سندھ: نگران حکومت کے نیم دلانہ اقدامات
06 جولائی 2018 2018-07-06

انتخابی مہم اور ملک بھر میں سیاست حاوی ہو جانے کے بعد میڈیا میں بھی عام لوگوں کے مسائل کا بیانیہ نہیں ملتا۔ مہنگائی، اشیائے خوردنی میں ملاوٹ جیسے معاملات جن پر سیاسی حکومتوں کی نظر نہیں پڑتی تھی۔ لوگوں کو توقع تھی کہ نگراں حکومت اس طرح کے معاملات کو بہتر بنائے گی اور ایک مثال چھوڑے گی کہ صرف بہتر انتظام کاری سے عوام کو بعض سہولیات بہم پنچائی جاسکتی ہیں۔ نگراں حکومت نے عید کے موقع پر ٹرانسپورٹ کے اضافی کرایوں پر تین روز تک آپریشن کیا۔ لیکن یہ کارروائی صرف عید سے پہلے تین روز تک جاری تھی۔ عید کی چھٹیوں کے بعد واپس آنے والوں سے پھر اضافی کرایے وصول ہوتے رہے۔ بلکہ عملاً یہ دیکھنے میں آیا کہ بعد میں ایک ہفتے تک اضافی کرایے وصول ہوتے رہے۔ نگراں حکومت ، اس کا محکمہ ٹرانسپورٹ ، موٹر وے پولیس سب خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ یہ صورت حال ہفتہ وار چھٹی کے روز اور ہفتے کے پہلے کام والے روز بھی نظر آتی ہے۔ ہر ہفتے ہزاروں لوگوں سے لاکھوں روپے کرایے کے نام پر بٹورے جاتے ہیں۔ ٹرانسپورٹ کی طرح سندھ کی نگراں حکومت نے آبپاش پانی کی چوری کا بھی نوٹس لیا تھا اور چوری میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا تھا۔ اس ضمن میں بھی زیادہ پیش رفت نہیں ہو سکی ۔

’’نگراں منتظمین خواب خرگوش سے کب بیدار ہونگے‘‘ کے عنوان سے’’ روز نامہ کاوش ‘‘لکھتا ہے کہ بارش نے پنجاب کے مختلف شہروں میں تباہی مچادی۔ نیشنل ڈزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا گیا تھا تاکہ قدرتی آفات کے موقع پر نہ صرف بعض پیشگی اقدامات کرے بلکہ بعد میں بھی زندگی کو معمول پر لانے مین اپنا کردار ادا کرے۔ یہ ادارہ صوبائی سطح پر بھی موجود ہے لیکن انتہائی ایمرجنسی کے اس ادارے کا کام بہت ہی کم نظر آیا۔ پنجاب کی بارشوں کے بعد امکان ہے کہ سندھ میں بھی آئندہ چند ہفتوں کے دوران بارشیں شروع ہو جائیں گی۔ لیکن دزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے اس جمن میں کام شروع نہیں کیا۔ سندھ میں جب بھی بارشیں ہوتی ہیں صوبائی دارالحکومت کراچی جھیل کا منظر پیش کرتا ہے۔ صوبے کے باقی شہروں کی حالت بھی اس سے مختلف نہیں ہوتی۔ شہری اور میونسپل ادارے اپنی کارکردگی نہیں دکھاسکتے۔ اگرچہ ’’ رین ایمرجنسی‘‘ کا اعلان کردیا جاتا ہے لیکن ادارے اپنا کام نہیں کرتے۔ اداروں کی اہلیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ چند گھنٹوں کی بارش کا پانی مہینوں تک کھڑا رھتا ہے۔ کراچی میں نالوں کی صفائی سمیت مختلف اقدامات کرنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ اسی طرح، صوبے کے مختلف اضلاع میں ڈپٹی کمشنروں کی صدارت میں اجلاس ہو چکے ہیں۔ لیکن عملاً کتنے اقدامات کئے گئے ہیں؟ معائنہ کرنے کی ضرورت ہے۔

