پنڈی ۔۔۔ تحریکِ انصاف بمقابلہ مسلم لیگ ن۔۔۔!
06 جولائی 2018 2018-07-06

25 جولائی کو منعقد ہونے والے عام انتخابات کے کیا نتائج سامنے آئیں گے اس بارے میں کوئی حتمی بات نہیں کی جاسکتی تاہم کچھ عوامل اور فیصلے ایسے ہیں جن کے یہاں راولپنڈی سے انتخابات میں حصہ لینے والے مسلم لیگ ن اور تحریکِ انصاف کے اُمیدواروں کے انتخابی نتائج پر مثبت یا منفی اثرات مرتب سکتے ہیں یا ہو رہے ہیں۔ پہلے تحریکِ انصاف کی طرف آتے ہیں۔تحریکِ انصاف کے بعض فیصلے اس کے لیے کمزوری کا باعث بن سکتے ہیں ۔ تحریکِ انصاف کا قومی اسمبلی کے دو حلقوں NA-60 اور NA-62 سے شیخ رشید احمد کی حمایت کرنے اور اپنے کوئی اُمیدوار کھڑے نہ کرنے کے فیصلے سے تحریکِ انصاف کی صفوں اور اس کے کارکنوں اور دوسری ، تیسری سطح کے لیڈروں میں جو بے چینی پائی جاتی ہے وہ بدستور موجود ہے۔ شیخ رشید احمد نے بہت بھاگ دوڑ کر کے کچھ معاملات کو طے (Settle ) کر نے کی کوشش کی ہے اور اس میں حضرت شیخ کو اپنی ہوشیاری اور سمجھداری سے کچھ کامیابی بھی ہوئی ہے۔لیکن تحریکِ انصاف کے کارکنوں کی ناراضگی کے پہلو کو مکمل طور پر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اسی طرح تحریکِ انصاف کا NA-61 سے مسلم لیگ ن کے ملک ابرار احمد (جو 2008 اور 2013 کے انتخابات میں یہاں سے قومی اسمبلی کے منتخب ممبر رہے ہیں اور اس سے قبل 2002 کے عام انتخابات میں یہاں سے صوبائی اسمبلی کے ایک حلقے سے صوبائی اسمبلی کے رُکن بھی رہ چکے ہیں ) کے مقابلے میں راجہ عامر کیانی کو ٹکٹ دینا ایسا فیصلہ ہے جس کو جوا قرار دیا جاسکتا ہے۔ یہاں سے سید شاہد گیلانی جنہیں تحریکِ انصاف نے مئی 2013 ء کے عام انتخابات میں ٹکٹ دیا تھا اور وہ اپنے ہی لوگوں کی دائر کردہ رٹ کے نتیجے میں الیکشن ٹربیونل کی طرف سے انتخابات میں حصہ لینے کے نااہل قرار پائے تھے اب 2018 ء کے انتخابات میں اس حلقے سے تحریکِ انصاف کے ٹکٹ کی بھر پور آس لگائے بیٹھے تھے۔ تحریکِ انصاف نے پہلے یہاں سے عمران خان کے انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کیا لیکن کچھ دن بعد اس فیصلے کو تبدیل کر کے تحریکِ انصاف شمالی پنجاب کے صدر عامر کیانی کو مقابلے میں لا کھڑا کیا۔ سید شاہد گیلانی نے تحریکِ انصاف کا ٹکٹ نہ ملنے کی بنا پر اپنا ناطہ تحریکِ لبیک یا رسولؐ اللہ سے جوڑ لیا ۔ اب وہ تحریکِ لبیک کے پینل کے ساتھ زور شور سے انتخابی مہم جاری رکھے ہوئے ہیں۔ وہ کامیاب ہوتے ہیں یا نہیں تحریکِ انصاف کو ضرور نقصان پہنچ رہا ہے۔

