پٹرول کی خاطر خون مت بہاؤ
06 جولائی 2018 2018-07-06

جب سے نگران حکومت نے چند ہفتوں میں پٹرول کی قیمت میں 15 فیصد سے زیادہ اضافہ کیا ہے، عوام الناس پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت کو اچھا کہہ رہے ہیں۔ دسمبر سے اب تک پاکستان میں 7 ویں بار قیمتوں میں ردو بدل ہوا ہے۔ کہتے کہ سابقہ حکومت کی مہنگائی کے فروغ کے لیے شب و روز خدمات کو اگر پھر بھی قابل ستائش قرار دیتے ہیں تو یہ ان کی اپنی بصیرت ہے۔ ڈالر کی قدر میں دسمبر سے اب تک 20 فیصد سے زیادہ اضافہ ہو چکا ہے اور تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ نئی حکومت کی تشکیل کے ساتھ ہی ڈالر 135روپے پر پہنچ جانے کے تمام امکانات واضح ہیں کیونکہ نئی حکومت نے 4 بلین ڈالر کی قسط ادا کرنی ہے۔ پٹرول کی قیمت میں ہونے والا حالیہ اضافہ گزشتہ 5 سالوں میں بلند ترین ہے کیونکہ اس سے پہلے کسی ایک وار (حملہ) میں عمومی اضافہ 2 روپے سے 4 روپے تک ہوتا رہا ہے نگران حکومت نے چونکہ عوام سے ووٹ نہیں لینے اس لیے نگرانوں کی تاریخ یہ ہے کہ معاشی طور پر سارے غیر مقبول فیصلے انہی سے کروائے جاتے ہیں
اس صورت حال کا سب سے زیادہ فائدہ سعودی عرب کو پہنچا ہے جس نے ایک تیر سے دو شکار کر لیے ہیں۔ یہ ہر کوئی جانتا ہے کہ پوری دنیا کی معیشت تیل پر چلتی ہے۔ جب تیل کی قیمتیں گرتے گرتے 26 ڈالر تک آ گئیں تو سعودی عرب نے تیل پیدا کرنے والے ممالک کی عالمی تنظیم OPEC کی سفارشات کے باوجود روزانہ پیدا وار میں کمی سے انکار کر دیا ان کا مؤقف یہ تھا کہ یہ کساد بازاری ہمارے خلاف امریکی سازش ہے اور ہم اس کا مقابلہ کریں گے۔ مگر اگلے سال یعنی 2015ء میں شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز کی وفات کے بعد شاہ سلمان بادشاہ بنے جس کسے ساتھ ہی ان کے بیٹے محمد بن سلمان جو اس وقت ولی عہد ہیں نے تمام فیصلے اپنے ہاتھ میں لے لیے۔ ڈونالڈ ٹرمپ کے امریکہ کے صدر بننے کے بعد حالات میں تبدیلی آئی اور امریکہ اور سعودی عرب تاریخ کے اہم موڑ پر ایک دوسرے کے اتنے قریب آ گئے کہ ٹرمپ نے ایران نیو کلیئر ڈیل کو سعودی عرب کے کہنے پر منسوخ کر دیا اور نومبر 2018ء سے ایران پر امریکی (Embargo) معاشی پابندیاں کا آغاز ہونے جا رہا ہے۔ اس طرح سعودی عرب جو کچھ چاہتا تھا وہ اسے مل چکا ہے۔ اس وقت ایران کی پٹرولیم ایکسپورٹ میں واضح کمی آ چکی ہے۔ دوسری طرف لاطینی امریکہ کے اوپیک ممبر وینزویلا میں بحران کی وجہ سے وہاں کی حکومت تیل نکالنے میں دشواریاں محسوس کر رہی ہے۔
وینز ویلا کی یومیہ پیداوار 15 لاکھ بیرل جبکہ ایران کی 10 لاکھ بیرل ہے۔ ان دو ممالک کے آؤٹ ہونے کی وجہ سے تیل کی عالمی پیداوار میں کمی آئی ہے جس کی وجہ سے مارکیٹ فورسز کے تحت قیمتیں چڑھنا شروع ہو گئی ہیں۔ اس صور ت حال میں امریکہ نے سعودی عرب سے درخواست کی ہے کہ وہ اپنی 10 لاکھ بیرل یومیہ پیداوار کو 20 لاکھ بیرل یعنی دو گنا کر دے تا کہ دنیا میں پٹرول کی سپلائی اور قیمتوں میں استحکام لایا جا سکے۔ سعودی عرب نے امریکہ کو یقین دلایا ہے کہ وہ 2 ملین بیرل یومیہ پٹرول پیدا کر سکتا ہے حالانکہ ماہرین اس پر لچک کا اظہا ر کرتے ہیں کہ سعودی عرب کے پاس اتنی capacity نہیں ہے کہ وہ پروڈکشن کو فوری طور پر دوگنا کر دے۔ لیکن سعودی عرب کے لیے خوشخبری یہ ہے کہ اب عالمی مارکیٹ میں ایک طرف تیل کی قیمتیں بڑھی ہیں اور دوسرے اس کی سیل دو گنا ہو گئی ہے گویا سعودی عرب کی پانچوں گھی میں ہیں اس وافر فروخت سے سعودی عرب کی آمدنی دو گنا ہو جائے گی اور شام اور یمن میں ہونے والے جنگی اخراجات اور گزشتہ کساد بازاری سے ہونے والے سارے نقصانات پورے ہو جائیں گے مگر دوسری طرف ایران نے خبر دار کیا ہے کہ اوپیک ممالک پر لازم ہے کہ وہ گزشتہ سال ہونے والے معاہدے کی پاسداری کرتے ہوئے اپنے حصے سے تجاوز نہ کریں ورنہ اوپیک کے ٹوٹنے یا غیر مؤثر ہو جانے کے خطرات پیدا ہو جائیں گے لیکن سعودی عرب نے امریکی ایماء پر اس دھمکی کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا ہے۔
