چڑیا گھر کی سیر ۔۔۔ اور الیکشن کی آمد آمد ۔۔۔؟؟
06 جولائی 2018 2018-07-06

شاہد جاوید سرپکڑے میرے سامنے بیٹھے تھے۔ عرصہ تین سال سے ’’شرافت‘‘ کی زندگی گزار رہے ہیں۔ میں نے سر پکڑنے کی وجہ پوچھی تو جھٹ بولے ۔۔۔’’آپ والی وجہ ۔۔۔؟‘‘۔۔۔میں سوچ میں پڑ گیا ۔۔۔ ’’میرے والی وجہ ۔۔۔‘‘ یہ کیا وجہ ہو سکتی ہے۔۔ لاہور والی وجہ یا گجرات والی ۔۔۔؟ (ہر آدمی دوسرے کے بارے میں خود ہی اندازے لگاتا رہتا ہے ۔۔۔؟)۔۔۔میں نے کافی غور کیا لیکن سمجھ نہ سکا ۔۔۔ مجھے بھی کبھی کبھی دس بجے دن اور ایک بجے رات کے بعد سر درد شروع ہو جاتا ہے ۔۔۔ اس دوران اچانک خرم کی کمرے میں آمد پر شاہد جاوید نے سر سے ہاتھ پرے کرتے ہوئے ۔۔۔ خرم کو ہنستے ہوئے ’’ویلکم‘‘ کہا ۔۔۔ لیکن میں نے ۔۔۔ خود خرم کو بتا دیا ۔۔۔ شاہد جاوید صاحب کا سر درد والا معاملہ بتایا تو خرم نے ایک دم سے کہا ۔۔۔ بھابھی صاحبہ کو فون کر کے بتا دیں ۔۔۔؟۔۔۔خرم نے شاید دکھتی رگ پر ہاتھ رکھ دیا ۔۔۔ شاہد جاوید ہنسنے لگا ۔۔۔ ناں ناں اس تردد کی کوئی ضرورت نہیں، میں تو بالکل ٹھیک ہوں ۔۔۔ کوئی درد نہیں سر میں۔۔۔ مجھے حیرت ہوئی یہ ۔۔۔ تیر نشانے پر لگا ۔۔۔ (حالانکہ اس دوران شاہد جاوید صاحب تین بار پانی کے پورے پورے گلاس حلق میں انڈیل چکے تھے) ۔۔۔بیوی کے حوالے سے میری بدنام زمانہ نظم ملاحظہ کریں ۔۔۔؂
دو دھاری تلوار سمجھ کر بیوی کو
پھولوں کی مہکار سمجھ کر بیوی کو
سونے جیسا منڈا اپنا دے ڈالا
شہر کا بڑا سونار سمجھ کر بیوی کو
ایسے لوگ سنبھال سنبھال کے رکھتے ہیں
ڈالر پاؤنڈ دینار سمجھ کر بیوی کو
جھکا رہا بیوی کے آگے جھکا رہا
ہائے ’’قطب مینار‘‘ سمجھ کر بیوی کو
حکم بجا لانے میں ہر دم جلدی کی
ماسٹر کانٹے دار سمجھ کر بیوی کو
بات بات پر وہ ڈانٹے اور ہم چپ
حاکم ، زمیندار سمجھ کر بیوی کو
در پردہ ہے نئی کہانی بھی سن لو
سب رکھتے ہیں ہار سمجھ کر بیوی کو
کچھ کی ٹانگیں کانپنے لگتی ہیں محسن
ایک سو چار بخار سمجھ کر بیوی کو
میں نے بڑے بڑے طاقت ور ۔۔۔ مضبوط و قوی اعضاء والے لوگ دیکھے ہیں۔ اُن کے بڑے بڑے قصے بھی سنے ہیں بہادری کے ۔۔۔ مگر جہاں ذکر بیوی کا آیا ۔۔۔ ’’وہ گئے ۔۔۔‘‘ بھاگ نکلنے کا راستہ تلاش کرتے دیکھا ۔۔۔ میں نے ایسے ’’بہادروں‘‘ کو ۔۔۔ آپ نے غور کیا ہو گا ۔۔۔ ہمارے استاد کمر کمانی جیسے لوگ ’’بڑی بڑی‘‘ چھوڑ رہے ہوں گے ۔۔۔ پنی اُس عمر میں بھی‘‘ حکمت کے قصے اور عالی شان نسخوں کی کارکردگی بیان کر رہے ہوں گے ۔۔۔ جبکہ اُنھیں اپنی بیماریوں کا ذکر کرنا چاہئے ۔۔۔ ایسے میں اُن کا بچپن کا کوئی دوست آ جائے تو بھیگی بلی بن جاتے ہیں ایسے خونخوار بھیڑےئے ۔۔۔!