تحریکِ انصاف کا سرور خان کو قومی اسمبلی کے دو حلقوں NA-59 اور NA-63 سے چوہدری نثار علی خان کے مقابلے میں اُتارنا بھی ایک ایسا ہی فیصلہ ہے جو تحریکِ انصاف کے لیے مثبت کی بجائے منفی نتائج سامنے لا رہا ہے۔ NA-59 سے تحریکِ انصاف کرنل اجمل صابر کو جو کب سے تحریکِ انصاف کے ٹکٹ کی آس لگائے بیٹھے تھے اپنا اُمیدوار نامزد کرتی تو اُس کے لیے زیادہ سود مند ہوتا۔ اجمل صابر 2013 ء کے انتخابات میں یہاں سے چوہدری نثار علی خان جیسے مضبوط اُمیدوار کے مقابلے میں 70 ہزار کے لگ بھگ ووٹ لینے میں کامیاب رہے تھے۔ اب وہ تحریکِ انصاف نظریاتی کے پلیٹ فارم اور بلے باز کے نشان پر مقابلے میں موجود ہیںیقیناًاُ ن کی اس موجودگی سے تحریکِ انصاف کو نقصان پہنچے گا۔ تحریکِ انصاف کے لیے ایک اور پہلو بھی اہمیت کا حامل ہے کہ وہ انتخابات کے تقاضوں بالخصوص پولنگ ڈے کی ضروریات کو پورا کرنے میں کس حد تک کامیاب ہوتی ہے۔ مسلم لیگ ن کو اس میدان میں یقیناًبرتری حاصل ہے کیا تحریکِ انصاف بھی اس حوالے سے اُسی تحرک اور کارکردگی کا مظاہرہ کر سکے گی جو مسلم لیگ ن کے گلی کوچوں اور محلوں میں پھیلے ہوئے روائتی حامیوں اور بلدیاتی نمائندوں کا طرہِ امتیاز ہے۔ یقیناًیہ ایک سوالیہ نشان ہے۔

اب مسلم لیگ ن کی طرف آتے ہیں کہ کون سے ایسے عوامل یا پہلو ایسے ہیں جو اس کے ٹکٹ یافتہ اُمیدواروں کے انتخابی نتائج پر مثبت یا منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ کچھ عوامل یا پہلو جو مئی 2013 ء کے انتخابات میں راولپنڈی میں مسلم لیگ کی کامیابی کے تناسب کو کم کرنے کا باعث بنے تھے اب بھی موجود ہیں۔ ان میں سب سے بڑا عنصر عوام الناس کے بعض حلقوں بالخصوص سنجیدہ سوچ اور فکر کے حامل پڑھے لکھے طبقے کا مسلم لیگ ن کے انتخابات میں حصہ لینے والے زیادہ تر اُمیدواروں کے بارے میں یہ عمومی منفی تاثر ہے کہ یہ بظاہر کسی مالیاتی سکینڈل یا بد عنوانی میں ملوث نہ ہونے کے باوجود اپنے ذاتی مفاد کو ہر صورت میں مقدم سمجھتے ہوئے اپنے سے بہتر صلاحیتوں کے مالک زیادہ موزوں شخصیات کو آگے آنے دینے کے روادار نہیں ہیں اور نہ ہی ان کی ذہنی ، فکری اور تخلیقی صلاحیتوں اور ان کے ویژن کو سامنے رکھ کر ان سے یہ توقع کی جاسکتی ہے کہ یہ بلدیاتی سطح کی سیاست کی حدود سے بلند ہو کر قومی سطح کی سیاست کے تقاضوں کو پورا کر سکتے ہیں۔ پہلے سے انتخابات میں حصہ لینے والے مسلم لیگی اُمیدواروں کے بارے میں یہ عمومی منفی تاثر زائل کرنا آسان نہیں ہے لیکن اب مسلم لیگ ن کے دیرینہ رہنما سینیٹر چوہدری تنویر خان جنہیں مسلم لیگ کی اعلیٰ قیادت کابھر پور اعتماد حاصل ہے پنڈی کی سیاست میں بھر پور طور پر حصہ لینے اور زیادہ فعال کردار ادا کرنے سے صورتحال میں یقیناًمثبت تبدیلی آئی ہے۔ چوہدری تنویر خان کے پاس وسائل کی کمی نہیں اور وہ وسیع اثر و رسوخ اور نیک نامی کی حامل ایسی شخصیت ہیں جس کی ذات پر مالی بدعنوانی یا اخلاقی بے راہ روی کا کوئی دھبہ نہیں۔ ان انتخابات میں راولپنڈی سے مسلم لیگی اُمیدواروں کی کامیابی اُ ن کے لیے چیلنج کا درجہ رکھتی ہے۔ NA-62 سے اُ ن کا بیٹا بیرسٹر دانیال چوہدری شیخ رشید احمد کے مقابلے میں مسلم لیگ ن کا اُمیدوار ہے تو دوسرا بیٹا اُسامہ چوہدری قومی اسمبلی کے حلقہ NA-61 کی ذیل میں آنے والے صوبائی اسمبلی کے حلقہPP-14 سے انتخابات میں حصہ لے رہا ہے اس کے ساتھ اُ ن کے دو قریبی عزیز چوہدری سرفراز افضل اور راجہ ارشد علی الترتیب PP-11 اور PP-13 سے صوبائی اسمبلی کے اُمیدوار ہیں۔ PP-13 NA-60, کی ذیل میں آنے والا صوبائی اسمبلی کا حلقہ ہے جہاں سے مسلم لیگ ن کے حنیف عباسی شیخ رشید احمد کے مدِ مقابل ہیں ۔ چوہدری تنویر خان کے لیے اپنے دونوں بیٹوں اور اپنے دونوں قریبی عزیزوں کی انتخابات میں کامیابی یقیناًایک چیلنج کا درجہ رکھتی ہے اس چیلنج سے اسی صورت میں عہدہ براہ ہوا جا سکتا ہے کہ چوہدری تنویر خان قومی اسمبلی کے تینوں حلقوں NA-60 ، NA-61 اور NA-62 سے مسلم لیگی اُمیدواروں حنیف عباسی ، بیرسٹر دانیال چوہدری اور ملک ابرابر کی کامیابی کے لیے سر دھڑ اور تن ، من، اور دھن کی بازی لگا دیں اُمید واثق ہے ایسا ہی ہو گا۔حنیف عباسی اور چوہدری تنویر خان کے درمیان اختلافات کی باتیں اور راولپنڈی مسلم لیگ ن میں عرصے سے موجود گروپ بندی یقیناًاب قصہ پارینہ بن چکی ہے تاہم NA-62 میں شیخ رشید احمد کے مقابلے میں بیرسٹر دانیال چوہدری کو سیاست میں نووارد ہونے کی وجہ سے زیادہ محنت اور اپنے والدِ گرامی چوہدری تنویر خان کے وسیع اثر و رسوخ اور سیاسی میدان میں روائتی تجربے اور مہارت پر انحصار کرنا ہو گا۔ بیرسٹر دانیال چوہدری اور چوہدری تنویر خان کی خوش قسمتی ہے کہ انہیں NA-62 میں ڈاکٹر جمال ناصر جیسی انتہائی مخلص، نیک نام اور خدمتِ خلق کے شعبے میں نمایاں کارکردگی کی حامل اعلیٰ تعلیم یافتہ اور وسیع روابط اور اثرو رسوخ رکھنے والی شخصیت کا بھر پور تعاون اور حمایت حاصل ہے۔