دوسری طرف امریکہ نے یورپین کمپنیوں کو خبردار کیا ہے کہ اگر وہ ایران کے ساتھ کاروبار کریں گی تو امریکہ کی طرف سے ان کو معاشی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا حالانکہ ایران کے ساتھ چھ فریقی معاہدے کے باقی پانچ ممالک آج بھی معاہدے پر عمل درآمد کرنے کے وعدے پر قائم ہیں اس کے باوجود امریکہ اپنی دھونس اور دباؤ سے پوری دنیا پر اثر انداز ہونا چاہتا ہے۔ یہ دراصل معیشت اور پٹرول کی جنگ ہے۔ جس کی حکمت عملی سعودی عرب نے تیار کی ہے جس کے پیچھے شیعہ سنی اختلافات کارفرما ہیں۔ خلیجی خطے کو شیعہ اور سنی بنیاد پر واضح طور پر تقسیم کرنے کے بعد اب سعودی عرب کا مشرق وسطیٰ پر بالادستی حاصل کرنے کا پلان یہ ہے کہ ایران کو معاشی طور پر تباہ کر دیا جائے تا کہ وہ سیاسی طور پر سعودی عرب کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو جائے لیکن اس پلان میں کئی پہلوؤں سے ایسی خرابیاں موجود ہیں جس سے سعودی عرب کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ سعودی عرب نے 2015ء میں یمن پر قبضے کے لیے جو ایڈونچر کی تھی وہ 4 سال سے اس میں بری طرح پھنس چکا ہے اور کئی بلین ڈالر جنگ میں جھونکنے کے باوجود ہر گزرتے دن کے ساتھ یمن کی طرف سے غیر محفوظ ہو رہا ہے۔ اسی اثناء میں قطر کے بارے میں بائیکاٹ پالیسی کی وجہ سے خلیج تعاون کونسل عملاً ختم ہو چکی ہے جس کا فائدہ ایران کو ہو گا۔ اسی اثناء میں لیبیا جس کی یومیہ تیل کی پیداوار ساڑھے آٹھ لاکھ بیرل ہوا کرتی تھی اس وقت وہاں پیداوار صفر ہو چکی ہے کیونکہ سیاسی طور پر لیبیا کو دو حصوں مشرقی لیبیا اور مغربی لیبیا میں تقسیم کرنے کی جو جنگ جاری ہے، اس کی وجہ سے وہاں تیل نکالنے کا کام بری طرح متاثر ہوا ہے۔ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے کی وجوہات میں لیبیا کا تنازع بھی شامل ہے۔ 2001ء میں جب امریکہ نے عراق پر حملہ کرنے کا منصوبہ بنایا تو اس پر سب سے زیادہ عوامی احتجاج امریکی شہریوں کی طرف سے کیا گیا تھا یہ ایک تاریخی حقیقت ہے اور ریکارڈ کی بات ہے جب ایک ہی دن میں دنیا کے 100 بڑے شہروں میں بیک وقت مظاہرے کیے گئے تھے ان مظاہرین نے جو بینر اٹھا رکھے تھے ان پر لکھا ہوا تھا "No blood for oit" یعنی پٹرول کی خاطر خون مت بہاؤ ۔ اس وقت مڈل ایسٹ میں سعودی عرب اور ایران کے درمیان جو تنازع خون ریزی کی طرف بڑھ رہا ہے اس کا بنیادی نقطہ یہی ہے کہ یہ پٹرول پر قبضے اور مفادات کی جنگ ہے جس میں امریکہ نے سعودی عرب کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا ہے اگر یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہا تو ڈونالڈ ٹرمپ کے اگلے الیکشن یعنی 2020ء سے پہلے تصادم کے امکانات بہت زیادہ بڑھ جائیں گے۔ ماہرین کے مطابق رواں سال کے آخر میں قیمتوں میں کمی آنے کا امکان ہے اور اگلے سال یعنی 2019میں تیل کی اوسط قیمت 66 ڈالر فی بیرل ہو گی جس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان میں پٹرول 80 روپے کے قریب فروخت ہو گا۔ یہ پیش گوئی عالمی سطح پر تو درست ہو سکتی ہے مگر پاکستان میں تیل کی قیمتیں اس حساب سے کم نہیں ہوتیں لہٰذا یہ خوش فہمی نہیں رکھنی چاہیے۔ البتہ ایک بات طے شدہ ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ میں ایران اور سعودی عرب کے درمیان تصادم کو نوبت آئی تو پٹرول کی قیمتیں مزید بڑھ جائیں گی اس ضمن میں جس طرح شام اور یمن پر کنٹرول حاصل کرنے کے سنہرے خواب جس طرح چکنا چور ہوئے ہیں۔ سعودی عرب کوسوچنا ہو گا کہ ایران ان دونوں سے زیادہ مشکل ہدف ہے۔ اور اگر ایک دفعہ جنگ شروع ہو گئی تو حالات پر سعودی عرب یا امریکہ کی گرفت نہیں رہے گی۔ جنگ شروع کرنے والے فریق اکثر یہ بھول جاتے ہیں کہ جنگ ختم کرنے کا اختیار ان کے پاس نہیں بلکہ ان کے مخالفین کے پاس ہوتاہے۔


ای پیپر