہری قوتیں اب سرگرم عمل ہوچکی ہیں اور وہ بروقت انتخابات کی راہ میں رکاوٹ کھڑی کر کے اپنے مقاصد حاصل کرنا چاہتی ہیں‘۔ انہوں نے یہ شوشا بھی چھوڑا کہ ’یہ قوتیں بعض آلہ کاروں کے ذریعے مطالبہ کر رہی ہیں کہ نگران کے بجائے عبوری یا ٹیکنیکل حکومت قائم کی جائے‘۔یہ سب شدنیاں، درفنطنیاں اور شوشے حالات و حقائق نے غلط ثابت کیے۔ آج نگران حکومت وفاق اور چاروں صوبوں میں سفاف اور غیر جانبدارانہ انتخابات کے انعقاد کی راہ ہموار کر رہی ہے۔ یاد رہے کہ مسلم لیگ ن کا قیام 1988ء میں اس وقت عمل میں آیا جب ڈکٹیٹر جنرل ضیاء الحق نے وزیراعظم محمد خان جونیجو کی حکومت کو برطرف کیا تو پاکستان مسلم لیگ ج صوبہ پنجاب کے سربراہ میاں محمد نوازشریف نے اپنی جماعت کے مرکزی قائد کے ساتھ کھڑا ہونے کے بجائے پاکستان مسلم لیگ ج کو ڈکٹیٹر اور اپنے محسن ضیاء الحق کی خواہش کے مطابق پاکستان مسلم لیگ ن کا نام دیا ۔
بعد ازاں 3 اگست کو قومی اسمبلی میں ملک کے 18 ویں وزیراعظم کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے ایوان سے اپنے پہلے خطاب میں شاہد خاقان عباسی نے کہا تھا کہ ’سابق وزیراعظم محمد نواز شریف نے کوئی کرپشن نہیں کی، ہم 30 سال سے ایک دوسرے کو جانتے ہیں نواز شریف میں کرپشن نہیں دیکھی، سپریم کورٹ کا فیصلہ من و عن قبول کیا ہے لیکن پاکستان کے عوام نے اسے قبول نہیں کیا 4 دن میں جمہوری عمل واپس پٹری پر چڑھ گیا،سیاست ملک میں ایک گالی بن چکی ہے،ملک نے چلنا ہے تو آئین پر عمل کرنا ہو گا،45 دن میں 45 مہینوں کا کام کر کے دکھاؤں گا، یکم نومبر سے ملک میں لوڈشیڈنگ ختم ہو جائے گی۔ امید تھی کہ پارلیمان کے ایوان زیریں سے بھاری مینڈیٹ لے کر کامیاب ہونے والے وزیراعظم ایوان کے سامنے کیے گئے اپنے وعدے بہر صورت ایفا ریں گے لیکن 3 اگست 2017ء سے 31مئی 2018 ء تک اپنے پورے عہد اقتدار میں نواز شریف کے وکیل صفائی بنے رہے اور کوشش کرتے رہے کہ انہیں چوتھے آسماں کے مقدس فرشتوں کی ٹکڑی کا ایک برگزیدہ فرشتہ ثابت کر یں ۔ 9 ماہ 28دن کے عہد اقتدار میں انہوں پاکستان کے وزیر اعظم کے بجائے نواز شریف کے ترجمان اعظم بننے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔ یہی وجہ ہے کہ غیر جانبدار حلقے انہیں جاتی عمرہ کا ربر سٹمپ وزیر اعظم اور نظام سقہ ثانی قراردیتے رہے۔ اپنے لیڈر کی طرح وہ بھی عدلیہ اور پاک افواج کے خلاف بیانات کی چاند ماری کرکے حق نمک ادا کرتے رہے۔