جہاں تک NA-61 پر مسلم لیگی اُمیدوار ملک ابرار کا تعلق ہے آنجناب کو بھی راولپنڈی کینٹ کی قدیمی اور گنجان آبادیوں میں کچھ اہم شخصیات کی ناراضگی کو ختم کر کے اُ ن کا بھرپور تعاون اور مکمل حمایت حاصل کرنی ہو گی۔ اس ضمن میں بھی چوہدری تنویر خان کی معاونت اور شراکت کارگر ثابت ہو سکتی ہے۔ ٹینچ بھاٹہ سے راجہ جہانداد کا معاملہ کسی حد تک مشکل اور اُلجھا ہوا ہے ۔ راجہ جہانداد کو ملک ابرابر کی ایما پر تحریکِ عدمِ اعتماد پیش کر کے راولپنڈی کینٹ بورڈ کی وائس پریذیڈنٹ شپ سے ہٹایا گیاتھا اب راجہ جہانداد آزاد اُمیدوار کے طور پر NA-61 سے ملک ابرار کے مقابلے میں صف آرا ہیں انہیں جیپ کا انتخابی نشان بھی مل چکا ہے ۔ کیا وہ مسلم لیگی قائدین کے کہنے پر انتخابات سے دستبردار ہونے کے لیے تیار ہونگے یقیناًیہ اتنی آسان بات نہیں ہے۔آدڑہ مغل آباد سے چوہدری ایاز بھی اگر دل و جان سے مسلم لیگی اُمیدواروں کا ساتھ نہیں دیتے ہیں تو اس سے بھی مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔


ای پیپر