سندھ میں دریائی اور نہروں کے پشتوں کی حالت خراب ہے۔ پشتوں کو کمزور کرنے کا الزام محکمہ آبپاشی کے افسراں چوہوں پر لگاتے ہیں ۔ ابھی بارش نہیں ہوئی، سندھ کو پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے۔ نہروں کے آخری سرے تک پانی کا قطرہ بھی نہیں۔ لیکن اس کے باوجود بعض شاخوں میں شگاف پڑ رہے ہیں۔ جب بارش ہونے کی صورت میں نہریں پانی کا دباؤ برداشت نہیں کر سکیں گی۔ آبپاشی افسران بھل صفائی کے پیسے کھا جاتے ہیں، نہروں کی سالانہ صفائی نہیں ہوتی۔ لہٰذا نہروں میں پانی کے بہاؤ کی صلاحیت کم ہو جاتی ہے۔ پی ڈی ایم اے اور دیگر اداروں کی نااہلی حالات کو مزید سنگین بنادیتی ہے۔ بجلی تقسیم کرنے والی کمپنیاں بھی اس نااہل میں اپنا حصہ ڈالتی ہیں۔ چونکہ فراہمی و نکاسی آب کا انحصار بلارکاوٹ بجلی کی فراہمی سے ہے۔ لیکن یہ کمپنیاں آسمان پر بادل دیکھتے ہی بجلی کی فراہمی بند کر دیتی ہیں۔ لاہور میں بھی بارش کی وجہ سے لیسکو کے سینکڑوں فیڈر ٹرپ ہو گئے۔ سندھ میں حالت اور بھی خراب ہوتی ہے۔ سندھ میں بجلی تقسیم کرنے والی کمپنیوں کا نیٹ ورک انتہائی خراب ہے ۔ عام حالات میں بھی بجلی کی تار گرنے سے لوگ مرتے رہتے ہیں۔

ہم سندھ کے نگران منتظمین سے یہ کہنا چاہیں گے کہ بارشوں میں امکانی نقصانات سے بچنے کے لئے اقدامات کئے جائیں۔ کراچی سمیت صوبے کے شہروں میں نالوں صفائی کی ہدایات پر کتنا عمل ہو رہا ہے؟ اس کو دیکھنے کی ضرورت ہے۔ میونسپل اداروں کو فعال کیا جائے، بجلی رسد کو یقینی بنانے کے لئے متعلقہ کمپنیوں کو چوکس کیا جائے۔ اور ان کے انفرا اسٹرکچر میں بہتری لائی جائے۔ بارش کے دوران بجلی کی عدم موجودگی کے پیش نظر جنریٹرز کا بندوبست کیا جائے تاکہ بارش کے پانی کی نکاسی کا کام رک نہ سکے۔

روزنامہ سندھ ایکسپریس لکھتا ہے کہ انتخابی مہم شروع ہو چکی ہے۔ ایک بار پھر عوام سے روزگار، غربت مٹانے، بہتر تعلیم اور خوشحالی کے وعدے کئے جارہے ہیں۔ سیاسی جماعتوں اور امیدواروں کے پاس پہلے یہ عذر لنگ ہوتا تھا کہ اسمبلیاں مدت مکمل نہیں کر سکیں، انہیں کام کرنے کا موقع نہیں دیا گیا لہٰذا مسائل حل نہ ہو سکے۔اس صورت حال میں اقتدار سے برطرف کی گئی جماعت ایک بار پھر عوام میں ہمدردی حاصل کرلیتی تھی۔

لیکن اس مرتبہ صورت حال مختلف ہے۔ دو اسمبلیوں نے اپنی آئینی مدت مکمل کی ہے۔ اور حکمران جماعتیں عوام سے رجوع کر رہی ہیں۔ حکمران جماعتوں کے امیدواروں کی جواب طلبی ہو رہی ہے۔ اب عوام آسانی سے ان پر اعتماد کرنے کے لئے تیار نہیں۔عوام کے اس عدم اعتماد کی کیا وجہ ہے؟ اقتداری جماعتوں کو اس کا جواب خود سے پوچھنا چاہئے۔

روز نامہ عبرت لکھتا ہے انتخابات کو شرپسندی سے بچانے کے لئے مطلوبہ اقدامات کی ضرورت ہے۔ اخبار خاص طور پر بلاول بھٹو کے لیاری کے جلسے پر پتھراؤ کا جواب دیتے ہوئے لکھتا ہے کہ ملک کے اہل فکر و دانش اس پر پریشان ہیں۔ ان کاکہنا ہے کہ یہ احتجاج نہیں تخریب کاری ہے۔ جس کے جمہوریت پر مضر اثرات مرتب ہونگے۔ اصولی طور پر ووٹر کا حق ہے کہ وہ امیدوار سے شکوہ کرے، کارکردگی کے بارے میں پوچھ سکے۔ بلکہ اخلاقیات کے دائرے میں رہ کر اپنا احتجاج بھی ریکارڈ کرا سکتا ہے۔ پتھراؤ یا گالم گلوچ سیاسی کارکن یا باشعور ووٹر کو زیب نہیں دیتا۔ عوام اگر کسی سیاسی پارٹی سے بیزار ہیں اور اس سے چھٹکارہ چاہتے ہیں تو اس کا بہترین طریقہ یہ ہے وہ ووٹ کے ذریعے اپنا اظہار کرے اور فیصلہ سنائے۔


ای پیپر