فیصلے کے ہفتہ عشرہ بعدمیاں نواز شریف جب مجھے’ کیوں نکالا کا دیپک راگ‘ الاپتے ہوئے مری سے اسلام آباد پہنچے تو اس روز پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے چترال میں ایک تاریخی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے عدالتِ عظمیٰ سے نا اہل قرار دیے جانے والے وزیر اعظم نواز شریف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا’ میاں صاحب کو تختیاں لگانے کا بہت شوق تھا، تختیاں لگاتے لگاتے انکا تختہ ہو گیا، نااہلی کے ساتھ ان کی منافقانہ سیاست بھی ختم ہوگئی، میاں صاحب خوش نہ ہوں کہ نااہل ہو کر آپ کی جان بچ گئی، آپ کو اپنے ہر ظلم کا ،قوم کی لوٹی ہوئی دولت کا، ملک اور عوام کے ساتھ جو کیا اس کا حساب دینا ہوگا، آپ کی جان ابھی نہیں چھوٹی‘‘۔تب تجزیہ کاروں اور قانونی ماہرین کے ایک قابلِ ذکر حصہ انے معترضانہ سوال اٹھایا تھا کہ ’عدالت کی طرف سے نا اہل قرار دیے جانے والے سابق وزیر اعظم کو مری سے اسلام آباد آتے ہوئے سربراہِ مملکت کا پروٹو کول کیوں دیا گیا؟ نیز انہوں نے کس حیثیت میں سرکاری عمارت پنجاب ہاؤس میں نئے وزیر اعظم ،کابینہ، ارکانِ پارلیمان اور نئی حکومت کے اتحادیوں اور صحافیوں سے ملاقات کی جبکہ عدالتی حکم کے مطابق وہ کسی بھی سیاسی جماعت کی سربراہی اور اس کے اجلاسوں میں شرکت نہیں کرسکتے ‘۔ان کے نزدیک وزیر اعظم اور ان کے ساتھی انہیں پروٹوکول دے کر توہینِ عدالت کے مرتکب ہوئے ہیں‘۔
12اگست 2017ء کو نواز شریف نے’ عوامی عدالت‘ میں بیسیوں مرتبہ یہ سوال اٹھایا کہ ’ مجھے کیوں نکالا‘ اور ایون فیلڈ کیس میں نیب کے فیصلے کے مندرجات میں اس سوال کا کافی و شافی جواب دیدیا ہے کہ ’’نواز شریف تجھے کیوں نکالا‘‘۔ نواز شریف ان کی صاحبزادی نے مذکورہ فلیٹس کی ملکیت کے حوالے سے ایک بھی ٹھوس ثبوت ا،یک بھی ثقہ گواہ اور ایک بھی منی ٹریل عدالت میں پیش نہیں کی۔ ستم ظریفی تو یہ ہے کہ وہ کیس کو قانونی طورپر لڑنے کے بجائے سیاسی طور پر لڑتے رہے۔ انہوں نے ملک کی سب سے بڑی عدالت انصاف سپریم کورٹ، اس کے فاضل جج صاحبان، افواج پاکستان حتی ٰ کہ آئی ایس آئی کی کردار کشی کو کو عوامی مقبولیت اور ووٹ بینک بڑھانے کا مؤثر ہتھیار جانا۔ عوام تو عوام ان کی اپنی جماعت کے بالغ نظر اور دیرینہ ساتھی انہیں سمجھاتے رہے لیکن وہ عاقبت نااندیش مشیروں کے چنگل سے نجات حاصل کرنے میں ناکام رہے۔ان مشیروں کی وجہ سے وہ 28جولائی 2017 سے 6جولائی 2018ء تک کا ہر دن انہیں عملاً تنزل کی گہری کھائی کا رزق بناتا رہا۔ سچ تو یہ ہے کہ ایون فیلد فیصلے کے بعدعام انتخابات میں ن لیگ کے غبارے سے ہوا نکل جائے گی۔ عالم یہ ہے کہ مسلم لیگ ن کا ناقابل تسخیر تصور کیے جانے والے قلعہ لاہور کی فصیلوں میں بھی دراڑیں پڑ چکی ہے اور سنٹرل پنجاب بھی ان کی مٹھیوں سے گرم ریت کی طرح نکل اور سرک رہا ہے۔ اگر نواز اس فیصلے کے بعد وطن واپس نہیں آتے تو میری سوچی سمجھی رائے کہ وہ سیاسی خودکشی کا ارتکاب کریں گے۔
فااعتبرو یا اولی الابصار


ای پیپر