میں بچوں کے ساتھ پچھلے دنوں چڑیا گھر گیا ۔۔۔ ہم ادھر اُدھر ’’بدبو‘‘ سونگھ رہے تھے کہ بیٹے نے ہاتھ پکڑ کر مجھے ’’بھیڑےئے‘‘ کے حوالے کرنے کی کوشش کی ۔۔۔ میں نے بدبو کے ڈر سے خود کو پیچھے کر لیا ۔۔۔ ’’پاپا آپ تو اپنے شکار کے قصے انکل آفتاب اقبال کی طرح مونچھوں کو بل دے دے کر سنایا کرتے تھے ۔۔۔ یہاں کیوں گھبرا گئے ۔۔۔؟۔۔۔بیٹا ۔۔۔ وہ قصے ہر بندہ جب وہ جوانی سے بڑھاپے کی عمر میں داخل ہو رہا ہوتا ہے تو اُس کا دل چاہتا ہے وہ لوگوں کو متاثر کرنے کے لیے سنائے ۔۔۔ مگر ’’اندر‘‘ ہی اندر کیا بیت رہی ہوتی ہے یہ وہ ''So Called" جوان ہی بتا سکتا ہے ۔۔۔میں نے تو ’’بیک گےئر‘‘ صرف اور صرف بدبو کے ڈر سے لگایا تھا ۔۔۔ میں نے طویل وضاحت کی ۔دراصل میں کبھی بھی اپنے کسی ڈر کی وضاحت نہیں کر پایا ۔۔۔ یہ میرا ’’ویک پوائنٹ‘‘ ہے۔ اور میرے سب دوستوں کو میرے دوسرے ’’ویک پوائنٹس‘‘ کی طرح اس ’’ویک پوائنٹ‘‘ کا بھی پتہ ہے ۔۔۔اس دوران میں نے بیٹے کی خواہش کے پیش نظر ’’بھیڑےئے‘‘ کے پنجرے کے پاس جانا ہی مناسب سمجھا ۔۔۔ وہ ’’نو فٹ‘‘ کے پنجرے میں دائیں سے بائیں ۔۔۔ بائیں سے پھر دائیں اور ایسے ہی تیزی سے بھاگتا چلا جا رہا تھا۔۔۔پاپا اگر شہباز شریف کو پتہ چل گیا کہ ہمارے پاس بھیڑیا نو فٹ کے پنجرے میں ایک دن میں ننانوے ہزار دفعہ دائیں سے بائیں اور پھر بائیں سے دائیں چکر چلاتا ہے تو انھوں نے بلا لینا ہے ۔۔۔ سرکاری طور پر ’’گینز بک آن ورلڈ ریکارڈ‘‘ کی ٹیم کو ۔۔۔آپ نے سنا ہے ۔۔۔ بھیڑیا رات بھر ایک آنکھ بند اور ایک آنکھ کھول کر سوتا ہے ۔۔۔ اس ڈر سے کہ کہیں دشمن نہ آ جائے۔۔۔’’ہمارے حکمرانوں کی طرح‘‘ ۔۔۔
میرے منہ سے نکلا ۔۔۔ تو بیٹا یوں بول پڑا ۔۔۔ ’’وہ بھی آپ کے خیال میں بھیڑئیے ہیں ۔۔۔؟‘‘۔۔۔’’اوہ نہیں بیٹا‘‘ ۔۔۔ میں نے ادھر اُدھر دیکھتے ہوئے ۔۔۔ اُسے سمجھانا چاہا۔۔۔ ’’وہ اصل میں ڈرے ہوئے ہیں‘‘ ۔۔۔تم ہمیشہ بات کا روشن پہلو دیکھا کرو ۔۔۔ منفی پہلو کو ’’بھول جایا کرو کہ اسی میں ہی عافیت ہے ‘‘۔۔۔میری بات اُسے سمجھ نہ آئی ۔۔۔ اس دوران میری پنجرے میں نظر پڑی ۔۔۔ اوہ ۔۔۔ ’’بیٹا غور کر ۔۔۔ یہ تو بھیڑیا قدرتی طور پر یا رکھوالے کے تشدد سے ایک آنکھ سے معذور ہے ۔۔۔ یہ تو پوری دنیا کو ایک ہی آنکھ سے دیکھتا ہے؟ ۔۔۔ہم دونوں غور سے دیکھنے لگے ۔۔۔ اس دوران ایک عورت چڑیا گھر میں ’’بُو‘‘ کی وجہ سے بے ہوش ہو گئی ۔۔۔ سب لوگ اُس جانب بھاگے ۔۔۔ (لوگوں کو اس بات کی بالکل پروا نہ تھی کہ عورت ’’بوُ‘‘ کی وجہ سے بے ہوش ہو گئی ۔۔۔ وہ پریشان اس بات پر تھے کہ بے ہوش ہونے والی عورت کا ساتھی کیوں چپکے سے چڑیا گھر سے عورت کو بے ہوش چھوڑ کر کھسک گیا؟؟؂
کل شام مال روڈ پہ ’’لِن ٹاٹ‘‘ کے قریب
دیکھا مجھے تو کار کے شیشے چڑھا لیے
تاریخ میں ہم نے سن رکھا تھا کہ انگریز عورتیں بچوں کو سلطان ٹیپو کا نام لے کر ڈرایا کرتی ہیں ۔۔۔ (حالانکہ اکثر انگریز عورتیں کسی کو غور سے دیکھیں تو وہ ویسے ہی ڈر جاتا ہے ۔۔۔)۔۔۔’’پاپا اب وہ دور نہیں ۔۔۔ حکمران تو ہیں سلطان ٹیپو کہاں سے لائیں ؟’’۔۔۔ میں نے پھر ادھر اُدھر دیکھا ۔۔۔ اور بیٹے کو ڈرا دھمکا کے چپ کرا دیا ۔۔۔ اور آخری دھمکی دی ۔۔۔ کہ اگر اب بھی سچ بولنے سے باز نہ آیا تو آئندہ چڑیا گھر آنے کو ترسے گا توُ ۔۔۔؟۔۔۔بیٹا پرے منہ کر کے ہنس رہا تھا اور میں ڈر رہا تھا ۔۔۔ کہ پنجروں کے بھی کان ہوتے ہیں ۔۔۔؟۔۔۔ہم دونوں باپ بیٹا ۔۔۔ آج کی سب سے پسندیدہ عوامی سواری ’’چنگ چی رکشا ‘‘ پر بیٹھے گھر کی طرف جا رہے تھے کہ میں نے پھر سے بھیڑےئے کا قصہ چھیڑ دیا ۔۔۔پاپا بھیڑےئے کا قصہ چھوڑیں ۔۔۔’’سنا ہے ایم کیو ایم کے الطاف حسین صاحب کو آجکل اُن کے ساتھی جب وہ رات تین بجے سو نہ رہے ہوں اور اصرار کر رہے ہوں کہ میں نے کراچی کے خواتین و حضرات سے خطاب کرنا ہے ورنہ مجھے صبح تک نیند نہیں آئے گی ۔۔۔ لاؤ مائک گھماؤ ٹیلی فون ۔۔۔تو محبت سے ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی کے ارکان آہستہ سے کہتے ہیں ۔۔۔’’الطاف بھائی ۔۔۔ پلیز سو جاؤ ۔۔۔ سنا ہے عمران خان اور میاں شہباز شریف کراچی میں بہت بڑی بڑی ریلیوں سے خطاب کرنے آ رہے ہیں اور کراچی کے محبِ وطن عوام جو پاکستان سے محبت کرتے ہیں اُن ریلیوں میں بڑی تعداد میں شرکت کرنے والے ہیں ۔۔۔ اور دو تین منٹ میں الطاف بھائی ۔۔۔ خراٹے مارتے ہوئے سو جاتے ہیں ۔۔۔‘‘ بیٹے نے وضاحت کی ۔۔۔
میرے ساتھ ’’چنگ چی رکشے‘‘ پر بیٹھے دس کے دس مسافر زور زور سے ہنسنے لگے ۔۔۔ !!


ای پیپر